اللہ پاک رحیم ہے اور رحم دلی اور نرمی کو پسند فرماتا ہے نرمی سے کہی گئی بات انسان کے دل میں سرائیت کر جاتی ہے اس کے برعکس سخت کلامی اگرچہ کلام درست ہی کیوں نہ ہو انسان کو ضدی اور بدظن کر دیتی ہے خصوصاً بچے کہ آپ ان کے ساتھ جیسا رویہ اختیار کریں گےوہ بھی وہی سیکھیں گے۔ بچے قول سے کم جبکہ فعل سے زیادہ سیکھتے ہیں اس لیے بچوں کی تربیت سے پہلے والدین کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے، والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ اپنی اولاد کو کب کہاں اور کیسے سمجھانا ہے اور کب زبان سے اور کب اپنے عمل سے سمجھانا ہے۔ والدین کی بےجا سختی اور روک ٹوک بچوں کو باغی اور نافرمان کر دیتی ہے۔ یوں ہی اگر والدین بات بات پر جھوٹ بولتے ہیں اور اپنی اولاد سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ سچ بولے اور جھوٹ بولنے پر اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور مارتے ہیں تو یہ عقلمندی نہیں بلکہ بے وقوفی ہے۔

بچے اور آقا کریم ﷺ کا انداز: اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی ﷺ بچوں سے بہت زیادہ شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں میں بڑے کامل ایمان والا وہ ہے جو سب میں اچھے اخلاق والا اپنے بال بچوں پر مہربان ہو۔ (ترمذی، 4/278، حدیث: 2621)

معلوم ہوا کہ اپنے دوست احباب یا گھر کے علاوہ باہر لوگوں میں اپنے حسن اخلاق اور نرم گوئی کا سکہ بٹھانا کوئی کمال کی بات نہیں بلکہ کامل ایمان والا تو وہ ہے جس کا خلاق اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا اور مہربان ہو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار وہ بچوں کے پاس سے گزرے توانہیں سلام کیااورفرمایا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری، 4/179، حدیث: 6247)

اولاد کے نافرمان و باغی ہونے میں اکثر قصوروار والدین بھی ہوتے ہیں کہ وہ اولاد کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کرتے اور کسی ایک کو زیادہ محبت و پیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے دوسری اولاد احساس کمتری کا شکار جاتی ہے اور ماں باپ سے بدظن ہو جاتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ جب انہیں کسی ایک بچے پر پیار آئے اور دوسرا بچہ بھی وہاں موجود ہو تو وہ دونوں کو پیار کریں کہ ایک کا بوسہ لیں تو دوسرے کو اپنے سینے سے لگا لیں۔

اولاد کی تربیت کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن برے کاموں سے آپ اپنے بچوں کو روکنا چاہتے ہیں خود بھی ان سے اجتناب کریں کہ والدین کے اچھے یا برے کاموں کے اثرات اولاد پر بھی پڑھتے ہیں۔

اپنے گھر میں اچھا ماحول قائم کریں اور بلا وجہ کےچیخنے چلانے اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کریں کہ بچوں کی اخلاقی تربیت میں والدین کا باہمی رویہ و سلوک بہت زیادہ موثر ہوتا ہے۔

بچوں کی شرارتوں پر انہیں بار بار ٹوکنے اور نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں ایسے سرگرمیاں فراہم کریں جس سے ان کی صلاحیتوں میں اور ذہنی نشوونما میں اضافہ ہو۔

اللہ پاک ہمیں اپنی اولاد کی صحیح اسلامی دینی اور اخلاقی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔