بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت فضل الحق، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
بزرگ کسی بھی
معاشرے کی جڑ ہوتے ہیں، ان کے تجربات، قربانیاں، اور دعائیں ہی وہ سایہ ہیں جس میں
نسلیں پروان چڑھتی ہیں جس گھر یا قوم میں بزرگوں کا احترام ختم ہو جائے وہاں برکت،
سکون اور تہذیب تینوں رخصت ہو جاتی ہیں جس طرح درخت کی جڑ مضبوط ہو تو شاخیں پھل
دیتی ہیں، اسی طرح بزرگوں کی عزت ہو تو نسلیں سنور جاتی ہیں لیکن آج کی تیز رفتار
زندگی میں ہم نے صبر کھو دیا ہے، سوشل میڈیا اور مغربی کلچر کی اندھی تقلید نے میں
کو اتنا بڑا کر دیا کہ ہم اور آپ کا تصور مٹنے لگا، بزرگوں کی بات کو پرانے خیالات
کہہ کر رد کر دینا فیشن بن گیا، بچے موبائل میں مصروف ہیں اور بڑے اپنی زندگی کی
دوڑ میں ہیں اور بزرگ کمرے کے کونے میں تنہا چھوڑ دیئے جاتے ہیں یہ بہت افسوس کی
بات ہے، یہی وجہ ہے کے بزرگ اپنی زندگی سے بیزار نظر آتے اور موت کے انتظار میں
ہوتے ہیں یہاں تک کہ بعض بوڑھوں کی زبان سے کفریات تک سنے جاتے ہیں کہ الله مجھے
بنا کر بھول گیا واپس ہی نہیں بلا رہا معاذ الله ثم معاذ اللہ، لیکن اس کے برعکس
اگر بزرگوں کا خیال رکھا جائے، محبت دی جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ کم از کم وہ
زندگی سے اتنے بیزار تو نہ ہوں گے کہ کفریات تک ہی بک دیں۔
یاد رکھئے جو
قوم اپنے بڑوں کی بات نہیں سنتی، عزت نہیں کرتی وہ بار بار ٹھوکر کھاتی ہے، بزرگوں
کی دعا وہ ڈھال ہے جو نظر نہیں آتی مگر مصیبت روک لیتی ہے، جب ہم ان کا دل دکھاتے
ہیں تو دراصل اپنی کامیابی کے دروازے خود بند کرتے ہیں، گھروں سے برکت اٹھ جاتی ہے،
رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں اور نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے، کل کو ہم بھی
بوڑھے ہوں گے، جو سلوک آج کریں گے وہی کل لوٹ کر آئے گا۔
بزرگوں کے ادب
و احترام کا حکم تو خود ہمارے پیارے آقا ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا: بڑوں کی تعظیم و
توقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنّت میں میری رفاقت پالو گے۔ (شعب الایمان،
7/458، حدیث: 1098)
دوسری روایت
میں ہے: تم اپنی مجالس کو بوڑھے کی عمر، عالم کے علم اور سلطان کے عہدے کی وجہ سے
کشادہ کر دیا کرو۔ (کنزا لعمال، 9/66، حدیث: 25495)
دیکھئے بزرگ
بوجھ نہیں، رحمت ہوتے ہیں، ان کی جھریوں میں زمانے کا سبق اور سفید بالوں میں
تجربات ہیں جس گھر میں بزرگ ہنستے ہیں وہاں رونقیں بحال ہوتی ہیں، یاد رکھئے درخت
کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو جائے، اپنی جڑوں سے کٹ کر سوکھ ہی جاتا ہے، اسی طرح ہم
کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں بزرگوں کی عزت کم نہیں ہو سکتی۔
بزرگوں کی عزت
دراصل ہماری اپنی تہذیب، اپنے دین اور اپنے مستقبل کی حفاظت ہے چاہے وہ بزرگ ہمارے
گھروں کے بڑے بوڑھے ہوں یا ہمارے اسلاف احترام کرنا ہماری اپنی تربیت ظاہر کرتی ہے۔
الله کریم
ہمیں بزرگوں کو خوش رکھنے اور ان کا احترام بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami