ضیاء المصطفیٰ (درجہ سادسہ جامعۃ
المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
وعدہ وفائی ایک شرعی فریضہ ہے جو ایمان کا حصہ ہے اور جس
پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔
(1)
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے
میں سوال کیا جائے گا۔(سورۃ الاسراء17:34)
(2)
وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا
ترجمہ کنز العرفان:اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں ۔ (سورۃ
البقرۃ2:177)
(3)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔
( سورۃ المائدہ 5:1)
(4)
وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم وَلَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ
بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا
ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی
عہد کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو۔ ( سورۃ النحل16:91)
(5)
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے
وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ ( سورۃ المؤمنون 23:8)
وعدہ وفائی کے فوائد درج ذیل ہیں:
دینی فوائد:اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے،ایمان مضبوط
ہوتا ہے،نفاق سے حفاظت ہوتی ہے،دعاؤں کی قبولیت کے اسباب بنتے ہیں۔
سماجی فوائد:لوگوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے،عزت و وقار میں
اضافہ ہوتا ہے،رشتے مضبوط ہوتے ہیں معاشرے میں امن اور سکون پیدا ہوتا ہے۔
اخلاقی فوائد:کردار
مضبوط بنتا ہے،سچائی اور دیانت داری کی عادت بنتی ہے،انسان باوقار اور بااصول
کہلاتا ہے۔
عملی فوائد:کاروبار اور معاملات میں ترقی ہوتی ہے،لوگ
ساتھ دینے کو تیار ہوتے ہیں،قیادت اور ذمہ داری کے مواقع ملتے ہیں۔
روحانی فوائد:دل
کا سکون نصیب ہوتا ہے،ضمیر مطمئن رہتا ہے،باطنی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔
(1)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین
شخصوں کا مدِّ مقابل ہوں گا، ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ دے پھر عہد شکنی کرے۔
دوسرا وہ شخص جو آزاد کو بیچے پھر اس کی قیمت کھائے ۔ تیسرا وہ شخص جو مزدور سے کام
پورا لے اور اس کی مزدوری نہ دے۔(بخاری، کتاب البیوع، باب اثم من باع حرًّا، ۲ / ۵۲، الحدیث: ۲۲۲۷)
(2) حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ
الْکَرِیْم سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا ’’ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے، جو
کسی مسلمان کا عہد توڑے تو اس پر اللہ تعالیٰ ،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت
ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ نفل۔(بخاری، کتاب فضائل المدینۃ،
باب حرم المدینۃ، ۱ / ۶۱۶، الحدیث:
۱۸۷۰)
وعدہ وفائی انسان کو اچھا مسلمان، اچھا انسان اور اچھا
شہری بناتی ہے۔ یہ فرد کی زندگی بھی سنوارتی ہے اور معاشرے کو بھی بہتر بناتی ہے۔
Dawateislami