میڈیا دورِ حاضر میں ایک بہت بڑا فتنہ بن چُکا ہے اور صرف فتنہ ہی نہیں بلکہ فتنوں کی جڑ ہے جس سے روز بروز نئے فتنے جنم لیتے ہیں۔اس ضمن میں ہمارے آقا و مولا ﷺ کا مبارک فرمان ہے: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب) تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔ (بخاری، 2/133، حدیث:2467)

جیسے ہی دنیا ترقی کے دور میں داخل ہوئی،جدید ٹیکنالوجی سے متعارف ہوئی تو ٹیکنالوجی کی اس جدت میں سوشل میڈیا سرِ فہرست ہے۔میڈیا نے لوگوں کی زندگیوں پر کئی منفی اثرات مرتب کئے ہیں،خاص کر ہماری نوجوان نسل تو جیسے میڈیا تک ہی محدود رِہ گئی ہے۔آج کل نوجوان نسل کی زندگی کا مقصد ہی گویا سکرُولینگ،چِیٹینگ اور پوسٹنگ بن کر رہ گیا ہے،ان کی زندگیاں ہی جیسے فیس بک،واٹس ایپ اور انسٹاگرام میں قید ہو کر رہ گئی ہیں۔

میڈیا نے نوجوان نسل میں بے حیائی،بے ادبی کو بہت فروغ دیا ہے،اور بے باکی تو اس قدر بڑھا دی ہے کہ دنیا تو دنیا،دین کے معاملات میں بھی نوجوان اس قدر بے باک ہوچکے ہیں کہ گویا ہر دوسرا فرد ہی سوشل میڈیا پر مفتی اعظم بنا بیٹھا ہے،سب اپنی مرضی و ذہنیت کے مطابق دین کی تشریح و ترجمانی میں مصروف ہیں،جس کو اپنے آپ کا پتا نہیں وہ بھی میڈیا پر فتویٰ نویسی کررہا ہے۔اور دیگر نوجوان بھی لاعلمی و بے شعوری کی وجہ سے ان لوگوں کو فالو کرکے ایسے ناقص افراد کے شاگرد بنے بیٹھے ہیں جنہیں خود ایک کامل اور صحیح العقیدہ استاد کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر،انجینئر،پلمبر جس کو دیکھیں وہ اپنے آپ کو دین کا ترجمان بنا کر ہمارے بھولے بھالے نوجوانوں کو ایسی تعلیم فراہم کر رہے ہیں جس تعلیم کے بارے میں شاعرِ مشرق،مصورِ پاکستان،ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا کہ

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے،اسے پھیر

دین بیزار طبقے نے تو جیسے میڈیا کو مسلمان نوجوانوں کے لئے بطورِ ہتھیار استعمال کیا ہے، اس قدر غلط تعلیمات کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ ہمارے نوجوان بدعقیدہ ڈاکٹروں، پلمبروں کے اسٹوڈنٹ بن کر اپنے ہی صحیح العقیدہ، محافظینِ اسلام علمائے کرام پر تنقید و الزامات کے انبار لگا رہے ہیں۔ تاریخِ اسلام میں اگر دیکھا جائے تو نوجوانوں نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں جو شاید آج کا نوجوان سوچ بھی نہیں سکتا، آج ہمارے پندرہ سے سترہ سال کے نوجوان کو شاید تعریفِ جہاد بھی درست معلوم نہ ہو اور وہی اگر ہم اپنی تاریخ کی طرف نظر دوڑائیں تو اسی عمر کے نوجوان محمد بن قاسم نے ایک خاتون کے خط پر اعلانِ جہاد فرمایا اور فاتح بن کر سر زمینِ سندھ پر علمِ اسلام بلند فرمایا۔

میڈیا کے کثیر و بےدریغ استعمال سے نوجوانوں کی صحت، تعلیم اور خاندانی نظام پر بھی بہت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا کی تباہیوں میں سے نوجوان نسل کی گرتی ہوئی صحت بھی ہے، کیونکہ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اُن کی صحت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ نوجوانوں میں فرسٹریشن اور ڈپریشن میں اضافہ ہورہا ہے۔فیس بک،انسٹاگرام اور دیگر میڈیا پلیٹ فارم پر ڈال کر دیکھتے رہتے ہیں کہ اب کتنے لائیک اور کومنٹس ہوگئے اور ویڈیو کتنے لوگوں نے دیکھ لی،گویا کہ اب مقصدِ حیات ہی یہ ہے

ہر نوجوان دانشور، ادیب اور لکھاری بن گیا اور بغیر تحقیق کے ہر پوسٹ پر رائے دینا ایمان سمجھنے لگا اور اپنا بیانیہ بنانے لگا۔ انہوں نے کچھ نوجوانوں کو مثال بھی بنایا ہوا ہے کہ فلاں شہر میں فلاں نے اتنے پیسے سوشل میڈیا کے ذریعے کمائے ہیں۔ اس لیے ہمارا نوجوان بھی دن رات اسی دوڑ میں لگا ہوا ہے اور شارٹ کٹ کے ذریعے پیسے کمانے کی کوشش کررہا ہے۔

آپ کسی طالب علم سے پوچھ لیں کہ وہ دن میں کتنے گھنٹے موبائل استعمال کرتا ہے تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ وہ پڑھائی اور والدین کو وقت دینے کے بجائے زیادہ وقت اپنے موبائل پر گزار رہا ہوتا ہے۔ اس کا کوئی دوست نہیں ہے، اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ گھر میں یا معاشرے میں کیا ہورہا ہے۔

اللہ پاک اپنے محبوب کے صدقے تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین