انسانوں میں ادب و احترام کا شعور روز اول سے ہے۔ اسلامی تعلیمات میں جو اہمیت ادب کو حاصل ہے،وہ دن میں سورج کی روشنی سے زیادہ ظاہر ہے، یہی ادب انسان کو حیوان سے جدا کرتا ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے: دین سارے کا سارا ادب ہے۔

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

کردم از عقل سوالے کہ بگو ایمان چیست

عقل درگوش دلم گفت ایمان ادب است

یعنی: میں نے عقل سے پوچھا کہ بتا ایمان کیا ہے؟ عقل نے میرے دل کے کان میں کہا ایمان ادب کا نام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،23/393)

جہاں ادب کی اتنی زیادہ اہمیت ہے وہیں بےادبی کی بھی اسلامی معاشرے میں بہت زیادہ مذمت بیان کی گئی ہے۔اس تحریر میں بالخصوص بزرگوں کی مذمت پر قرآنی آیت، دو احادیث،اور دو بزرگان دین کے اقوال سے روشنی ڈالی جائے گی۔ ان شاء اللہ الکریم

ادنیٰ سی بے ادبی کی ممانعت: فرمان باری تعالیٰ ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ 15، بنی اسرائیل:23) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نا کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم بات کہنا۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بزرگوں (والدین) کی بے ادبی کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے کہ معمولی سی جھنجھلاہٹ یا ناگواری کا اظہار یعنی اف تک کہنے سے بھی منع کیا گیا اور قولاً کریماً میں گفتگو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اعلانِ جنگ: آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ (بخاری،4/248، حدیث:6502)

اولیاء اللہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں جو ہمیشہ اللہ پاک کی اطاعت و فرمانبرداری کرتی ہیں۔ ان کی توہین و بے ادبی ان سے دشمنی کی بنا پر ہی سرزد ہوتی ہیں،اور ایسے شخص کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا محرومی ہوگی کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے اعلان جنگ فرمایا۔ ایسا شخص دارین کی سعادتوں سے محروم رہے گا اور اس کا خاتمہ بالخیر نہ ہوگا۔ (الامان و الحفیظ)

تنگدستی کا باعث: ایک شخص نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں فاقہ کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ ضرور تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلا ہوگا۔ (روح البیان، 5/56)

محرومی کا باعث: ایک بزرگ رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے جوپایا ادب و احترام کی وجہ سے پایا اور جس نے جو کھویا ادب و احترام نہ کرنے کہ وجہ سے کھویا۔

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب مرید ادب کی حدیں توڑ دے تو وہ لوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے والدین اساتذہ کرام،پیرومرشد اور تمام بزرگوں کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ