مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت امتیاز
حسین،جامعۃ المدینہ جوہرآباد خوشاب
اللہ تعالی نے
انسان کو زبان کی نعمت عطا فرمائی تاکہ وہ دوسروں سے بات چیت کر سکے اور ایک دوسرے
کے دکھ درد سمجھ سکے اپنے جذبات کا اظہار کر سکے۔ گفتگو ایک ایسا ہنر ہے جو صرف
الفاظ سے نہیں بلکہ توجہ، خلوص، احساس اور احترام سے مکمل ہوتا ہے۔ کسی بھی گفتگو میں
مخاطب کو نظر انداز کرنا نہ صرف برے اخلاق کی علامت ہے بلکہ اس سے سامنے والے کی
دل آزادی بھی ہوتی ہے۔
نظر
انداز کرنے کا مطلب: مخاطب کو نظر انداز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی
آپ سے بات کر رہا ہو تو آپ اس کی بات کو توجہ سے سننے کے بجائے لا پروائی، بے تو
وجہی یا بےاعتنائی کا مظاہرہ کریں اپنے رخسار کو ٹیڑھا کریں۔
مخاطب
کو نظر انداز کرنے کی مثالیں: توجہ سے بات سننے کے بجائے اس کی طرف
سے منہ موڑ لینا، درمیان میں بات کاٹ دینا، موبائل استعمال کرتے رہنا، بیزاری
کا مظاہرہ کرنا، یا بات کا جواب نہ دینا، یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی بات کی کوئی
اہمیت نہیں۔
پارہ 21 سورۂ
لقمان آیت نمبر 18 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا
تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ
لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات
کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر
اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
حضرت علامہ
سید نعیم الدین مراد آبادی اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں
تو انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا،جیسا متکبرین کا طریقہ ہے۔ (خزائن
العرفان، ص 761)
حضرت علامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ روح البیان میں لکھتے ہیں: متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ
لوگوں کو ایسے ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراء و مساکین کو غصے سے
دیکھتے ہیں بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچھے سلوک کے معاملے میں برابر ہوں۔
عقلمند
کون؟ حضرت
شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے ایک دانشور کے بارے میں یہ سنا کہ وہ
کہا کرتے تھے کہ کوئی شخص بھی اپنی جہالت کا اقرار نہیں کرتا سوائے اس شخص کے کہ
جب کوئی دوسرا بات کر رہا ہوتا ہے تو اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بیچ میں اپنی
بات شروع کر دیتا ہے سمجھدار آدمی اس وقت تک اپنی بات شروع نہیں کرتا جب تک دوسرے
کی بات ختم نہ ہو جائے۔
ایک بات یاد
رہے کہ دوسروں کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کر دینا اور نظر انداز کرنا اس کی بات
کو توجہ نہ دینا اسلامی آداب گفتگو کے خلاف ہے مکتبۃ المدینہ کے رسالے احترام مسلم
میں ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ کسی کے بات کو نہ کاٹتے البتہ اگر کوئی حد سے
تجاوز کرنے لگتا تو اس کو منع فرماتے یا وہاں سے اٹھ جاتے۔(شمائل ترمذی، ص 200
ملخصاً)
احترام مسلم
کا تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں ہر مسلمان کے تمام حقوق کا لحاظ رکھا جائے کسی بھی
مسلمان کی دل شکنی نہ کی جائے دل شکنی کی وجہ سے دوبارہ انسان بات کرنے میں جھجک
محسوس کرتا ہے ہمارے میٹھے میٹھے آقا ﷺ نے کبھی بھی کسی مسلمان کا دل نہ دکھایا نہ
کسی پر طنز کیا،نہ کسی کو نظر انداز کیا،نہ کبھی کسی کا مذاق اڑایا،نہ کسی کو
دھتکارا نہ کبھی کسی کی بےعزتی کی بلکہ ہر ایک کو سینے سے لگایا اس کی بات کو
اہمیت دی ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اقا علیہ الصلوۃ والسلام کی اس میٹھی میٹھی سنت
پر عمل کریں۔
لگاتےہیں
اس کو بھی سینے سے آقا جو ہوتا نہیں
منہ لگانے کے قابل
Dawateislami