برے کاموں اور بری (بےحیائی بھری) باتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ (مسند امام احمد،7/ 431، حدیث: 20997)

برے افعال و اعمال میں ایک اہم کردار میڈیا کا ہے۔ آج کے دور کو میڈیا کا دور کہا جاتا ہے۔وہ میڈیا جسے شعور و آگاہی کا ذریعہ مانا جاتا ہے،وہیں اس کے منفی اثرات نوجوان نسل کی تباہی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ جوان جو عشقِ خدا اور محبتِ مصطفیٰ سے لبریز سینے لیے پھرتے تھے،مگر افسوس صد افسوس،آج وہی نوجوان بے حیائی و فحش قول و فعل کو اپنا شعار بنائے پھرتے ہیں۔

اسلام نے ہر اس چیز سے بچنے کا حکم دیا ہے جو انسان کے دین و اخلاق کو نقصان پہنچائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) (پ 15، بنی اسرائیل: 36) ترجمہ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں، بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔

اس آیت میں بیان ہوتا ہے کہ انسان اپنی آنکھ، کان اور دل کے استعمال کے بارے میں جواب دہ ہے۔غرضیکہ میڈیا کے ذریعے دیکھے اور سنے جانے والے منفی مواد پر بھی باز پرس ہوگی۔

ارشادِ خداوندی ہے: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ- (پ18، النور:30) ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

اور فرمایا: وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ (پ 18، النور:31) ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں۔

ان آیات بینات سے یہ ثابت ہوتا ہے نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں کا بھی بے حیائی اور فحاشی سے بچنا ضروری ہے، جبکہ میڈیا اکثر ان چیزوں کو عام کرتا ہے۔ چنانچہ تفسیر صراط الجنان میں ہے: نظر نیچی رکھنا دل کو بہت زیادہ پاک کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تم نظر نیچی نہ رکھو بلکہ اسے آزادانہ ہر چیز پر ڈالو تو بسااوقات تم بے فائدہ اور فضول بھی ادھر اُدھر دیکھنا شروع کر دو گے اور رفتہ رفتہ تمہاری نظر حرام پر بھی پڑنا شروع ہو جائے گی۔ اب اگر جان بوجھ کر حرام پر نظر ڈالو گے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور عین ممکن ہے کہ تمہارا دل حرام چیز پر فریفتہ ہو جائے اور تم تباہی کا شکار ہو جاؤ۔ (تفسیر صراط الجنان، 6/ 617)

شرم و حیا کے متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: شرم و حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان والا جنت میں جائے گا اور بے حیائی و فحش گوئی برائی کا حصّہ ہے اور برائی سے والا دوزخ میں جائے گا۔ (مسند امام احمد، 3/568، حدیث:10517- ترمذی،3/406، حدیث:2016)

سوشل میڈیا نوجوان نسل میں بے حیائی عام کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ غیر مرد و عورت کا آپس میں بات چیت کرنا، وقت کا ضیاع، بد نگاہی اور دیگر گناہوں کا دروازہ بھی کھولتا ہے۔ یہ ایک دو دھاری شمشیر کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس کا مثبت یا منفی استعمال نوجوان نسل کی ترقی یا تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر دیگر سرگرمیوں کے علاوہ نوجوان نسل ایک اہم اور عام سرگرمی میں مشغول ہے۔ فلمیں، ڈرامے اور دیگر فضول مصروفیات کی فہرست میں ٹک ٹاک، یو ٹیوب، انسٹاگرام اور سب سے بڑھ کر سنیپ چیٹ جیسی ایپس شامل ہو چکی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ نوجوانانِ ملت کی زندگیاں انٹرنیٹ کے ساتھ اس قدر ملحق ہو چکی ہیں کہ سوتے ہیں تو نیٹ پہ اس کی متعلق پوسٹ اپلوڈ کرتے ہیں، جاگتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں، کہیں جاتے ہیں، غرض کہ ہر کام کرنے سے پہلے انٹرنیٹ پہ اپلوڈ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان وقت کا ضیاع ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے نوجوان اپنے آپ کو دورِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے خود کو تیار کرتے۔ٹیکنالوجی کے دور میں ارتقائی مراحل طے کرتے اور رفتارِ زمانہ کا ساتھ دیتے مگر حالات اس کے بر عکس ہیں۔

وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ایسی ایسی جھوٹی خبریں پھیلا دی جاتی ہیں، جو کسی انسان کی عزت پارہ پارہ کر دیتی ہیں اور لوگوں کے مابین لڑائی جھگڑوں کا سبب بنتی ہیں۔کوئی اس نقطے کی طرف توجہ نہیں کرتا کہ آیا فلاں خبر سچی ہے یا جھوٹی، بس پھیلا دی جاتی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم نے اس اہم بات پر بھی روشنی ڈالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(۶) (پ 26، الحجرات:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔

مذکورہ بالا آیت میں بیان کیے گئے اصول کو اگر ہم آج کل کے دور میں پیشِ نظر رکھیں تو ہمارے معاشرے کی بہت سی برائیاں ختم ہو جائیں کیونکہ ہمارے ہاں لڑائی جھگڑے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ جب کسی کو کوئی اطلاع دی جاتی ہے تو وہ اس کی تصدیق کیے بغیر ہی فوراً غصے میں آ جاتا ہے اور وہ کام کر بیٹھتا ہے جس کے بعد ساری زندگی پریشان رہتا ہے۔

میڈیا پر حرام و فحش اقوال و افعال کی بھرمار ہے۔ چنانچہ جن کے دلوں میں مرض ہے، جو اپنی لذتوں کے حصول کے لیے فلمیں، ڈرامے دیکھتے ہیں، ایک دل دہلا دینے والی روایت بار بار پڑھیں اور خوفِ خداوندی سے لرزیں، چنانچہ فرمانِ مصطفیٰﷺ ہے: اس شخص پر جنت حرام ہے جو فحش (یعنی بے حیائی کے قول و فعل) سے کام لیتا ہے۔ (الصمت، 7/204، حدیث: 325)

علاوہ ازیں میڈیا کا منفی استعمال غیر اخلاقی مواد، بے ہودہ روایات، غیر حقیقی تصورات، تشدد اور نفرت کو فروغ دے رہا ہے۔

اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو میڈیا کے منفی اثرات سے نہ بچایا تو یہ ہماری اجتماعی تباہی کا سبب بن سکتا ہے، اور اگر درست رہنمائی کی تو یہی میڈیا اصلاح کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

ہمارے نوجوانوں کو اپنے اندر تقویٰ، امانت و دیانت، صداقت، راست بازی اور عدالت و شجاعت جیسے اعلیٰ اوصاف پیدا کرنے چاہئیں تاکہ وہ اعلیٰ و ارفع مقاصد کی تکمیل کر سکیں۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

اللہ پاک ہم سب کو میڈیا کے غلط استعمال اور شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

فلموں سے ڈراموں سے دے نفرت تُو الٰہی

بس شوق مجھے نعت و تلاوت کا خدا دے