دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام بنگلہ دیش کے علاقے صدر، دیناج پور میں واقع دیناج پور انسٹیٹیوٹ میدان میں 29 اگست 2026ء کو ایک عظیم الشان” اجتماعِ میلاد و مدنی مذاکرہ “ منعقد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس ” اجتماعِ میلاد و مدنی مذاکرہ “ میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی مبین عطاری اور مختلف سطح کے اہم ذمہ دار اسلامی بھائی موجود تھے۔

اجتماع کا آغاز معمول کے مطابق تلاوتِ قرآن و نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا گیا جس کے بعد خلیفہٴ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے سنتوں بھرا بیان کیا۔

خلیفہٴ امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی نے اپنے بیان کے دوران حاضرین کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت و رہنمائی کی اور تمام عاشقانِ رسول کو دعوتِ اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا ذہن دیا اور ترغیب دلائی۔

اجتماع کے اختتام پر خلیفہٴ امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی نے رقت انگیز دعا فرمائی اور وہاں موجود عاشقانِ رسول سے ملاقات بھی فرمائی۔


دعوتِ اسلامی کے تحت 28 اگست 2026ء  کو بنگلہ دیش کے شہر پابنا میں واقع فتح محمد پور لوکو گراؤنڈ (Fateh Muhammadpur Loco Football Ground) میں ایک عظیم الشان ” اجتماعِ میلاد “ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

تفصیلی معلومات کے مطابق اس اجتماعِ پاک میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی مبین عطاری اور دیگر شخصیات کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی بھی موجود تھے۔

تلاوت و نعت کے بعد خلیفہٴ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور حاضرین کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واقعات بتائے۔

اجتماع کے اختتام پر خلیفہٴ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے رقت انگیز دعا فرمائی جس کے بعد اجتماع میں شریک عاشقانِ رسول نے اُن سے ملاقات بھی کی۔


تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام ہر جمعرات کی طرح آج رات مؤرخہ 17 ستمبر 2026ء کو بھی دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا باقاعدہ انعقاد کیا جا رہا ہے۔ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں قائم مدنی مراکِز و مساجد میں ہزاروں مقامات پر ان اجتماعات کا اہتمام کیا جائے گا جن میں لاکھوں عاشقانِ رسول شرکت کر یں گے۔

اجتماعات کا باقاعدہ آغاز نمازِ مغرب کے بعد تلاوتِ کلامِ پاک اور سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں نعت خوانی سے ہوگا۔تلاوت و نعت کے بعد دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین اور دیگر مبلغین دعوت اسلامی مخصوص دینی، اصلاحی اور اخلاقی موضوعات پر سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔ بیانات کے بعد عالمِ اسلام کی سلامتی، امّتِ مسلمہ کی بخشش اور بالخصوص مظلوم مسلمانوں کے لیے رقت انگیز دعائیں کی جائیں گی، جس کے بعد باجماعت نمازِ عشاء ادا کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق آج رات کرکٹ سٹیڈیم نزد گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر1 چنیوٹ روڈ پنڈی بھٹیاں سے مدنی چینل پر براہِ راست (LIVE) نشر ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں رات 8:30بجے نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

واصف میرج ہال، ہزارہ روڈ نزد مدنی مسجد حسن ابدال میں رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ رائیونڈ میں رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری، جامع مسجد محمدی حنفیہ، سوڈیوال لاہور میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ علی ٹاؤن نیو سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا میں رکن شوریٰ مولانا حاجی محمد عقیل عطاری، بوڈیشر ضیاء العلوم جامع مسجد، ہاٹ ہزاری، چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ Malcolm Street Derby DE23 8LTمیں رکن شوریٰ عبد الوہاب عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

تمام عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ آج رات دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں خود بھی شرکت فرمائیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لانے کی نیت کریں۔


فیصل آباد سٹی کے علاقے چک جھمرہ ٹاؤن میں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام 25 اگست 2026ء کو  ’’اجتماع میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی عاشقانِ رسول سمیت بالخصوص اسپیشل پرسنز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس اجتماعِ پاک میں فیصل آباد ڈویژن ڈیف ذمہ دار ارسلان عطاری نے اشاروں کی زبان (Sign Language) میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر بیان کیا۔

اس کے علاوہ ارسلان عطاری نے اشاروں کے ذریعے حاضرین کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمِ انسانیت میں آمد کا مقصد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا پیغام احسن انداز میں پہنچایا۔

اجتماع میں شریک اسپیشل پرسنز نے بیان کو دلجمعی سے سمجھا اور اس میں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی و اخلاقی امور پر عمل پیرا ہونے کے لیے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار بھی کیا۔(رپورٹ: محمد نعمان بدر عطاری فیصل آباد ڈویژن اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


فیصل آباد سٹی، پنجاب کے علاقے 229 ر ب مکوانہ میں 26 اگست 2026 ء کو اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام ’’اجتماع میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں عمومی اسلامی بھائیوں سمیت اسپیشل پرسنز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اجتماعِ میلاد کے دوران فیصل آباد ڈیف ذمہ دار ارسلان عطاری نے اشاروں کی زبان (Sign Language) میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر بیان کیا۔

اسی طرح ارسلان عطاری نے اشاروں کی زبان کے ذریعے حاضرین کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا مقصد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہایت احسن انداز میں سمجھایا۔

اس موقع پر موجود اسپیشل پرسنز نے بیان کو دلجمعی سے سمجھا اور دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی و اخلاقی امور پر عمل پیرا ہونے کے لیے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار بھی کیا۔(رپورٹ: محمد نعمان بدر عطاری فیصل آباد ڈویژن اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے اہتمام 26 اگست 2026ء کو فیصل آباد سٹی کے گورنمنٹ ہائی اسکول (گھنٹہ گھر) میں ایک پروقار ’’اجتماع میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘منعقد کیا گیا جس میں قرب و جوار کے عاشقانِ رسول سمیت بالخصوص اسپیشل پرسنز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پروگرام کے دوران اسپیشل پرسنز کے لیے اشاروں کی زبان (Sign Language) میں میلاد کے موضوع پر بیان کیا گیا جس میں ان تمام حضرات کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک آمد کا حقیقی مقصد اشاروں کے ذریعے سمجھایا گیا جس سے متاثر ہو کر تمام اسپیشل پرسنز نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔

اجتماع میں فیصل آباد ڈیف ایسوسی ایشن کے صدر شیخ اکبر بھی موجود تھے جنہوں نے دعوتِ اسلامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دعوتِ اسلامی نے ایسا بہترین اور فعال ڈیپارٹمنٹ قائم کیا ہے جو اسپیشل پرسنز کو بھی اشاروں کی زبان میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے مقاصد اور سیرت سے روشناس کروا رہا ہے۔(رپورٹ: محمد نعمان بدر عطاری فیصل آباد ڈویژن اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


فیصل آباد سٹی کے علاقے ڈوگر بستی میں دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام 25 اگست 2026ء کو ایک عظیم الشان ’’میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اجتماع‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔

تفصیلی معلومات کے مطابق اس عظیم الشان ’’میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اجتماع‘‘ میں اسپیشل پرسنز سمیت علاقے کے دیگر اسلامی بھائیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اجتماع کے دوران اسپیشل پرسنز کی رہنمائی کے لیے اشاروں کی زبان (Sign Language) میں میلاد کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا گیا اور تمام اسپیشل پرسنز کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا مقصد اشاروں کی زبان میں آسان انداز سے سمجھایا گیا۔

بیان کے بعد تمام اسپیشل پرسنز نے اپنی نیک خواہشات بیان کرتے ہوئے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار بھی کیا جس پر اُن کی حوصلہ افزائی کی گئی۔(رپورٹ: محمد نعمان بدر عطاری فیصل آباد ڈویژن اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام 21 اگست 2026ء کو ضلع رحیم یار خان، پنجاب کے شہر خانپور میں واقع مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں’’اتھارٹیز میٹ اپ‘‘ (Authorities Meet-up) کا انعقاد کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی شرکت ہوئی۔

اس میٹ اپ میں نگرانِ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ شہزاد عطاری نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اور حاضرین کی رہنمائی کی۔

نگرانِ ڈیپارٹمنٹ نے اپنی گفتگو کے دوران ’’کسبِ حلال‘‘ کی اہمیت، دعوتِ اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں کا تعارف اور بچوں کی بہترین اخلاقی و دینی تربیت کرنے کے حوالے سے اہم نکات بتاتے ہوئے حاضرین کو اس پر عمل کرنے کا ذہن دیا۔

اس اہم اتھارٹیز میٹ اپ میں تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بالخصوص ڈپٹی ڈی ای او (Deputy DEO) لیاقت پور اور مختلف ہائی اسکولز کے ہیڈز (Principals) نے شرکت کی۔(رپورٹ: شکیل احمد عطاری ڈویژن ذمہ دار ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


25 اگست 2026ء کو ضلع ملتان، پنجاب کے شہر جلالپور پیر والا میں اسپیشل پرسنز کے لیے ’’میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اجتماع‘‘ منعقد کیا گیا جس میں اسپیشل پرسنز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر ڈویژن ذمہ دار مولانا محمد جمال عطاری مدنی نے اشاروں کی زبان (Sign Language) میں بیان سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے حاضرین کی رہنمائی کی۔

ڈویژن ذمہ دار نے اپنے بیان کے دوران شرکائے اجتماع کو میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں نیکیوں کی طرف مائل ہونے کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ: مولانا محمد جمال عطاری مدنی اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد ڈویژن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


"عقیدہ" عربی زبان کا لفظ ہے ۔جس کی تعریف یہ ہے عقیدہ اُن اسلامی امور کا نام ہے جن پر دل بغیر کسی شک وشُبہ کے پختہ ہوجائے۔(حدیقہ ندیہ،1/ 96)

محترم قارئین! مسلمان کیلئے اسلامی عقائد کی وہی اہمیت ہے جو زندہ رہنے کیلئے سانس کی ہے جس طرح سانس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح اسلامی عقائد کے بغیر وہ مسلمان نہیں بن سکتا۔آخرت میں سرفرازی اُسی وقت ہوگی جب بندے کے عقائد درست ہونگے اور اُنہی عقائد پر اُس کا خاتمہ ہوا ہوگا۔جس کو قرآن پاک نے واضح لفظوں میں یوں بیان کیا :

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)ترجمہ کنزالایمان : وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (سورةآل عمران،آیت91)

عقائد کی اہمیت اس حدیث سے بھی لگائی جاسکتی ہے ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا ،کیا یہ اعمال اسے( آخرت میں) نفع دیں گے؟رسول مکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم نے فرمایا یہ اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے،کیونکہ اس نے (اللہ پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے) ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔(مسلم ،حدیث 518)

ایک مسلمان کیلئے ذات و صفاتِ باری تعالٰی، نبی پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم اور دیگر انبیاء و مرسلین،ملائکہ مقربین، جنت ودوزخ، مرنے کے بعد زندہ ہونے،حوض کوثر اور پل صراط کے حق ہونے نیز عظمت صحابہ کِرام و اہل بیت عِظام وغیرہ عقائد کا اتنا علم ضروری ہے جس سے صحیح اور غلط کی پہچان ہوسکے۔

محترم قارئین! درست اسلامی عقیدہ درخت کی طرح اور دیگر نیکیاں و عبادات پھل کی طرح ہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ درخت کے بغیر پھل کا حصول ممکن نہیں۔یہی معاملہ درست عقیدے اور قبولیت عبادات کا ہے کہ بغیر عقیدے کے عبادات و نیکیوں کی قبولیت ناممکن ہے ۔سیدی اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں سب سے اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالف سے کافر یا گمراہ ہوجاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، 623/23 ماخوذا)

اگر ہم مطالعہ کریں تو اپنے عقیدے کے دلائل احقاق حق اور ابطال باطل کرسکیں گے اور ہمارا اپنا عقیدہ بھی مضبوط و مستحکم ہوگا اور ہمارے خاندان، دوست احباب حضرات کے سامنے حسب موقع ہم وہ دلائل احسن اندازسے بیان کرے گے تو قرآن وسنت اور آثار صحابہ سن کو ان کو بات سمجھ آجائے گی اور وہ تصدیق کرنے پر بخوشی راضی ہوجائیں گے اور یہ ہمارا فرض بھی بنتا ہے کہ ہم لوگوں کو درست راہ کی طرف گامزن کریں۔عقائد کی متعلق علماء اہلسنت کی بیسیوں کتابیں(جیسے دس اسلامی عقیدے، جاء الحق، بنیادی عقائد اور معمولات اہلسنت وغیرہ)دستیاب ہیں اگر ہم ان کتابوں کا مطالعہ کریں تو ہمارے اوپر یہ بات آشکار ہوگی کہ ہمارے عقائد قرآن پاک کی آیات بینات ،احادیث صحیحہ معتمدہ اور آثار معتبرہ سے ثابت ہیں۔

لہذا ہم پر ضروری و اہم فرض ہے کہ ہم عقائد اسلامیہ کی معلومات کیلئے ان کتب کا مطالعہ کرے جن میں دلائل کے ذریعے بے دینوں اور بدمذہبوں کے باطل نظریات کا رد کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف مسلمانوں کے درست عقائد ثابت فرمائے گئے ہیں۔بلکہ انہیں اپنے عقیدے کی حفاظت کا بھر پور ذہن بھی دیا ہے۔اللہ پاک ہمیں عقائد اہلسنّت پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور عقائد سے متعلقہ کتب پڑھنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔


"یہ حدیث کسی کتاب میں نہیں"،

" اس حدیث کو کسی نے بھی روایت نہیں کیا،

" اس حدیث کی کوئی اصل نہیں"،

لہذا یہ حدیث "موضوع"(Fabricated Hadith) ہے۔

یہ وہ جملے ہیں جو میں اور آپ کسی ایسی حدیث کے متعلق مباحثے(Debate) کے دوران بارہا سنتے ہیں جب وہ حدیث کسی شخصیت کی منقبت و عظمت یا کسی کام کے کرنے کی فضیلت وغیرہ پر دلالت (Indication)کر رہی ہوتی ہے لیکن وہ حدیث کتبِ حدیثیہ کے مصادر و اصول(Origin) میں نہیں ملتی فقط متاخرین کی کُتُب میں ملتی ہے۔

کہنے والے کا طریقۂ استدلال(Argument Method) یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمائی ہے تو یقیناً اس کا اندراج (Entry)محدثین کی امہات کُتُبِ حدیثیہ مثلاً صحاحِ ستہ، مسانید، مؤطا و معاجم وغیرہ میں ہونا ہی چاہیئے۔ اگر یہ حدیث اِن کُتُب میں موجود نہیں تو مطلب یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نہیں فرمائی اور حدیث موضوع ہے۔

کہنے کو تو بات بڑی بھلی لگتی ہے لیکن نظر ِتحقیق میں معاملہ بالکل مختلف نظر آتا ہے کیونکہ یہ دعویٰ تو گویا ایسے ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پوری حیات ِطیبہ میں آپ کی زبان اقدس سے جو کچھ جاری ہوا یا آپ سےجتنے بھی افعال صادرہوئے وہ تمام کے تمام اِن کُتُبِ حدیثیہ میں شامل کئے جا چکے ہیں، حالانکہ یہ تو صریح غلط فہمی و خلاف واقع بات ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان قادری رحمۃُ اللہِ علیہ اسی غلط فہمی کو ختم کرنے کے لئے لکھتے ہیں:

”ان حضرات کا دابِ کلی (عمومی عادت)ہے کہ جس امر پر اپنی قاصر نظر، ناقص تلاش میں حدیث نہیں پاتے اس پر بے اصل(Baseless) و بے ثبوت ہونے کا حکم لگادیتے، اور اس کے ساتھ ہی صرف اس بناء پر اسے ممنوع و ناجائز ٹھہرا دیتے ہیں۔ پھر اس طوفانِ بے ضابطگی کا وہ جوش ہوتا ہے کہ اس اپنے نہ پانے کے مقابل علماء ومشائخ کی تو کیا گنتی حضرات عالیہ ائمہ مجتہدین رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے ارشادات بھی پایۂ اعتبار سے ساقط اور ان کے احکام کو بھی یونہی معاذ اللہ باطل و غیر ثابت بتاتے ہیں۔ یہ وہ جہالت بے مزہ ہے جسے کوئی ادنٰی عقل والا بھی قبول نہیں کرسکتا، ان حضرات سے کوئی اتنا پوچھنے والا نہیں کہ ''کے آمدی وکے پیرشدی'' (کب آئے اور کب بوڑھے ہوئے)۔ بڑے بڑے اکابر محدثین ایسی جگہ "لم أر" و "لم أجد" پر اختصار کرتے ہیں یعنی ہم نے نہ دیکھی ہمیں نہ ملی، نہ کہ تمہاری طرح عدمِ وجدان(نہ پانے) کہ عدم وجود(نہ ہونے) کی دلیل ٹھہرادیں۔

صاحبو! لاکھوں حدیثیں(محدثین) اپنے سینوں میں لے گئے کہ اصلا تدوین (Collation) میں بھی نہ آئیں۔ امام بخاری رحمۃُ اللہِ علیہ کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں، امام مسلم رحمۃُ اللہِ علیہ کو تین لاکھ، پھر صحیحین میں صرف سات ہزار حدیثیں ہیں۔ امام احمد رحمۃُ اللہِ علیہ کو دس لاکھ محفوظ تھیں مسند میں فقط تیس ہزار ہیں۔ خود شیخین وغیرہما ائمہ سے منقول کہ ہم سب احادیث صحاح کا استیعاب (تمام صحیح احادیث کو جمع کرنا) نہیں چاہتے۔“ ([1])

یعنی لاکھوں احادیث ایسی ہیں کہ اَجِلّہ محدثین کو یاد تھیں، لیکن زمانۂ تدوین میں ان کا اندراج مصادر کُتُب میں نہ ہوسکا، تو یہ کہنا کیسے درست ہوگا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک زندگی میں صادر ہونے والے تما م اقوال و افعال کُتُب حدیثیہ میں موجود و محفوظ ہیں؟

پھر جو احادیثِ مبارکہ کُتُب مدونہ(Edited Books) میں شامل کر لی گئیں کیا وہ تمام کی تمام بھی اب تک باقی ہیں؟ ہر گز نہیں۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں:

"اب جو حدیثیں تدوین میں آئیں ان میں سے فرمائے کتنی باقی ہیں؟ صدہا کتابیں کہ ائمہ دین نے تالیف فرمائیں محض بے نشان ہوگئیں اور یہ آج سے نہیں ابتداء ہی سے ہے۔ امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ کے زمانے میں اَسّی (80) علماء نے مؤطا لکھیں پھر سوائے مؤطائے مالک ومؤطائے ابن وہب کے اور بھی کسی کا پتا باقی ہے؟ امام مسلم رحمۃُ اللہِ علیہ کے زمانے کو ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری صاحب ِمستدرک کے زمانے سے ایسا کتنا فاصلہ تھا پھر بعض تصانیفِ مسلم کی نسبت امام ابن حجر نے حاکم سے نقل کیا کہ ”معدوم ہیں“۔ وعلی ھذہ القیاس صدہا بلکہ ہزارہا تصانیف ائمہ کا کوئی نشان نہیں دے سکتا، مگر اتنا کہ تذکروں ،تاریخوں میں نام لکھا رہ گیا۔“ ([2])

معلوم ہوا کہ کئی احادیث مبارکہ ایسی ہیں کہ اولاً یا تو ان کا اِندراج(Entry) کُتُبِ حدیثیہ میں بطورِ تدوین نہ ہوسکا یاہوا بھی تو بدقسمتی سے ہم تک ان کی رسائی نہ ہو سکی۔

لہذاایسا قطعاً ضروری نہیں کہ کوئی حدیث اگر کسی کتاب میں موجود نہ ہو تو اس حدیث کا وجود بھی نہ ہو، کیونکہ تمام کی تمام احادیث ہم تک پہنچنےوالی کُتُب میں موجود ہوں ایسا ہر گز نہیں ۔ یہ تو پھر بھی کتابوں کا معاملہ ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے متعلق بھی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:

”خود أجلّہ صحابہ کرام جو گاہ بگاہ سفر وحضر میں دائماً بارگاہِ عرش جاہ حضور رسالت پناہ علیہ وعلیہم صلوات اللہ میں حاضر رہتے یہاں تک کہ حضرات خلفائے اربعہ وحضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرھم رضی اللہ تعالی عنہم بھی یہ دعوٰی نہیں کرسکتے تھے، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کل اقوال وافعال پر ہمیں اطلاع ہے، کُتُب احادیث پر جسے نظر ہے وہ خوب جانتاہے کہ بعض باتیں ان حضرات پر بھی خفی (پوشیدہ) رہیں ”تا بدیگرے چہ رسد (دوسروں تک کیا پہنچے )۔“([3])

صاف ظاہر کہ جب صحابہ کرام علیہم الرضوان کے متعلق حضور ِ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تمام احادیث پر مطلع ہونے کا دعویٰ متصور (Imagined) نہیں تو بعد میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذریعے نقل شدہ احادیث کے متعلق، ان احادیث پر مشتمل تدوین شدہ کُتُب کے متعلق، ان میں سے باقی رہ کر آج ہمارے ہاتھوں تک پہنچنے والی کُتُب کے متعلق یہ دعویٰ کیسے متصور ہوسکتا ہے؟ ظلم تو یہ کہ بعض غیر سنجیدہ و جری نو مولود محققین فقط شاملہ (Searching Software) اور گوگل کی سرچنگ پر اکتفاء کرکے یہ جملے کہتے ہیں:

"یہ حدیث کسی کتاب میں نہیں"،

" اس حدیث کو کسی نے بھی روایت نہیں کیا،

" اس حدیث کی کوئی اصل نہیں"،

لہذا یہ حدیث "موضوع" ہے۔

حالانکہ ہم واضح کر آئے کہ اگر حدیث کسی کتاب میں موجود نہیں تو ضروری نہیں کہ وہ حدیث سِرے سے ہو ہی نہیں ، کیا بعید کہ زیرِ بحث حدیث بھی انہی احادیث میں سے ہو کہ اس کا اندراج کُتُب میں نہ ہو سکا ہو؟ کیا بعید کہ اس کا اندراج تو ہوا ہو لیکن کتاب ہی اصلاً مفقود ہو گئی ہو؟ اور بالفرض کتاب بھی موجود ہو تو کیا سرچنگ سافٹ وئیرشاملہ میں روئے زمین کی تمام کُتُب موجود ہیں؟ بالکل نہیں،اس میں تو فقط آٹھ سے نو ہزار (8000 to 9000) کُتُب موجود ہیں باقی ہزاروں کُتُب ہیں جو شاملہ میں موجود نہیں۔

لہذا بہتر یہی ہے کہ ایسے جملوں سے بچا جائے، بغیر سوچے سمجھے حدیث کو موضوع قرار دینے میں جلدی نہ کی جائے، کیونکہ جس طرح فقط متاخرین ائمہ کی معتبر تصانیف میں ایسے حدیث کا وجود اس کے ثبوت (صحیح و حسن ہونے) کےلئے کافی نہیں اسی طرح اس کے مردودو موضوع ہونے کے لئے بھی کافی نہیں، الّا یہ کہ کوئی معتمد امام اس کے موضوع ہونے کی صراحت فرمادیں۔ والله اعلم۔

مولانااسعد شاہد عطاری مدنی (متخصص فی الحدیث)

نگران شعبہ تدوینِ مخطوطات،مرکزخدمۃ الحدیث(دعوتِ اسلامی)



(1) فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ 294۔

(1) فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ 296۔

(1) فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ 296۔


گزشتہ روز دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے لاڑکانہ، سندھ میں قائم اسپیشل ایجوکیشن اسکول میہڑ کا وزٹ کیا جہاں اُن کی ملاقات پرنسپل اور ٹیچرز سے ہوئی۔

اس دوران ڈیپارٹمنٹ کے لاڑکانہ ڈویژن ذمہ دار نے اسپیشل بچوں کو اشاروں کی زبان میں اپنے والدین و اساتذہ کا ادب و احترام کرنے کا ذہن دیتے ہوئے انہیں پانی پینے کی سنتیں و آداب سکھائے۔

اس موقع پر پاکستان سطح کے اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ذمہ دار احمد اویس عطاری بھی موجود تھے جنہوں نے ٹیچرز کو دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے خود بھی اور اسپیشل بچوں کو بھی منسلک ہونے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: مولانا محمد عابد عطاری مدنی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)