نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار از بنت عطاء اللہ، فیضانِ عطار بھینس کالونی
کراچی
میڈیا
کیا ہے؟ موجودہ
دور میں اطلاعات اور پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والے مختلف وسائل کو میڈیا
کہا جاتا ہے ان کے ذریعے انفرادی یا اجتماعی سطح پر کم وقت میں زیادہ اثر کے ساتھ
پیغام رسانی کی جاتی ہے، آج کل میڈیا کی ایک اور قسم بھی عام ہے جس کا استعمال روز
بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے اسے سوشل میڈیا (social media)
کہا جاتا ہے۔
سوشل
میڈیا: سوشل
میڈیا سے مراد وہ میڈیا ہے جو انٹرنیٹ ایپلیکیشنز (Internet
Application) اور موبائل ٹیکنالوجی (Mobile
Technology) کے ذریعے معلومات اور خبریں پھیلاتا ہے۔
نوجوان
نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار: نوجوان نسل کی تباہی میں میڈیا کا منفی
کردار انتہائی تشویش ناک ہے غیر اخلاقی مواد، غلط معلومات اور سوشل میڈیا پر بے جا
وقت صرف کرنے سے نوجوان نفسیاتی دباؤ، بے چینی اور اخلاق پستی کا شکار ہو رہے ہیں
80 فیصد سے زائد نوجوان نفسیاتی دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔
نفسیاتی
دباؤ اور بےچینی: میڈیا
کا حد سے زیادہ استعمال نوجوان نسل کو نفسیاتی دباؤ اور احساس کمتری کا شکار کر
رہا ہے۔
وقت
کا ضیاع: اوسطاً
چار گھنٹے سے زیادہ میڈیا کے استعمال سے جسمانی اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی
ہیں۔
جسمانی
صحت کے مسائل: مسلسل
اسکرین پر نظر رکھنے سے دماغ، آنکھیں اور صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے
ذریعے پھیلنے والی غلط خبریں نوجوان نسل کو گمراہ کرتی ہیں اور ان میں منفی
رجحانات پیدا کرتی ہیں۔ میڈیا کے ذریعے گناہوں بھرے کام کیے جاتے ہیں، مثلاً فلمیں
ڈرامیں دیکھنا، گانے باجے سننا وغیرہ فلموں ڈراموں میں دکھایا جانے والا تشدد کا
مواد نوجوان نسل کے اخلاق اور رویوں کو بگاڑ رہا ہے۔ جدید دور میں میڈیا (Media)
کا استعمال اچھا بھی ہے اور برا بھی لیکن ہمارے معاشرے میں اس کا اچھا استعمال کم
اور برا استعمال زیادہ ہو رہا ہے اب جیسے مدنی چینل اسکا اچھا استعمال کر رہا ہے
اور گناہوں بھرے چینل اس کا استعمال برا کر رہے ہیں۔ اسی طرح عوام میں بھی بعض لوگ
اسکا استعمال اچھا کر رہے ہیں اور بعض اس کے ذریعے گناہ کما رہے ہیں۔
عوام سے سوشل
میڈیا اور انٹر نیٹ ہم چھڑا تو نہیں سکتے البتہ انہیں ترغیب دلا سکتے ہیں کہ اسکا
استعمال ایسا کریں جو آخرت کے لیے فائدہ مند ہو مثلاً مدنی چینل یا دعوت اسلامی کی
مجلس سوشل میڈیا کی طرف سے جو مدنی گلدستے آتے ہیں آپ انہیں دیکھیں اور آگے شیئر
کریں۔ اسی طرح مدنی چینل بھی دیکھتے رہیے کہ یہ بھی ایک ٹیکنالوجی ہے۔ جو
الیکٹرونک میڈیا (Electronic
media) کہلاتی ہے یہ الگ بات ہے کہ نیٹ اور سوشل میڈیا
کے آنے کے بعد اب چینلز کی طرف لوگوں کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا میں اب
کئی شعبے بن چکے ہیں اور اور مزید نئے بنتے جا رہے ہیں۔ اس میں بھی بعض پرانی
چیزیں اب پیچھے ہوتی جا رہی ہیں، اور کُلٌّ جَدِیْدٌ لَذِیْذٌ یعنی
ہر نئی چیز لذت والی ہوتی ہے کے تحت نئی چیزوں میں مگن ہو کر لوگ کہاں سے کہاں نکل
رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر
انسان کا بہت زیادہ وقت فضولیات میں گزر جاتا ہے جو کہ لہو و لعب میں مبتلا ہو
جاتا ہے لہو ولعب میں وقت گزرنا مومنین کی صفات میں سے نہیں ہے۔
مومنین کی
صفات کے بارے میں اللہ پاک پارہ 18 سورہ مومنون کی آیت نمبر 3 میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ هُمْ
عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳) ترجمہ کنز الایمان:اور وہ جو کسی
بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں کرتے۔
اسی طرح پارہ
24 سورہ نور کی آیت نمبر 19 میں برے لوگوں کی مذمت بیان کرتے ہوئے ان کا وصف بیان
کیا چنانچہ ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ
الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ
الْاٰخِرَةِؕ-ترجمہ:
بےشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت
میں دردناک عذاب ہے۔
ان دونوں آیات
مبارکہ میں برائی سے اعراض کرنے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بیہودہ باتوں اور کاموں کو
پھیلانے کی مذمت بھی بیان کی گئی ہے ہر وہ کام کہ جس کی وجہ سے برائی پھیلے خواہ
وہ موبائل ہو یا سوشل میڈیا ہو یا کوئی بھی اور ذریعہ ہو اس سے اعراض اجتناب کا
درس ان آیات سے ملتا ہے۔
نوجوان نسل
میں سوشل میڈیا کی وجہ سے انسان ایک دوسرے پر بہتان لگانے کا سلسلہ اور ان کی خفیہ
باتوں کی ٹوہ میں رہنے کا سلسلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے اور دن بدن ایسے لوگوں کی
تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو دوسرے لوگوں کی ذاتی زندگی میں تجسس کرتے رہتے ہیں اور
اس کے متعلق سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گفتگو ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے لوگ گناہ
میں مبتلا ہو جاتے ہیں کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں یا عیبوں کی ٹوہ میں رہنا یا
ان کے عیب ڈھونڈنے کی کوشش کرنا اس کے بارے میں حدیث مبارکہ میں مذمت آئی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جو شخص لوگوں کی باتیں چھپ کر سنے حالانکہ وہ لوگ اس کو ناپسند کر رہے ہوں
تو اس کے کانوں میں پگھلایا ہوا سیسا ڈالا جائے گا۔
میر اہل سنت
مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں آج کل موبائل/ سوشل میڈیا کا
استعمال بہت زیادہ عام ہو گیا ہے ہر خاص و عام اس کا استعمال کرتے نظر آرہے ہیں اس
کا استعمال اگر ایک مناسب اور مہذب انداز میں نہ کیا جائے تو یہ آپ کے وقت کے ضیاع
کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت اور وقار کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
Dawateislami