اولاد اللہ
تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور امانت ہے۔ والدین اور اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی
تربیت محبت، شفقت اور حکمت کے ساتھ کریں۔ اگرچہ تربیت کے لیے کبھی کبھی سختی کی
ضرورت پیش آتی ہے، لیکن بے جا سختی بچوں کی شخصیت، ذہنی سکون اور اعتماد کو شدید
نقصان پہنچاتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ بچوں کے دل میں خوف، ضد
اور نفرت پیدا کر دیتی ہے، جس سے ان کی صحیح تربیت متاثر ہوتی ہے۔ اسلام بھی
اعتدال، نرمی اور محبت بھرے انداز تربیت کی تعلیم دیتا ہے، اسی لیے بچوں پر بے جا
سختی ایک قابل مذمت عمل ہے۔
دین اسلام
معاملات زندگی کو آسان طریقے سے سر انجام دینے کا درس دیتا ہے۔ دین اسلام میں
آسانی اور نرمی کا سبق پڑھایا گیا۔
اللہ تعالیٰ
قرآن پاک میں فرماتا ہے: یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ
بِكُمُ الْعُسْرَ٘-(پ 2، البقرۃ:185) ترجمہ کنزالعرفان: اللہ تم پر
آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔
بچوں پر بے جا
سختی انکی طاقت سے زائد ان پر بوجھ ڈالنا ہے جبکہ اسلام کی یہ تعلیمات نہیں ہیں۔
بچوں پر بے جا
سختی کے کئی نقصانات ہیں: اس سے بچوں کے دل میں خوف، احساس کمتری اور ضد پیدا ہوتی
ہے۔ وہ والدین اور اساتذہ سے دور ہونے لگتے ہیں اور ان کا اعتماد کمزور ہو جاتا
ہے۔ مسلسل سختی بچوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور شخصیت پر منفی اثر ڈالتی ہے، جس کے
نتیجے میں وہ جھوٹ، بدتمیزی یا باغیانہ رویّے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ محبت اور
نرمی کے بجائے سختی اختیار کرنا بچوں کی صحیح تربیت میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
بچوں پر بے جا
سختی خصوصاً مار پیٹ کے جسمانی نقصانات بھی بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ اس سے بچے جسمانی
کمزوری، چوٹ، زخم اور بعض اوقات مستقل بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ زیادہ خوف
اور دباؤ کی وجہ سے نیند کی کمی، بھوک متاثر ہونا، سر درد اور جسمانی تھکن جیسی
مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بعض بچوں کی نشوونما اور صحت بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے
ان کی روزمرہ زندگی اور تعلیم پر برا اثر پڑتا ہے۔
اس لیے بچوں
کی تربیت میں بے جا سختی کے بجائے محبت، نرمی اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ ان کی
غلطیوں کو صبر کے ساتھ سمجھایا جائے اور اچھے انداز میں اصلاح کی جائے۔ بچوں کی
حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ ان میں اعتماد پیدا ہو۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے
کہ وہ خود اچھا اخلاق اپنائیں، کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔
مناسب نگرانی، دعا اور محبت بھرا ماحول بچوں کی بہترین تربیت میں اہم کردار ادا
کرتا ہے۔
حضور جان
رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک دین آسان ہے اور جو شخص بھی دین پر غلبہ حاصل کرنےکی
کوشش کرے گا، اس پر دین غالب آ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں بچوں کی صحیح تربیت کرنے، ان کے ساتھ محبت، نرمی اور شفقت کا معاملہ کرنے کی
توفیق عطا فرمائے اور ہماری اولاد کو نیک، فرمانبردار اور معاشرے کا مفید فرد
بنائے۔ آمین
Dawateislami