انسان کی فطری خواہشات میں سے ہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے اور توجہ کے ساتھ سنا جائے گفتگو میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے جیسا کہ حضرت لقمان حکیم کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحت اللہ پاک نے قرآن کریم میں سورہ لقمان آیت نمبر 18 میں بیان فرمائی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

لوگوں کو حقیر جاننا، ان سے منہ موڑنا، انہیں نظرانداز کرکے ان کی تذلیل کرنا اسلام کی تعلیمات نہیں بلکہ ہمارا دین تو بہت پیارا دین ہے جو ہمیں احترام مسلم سکھاتا اور ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی عزت کا محافظ بناتا ہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی سب چیزیں مسلمان پر حرام ہیں؛ اس کا مال اور اس کی آبرو اور اس کا خون، آدمی کو برائی سے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ (ابو داود، 4/354، حدیث: 4882)

نیز ایک اور حدیث مبارکہ میں فرمایا: مومن اللہ کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت رکھتا ہے۔ (شعب الایمان، 1/174، حدیث: 152)

کسی کو نظر انداز کرنے کا سبب تکبر بھی ہو سکتا ہے نیز اس کی ایک سب سے بڑی وجہ وہ خودپسندی ہے، چنانچہ متکبرین کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) 14، النحل: 23) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔

اسی طرح فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: اللہ پاک متکبرین (یعنی مغروروں) کو اور اترا کر چلنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (کنز العمال، 3/210، حدیث: 7727)

اسی طرح خودپسندی کی مذمّت پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْؕ-(پ 27، الحدید: 23) ترجمہ کنز العرفان: اور اس پر اتراؤ نہیں جو تمھیں اللہ نے دیا۔

نیز فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف اور وہ عجب ہے، عجب یعنی خودپسندی۔ (احیاء العلوم، 3/453)

یہاں خود پسندی کا ایک علاج پیش خدمت ہے: خود پسندی اور تکبر انسان میں جسمانی خوبصورتی, مال و دولت، اعلی نسب، اور قوت و طاقت وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے انسان کو چاہیے کہ وہ اس بات میں غور و فکر کرے کہ اس میں اسکا اپنا کوئی کمال نہیں بلکہ اسے یہ نعمت اللہ پاک نے عطا فرمائی ہے اور اللہ پاک جب چاہے نعمت واپس لے لے وہ ہر چیز کا مالک ہے اپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف فرمائے لہذا ہمیں اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت عطا فرمائی پس جب انسان کے پیش نظر یہ بات ہوگی اس میں سے تکبر اور خودپسندی جاتی رہے گی اور احترام مسلم نصیب ہوگا۔ انشاء اللہ الکریم