بچوں
پر بےجا سختی مت کیجیے از بنت گلزار علی،فیضان عطار بھینس کالونی کراچی
اسلام نے ہمیں
ہر ایک کے حقوق سے آگاہ کیا ہے جن کی پاسداری کرنا ہر ایک پر لازم ہے۔ آج کل ہمارے
معاشرے میں بعض لوگوں کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہوتا ہے جن میں سے ایک بچوں
کے حقوق بھی ہیں، والدین کو چاہیے کہ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے سختی اور شفقت و
محبت کو پیش نظر رکھیں اور ان دونوں کو اعتدال سے لے کر چلیں بچوں پر زیادہ سختی
کرنے سے وہ باغی اور ضدی ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے والدین کو مشکلات اور پریشانیوں
کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
والدین اس بات
کو بخوبی جانتے ہیں کہ بچے شفقت و محبت سے قریب آتے ہیں جبکہ اس کے مترادف بچوں پر
ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کرنے سے وہ والدین سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔بچوں پر بے جا سختی
کا بعض اوقات والدین کو سخت نقصان اٹھانا پڑتا ہے یعنی بچے غلط جگہوں پر جانا،غلط
لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں،گناہوں کے اڈوں میں جانا شروع کر
دیتے ہیں جہاں معاذ اللہ شراب نوشی جیسے برے کام ہو رہے ہوتے ہیں۔
والدین کو
چاہیے کہ بچوں پر ایسی سختی نہ کریں جس سے بعد میں انہیں پچھتاوا ہو لیکن وہ کچھ
بھی نہ کر سکیں۔والدین کو بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہیے جس سے کوئی والدین کی
تربیت پر انگلی نہ اٹھا سکے۔بعض والدین اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب بچہ بڑا ہو
اور وہ اس کی اخلاقی تربیت کریں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے بلکہ والدین کو چاہیے
کہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھرپور توجہ دیں کیونکہ بچہ اپنے بچپن میں جو کچھ
سیکھتا ہے ساری زندگی وہ اس کے ذہن میں راسخ رہتا ہے۔بچے کا ذہن ایک خالی شیشی کی
طرح ہوتا ہی جو کچھ اس میں ڈالا جائے ڈلتا چلا جاتا ہے اور وہ اسے ساری عمر یاد
رکھتا ہے، اسی لیے والدین کو چاہیے کہ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جائے اس کی اچھی
تربیت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
بچوں کی چھوٹی
چھوٹی غلطیوں پر شفقت سے اصلاح کی جائے نہ کہ ان پر ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کی جائے اور
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بچے اس کام کے حریص ہوتے ہیں جن سے انہیں منع کیا جائے،
لہذا بچوں کی ہر بات پر روک ٹوک نہ کی جائے بلکہ وقتا فوقتا پیار سے سمجھایا جائے۔
بعض والدین اپنے بچوں پر شفقت کرنے میں میانہ روی اختیار نہیں کرتے یعنی ایک بچے
پر شفقت زیادہ اور دوسرے پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں تو اس طرح اگر ایک بچے پر سختی
زیادہ کی جائے تو وہ احساس کمتری اور مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔
بعض اوقات
بچوں پر سختی کرنے کا سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین
اپنے بچوں کو وہ چیز فراہم نہیں کر پاتے جن کا بچے مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں پھر جب
بچوں کو وہ چیز حاصل نہ ہو تو وہ والدین سے ضد کرتے ہیں جس کی وجہ سے والدین ان پر
سختی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ان سب باتوں کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ بچوں پر جس
قدر سختی کی جائے وہ اتنے ہی ضدی بنتے ہیں لہذا والدین کو حتی الامکان کوشش کرنی
چاہیے کہ بچوں کو پیار سے ڈیل کریں جیسے کہ ہمارے مرشد ہمارے رہبر بچوں کے ساتھ
شفقت سے پیش آتے ہیں۔
Dawateislami