نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت فیاض احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
آج کے دور میں
میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے خصوصاً نوجوان نسل اس سے سب سے
زیادہ متاثر ہو رہی ہے میڈیا میں ٹی وی فلمیں سوشل میڈیاڈرامے اور انٹرنیٹ شامل
ہیں اگرچہ میڈیا معلومات تعلیم اور آگاہی کا ایک اہم ذریعہ ہے لیکن اس کے منفی
استعمال نے نوجوانوں کی اخلاقی دینی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
سب سے پہلے
اگر ہم میڈیا کے اثرات کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نے نوجوانوں کے
اخلاق کو بری طرح متاثر کیا ہے فحش اور بے حیائی پر مبنی مواد غیر اسلامی اقدار
اور بےمقصد تفریح نوجوانوں کو دین سے دور کر رہی ہے ڈراموں اور فلموں میں دکھائی
جانے والی غیر اخلاقی حرکات کو نوجوان نقل کرنے لگتے ہیں جس سے معاشرے میں بے راہ
روی بڑھ رہی ہے سوشل میڈیا بھی نوجوانوں کی تباہی میں ایک بڑا کردار ادا کر رہا ہے
فضول ویڈیوزوقت کا ضیاع اور غیر ضروری تعلقات نوجوانوں کی ذہنی اور روحانی نشوونما
کو متاثر کرتے ہیں، نوجوان اپنا قیمتی وقت علم حاصل کرنے یا مثبت سرگرمیوں میں
لگانے کے بجائے بے فائدہ مصروفیات میں گزار دیتے ہیں۔
اسلام ہمیں ہر
اس چیز سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے جو انسان کو برائی کی طرف لے جائے اس حوالے سے
ایک حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہٰذا تم
میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کو دوست بناتا ہے۔ (ابوداود، 4/341، حدیث:
4833)
آج کے دور میں
میڈیا بھی ایک دوست کی طرح ہے جو مسلسل انسان کے ذہن پر اثر انداز ہوتا ہےلہٰذا
اگر میڈیا کا مواد برا ہو تو اس کے اثرات بھی برے ہوں گے۔
ایک اور حدیث
میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (ترمذی، 3/ 406، حدیث:2016) لیکن
میڈیا میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اس اسلامی قدر کو ختم کر رہی ہے نوجوان جب مسلسل
ایسے مناظر دیکھتے ہیں تو ان کے دل سے حیا کم ہوتی جاتی ہے جو کہ ایمان کی کمزوری
کی علامت ہے۔
اسی طرح ایک
حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے
ماتحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)اس حدیث کی روشنی میں
والدین اساتذہ اور معاشرے کے دیگر افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو
میڈیا کے منفی اثرات سے بچائیں اور ان کی صحیح رہنمائی کریں۔
میڈیا کے منفی
اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان خود بھی شعور پیدا کریں اور اپنی زندگی
کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں مثبت مواد دیکھیں وقت کا صحیح استعمال کریں اور
دین کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی نگرانی
کریں اور انہیں اچھے اور برے میں فرق سمجھائیں میڈیا بذاتِ خود برا نہیں بلکہ اس
کا غلط استعمال نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بن رہا ہے اگر میڈیا کو مثبت انداز میں
استعمال کیا جائے تو یہ علم اخلاق اور ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم میڈیا کے استعمال میں احتیاط کریں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
اپنی زندگی کو سنواریں۔
Dawateislami