کسی بھی تعلق یا گفتگو کی بنیاد احترام اور توجّہ پر قائم ہوتی ہے۔ جب آپ کسی سے بات کریں اور وہ آپ کی بات سنے، دیکھے اور آپ کو محسوس کرے تو اس سے دل میں قدر اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے زندگی کے ہر معاملے میں یہ اصول نہایت اہم ہے کہ مخاطب کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے۔

‎‎نظر انداز کیا جانا انسان کے دل کو توڑ دیتا ہے۔ یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی بات یا اس کی موجودگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر، اسکول، دفتر یا کسی بھی ماحول میں جہاں لوگوں سے میل جول ہوتا ہے، وہاں مخاطب کو پوری توجہ دینا خوش اخلاقی ہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ توجہ کے چند لمحے نہ صرف دوسرے کے دل کی تسلی بن جاتے ہیں بلکہ تعلقات میں نرمی، قربت اور اعتماد بھی پیدا کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں سے حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنا۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً)

اسلامی تعلیمات بھی یہی سکھاتی ہیں کہ کسی کو نظر انداز کرنا تکبّر اور بے رخی کی علامت ہے، جبکہ لوگوں کو عزت دینا نیکی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اخلاق تھا کہ جب کوئی بات کرتا تو آپ ﷺ پوری طرف متوجہ ہو کر سنتے، یہاں تک کہ جس طرف سے سوال کیا جاتا، آپ ﷺ اسی سمت رخ فرما لیتے۔ یہ اسوہ ہمیں بتاتا ہے کہ مخاطب کو اہمیت دینا محبت اور اخلاق کا تقاضا ہے۔

اگر کسی وقت مصروفیت یا مجبوری ہو تو بہتر ہے کہ نرمی سے مخاطب کو بتا دیا جائے کہ آپ اس کی بات پوری توجہ سے سننا چاہتے ہیں، مگر اس وقت موقع مناسب نہیں۔ اس طرح نہ دل ٹوٹتا ہے، نہ رشتہ خراب ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ اس بے اعتنائی کا ہے جو دلوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے۔

آخر میں یاد رکھئے:آپ کی گفتگو، آپ کی سماعت، آپ کی توجہ یہ سب کسی کے دل کی قدر بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ہر بات کرنے والے کو یہ احساس دیجئے کہ وہ اہم ہے، اس کی بات اہم ہے اور اس کی موجودگی قابل احترام ہے۔