اولاد اللہ
تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور والدین کے لیے امانت ہوتےہیں۔ ان کی اچھی تربیت والدین
کی اہم ذمہ داری ہے۔ بعض اوقات والدین اصلاح کے نام پر اولاد پر ضرورت سے زیادہ
سختی کرتے ہیں، جس سے بچوں کی شخصیت اور ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔ بے وجہ سختی
بچوں کے دل میں خوف، نفرت اور احساس محرومی پیدا کر دیتی ہے۔ اسلام نے بچوں کے
ساتھ محبت، شفقت اور نرمی کا حکم دیا ہے، کیونکہ اچھی تربیت محبت اور حکمت سے ہی
ممکن ہے، نہ کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ اور سخت رویّے سے کیونکہ یہ رویے بچوں کے ذہن پر
منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔اور اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں
1۔ بچوں کا بدتمیز اور نافرمان ہو جانا:والدین کی بے جا سختی اور ہر
وقت کا سخت رویّہ بچوں کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ مسلسل ڈانٹ ڈپٹ اور سخت
برتاؤ کی وجہ سے بچے بدتمیز، ضدی اور نافرمان بن سکتے ہیں۔ وہ والدین کی بات کو
سمجھنے اور ماننے کے بجائے اس کے خلاف عمل کرنے لگتے ہیں، جس سے گھر کے ماحول میں
بھی بے سکونی پیدا ہو جاتی ہے۔
2۔ بچوں میں خود اعتمادی کا فقدان: والدین کی بے
وجہ سختی اور ہر وقت تنقید کرنے سے بچوں کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔ بچے خود کو
کمزور اور ناکام سمجھنے لگتے ہیں اور ہر کام میں خوف اور ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
اس طرح وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کھو بیٹھتے ہیں، جو ان کی تعلیم، شخصیت اور
مستقبل پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
3۔
جھوٹ بولنے کی عادت پڑ جانا: جب بچوں کو ہر چھوٹی بات پر سخت سزا یا
ڈانٹ کا خوف ہو تو وہ سچ بولنے کے بجائے جھوٹ کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ بچے اپنے آپ
کو بچانے کے لیے باتیں چھپاتے ہیں، جس سے ان کی عادت خراب ہو جاتی ہے اور ان کے
اخلاق پر منفی اثر پڑتا ہے۔
4۔ پڑھائی میں دل نہ لگنا:جب
بچوں پر ہر وقت سختی اور دباؤ ہوتا ہے تو ان کا ذہن بوجھل ہو جاتا ہے۔ وہ پڑھائی
میں دلچسپی کھو دیتے ہیں اور دل لگا کر سبق نہیں پڑھ پاتے۔ خوف اور ذہنی دباؤ کی
وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ بہتر نتائج حاصل نہیں کر پاتے۔
5۔ احساس کمتری پیدا ہونا:والدین
کی بے جا سختی اور مسلسل تنقید بچوں کی خود اعتمادی کو کمزور کر دیتی ہے۔ بچے
آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ کسی کام کے قابل نہیں ہیں یا دوسروں سے کم
ہیں۔ یہ منفی سوچ ان کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے اور وہ زندگی میں آگے بڑھنے، نئے
کام کرنے اور اپنی صلاحیتیں دکھانے سے گھبرانے لگتے ہیں۔
6۔
غلط صحبت کی طرف مائل ہونا:جب بچوں کو گھر میں پیار، توجہ اور
اعتماد نہیں ملتا تو وہ باہر سکون تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ غلط
دوستوں کی صحبت میں آ سکتے ہیں جو ان کے اخلاق اور عادات کو مزید خراب کر دیتے
ہیں۔ اس طرح ان کا مستقبل بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
حدیث پاک میں ہے:نبی
کریم ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے
ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔بادشاہ نگران ہے، اس سے اس کی رعایا کے
بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہل وعیال کا نگران ہے اس سے اس کے اہل وعیال
کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولادکی نگران ہے اس سے ان
کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 2/159، حدیث: 2554)
اس حدیث
مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کے معاملے میں جواب دہ ہونگے لہٰذا والدین
کو چاہیے سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے محبت، نرمی اور حکمت کے ساتھ بچوں کی تربیت کریں
تاکہ بچے خود بخود اچھے اخلاق اختیار کریں۔
محبت، شفقت و
نرمی اولاد کا بنیادی حق ہے۔ حضور سید عالم ﷺ بچوں پر بہت ہی شفیق تھے بچوں کو
سلام میں پہل کرتے،ان کو گلے لگاتے، منہ چومتے، پیار سے سونگھتے ان کی نرمی و محبت
سے تربیت فرماتے،لہٰذا اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے
اپنی اولاد کی تربیت پیار، محبت و نرمی سے کی جائے۔
Dawateislami