اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِﳳ-اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳) (پ 21، لقمان: 13) ترجمہ کنز الایمان: اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنابے شک بڑا ظلم ہے۔

یہاں ”یابنی (اے میرے بیٹے)“ کے الفاظ استعمال ہوئے جو انتہائی شفقت اور محبت والے ہیں اور یہ سیکھانا ہے کہ تربیت کا آغاز سخت لہجے سے نہیں بلکہ محبت بھرے جملوں سے ہونی چاہئے۔

صراط الجنان میں ہے کہ بچوں کو ہر وقت کوسنا نہیں چاہیے ہر وقت اللہ سے خیر ہی مانگے نہ جانے کون سے گھڑی قبولیت کی ہو اور بعض اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے کہ اولاد کے لیے بددعا کی اور وہ قبولیت کے گھڑی تھی اور اس کے نتیجے میں بچے پر واقعی وہ مصیبت آجاتی ہے جس کی بددعا کی ہوتی ہے۔ (صراط الجنان، 4/292)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دس سال حضور ﷺ کی خدمت کی آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ پوچھا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا۔ (بخاری، 2/243، حدیث: 2768)

بچوں پر بے جا سختی مارپیٹ اور ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ ان کی شخصیت کو بری طرح متاثر کرتی ہے نفسیات اور دین اسلام دونوں اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ سخت رویہ اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ بچوں پر بےجا سختی کے چند نقصانات درج ذیل ہیں:

بچے پر ہر وقت کی تنقید اور سختی کی وجہ سے بچہ خود کو دوسروں سے کمزور سمجھنے لگتا ہے اور ان کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ سہمے سہمے رہتے ہیں۔

بےجا سختی بچوں میں انیزائٹی پیدا کرتی ہے اور باغی بناتی ہے، ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے ایسے بچے اکثر پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کا ذہن خوف کی وجہ سے مختلف سرگرمیوں پر مرکوز نہیں ہو پاتا ہے۔

تربیت کا مطلب رعب ڈالنا نہیں بلکہ رہنمائی کرنا ہے جب بچہ محبت محسوس کرتا ہے تو وہ آپ کی بات دل سے مانتا ہے صرف ڈر سے نہیں نیز اگر بچے تنگ کریں تو انہیں حکمت عملی(strategy)سے سمجھائیے جیسا کہ غلطی کرنے پر آپ اسے سمجھائیں کہ کوئی بات نہیں غلطیاں تو سب سے ہوتی رہتی ہیں بجائے اس کے کہ آپ اسے ڈانٹ ڈپٹ کریں اس سے بچہ اگلی دفعہ ڈر کی بنا پر جھوٹ بولے گا۔ لہذا ہمیں بچوں کا رہنما اور دوست بن کر رہنا چاہیے۔

اللہ پاک ہمیں بچوں کی نیک تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین