بچوں پر بے جا
سختی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ مستقبل کے روشن ستارے ہوتے ہیں ان کے ساتھ نرم
مجازی سے پیش آنا چاہیے، تو یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نرم مجازی کا
مطلب یہ ہے کہ بچے کی ہر بات مان لی جائے اور جو بچہ کہہ رہا ہے وہ کر لیا جائے؟
اس کا جواب یہ
ہے کہ پہلے تو یہ سمجھنا ہوگا یہ ضد کیسے پیدا ہوتی ہے؟ ہر انسان کی ایک خواہش
ہوتی ہے کہ وہ کچھ حاصل کرے اور خواہش میں ایک چیز موجود ہوتی ہے اور وہ ہے صبر،
جب صبر ختم ہو جائے تو وہ ضد بن جاتی ہے جب بچہ کسی چیز سے ضد کرتا ہے تو والدین
اسے ڈانٹتے ہیں مارپیٹ کرتے ہیں تو ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے پیار سے سمجھانا
چاہیے، بچوں پر سختی بھی کرنی چاہیے لیکن سختی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو مارا
جائے ان سے بدتمیزی کی جائے جب بچے پر سختی کی جائے تو ان کی شخصیت کو نشانہ نہ
بنایا جائے بلکہ ان کے رویے کو نشانہ بنایا جائے جیسے کہ بچے کو یہ نہ کہیں تم تو ہو
ہی ضدی اور نافرمان، بلکہ یہ کہیں بیٹا آپ جو یہ کر رہے ہیں یہ غلط ہے! کیونکہ
والدین کی بے جا سختی ان کے مستقبل کو خراب کر سکتی ہے جیسے کہ جب بچے سے کوئی کام
غلط ہو جائے تو اسے یہ نہ کہیں کہ آپ سے یہ نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ کہیں کہ اب نہیں
ہو رہا تو کوئی بات نہیں لیکن مستقبل میں یہ غلطی نہیں ہونی چاہیے۔
والدین کو
چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر شفقت کریں اور ان سے محبت کریں، آقا علیہ السلام کا بچوں
کے ساتھ حسن سلوک مثالی تھا اب بچوں کی دلجوئی کے لیے ان کے ساتھ کھیلتے تھے جو
بچے سخت مزاج ہوں تو ان کا علاج یہ ہے کہ ان کو درود کی تسبیح دی جائے کیونکہ درود
پاک اکڑ کو توڑتا ہے طبیعت کی سختی ختم کر دیتا ہے اور آقا علیہ السلام کی مٹھاس
پیدا کر دیتا ہے حضور کا نام شہد سے میٹھا ہے۔
ان کا
نام لبوں پر آئے میٹھا میٹھا منہ
ہو جائے
ان کے
بول بہاروں جیسے اور اصحاب ستاروں
جیسے
درود غصہ ختم
کرتا ہے اگر والدین چاہیں کہ اولاد غصہ ختم کر جائے اکڑ ختم ہو جائے تو ان کو کسی
طرح درود پر لے آ ئیں تو ان کی طبیعت میں محبت، رقت آئے گی۔
اگر والدین
چاہتے ہیں کہ بچے ان کی ہر بات مانیں تو اس کے لیے ان کو بچوں کی پسندیدہ شخصیت
بننا پڑے گا یا والدین کو اولاد کے لیول پر آنا ہوگا یعنی جب بچہ کھیلے تو ان کے
ساتھ والدین بھی شریک ہو جائیں تو بچے اپنے والدین سے متاثر ہو جائیں گے اور ان سے
محبت بھی کرنے لگیں گے والدین کی بات بھی مانیں گے اگر آپ بچوں پر سختی کریں گے تو
بچے آپ سے باتیں چھپانے لگ جائیں گے تو سختی کے بجائے ان کے دوست بن کر رہیں تاکہ
بچے والدین سے باتیں شیئر کریں اور ان کی ہر جائز بات مانیں، بچے کی سب سے پہلی
ٹیچر یعنی استاد اس کی ماں ہوتی ہے بچوں کی تربیت کا انحصار فقط اساتذہ کرام پر ہی
نہ چھوڑ دیں بلکہ والدین بھی اس کا مضبوط فالو اپ رکھیں انسان کی شخصیت پر صحبت
بہت اثر رکھتی ہے تو لہذا غور کر لینا چاہیے کہ بچے کو کیسی صحبت مل رہی ہے جب بچہ
بری صحبت میں بیٹھتا ہے تو اس کے اندر بری عادتیں بھی آتی ہیں پھر والدین اس پر
سختیاں کرتے ہیں جو کہ بچے کو بگاڑ دیتی ہیں۔
Dawateislami