موجودہ دور کو میڈیا کا دور کہا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا، ٹی وی، انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ نے انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ اگرچہ میڈیا معلومات اور آگاہی کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کا غلط استعمال نوجوانوں کی تباہی کا سبب بھی بن رہا ہے۔

میڈیا کے منفی اثرات: آج کل نوجوانوں کا زیادہ تر وقت Facebook، Instagram اور YouTube جیسے پلیٹ فارمز پر گزرتا ہے۔ یہاں غیر اخلاقی مواد، فضول ویڈیوز اور بے حیائی کو فروغ دیا جاتا ہے، جس سے نوجوانوں کے اخلاق، سوچ اور کردار پر منفی اثر پڑتا ہے۔ وقت کا ضیاع، تعلیم سے دوری، اور والدین سے بے رغبتی جیسے مسائل عام ہو گئے ہیں۔

مزید یہ کہ میڈیا پر دکھائی جانے والی نامناسب چیزیں نوجوانوں کو غلط راستوں کی طرف مائل کرتی ہیں۔ وہ دوسروں کی اندھی تقلید میں اپنی ثقافت اور دینی اقدار کو بھول جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے۔

2025 کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد تقریباً 5.24سے 5.52 ارب کے درمیان ہے جو کہ عالمی آبادی کا 60% سے زیادہ ہے اب تو حال یہ ہے کہ گھر میں راشن ہو یا نہ ہو لیکن انٹرنیٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔

انٹرنیٹ زیادہ استعمال کرنے کا ایک نقصان نوجوان نسل کی گرتی ہوئی صحت ہے کیونکہ نوجوان زیادہ تر وقت موبائل پہ ضائع کرتے ہیں جسکی وجہ سے نہ تو کھانے پینے کا خیال کرتے ہیں نہ ہی نیند کا اسی لیے نوجوانوں میں ڈیپریشن احساس کمتری آنکھوں کا مرض بڑھتا جا رہا ہے نوجوانوں میں حقیقی تعلقات کی جگہ مجازی دنیا نے لے لی ہے جس سے وقت کا ضیاع اور اخلاقی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

ہر نوجوان پڑھا لکھا دانشور اور ادیب بن چکا ہے اور بغیر کسی تحقیق کے ہر پوسٹ کو لائک اور شیئر کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے۔ موجودہ دور کے نوجوان نے کچھ ایسے نوجوانوں کو اپنا آئیڈیل بنا لیا ہے کہ فلاں شہر میں فلاں نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے اتنے پیسے کما رہا ہے تو میں کیوں پیچھے رہوں بس اسی دوڑ میں لائکس کی خواہش میں بغیر کسی محنت کے پیسہ کمانے کے چکر میں نوجوان نسل اپنی زندگی سوشل میڈیا پر تباہ کر رہی ہے۔

آج کے دور میں اگر کسی طالب علم سے پوچھ لیں کہ وہ موبائل کو کتنا وقت دیتا ہے تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ وہ آپنا قیمتی وقت کتابوں کو دینے کی بجائے گھنٹوں سوشل میڈیا میں مشغول رہتا ہے اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اسکے گھر یا معاشرے میں کیا ہو رہا ہے وہ صرف اسی کو اپنا دوست سمجھ بیٹھا ہے جس نے اسکی پوسٹ کو لائیک کیا ہو۔ درحقیقت آج کا نوجوان ایک ایسی بیماری کا شکار ہو چکا ہے جو اسے اپنوں سے دور کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں موبائل کے زیادہ استعمال کی وجہ سے حادثات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر آپ کسی بھی موٹر سائیکل یا گاڑی پر سوار شخص کو دیکھیں تو وہ اپنی پوری فیملی پیچھے بٹھا کر خود فون پر مصروف نظر آتا ہے اسے یہ احساس تک نہیں کہ ذرا سی لاپرواہی سے کتنا نقصان ہو سکتا ہے اسکی اپنی یا اسکے پیاروں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ہوائی جہاز میں بھی سفر کرتے ہوئے لوگ معاذ اللہ گانے سنتے اور بے حیائی کے کام کرتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں اس بات سے قطعی بے خبر کے اگر ایسی حالت میں موت آگئی تو کیا بنے گا اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ویڈیوز کے چکر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

مزید سوشل میڈیا نے یہ تباہی پھیلا رکھی ہے کہ غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کرنے والوں اور دیکھنے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور اس شرح میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور افسوس ہمارے معاشرے میں ایک ایسی نسل تباہ ہوچکی ہے کہ جو اسلام سے دور اور مشرقی روایات کو بھلا کر ہر وقت خیالی دنیا اور پہناوے بلکہ کھانے پینے میں بھی مغربی ثقافت کی تقلید کر رہی ہے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ناجائز اور حرام ریلیشن شپ کو جائز سمجھا جا رہا ہے اپنی بہو بیٹیوں کو کیمرے کے سامنے لاکر معاذاللہ بے حیائی کو فروغ دیا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا کی تباہیوں میں سے ایک تباہی نوجوانوں کو مختلف گیمز کھیلنے کی لت لگ چکی ہے جو کہ جان لیوا گیمز ثابت ہوچکی ہیں۔

اس آئی ٹی اور سوشل میڈیا کے دور میں نوجوان نسل یہ کہتی نظر آتی ہے کہ اسکے استعمال سے ساری دنیا سے رابطے ہوجاتے ہیں انہیں اپنی پڑھائی سے متعلق مواد تلاش کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے لیکن اگر موازنہ کیا جائے تو صد کروڑ افسوس سوشل میڈیا سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی نسبت اس سے حظ اٹھانے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

اب یہ سلسلہ کہاں رکے کچھ معلوم نہیں اس سے آگے کا دور نوجوان نسل کے لیے انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے کیونکہ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں نے آنلائن اسٹڈی کو اپنا فریضہ سمجھ لیا ہے اور نوجوان نسل تعلیم کا بہانہ بنا کر سوشل میڈیا کو استعمال کرنا اپنا حق سمجھتی ہے۔

تاہم جہاں میڈیا نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بن رہا ہے، وہیں اس کا مثبت استعمال بھی ممکن ہے۔ اس کی بہترین مثال دعوتِ اسلامی ہے، جس نے سوشل میڈیا کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے مؤثر ذریعہ بنا دیا ہے۔ دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات کے ذریعے نوجوانوں کو نیکی کی دعوت دی جا رہی ہے اور انہیں گناہوں سے بچنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

بالخصوص فیضان آن لائن اکیڈمی کے ذریعے ہزاروں نوجوان گھر بیٹھے علمِ دین حاصل کر رہے ہیں، جبکہ فیضان حدیث ایپ، قرآن کریم ایپ، نیک اعمال ایپ اور صراط الجنان ایپ اور ان جیسی دیگر ایپس کے ذریعے ان کی عملی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالنے میں مدد دی جا رہی ہے۔

مزید یہ کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دعوتِ اسلامی نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے اے آئی فتاویٰ جات بھی متعارف کروا دیے ہیں۔ اس کے ذریعے لوگ اپنے شرعی مسائل کے جوابات جدید انداز میں حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے نہایت مفید ہے، جو ڈیجیٹل ذرائع سے رہنمائی حاصل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

اس جدید نظام کے ذریعے مستند علمائے کرام کی نگرانی میں شرعی مسائل کے جوابات فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ عام مسلمان کو آسانی سے درست رہنمائی بھی میسر آتی ہے۔ یہ اقدام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ دینِ اسلام کی خدمت کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

اسی طرح امیرِ اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اور دیگر علمائے کرام کے بیانات YouTube، Facebook اور Instagram کے ذریعے عام ہو رہے ہیں، جو نوجوانوں کی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اس طرح میڈیا کو نیکی پھیلانے کا ایک بہترین ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔