بچے اللہ پاک کی
طرف سے والدین کے لئے عظیم نعمت ہیں ان کی پرورش کرنا نہایت نازک معاملہ ہے،بچوں
کی تربیت مختلف انداز سے ہوتی ہے کسی موقع پر نرمی تو کسی موقع پر سختی سے بچوں کے
ساتھ پیش آیا جاتا ہے بچوں سے ایسے اعتدال کے ساتھ سے پیش آئیے کہ وہ باغی نہ ہو
جائے۔
بعض لوگ بچوں
پر بے جا سختی کرتے ہیں جسکی وجہ سے بچوں کے دلوں میں والدین کے لئے عزت اور
احترام آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے اور بچے والدین سے دور ہوجاتے ہیں۔
اسلام ہمیں
بچوں کے ساتھ پیار،شفقت اور حسن سلوک کا درس دیتا ہے، پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: وہ
ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔ (ترمذی،
3/369، حدیث: 1926)
معلوم ہوا
اسلام جہاں ہمیں بڑوں کے ساتھ احترام سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے وہیں بچوں کے ساتھ
شفقت سے پیش آنے اور رحم کرنے کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔
عموماً ہمارے
معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بچوں پر بے جا سختی کرتے ہیں جسکے
نتیجے میں بچے باغی ونافرماں ہوجاتے ہیں،والدین سے باتیں چھپاتے،سختی کے ڈر سے
جھوٹ بولتے ہیں اور بچے ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوجاتے ہیں جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے
ہیں بری صحبت،چوری جیسے کاموں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔
ہمارے اسلاف
کا طرز عمل یہی تھا کہ وہ بچوں کے ساتھ نہایت نرمی سے پیش آتے تھے بلکہ ہمارے آقا ﷺ
بچوں پر کبھی سختی نہیں فرماتے تھے بلکہ بچوں کو گود میں بٹھاتے،ان کا بوسہ لیتے
اور کبھی کبھار انکے ساتھ کھیلتے بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی
اللہ کو کندھوں پر بھی بٹھاتے تھے۔
حدیث مبارکہ
میں ہے: رسول اللہ ﷺ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کندھے پر بٹھاتے تھے اور فرمایا:
اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر۔ (ترمذی، 5/656، حدیث: 3769)
ہمیں اپنے
انداز پر غور کر لینا چاہیے کہ ہمارا اپنے بچوں کے ساتھ کیسا سلوک ہے کہیں ہم بلاوجہ
سختی کرکے انہیں خود سے دور تو نہیں کر رہے؟
اگر بچہ کوئی
غلطی کرے تو اسے ڈانٹنے اور مارنے پیٹنے کی بجائے پیار سے سمجھائے تاکہ وہ آپکی
بات بھی سمجھ جائے اور آپکے لیے اس کے دل میں احترام بھی باقی رہے۔
بچوں پر اتنی
سختی نہ کریں کہ بعد میں آپکو پچھتاوے کا سامنا کرنا پڑے۔ یاد رکھئے اسلام نے ہمیں
بچوں کے ساتھ بہت زیادہ سختی سے ضرور منع کیا ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ بچے کے
ساتھ اتنی زیادہ نرمی اختیار کی جائے کہ بچہ ضدی بن جائے جہاں اسلام ہمیں ہر جگہ میانہ
روی کا درس دیتا ہے وہی بچوں کے ساتھ بھی اعتدال کا رویہ اپنانے کا حکم دیتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنی اولاد کی تربیت شریعت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami