عام طور پر بچے فطرتا ناسمجھ اور شرارتی ہوتے ہیں،ان میں ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کا جذبہ ہوتا ہے جو انہیں ہر وقت بے چین رکھتا ہے، وہ چیزوں کو چھیڑ چھاڑ کرتے، رکھتے اٹھاتے، توڑتے جوڑتے ہیں جو انکی صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے بچپن وہ عمر ہوتی ہے جب بچہ گرم لوہے کی مانند ہوتا ہے کہ اسے جس شکل میں ڈھالا جائیگا وہ اسی شکل میں ڈھل جائے گا یہ وہ دور ہے کہ جب بچے کی تربیت کی جائے۔

تربیت کا معاملہ بہت توجہ طلب اور محتاط عمل ہے کہ جو اب کرلیا سو کرلیا بعد میں محض پچھتاوے کے کچھ نہیں بچے گا۔ تربیت کے معاملے میں کچھ والدین بہت عقل مندی، سمجھداری سے کام لیتے ہیں اور تربیت میں نرمی پیار محبت شفقت کرتے ہیں اور بعض ایسے نادان والدین ہوتے ہیں کہ وہ بے جا سختی کو ہی تربیت سمجھتے ہیں یہ بے جا سختی بچوں میں احساس کمتری، اسٹریس، ضد، والدین کے خلاف بدگمانی، نا امیدی، مایوسی جیسی خطرناک مہلک بیماریاں پیدا کرنے کا سبب ہے۔

بے جا سختی بچوں کو والدین سے دور کردیتی ہے وہ چھپ چھپ کر وہ کام کرنا شروع کردیتے ہیں جن سے انہیں روکا جائے وہ غلط صحبت کا شکار ہوجاتے ہیں، والدین سے باتیں چھپاتے،جھوٹ بولتے، ناکرنے والے کام کرجاتے ہیں، یہ عمل بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

وہ نئے تجربات کرنے سے ڈرتا ہے، لوگوں سے بات کرتے ہوئے گھبراتا ہے الغرض یہ کہ وہ معاشرے کا بہترین فرد بننے کے بجائے منفی سوچ و منفی کردار والی شخصیت لے کر پروان چڑھتا ہے اور پھر یہ رویہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے وہ بچے جنھیں آزادی کے ساتھ کسی کام کو کرنے کا موقع نہیں ملا وہ کچھ نیا کرنے کا سوچتے ہی نہیں اور اگر سوچتے ہیں تو اپنی پہلی ناکامی پر ہی مایوس ہوجاتے ہیں جبکہ وہ بچے جنھیں اپنے والدین کا مکمل ساتھ حاصل ہوتا ہے وہ دنیا کے ہر طوفان سے لڑ سکتے ہیں مستقبل میں اپنے والدین کا دست و بازو بنتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے بلکہ آگے بڑھتے جاتے ہیں اگرچہ والدین اولاد پر نگران ہیں لیکن بچوں کے بھی حقوق ہیں بروز قیامت انکے متعلق بھی سوال کیا جائے گا بچوں پر سختی کرنے میں بعض اوقات یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ ان پر تشدد کیا جاتا ہے، مارپیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس کے ظاہری نقصانات کو اگر ایک طرف کرکے صرف شریعت کی نظر سے دیکھیں تو احادیث طیبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ بچوں پر شفقت فرمانے والے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا احترام نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

بچوں کو ہمیشہ پیار نرمی شفقت سے سمجھایا جائے، اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی کی جائے، انکی غلطیوں پر انہیں ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھایا جائے، نئے تجربات کرنے کے مواقع فراہم کیئے جائیں ان سے دوستانہ ماحول رکھا جائے تاکہ وہ اپنی کوئی بھی بات بلا جھجک آپ سے کریں ناکہ اپنے دوستوں سے، انہیں وقت دیں اور ان کیلئے خود رول ماڈل بنیں، اپنے بچوں کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ مستقبل میں معاشرے کا بہترین شہری بن کر آپکا نام روشن کرے۔