آج کل کے دور
میں سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ ہمیں کوئی بھی معلومات
چاہیے ہو، کھانا پکانا ہو یا کسی بھی قسم کا کام ہو، ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی
مدد لیتے ہیں۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں، لیکن اس کے نقصانات بھی کم نہیں ہیں۔
سب سے بڑا
نقصان وقت کا ضیاع ہے۔ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا استعمال کرتے رہتے ہیں، جیسے فیس بک
اور انسٹاگرام پر سکرول کرنا یا ٹک ٹاک پر ویڈیوز دیکھنا اور بنانا۔ ان کاموں میں
بظاہر مزہ تو آتا ہے، لیکن یہ وقت کا ضیاع ہے اور اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ
ہیں۔
سوشل میڈیا کے
بے جا استعمال کا ایک بڑا نقصان اخلاقی زوال ہے۔ اس پر غلط اور غیر مناسب مواد عام
ہو چکا ہے، جس سے نوجوان متاثر ہو کر اپنی تہذیب اور روایات سے دور ہوتے جا رہے
ہیں۔
اس کے علاوہ
ذہنی اور جذباتی دباؤ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر اپنی خوشحال اور
پرفیکٹ زندگی دکھاتے ہیں، جس سے دوسرے نوجوان خود کو کم تر محسوس کرتے ہیں۔ اس سے
ڈپریشن، اینزائٹی اور احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔
آخر میں ہمیں
یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کا درست استعمال ہی فائدہ مند ہے۔ والدین اور اساتذہ
کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں سوشل میڈیا کے مناسب اور محدود
استعمال کی عادت ڈالیں۔
سوشل میڈیا
ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ نوجوان نسل کی
تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان کس طرح اپنا قیمتی وقت
ضائع کر رہے ہیں اور غیر ضروری کاموں میں مشغول ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ
گھروں میں اچھا دینی ماحول قائم کریں اور مدنی چینل لگائیں۔ ساتھ ہی ہمیں خود بھی
موبائل کا کم استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے
ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنی عادتیں درست کریں گے تو بچے بھی اچھی عادتیں اپنائیں
گے۔
اگر ہم بچوں
کی اچھی تربیت کریں گے تو وہ کل کے بہتر نوجوان بنیں گے اور ہم انہیں سوشل میڈیا
کی تباہ کاریوں سے بچا سکیں گے۔
Dawateislami