انسانی معاشرے میں ہرفرد ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن ان میں بزرگوں کا مقام ومرتبہ بہت اعلی ہے بزرگ ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں ان کی تعظیم وتکریم کرنا ہر صورت میں لازم ہے ان کی بے ادبی دنیا وآخرت کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے اسلام نے عمر رسیدہ افراد کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ اس کی بنیاد اسلام کی وہ ہفت آفاقی تعلیمات ہیں۔جن میں عمر رسیدہ افراد کو باعث برکت ورحمت اور قابل عزت وتکریم قرار دیا گیا ہے۔

بزرگوں کی نافرمانی سے آخرت کا عذاب تو تیار ہی ہے مگر اس سے پہلے دنیا میں بھی اس کے لیے رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ احادیث میں ان کی عزت وعظمت کو بیان کیا گیا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے: جو جوان کسی بوڑھے کی عمر رسیدگی کے باعث اس کی عزت کرتا ہے۔ اللہ اس جوان کے لیے کسی کو مقرر فرما دیتا ہے جو اس کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے۔ (کنز العمال، 2/71، حدیث: 6011)

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضور پرنور ﷺ نے فرمایا: بے شک میری امت کے معمر افراد کی عزت وتکریم میری بزرگی و عظمت ہے۔ (کنز العمال، 2/71، حدیث: 6010) اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی عزت کو حضور جان عالم ﷺ نے اپنی بزرگی و عظمت قرار دیا ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: بڑے کے مرتبے اور عزت کا خیال رکھو۔ (بخاری، 4/138، حدیث: 6142)

حضور ﷺ نے فرمایا: بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اللہ پاک کی تعظیم کا حصہ ہے۔ (ابوداود، 4/344،حدیث: 4843)

ان تمام احادیث کریمہ سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بزرگوں کی عزت وتعظیم کس قدر ضروری ہے۔

بےادبی کے نقصانات:

رحمتِ الہی سے محرومی: جو شخص بزرگوں کی عزت نہیں کرتا وہ رحمت الہی سے دنیا اور آخرت میں محروم ہے۔

نیکیوں کی قبولیت نہ ہونا: بزرگوں کی نافرمانی نیک اعمال کی قبولیت میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔

بڑوں کی نافرمانی کرنے والا ہم سے نہیں: جو بھی بزرگوں کی نا فرمانی کرتا ہے ان کی عزت کا خیال نہیں کرتا اس کو امت سے باہر فرمایا گیا ہے۔

بات نہ ماننا: بعض اوقات بزرگوں کے کہے میں حکمت ہوتی ہے۔ ان کی بات نہ ماننے سے ہم اپنا نقصان کر لیتے ہیں۔

اونچی آواز میں بولنا: بزرگوں کے آگے اف تک کہنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے تو اونچی آواز میں بات کرنا کس قدر خطرناک ہوسکتا ہے۔

خلاصہ کلام یہی نکلتا ہے کہ اسلام ایک مکمل رہنمائی کرنے والا دین ہے اس نے زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی کی ہے چاہے معاملہ حقوق العباد کا ہو یا دینی مسائل ہوں۔ اسلام میں ہر صورت میں بزرگوں کی بے ادبی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اس میں بہت احتیاط سے کام لینے کا حکم ہے ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بزرگوں سے شفقت سے پیش آیا جائے۔