نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت رمضان،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
آج کے جدید
اور پرفتن دور میں سوشل میڈیا ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن چکےہیں Facebook,
Instagram, Snapchat, TikTok اورyoutubeوغیرہ جیسے
پلیٹ فارمز کے استعمال کو ہم نے اپنےاہم ترین کاموں میں سے ایک کام بنا لیا ہے اور
اس کام کو ہم اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ ہم اس کام کی بنا پر دیگر بہترین کاموں کو
بھول جاتے ہیں۔
اگر دیکھا
جائے تو یہ سوشل میڈیا کے ذرائع کو رابطے،معلومات اور دیگر ضروری کاموں کے لئے
بنایا گیا تھا،لیکن ان کا بے جا استعمال نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہا
ہے۔ہمارا بہت قیمتی وقت ان ذرائع کے غلط استعمال میں ضائع ہو رہا ہے۔
نبی ﷺ نے
فرمایا: قیامت کے دن بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے متعلق
سوال نہ کرلیا جائے ان میں سے ایک چیز یہ ارشاد فرمائی کہ اس کی عمر کے بارے میں
پوچھا جائے گا کہ اسے کس کام میں گزارا۔ (ترمذی، 4/188، حدیث: 2424)
اگر ہم اپنی
ذات میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہماری عمر کا کتنا حصہ سوشل میڈیا کے فضول
استعمال میں ضائع ہو رہا ہے۔
طلبا اپنی
تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے گھنٹوں ویڈیوز دیکھنے،چیٹنگ کرنے اور غیر ضروری
سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ جس کی بنا پر طلبا کے سوچنے کی صلاحیت کم تر ہوتی
جا رہی ہے انکا حافظہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔تعلیم پر توجہ نہ دینے پر ان کی
کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔
سوشل میڈیا کے
بے جا غلط استعمال کی وجہ سے اخلاقیات پر بھی بہت اثر پڑرہا ہے سوشل میڈیا پر غیر
مناسب مواد کی بھر مار ہے،جونوجوان نسل کے کردار پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔جس فیشن
کو دیکھتے ہیں اگر چہ وہ نامناسب ہی ہوں اس کو اپنانے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے
ہیں۔
سوشل میڈیا
ہماری ذہنی و نفسیاتی دباؤ کی بھی ایک وجہ ہے۔دوسروں کی حوشحال اور پرامن زندگی کو
دیکھ کر نوجوان نسل احساس کمتری کا شکار ہو رہی ہے کسی کے لائکس اور کمینٹس اور
فالورز کو بڑھتا دیکھ کر خود بعض اوقات ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ
سوشل میڈیا نوجوان نسل کو اپنی حقیقت اور پہچان سے بہت دور کر رہا ہے انسان اپنی
اصل سے بہت دور ہو چکا ہے۔
نوجوان نسل
اپنے حقیقی رشتوں کی بجائے آن لائن دوستیوں کو نبھانے پر لگی ہے لیکن جو اس کے اصل
رشتے ہیں وہ اس سے چھوٹ رہے ہیں۔
ماہرین کے
مطابق سوشل میڈیا ایک نشے کو صورت اختیار کر چکا ہی جس کے بے جا استعمال سے نیند
کی کمی،چرچڑا پن اور ڈپریشن بڑھ رہا ہے الغرض سوشل میڈیا نوجوان نسل کی تباہی کا
بہت بڑا سبب بن چکا ہے۔
سوشل
میڈیا کے کم استعمال کے لئے چند احتیاطی تدابیر: اپنے مقاصد کو
سامنے رکھے، ایک مخصوص وقت رکھیں جس میں آپ فقط سوشل میڈیا کو درست استعمال کے لئے
استعمال کریں، ہر وقت موبائل اپنے ہاتھ میں نہ رکھیں، موبائل سکرین کم کریں، موبائل
کا پاسورڈ تھوڑا لمبا لگائیں اس سے یہ ہوگا کہ جب آپ کا پاسورڈ لمبا ہوگا تو اپکو
بار بار کھولنے کے لئےپریشانی کا سامنا ہو گا جس کی وجہ سے آپ موبائل کو بار بار
چیک نہیں کریں گے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنے وقت کا بہترین استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami