نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت سید ابرار حسین،پاکپورہ سیالکوٹ
موجودہ دور
میڈیا جیسے ٹی وی، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، اخبارات وغیرہ کا دور بن چکا ہے۔ سوشل
میڈیا کے جدید ترین ذرائع جیسے فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ، یوٹیوب ہیں۔
بذات خود میڈیا نہ مکمل طور پر برا ہے نہ ہی مکمل طور پر اچھا بلکہ اسکے اچھے اور
برے پہلو ہیں انکے اچھے استعمال سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے جیسے علمائے اہل سنت
کے بیانات، علم دین حاصل کرنا وغیرہ جبکہ سوشل میڈیا کے غیر ضروری اور غلط استعمال
سے منفی و نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
فی زمانہ بچے
بوڑھے جوان تقریباً ہر عمر کے افراد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں لیکن نوجوان نسل
سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی وجہ سے شدید تباہی کا شکار ہے۔
آئیے سوشل
میڈیا کے چند نقصانات ملاحظہ فرمائیے۔
فحاشی
و بےحیائی کا پھیلنا: سوشل میڈیا پر بےحیائی و عریانی عروج پر ہوتی ہے
اور بےحیائی و بد نگاہی کے اسباب بہت زیادہ مہیا کیے جاتے ہیں۔ ایسی فلمیں ڈرامے و
پوسٹ شیئر کی جاتی ہیں جن میں بے حیائی کی بھرمار ہوتی ہے۔
جوانی میں
نفسانی خواہشات عروج پر ہوتی ہیں جبکہ میڈیا انکو مزید بھڑکانےمیں بھرپور کردار
ادا کرتا ہے اس طرح نوجوانوں کا گناہوں کی طرف رجحان اور بد نگاہی و بے شرمانہ
حرکات میں ملوث ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
پارہ 18 سورۃ
النور کی آیت نمبر 19 میں ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ
الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ
الْاٰخِرَةِؕ-ترجمہ:
بےشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا و
آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
بے حیائی کی
بات پھیلنے سے مراد وہ اقوال و افعال جن کی قباحت بہت زیادہ ہے۔ جیسے ایسی کتابیں
اخبارات ناول رسائل اور ڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا جن سے شہوانی جذبات
متحرک ہوں۔
حرام
کاموں کی ترغیب: حیا
سوز تصاویر اور ویڈیوز بنانا بیچنا اور انہیں دیکھنا یا دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا،
ایسے اشتہارات، سائن بورڈ بنانا اور لگانا جن میں جنسی عریانیت کا سہارا لیا گیا
ہو۔حیا سوز مناظر یا فیشن شوز میں عورتوں کا استعمال اسکے ذریعے بےحیائی کو فروغ
دیا جارہا ہے۔
یہ ایسے ذرائع
ہیں جو نواجوان نسل کےلیے دنیا و آخرت میں تباہی کا ذریعہ ہیں۔اور یہ چیزیں سوشل
میڈیا پر عام ہیں۔بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی یہ مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں
اور مسلمان بد نگاہی کے گناہ میں ملوث ہوجاتا ہے۔
اسی طرح سوشل
میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے قیمتی وقت ضیاع ہوتا ہے۔نوجوان گیمز فضول ویڈیوز اور
سکرولنگ میں گھنٹوں صرف کردیتے ہیں جن سے وہ اپنا وقت کہ جسے اچھے کام میں صرف
کرنا تھا نماز، والدین کی خدمت میں، تعلیم میں یا دیگر معاملات میں اس سب سے غافل
ہوجاتے ہیں اور میڈیا کے ذریعے اپنی دنیا و آخرت داؤ پر لگا لیتے ہیں۔
اسی طرح سوشل
میڈیا پر مغربی و غیر اسلامی طرز زندگی کو دیکھ کر اسکی طرف مائل ہوتے ہیں اور
مغربی فیشن کی طرف رجحان پاکر بعض اسکے دیوانے ہوجاتے ہیں اور اسی کو اپنانے کی
کوشش کرتے ہیں جس سے مسلمان نوجوان سنتوں سے دور ہوجاتا ہے۔اور غیر اسلامی تہذیب
کی طرف چل پڑتا ہے جس سے آنے والی نسلوں میں مزید بگاڑ کا اندیشہ ہوجاتا ہے کہ آج کے
نوجوان کل کو والدین ہوں گے اور جب خود اچھے اور دینی ماحول والے نہ ہوں گے تو
اپنی اولاد کی کیسے اسلامی تربیت کرسکیں گے؟
سوشل میڈیا کے
استعمال سے عبادات میں غفلت و سستی پیدا ہوتی ہے، والدین سے دوری، گھر میں بد امنی
و لڑائی جھگڑے جنم لیتے ہیں اور اسکے روحانی نقصانات کے ساتھ جسمانی و طبی نقصانات
بھی ہیں۔
سوشل میڈیا پر
وائرل ہونے والے افراد کی زندگی اور رہن سہن دیکھ کر ان جیسے ہونے کی کوشش میں یا
خود کو کمتر سمجھ کر نوجوان نسل اپنے ذہنی سکون کو متاثر کیے ہوئے ہے۔ اسکے علاوہ
بھی دیگر نقصانات ہیں جیسے عدم اعتمادی، ڈپریشن، صحت خراب ہونا اور تعلیم سے دوری
اور ذاتی زندگی متاثر ہورہی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ
سوشل میڈیا کو صرف اچھے مقاصد کے لیے اور کم سے کم استعمال کریں۔ غیر ضروری ایپس
اور اکاؤنٹس ڈیلیٹ کریں اور اپنی ذات،گھر، خاندان رشتہ داروں اور دوست احباب کو
وقت دیں اور اپنی موجودہ حالت کے مطابق علم دین سیکھیں اپنے دینی معاملات درست
کریں اور ممکن ہوتو موبائل میں کتابیں پڑھنے کی بجائے کوشش کریں کہ کتابی شکل میں
کتب کا مطالعہ کریں۔ اسکرین کوکم دیکھیں تاکہ اپنی نظر و جسمانی اعضا پٹھوں وغیرہ
کی حفاظت ہو۔
آج کل نوجوان
نسل و دیگر افرادکی موبائل کے غیر ضروری استعمال کی وجہ سے نظر کمزور ہوچکی ہے ان
میں دیگر بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ لہذا والدین و اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ
داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے ماتحتوں کو موبائلزاور سوشل میڈیا سے دور رکھیں اور
جب انہیں موبائل استعمال کے لیے دیں پھر بھی وقتا فوقتاً ان کا جائزہ لیں کہ کیا
دیکھ رہے ہیں اور کیا کررہے ہیں۔
اللہ کریم
ہمیں ہدایت دے اور نیک و صالح کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنی رضا کے مطابق زندگی
گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami