میڈیا (ذرائع ابلاغ) سے مراد وہ تمام ذرائع ہیں جن کے ذریعے معلومات، خبریں اور نظریات عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔ اس میں Print Media (اخبارات، رسائل) اور Electronic media (ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ)،اور social media (you tube , facebook , Instagram,Tick tock etc شامل ہیں۔میڈیا سے دور حاضر میں جس انداز میں فوائد حاصل ہوئے ہیں اس سے ہم منہ نہیں پھیر سکتے مگر اس کے نقصانات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ چنانچہ آج کے دور میں میڈیا نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بھی بن رہی ہے چنانچہ چند درج ذیل ہیں:

حیاء کے خاتمہ کا سبب: میڈیا کے سبب بری فلمیں اور ویڈیوز تک رسائی اس قدر آسان ہوگئی ہے کہ جس کی وجہ سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اکیلے میں بیٹھا بچہ کر کیا رہا ہے! اس کے سبب کہیں نہ کہیں مثلا اشتہار میں بھی حیا سوز منظر نظر میں آتے رہتے ہیں جس کے سبب حیا ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے جبکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حیا ایمان سے ہے۔ (ترمذی، 3/ 406، حدیث:2016)

غیر شرعی رسومات کے فروغ کا سبب: فلموں ڈراموں کے سبب نوجوان نسل تباہ ہو تی جارہی ہے کیونکہ ہر نیا رواج ڈراموں اور فلموں، سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔

بدلحاظی میں اضافے کا سبب: جب سوشل میڈیا پر لوگ مختلف ویڈیوز دیکھتے ہیں یا ڈرامے دیکھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہ رواج دیکھا دیکھی میں رائج ہو جاتا ہے۔

نئے فیشنز پھیلانے کا ذریعہ: ہر نیا فیشن میڈیا کے ذریعے بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ آج تو سوشل میڈیا پر لوگوں نے ایسے پیجز فولو کر رکھے ہیں کہ اس کے ذریعے اس کی ہر پوسٹ آپکے پاس نوٹیفیکیشن کے ساتھ شو ہوتی ہے کہ کہیں رہ نہ جائے۔

غلط اور جھوٹی خبر دینے کا سبب: میڈیا پر بغیر تحقیق کیے کوئی شخص کسی کے بارے میں کچھ کہہ دے تو بلا تحقیق لوگ اس کو حقیقت مان لیتے ہیں اوراس کی اصلیت جاننے اور اس کی تصدیق کروانے پر کوئی توجہ نہیں دیتا ہے جبکہ قرآن پاک میں ادب سکھایا گیا ہے کہ ارشاد ربانی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(۶) (پ 26، الحجرات:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔

غیبت و تنقید کا پلیٹ فارم: آج میڈیا نے آسان کر دیا ہے یہ معاملہ کہ کوئی بھی بندہ منہ بھر بھر کر ایسے باتیں کہتا ہے کہ جس سے اس کی دل آزاری ہو۔

میڈیا نے ہی لبرل ازم پھلائی ہے: میڈیا نے ہی عورت کو بے پردہ کردیا ہے،اسی کے سبب سب کی دیکھا دیکھی میں ان کی بے باکی میں اضافہ ہوا ہے۔

لمبی امیدیں نفسانی خواہشات میں اضافے کا سبب: یہی وہ سبب ہے کہ ہم تک دوسروں کی آسائشوں کا علم ہوتا ہے جس کے سبب انسان میں حوس و خواہشاتِ نفسانی، اور اور کی طلب بڑھ جاتی ہے۔

یہی میڈیا خاندانوں کی دوری کا سبب بن گیا،لوگوں میں اسی کے سبب حسد و بعض پیدا ہوگا۔

الحاصل کہ میڈیا کے سبب بہت زیادہ خرافات پھیل رہی ہیں، کل جن چیزوں تک رسائی نہیں تھی آج ان تک رسائی ہو چکی ہے جو کہ مشکلات میں اضافے کا سبب ہیں۔ گناہوں میں مبتلا ہونے اور نوجوانوں کی تباہی میں مصروف ہےلوگوں کو چاہیے کہ حیا سوز مناظر سے اپنی نگاہوں کو بچائیں کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو اپنی آنکھ کی حفاظت پر قادر نہ ہو وہ اپنی شرم گاہ کی حفاظت پر بھی قادر نہیں۔ (احیاء العلوم، 3/ 125) غیر شرعی رسومات سے خود کو بچائیے ، اپنی بچیوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں لبرل ازم اور بلا وجہ کہ اس کے استعمال سے بچیں تاکہ ان نقصانات سے بچا جا سکے۔

اللہ پاک نیک ہدایت دے۔ آمین