نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت محمد اسماعیل،فیضانِ رضا سرجانی ٹاؤن
میڈیا کی مثال
ایک چھری کی طرح ہے، جس کا صحیح اور غلط دونوں ہی استعمال ہیں مگر افسوس! ہمارے
معاشرے میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال زیادہ ہے، سوشل میڈیا پر موجود فحش مضامین
اور کہانیاں، گندی تصویریں اور نفسانی خواہشات کو بھڑ کانے والی بیہودہ ویڈیوز نے
نوجوان نسل کے اخلاق و کردار اور عادات کو تباہ و برباد کر دیا ہے، ساری ساری رات
سوشل میڈیا پر بڑی بے دردی کے ساتھ اپنا پیسہ اور قیمتی وقت ضائع کرنا، جھوٹ بولنا
لوگوں کو دھو کہ دینا بلیک میل کرنا، جیسی برائیاں ہمارے معاشرے کے نوجوانوں میں
بڑی تیزی سے عام ہوتی جارہی ہیں۔
اس بیماری میں
مبتلا نوجوان تعلیم سے محروم ہو کر معاشرے میں کوئی اہم مقام پانے کے بجائے اخلاق
و تمیز کھو کر معاشرے میں ذلیل و خوار ہوتے نظر آرہے ہیں۔
بات صرف یہیں
تک محدود نہیں رہی بلکہ اب تو ایمان کے بھی لالے پڑے ہیں کہ شیطان کے ایما پر کفار
بد اطوار نے گانوں میں کفریہ کلمات کے ایسے ایسے زہر گھول دیئے ہیں جنہیں دلچسپی
سے سننا اور گنگنانا (معاذ اللہ) کفر ہے۔
(ایک آنکھ والا آدمی، ص 37)
نوجوان لڑکیوں
کیلئے تو یہاں بالخصوص مقام غور ہے کہ انہیں قرآن مجید کی ایک سورت سورہ یوسف کا
ترجمہ اور تفسیر پڑھنے سے اس لئے منع کر دیا گیا ہے کہ کہیں یہ منفی یعنی اُلٹ اثر
نہ لے لیں۔ اب آپ ہی اندازہ لگا لیجئے کہ انہیں بے ڈھنگی تصویروں اور حیا سوز فلمی
اشتہاروں وغیرہ کہ دیکھنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے۔
لہذا ہماری
نوجوان نسل کو چاہیے کہ جتنا ہوسکے اس سوشل میڈیا کی آفت سے اپنے آپ کو بچانے کی
کوشش کریں اس کے نقصانات پر غور کریں اور اس کے صحیح استعمال کی طرف اپنی توجہ کو
مرکوز کریں کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال انسان کو یاد الہی سے غافل کرکے اس کی
دنیا و آخرت کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔
اس کا ایک
بہترین حل دعوت اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنا بھی ہے کہ دعوت اسلامی اپنی
دینی تعلیمات کے ذریعے اللہ پاک کا خوف دل میں بٹھانے اور ہر صورت میں اس کی اطاعت
و فرمانبرداری کرنے کی تربیت دیتی ہے۔ اس مسلسل تربیت کے نتیجے میں سوسائٹی کے لیے
ناسور بننے والے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو اس نے کچھ اس طرح بدل دیا ہے کہ وہ
اب معاشرے کے معزز ترین افراد میں شمار کیے جاتے ہیں۔
Dawateislami