ایک مشہور مقولہ ہے کہ ”باادب بانصیب، بےادب بےنصیب“ یعنی انسان جو کچھ پاتا ہے اپنے ادب کی وجہ سے پاتا ہے اور جو کھوتا ہے اپنی بےادبی کے سبب کھوتا ہے۔

بےادبی کی مذمت پر اسلامی تعلیمات: اسلام میں بزرگوں کا ادب و احترام عین ایمان اور باعث برکت ہے۔ ان کی بے ادبی، توہین یا دل آزاری سخت گناہ، معاشرتی بگاڑ اور دنیا و آخرت میں محرومی کا باعث ہے۔ادب کرنے والا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ بے ادب دنیا و آخرت میں تباہ و برباد ہوتا ہے جیسے کہ شیطان حضرت آدم علیہ السلام کی بےادبی کرنے کے سبب دنیا و آخرت میں مردود ہوا۔

بےادبی کی مذمت پر قرآنی آیت:

وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ اسے (اس کی بے ادبی کی وجہ سے) زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)

فرمانِ مصطفیٰﷺ: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر(عزت)نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اپنی خوبصورت کتاب فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں: جو باادب نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 28/159)

بےادبی کے سبب فاقے کا شکار ہونا: کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلا ہوگا۔ (روح البیان، 5/56)

بےادبی کے سبب حالتِ کفر میں موت: ایک شخص جس کا نام بلعم بن بعورہ تھا، بہت بڑا عابد و زاہد اور عالم تھا۔روحانیت کا یہ عالم کہ زمین پر بیٹھ کر عرش اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ لیکن مال کی ہوس اور دنیا کی محبت نے اسکا انتہائی برا حال کیا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بارگاہ خداوندی سے دھتکار دیا گیا۔ مال کی لالچ میں آکر اس بد بخت نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی لیے بد دعا کرنا چاہی اور بے ادبی کی کوشش کی جس کی وجہ سے اسکی زبان لٹک کر سینے تک آگئی اور کفر پر مرا۔ (عجائب القرآن، ص 118 ملخصاً)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذرا سی بے ادبی بہت سے نیک اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ بےادبی ایسا قبیح فعل ہے جو معاذ اللہ کفر تک بھی لے جاتا ہے۔

خلاصہ کلام: انسان جو کچھ پاتا ہے ادب کی وجہ سے پاتا ہے اور جو کچھ کھوتا ہے بےادبی کرنے کی وجہ سے کھوتا ہے۔ انسان ادب کی بدولت زندگی میں بہت سے ترقّی کے مراحل طے کرتا ہے جبکہ بےادبی کرنے کے سبب بہت ہی جلد عروج سے زوال کی طرف آ جاتا ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر ایسے قول و فعل سے بچیں جو ہمیں بےادبی کی طرف لے کر جائے۔

محفوظ خدا رکھنا سدا بے ادبوں سے اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو