ادب کرنے والا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ بے ادبی کرنے والا دنیا اور آخرت میں ذلت کا شکار ہو کر لوگوں کے لئے نمونۂ عبرت بن جاتا ہے، بے ادبی انسان کو تباہی کے گہرے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے: با ادب با نصیب، بے ادب بےنصیب۔

بےادبی کرنے والوں کا انجام: کفار عرب کے سرداروں میں سے ایک نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی دعوت اسلام کے جواب میں اللہ پاک کی شان میں گستاخی کی تو اس پر بجلی گری اور وہ شخص ہلاک ہوگیا، پس اللہ پاک کی بارگاہ میں کوئی ایسا لفظ نہیں نکالنا چاہئے جو شان الوہیت میں بےادبی قرار پائے۔ اسی طرح بارگاہ رسالت میں بےادبی کی نحوست سے ابو لہب کا بیٹا عتبہ شیر کا لقمہ بنا۔

معلوم ہوا کہ بے ادبی وہ شے ہے جو انسان کو ذلت و رسوائی کا شکار بنا دیتی ہے۔

★اپنے استاد کی بے ادبی کرنے والا علم حاصل کرلینے کے باوجود دوسروں تک پہنچانے میں ناکام رہتا ہے ★سادات کرام کی بے ادبی کرنے والا خود کو ان کے نانا جان رحمت عالمیان ﷺ کی ناراضی کا مستحق بنا لیتا ہے ★ماں باپ کی بے ادبی کرنے والا دنیا و آخرت میں اس کی سزا پاتا ہے ★اپنے پیر کی بے ادبی کرنے والا مرید کبھی بھی نگاہ مرشد پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

بے ادبی کی چند صورتیں ملاحظہ کیجیے: (1)والدین اور اساتذہ کرام کی بات نہ ماننا۔ (2)بڑوں کی بات کاٹنا۔ (3)بڑوں کی جانب پیٹھ کرنا۔ (4)بلند آواز میں بات کرنا وغیرہ۔

اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

بےادبی کی نحوست: تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ تعالیٰ اسے (اسکی بے ادبی کی وجہ سے)زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)

بے ادبی دنیا وآخرت میں مردود کروادیتی ہے۔ جیسا کہ ابلیس کی نولاکھ سال کی عبادت ایک بےادبی کی وجہ سے برباد ہوگئی اور وہ مردود ٹھہرا۔

کسی شخص نے بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلاہوگا۔ (روح البیان، 5/56)

حضرت ابوعلی دقّاق علیہ الرحمہ فرماتے ہیں بندہ اطاعت سے جنّت تک اور ادب سے خدا تک پہنچ جاتا ہے۔

جانور بھی بزرگوں کا ادب کیا کرتے: حضرت بشرحافی رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ ننگے پاؤں چلتے تھے اور جب تک بغداد شریف میں آپ رحمۃ اللہ علیہ حیات رہے کسی چوپائے نے راستے میں گندگی نہ کی اور وہ صرف اس حرمت و ادب کے پیش نظر کہ حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ یہاں ننگے پاؤں چلتے پھرتے ہیں۔ ایک دن ایک چوپائے نے راستے میں گندگی کر دی تو اس کا مالک یہ بات دیکھ کر گھبرا گیا کہ ہو نہ ہو آج حضرت بشرحافی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا ہے، ورنہ یہ جانور کبھی راستے میں گندگی نہ کرتا چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد اس نے سن لیا کہ حضرت کاوصال ہو گیا ہے۔

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جانور بھی بزرگوں کا ادب کیا کرتے ہیں مگر آج کل کے زمانے میں لوگ اللہ کے ولیوں کا مذاق بناتے پھرتے ہیں اور ان کی کرامات کا انکار کرتے ہیں۔

اللہ کے ولیوں کا مذاق بنانا، ان سے نفرت کرنا، ان کی بےادبی کرنا نہایت رسوائی کا باعث ہے چنانچہ حدیث قدسی میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ (بخاری،4/248، حدیث:6502)

ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی عزت کریں اور ان کی شان میں گستاخی کرنے سے بچیں۔

اللہ کریم ہمیں بزرگوں کا با ادب بنائے اور ان کی بےادبی سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین