کسی سے بات کرتے وقت اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور نہ اس سے رخ پھیرنا چاہیے۔ اسی بات کا ذکر قرآن پاک میں ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کے تحت فرماتے ہیں: جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا، جیسا متکبرین (یعنی مغروروں کا طریقہ ہے) اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر (یعنی امیر و غریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی) سے پیش آنا چاہیے۔ (خزائن العرفان، ص 761)

حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام و کلام اور ملاقات کے وقت بطور تواضع یعنی عاجزی سے اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ کچھ حصہ چھپائیے۔

فخر و اختیال میں فرق: یاد رہے کہ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر ہے جیسے علم، حسن، خوش، آوازی، نسب، وعظ وغیرہ اور بیرونی عظمت پر اکڑنا اختیال کہلاتا ہے۔ جیسے مال، جائیداد، لشکر، نوکر چاکر وغیرہ مراد یہ ہے کہ نہ ذاتی کمال پر فخر کرو نہ بیرونی کمال پر اتراو کیونکہ یہ چیزیں تمہاری اپنی نہیں رب کی عطا سے ملی ہے۔

کسی شخص کو حقیر نہ جائیں: اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جانتا چاہیے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تو اس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہیے اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہیے، غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز رکھنا جس سے حقارت کا پہلو نمایاں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، سب تکبر کی علامات ہے ان سے بچنا چاہیے۔

حدیث پاک میں ہے: ایک دوسرے سے بعض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور سب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جائےاور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)

سرور عالم ﷺ کا کریمانہ انداز: سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضور مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو اپنے دربار میں سب سے پہلے حاجت مندوں کی طرف توجہ فرماتے اور قبائل کے نمائندوں سے ملاقاتیں فرماتے سرکار علیہ السلام کی بارگاہ میں امیر غریب سب برابر تھے کوئی شخص اگر بولتا خواہ وہ غریب ہوتا تو اسکی بات کاٹ کے دوسرے کی طرف توجہ نہ فرماتے، ہر وفد آپکیﷺ بارگاہ میں حاضر ہوتا اور آپﷺ سے ملاقات کرتا، اپنی حاجت پیش۔ کرتا حضور انور ﷺ اسے بغور سنتے اور انکی تربیت فرماتے اور انکے درجات کے مطابق تحائف عطا فرماتے۔

کسی کو نظر انداز کرنے کے چند اسباب: خودپسندی، تکبر، دوسروں کو حقیر جاننا، حسد، کینہ، بغض۔

ایک مدنی پھول: جب تک دوسرا بات کر رہا ہو، ادھر ادھر دیکھے بغیر اس کی طرف متوجہ ہو کر اطمینان سے سننا چاہیے، بیچ میں بولنا بھی نہیں چاہیے کہ بیچ میں بات کا ٹنا خلاف ادب ہے۔

سرکار ﷺ کسی کی بات کو نہ کاٹتے البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز کرنے لگتا تو اسے روک دیتے یا وہاں سے اٹھ جاتے۔ (شمائل ترمذی، ص 200 ملخصاً)

اللہ پاک سب مسلمانوں کو ان مذموم افعال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین