بچوں پر بےجا
سختی، ڈانٹ ڈپٹ یا تشدد ان کی نفسیاتی اور جذباتی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے
جس سے ان میں بغاوت، ڈر اور ذہنی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ محبت، توجہ اور نرمی سے
بچوں کی بہتر تربیت ممکن ہے جب کہ ہر وقت کی تنقید انہیں باغی بنا سکتی ہے۔
خوف
و لالچ سے گریز:بچوں
کو خوف یا لالچ دے کر کام نہ کروائیں ورنہ وہ اس کے عادی ہو جائیں گے۔
جذبات
کی قدر: بچوں
کے جذبات کو سمجھیں اور ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں۔
بگاڑ
کی وجہ:تشدد
اور بے جا سختی بچوں میں بگاڑ اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
والدین کو چاہیے
کہ بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول رکھیں اور ان کی نفسیاتی ضروریات کا خیال رکھیں
کیونکہ بچے کی نفسیات کی ضروریات میں یہ بھی ہے کہ ان سے محبت اور شفقت بھرا برتاؤ
کیا جائے۔ بہتر ہوگا کہ بچوں کو اپنی بات کہنے اور سیکھنے کا صحیح طریقہ اور وقت
انتخاب کرنے دیں۔ سب کے سامنے انہیں ڈانٹنے یا ٹوکنے سے بہتر ہے کہ اکیلے میں
سمجھائیں، بچوں کو ہمیشہ حوصلہ دیں اور ان سے اس طرح کے جملے ہمیشہ کہیں کہ ڈرنے کی
بات نہیں، ہم ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں، اس بار نہیں ہوا تو کیا ہوا اگلی بار کوشش
کرنا، اچھا برتاؤ کرنے پر بچوں کی تعریف کریں۔
کچھ جگہوں پر
کبھی کبھی سختی بھی ضروری ہوتی ہے بچہ بہت ضدی ہو تو تھوڑا سا سخت ہونا پڑتا ہے
پڑھائی کے وقت ہنسی مذاق نہیں۔ اسلام میں بچوں کے ساتھ نرمی شفقت اور محبت کا حکم
دیا گیا ہے اور ان پر بےجا سختی سے منع کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ بچوں کے
ساتھ پیار و محبت کا معاملہ فرمایا۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے
نہیں۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)
اللہ پاک نرمی
کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو
سختی پر نہیں دیتا۔ (مسلم، ص 1398، حدیث: 2593)
آپ ﷺ بچوں کو
چومتے گلے لگاتے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے۔
تربیت
میں سختی کے بجائے حکمت:بچے معصوم اور ناسمجھ ہوتے ہیں اس لیے انہیں سختی
سے مجبور کرنے کے بجائے نرمی اور سمجھداری سے بات منوانی چاہیے، تربیت میں بےجا
سختی نسلوں تک برے اثرات منتقل کر سکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ
اسلام بچوں کی تربیت میں نرمی محبت اور شفقت کو ترجیح دیتا ہے لہذا ہمیں بچوں پر بےجا
سختی نہیں کرنی چاہیے۔ اپنی اولاد اور بچوں کو خوش کرنا جنت میں داخلے کا سبب بھی
ہے۔
بچے کی
نفسیاتی ضروریات میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے محبت اور شفقت بھرا برتاؤ کیا جائے وہ
بچے جو ماں باپ کی محبت سے محروم رہتے ہیں، بسا اوقات نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا
دکھائی دیتے ہیں۔ اچھے کھانوں کپڑوں اور کھلونے کے بجائے بچے اس بات کے زیادہ
محتاج ہوتے ہیں کہ ان کے والدین پر توجہ دیں اور ان سے محبت کریں، بعض لوگ اپنے
بچوں کے سامنے مال و اسباب کے ڈھیر تو جمع کر دیتے ہیں لیکن انہیں اپنی حقیقی توجہ
اور پیار محبت سے محروم رکھتے ہیں۔ اسی طرح بعض والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے
بچوں سے بے جا سختی کرتے ہیں حالانکہ جس طرح ایک بچے کی اچھی صحت کے لیے متوازن
غذا ضروری ہے اسی طرح بچوں کی اچھی تربیت کے لیے والدین کا ان سے پیار بھی بہت
ضروری ہے۔ بچوں سے غلطی ہو جانے کی صورت میں انہیں پیار اور محبت سے سمجھایا جائے،
ہمیں اپنے بچوں پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔
Dawateislami