انداز گفتگو کسی حد تک انسان کی چھپی ہوئی خوبیوں اور خامیوں کو ظاہر کر دیتا ہے لہٰذا کس سے، کس وقت اور کس انداز میں کیا گفتگو کرنی ہے ؟ یہ گر سیکھنے سے آتا ہے، انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے دل سے اتر جاتا ہے، اسی طرح مشاہدے کی بات ہے کہ متکلم بسا اوقات مخاطب کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے جس سے سامنے والے کی حوصلہ شکنی اور بہت دل آزاری ہوتی ہے اور مایوسی پیدا ہونے لگتی ہے، لہٰذا گفتگو کے آداب سیکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ یقیناً روز مرہ زندگی میں ہمیں گفتگو کی نوبت در پیش ہوتی ہی ہے تو انداز گفتگو درست نہ ہونے کی وجہ سے نجانے روزانہ ہی کی بنیاد پر ہم کتنوں کی دل آزاریاں کر جاتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا، قرآن کریم ہماری اسی طرف رہنمائی فرماتا ہے جیسا کے الله رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں تکبر کی بنا پر رخسار ٹیڑھا کرنے کی طرف اشارہ ہے، لہٰذا انسان چاہے امیر ہو یا غریب، کم عہدے والا ہو یا بڑے عہدے پر فائز ہو، یا پھر اعلیٰ نسب کا مالک ہی کیوں نہ ہو ہر کسی کو دوران گفتگو اپنا انداز گفتگو محبت والا رکھنا چاہیے خاص طور پر مذہبی لوگوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ محبتوں کی فضا قائم ہو اور لوگ دین کے قریب ہوں ڈانٹ ڈپٹ کرنے، جھڑکنے یا نظر انداز کرنے سے لوگ بیزار ہوتے اور دین سے دور ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کے مخاطب کو نظر انداز مت کریں اور مکمل توجہ دیں اور الفاظ کے بہترین چناؤ کے ساتھ گفتگو کریں تاکہ ہم بیزاریوں، نفرتوں، بغض و کینہ سے بچتے ہوئے دین اسلام کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں کامیاب ہو جائیں۔

الله کریم سے دعا ہے ہمیں سیرت سرور کونین ﷺ کی چلتی پھرتی تصویر بنائے آقا ﷺ کے اخلاق کریمانہ سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین