وعدہ وفائی یعنی وعدہ پورا کرنا یہ اللہ اور اسکے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم کی صفت ہے۔ اور سچا مومن وہی ہے جو وعدے کو پورا کرتا ہے۔وعدہ پورا کرنے کے فضائل اور وعدہ خلافی کی وعیدیں قرآن و حدیث میں کئی جگہ موجود ہیں۔ ذیل میں وعدہ وفائی کے متعلق چند آیات قرآنی پیش کی جاتی ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

(1) مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶) ترجمہ کنز العرفان:جو اپنا وعدہ پورا کرے اور پرہیز گاری اختیار کرے تو بیشک اللہ پرہیز گاروں سے محبت فرماتا ہے۔ (پ3،سورة اٰل عمران، آیت76)

اس سے معلوم ہوا کہ جو کسی سے وعدہ کیا جائے اسے ضرور پورا کیا جائے خواہ رب عَزَّوَجَلَّ سے کیا ہو یا عام انسانوں سے یا نبی سے یا اپنے پیر سے یا بوقت نکاح بیوی سے یا کسی اور عزیز سے۔(تفسیر صراط الجنان،جلد1)

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (پ6،سورة المائدۃ،آیت1)

(3) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پ15،سورة بنی اسرائیل،آیت34)

آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، جلد5 /صفحہ155)

اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں۔ (صراط الجنان،جلد 5)

(4) وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷) ترجمہ کنزُالعِرفان: اوروہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں اور مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت صبرکرنے والے ہیں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔(پ2،سورة البقرة،آیت177)

تو ان مقدس آیات کریمہ سے وعدہ وفائی کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کس طرح وعدہ وفائی کی صفت کو جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔تو کامل مسلمان وہی ہے جو بھی عہد کرے اسے پورا کرے ۔اللہ پاک ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔