سید
محمد ارسلان قریشی عطاری (درجہ عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان
)
وعدہ وفائی اسلام کے بنیادی اخلاق میں سے ہے۔ قرآنِ مجید
میں متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو عہد کی پاسداری کی تاکید کی گئی ہے اور عہد شکنی
کو ناپسندیدہ بلکہ قابلِ مواخذہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی معاشرہ اعتماد، دیانت
اور سچائی پر قائم ہوتا ہے، اور وعدہ وفائی اسی اعتماد کی بنیاد ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے
کرو۔ (سورۃ المائدۃ: 1 )
اس آیت میں تمام قسم کے عقود کو شامل کیا گیا ہے۔ چاہے
وہ اللہ سے کیا گیا عہد ہو، لوگوں سے کیا گیا وعدہ ہو یا معاشرتی و تجارتی معاہدہ،
سب کو پورا کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:وَ اَوْفُوْا
بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء: 34)
یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ وعدہ محض دنیاوی
معاملہ نہیں بلکہ آخرت میں اس کا حساب بھی ہوگا۔ یعنی ہر شخص کو اپنے قول و قرار
کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔
اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ
بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰) ترجمہ
کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے
نہیں۔ (سورۃ الرعد: 20)
یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ وفائی اہلِ ایمان کی نمایاں صفت
ہے۔ جو لوگ اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں اور اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں،
وہی حقیقی کامیاب ہیں۔اسی طرح سورۃ المؤمنون میں کامیاب مومنوں کی صفات میں فرمایا:وَ الَّذِیْنَ هُمْ
لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد
کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: 8)
یہاں عہد کو امانت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جس سے معلوم
ہوتا ہے کہ وعدہ بھی ایک امانت ہے۔ جس طرح مالی امانت میں خیانت حرام ہے، اسی طرح
وعدے میں خیانت بھی گناہ ہے۔قرآنِ مجید نے عہد شکنی کی مذمت بھی کی ہے:وَ لَا تَكُوْنُوْا
كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ترجمہ
کنز الایمان: اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ
کرکے توڑ دیا۔ (سورۃ النحل 92)
یہ مثال ان لوگوں کے لیے ہے جو وعدہ کرکے پھر توڑ دیتے ہیں۔
اسلام دشمن کے ساتھ بھی کیے گئے جائز معاہدے کی پاسداری کا حکم دیتا ہے، جب تک وہ
خود عہد شکنی نہ کریں۔
قرآنِ مجید کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی
صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ دینی فریضہ ہے۔ معاشرتی زندگی میں تجارت، نکاح،
دوستی، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات سب کا دار و مدار اعتماد پر ہے، اور اعتماد
وعدہ وفائی سے قائم ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنے عہد کا احترام کرتی ہیں وہ عزت و وقار
پاتی ہیں، اور جو عہد شکنی کرتی ہیں وہ ذلت و انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔آخر میں یہ
بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مسلمان کی پہچان اس کی سچائی اور وفاداری ہے۔ قرآن ہمیں
سکھاتا ہے کہ ہر قول و قرار سوچ سمجھ کر کریں اور پھر اسے پورا کریں، کیونکہ قیامت
کے دن ہر وعدے کے بارے میں سوال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عہدوں کو پورا کرنے
والا اور دیانت دار بندہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین
Dawateislami