شاہد رضا عطاری( درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضانِ عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
وعدہ وفائی اسلامی اخلاقیات کا نہایت اہم ستون ہے۔ اسلام
نے انسان کو صرف عبادات کا پابند نہیں بنایا بلکہ معاملات، اخلاق اور سماجی تعلقات
میں بھی اعلیٰ کردار کا حکم دیا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت اور معاشرے کے
اعتماد کی بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث میں وعدہ خلافی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے، جبکہ
وعدہ وفائی کو تقویٰ اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ
کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (سورۃ بنی
اسرائیل: 34)
اس آیت سے واضح ہے کہ قیامت کے دن وعدوں کے بارے میں باز
پرس ہوگی۔ اس لیے وعدہ ایک معمولی بات نہیں بلکہ دینی ذمہ داری ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا
بِالْعُقُوْدِ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا
کرو۔(سورۃ المائدۃ: 1)
یہ حکم عام ہے، جس میں ہر قسم کے وعدے اور معاہدے شامل ہیں،
چاہے وہ اللہ سے ہوں یا بندوں سے۔
وَ
الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ
کنز العرفان: اوروہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ:
177)
یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ وفائی نیکی اور تقویٰ کی نشانی
ہے۔
گویا یوں ہی ہے کہ سیرتِ نبی کریم ﷺ وعدہ وفائی میں کامل
نمونہ تھے۔
قرآن میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا:اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ
الْوَعْدِ ترجمہ کنز العرفان: بے شک وہ وعدے کا سچا تھا۔ (سورۃ مریم:
54)
وعدہ وفائی سے اللہ کی رضا اور قرب حاصل ہوتا ہے۔معاشرے
میں عزت اور اعتماد بڑھتا ہے۔دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ آخرت میں کامیابی نصیب
ہوتی ہے۔وعدہ وفائی اسلام کا بنیادی اخلاقی اصول ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی سخت
تاکید کی گئی ہے اور وعدہ خلافی کو نفاق قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ
کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں اس کی روشن مثالیں ہیں۔ اگر ہم انفرادی اور اجتماعی
زندگی میں وعدہ وفائی کو اپنالیں تو ہمارا معاشرہ اعتماد، محبت اور اخوت کا گہوارہ
بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچا، امانت دار اور وعدہ کا پابند بننے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami