نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت احمد دین،فیضان بی بی حاجرہ کوئٹہ
نوجوان نسل کی
تباہی میں میڈیا(سوشل میڈیا، ٹک ٹاک، یوٹیوب) کا کردار انتہائی منفی ہے جو قیمتی
وقت کا ضیاع ہے۔
ویسے دیکھا جائے
تو انٹرنیٹ نے جہاں زندگی کو آسان بنا دیا ہے وہیں اسکے منفی اثرات نے معاشرے کو
بری طرح متاثر کیا ہے۔
تو اس کا درست
استعمال کریں غلط استعمال کرنے سے گریز کریں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ
تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا
وَ الْاٰخِرَةِؕ- (پ
18، النور: 19) ترجمہ: بےشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ
مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
اس آیت کا
معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو یہ ارادہ کرتے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کی
بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ دنیا کے عذاب سے مراد حد
قائم کرنا ہے۔
میوزک والے
گانے سننے کے ناجائز و حرام ہونے کے بارے میں سرکارﷺ نے ارشاد فرمایا: ضرور میری
امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو عورتوں کی شرمگاہ (زنا) اور ریشمی کپڑوں اور شراب
اور باجوں کو حلال جانیں گے۔ (بخاری، 3/583، حدیث: 5590)
موبائل کا
زیادہ استعمال کرنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے، کمر میں درد، سستی، بے چینی، جسم
میں تھکاوٹ سی محسوس ہوتی ہے۔
کوئی مسئلہ
سمجھ نہ آئے تو جلدی سے گوگل یا یوٹیوب کی طرف جاتے ہیں اور جیسی معلومات ملتی ہیں
اسی پر یقین کرلیتے ہیں اور پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم کر کیا رہے ہیں ذہن میں بھی
نہیں آتا کہ کہیں ہماری آخرت خراب تو نہیں ہورہی، تو جو مسئلہ سمجھ نہ آئے کسی سنی
صحیح العقیدہ عالم دین سے معلوم کریں!
اب تو
معاذاللہ انبیائے کرام پر فلمیں ڈرامے بنائے گئے ہیں جو کہ ان فلموں، ڈراموں کو
دیکھنا، بنانا، بنوانا حرام ہے ایک فاسق، بدکار، کافر کو نبی،صحابی یا فرشتہ بنا
کے دکھایا جاتا ہےاور اس میں بعض من گھڑت باتیں ہوتی ہیں اور بہت دفعہ ایسا بھی
ہوتا ہے کہ انکی بعض باتیں عقائد شرع کے خلاف ہوتی ہیں اور عوام یہ شوق سے دیکھتے
ہیں کہ انہیں معلومات حاصل ہورہی ہیں لاحول ولا قوة۔
دوسرا یہ کہ
کسی کو بولیں کہ بھئ فلمیں، ڈرامے وغیرہ نہ دیکھیں تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ ہم
پاکستانی ڈراما دیکھتے ہیں، کچھ سیکھنے کے لیے کہ کیا ہورہا ہے آج کل ہمیں کیسا
ہونا چاہیے۔
کیا پاکسانی
ڈرامے وغیرہ میں میوزک نہیں ہوتا؟ کیا اس میں بے حیائی، بے پردگی نہیں ہوتی؟ کیا
اس میں فحاشی و عریانی وغیرہ گناہوں سے بھر پور مناظر نہیں ہوتے؟ جو فنکار، اداکار
ہوتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں۔
حدیث مبارکہ
میں ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک دیکھ لے وہ
کس سے دوستی کررہا ہے۔ (ابوداود، 4/341، حدیث: 4833) تو اس حدیث پاک میں علما صلحا
اور بزرگانِ دِین کے ساتھ محبت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور فاسق و بدعقیدہ لوگوں
سے محبت رکھنے والوں کے لیے اس میں تنبیہ و وعید ہے۔
یہ سب یعنی
فلمیں، ڈرامے وغیرہ ماحول کو زندگی کو خراب کررہے ہیں اگر آپکو سیکھنا ہے تو پہلے
تو دینی تعلیم حاصل کریں قرآن پاک کھولیں اسکی تفسیر کسی سنی صحیح العقیدہ اساتذہ
سے سمجھیں، کتابیں کھولیں پیارے آقا ﷺ کی سیرت کا، صحابہ کرام کی سیرت کا، اولیائے
کرام کی سیرت کا مطالعہ کریں وہاں سے سیکھیں دوسری طرف کیوں جاتے ہیں؟
یہ سیکھنا
نہیں ہے بلکہ نفس کو تسکین دینے کے لیے فلمیں ڈرامے، گانے سنے جاتے ہیں جو سکون
برباد کررہے ہیں زندگی برباد کررہے ہیں، رشتوں میں دراڑ کا سبب بن رہے ہیں، نعتیں
سنیں، پڑھیں، قرآن پاک کی تلاوت کریں حقیقی سکون تو وہاں رکھا ہے مدینے کی یاد میں
گم ہو جائیں۔
کوئی بات کرتا
ہے تو موبائل دیکھتے رہتے ہیں توجہ ہوتی ہی نہیں سامنے والے کی طرف کہ کیا بول رہے
ہیں، جو بات کررہا ہوتا ہے انکی دل آزاری ہوتی ہے کہ میں کب سے بات کر رہا ہوں ایک
نظر بھی ادھر نہیں اٹھائی، تسلی بخش جواب نہیں مل رہا، گھر والے بات کرتے ہیں تو
بھی موبائل کو اہمیت دی جاتی ہے، کسی مسلمان بھائی کی بات ہاتھ آگئی انٹرنیٹ کے
حوالے کردی ایسے نہ کریں۔
موبائل کو
استعمال کریں لیکن ایک حد میں رہ کر، موبائل سے کام لیں اپنے آپکو اسکے حوالے نہ
کریں۔
الله پاک ہمیں
سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami