دعوتِ اسلامی کے شعبہ تعلیم(اسلامی بہنیں) کے تحت نومبر 2021ء کو پاکستان بھر میں ہونے والے دینی کاموں کی کارگررگی درج ذیل ہیں :

کل منسلک اداروں کی تعداد: 1 ہزار49

اداروں میں ہونے والے درس اجتماعات کی تعداد: 625

اس ماہ دینی ماحول سے منسلک ہونے و الی طالبات کی تعداد :348

منسلک شخصیات خواتین کی تعداد: 4 ہزار 270

ہفتہ وا ر سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے والی شخصیات خواتین کی تعداد: 1 ہزار 265

تقسیم کی گئی کتب کی تعداد: 505

تقسیم کئے گئے رسائل کی تعداد: 4 ہزار 429

مدرسۃ المدینہ آن لائن میں داخلہ لینے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 42

وصول ہونے والے نیک اعمال کے رسائل کی تعداد: 789


جسم اللہ پاک کی امانت ہے، ہر بندے کو چاہیے کہ اسکا درست اور صحیح استعمال کرے اور جو اس کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے، یہ کل قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ ہوگا اور یوں ہی جو اس کے حقوق کی پامالی کرتا ہے، اس کے خلاف بھی گواہ ہوگا؛ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعضا کا صحیح استعمال کریں، ورنہ یہ بہت بڑے نقصان کا باعث ہوگا۔

چنانچہ اعضا کے گواہی کے متعلق ارشاد رب العباد ہے :

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۶۵)

ترجمہ کنزالایمان:آج ہم ان کے مونہوں پر مُہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کیے کی گواہی دیں گے (پ 22، یٰسٓ 65)

اس آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ قیامت کے دن کفار سے اُس وقت جب جہنم بھڑکتی ہوئی، شعلے مارتی ہوئی، چیختی ہوئی سامنے ہو گی کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے اور ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو۔

قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے اعضا ان کے اعمال کی گواہی دینا شروع کر دیں گے۔ (ابن کثیر جلد 5 صفحہ 320،321)

اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر ارشاد فرمایا : تم جانتے ہو میں کیوں مسکرایا؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے مخاطب ہو گا تو کہے گا اے میرے رب کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ رب تعالی فرمائے گا کیوں نہیں، بندہ عرض کرے گا میں تو اس وقت مانوں گا جب مجھ ہی میں سے کوئی گواہ ہو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے اور اعمال نامہ لکھنے والے معزز فرشتے حاضر ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس اس کے منہ پر مہر کر دی جائے گی اور اس کے اعضا سے کہا جائے گا بولو چنانچہ ہر عضو اس کے اعمال کی خبر دے گا، اس کے منہ سے مہر ہٹائی جائے گی تو وہ اپنے اعضا سے کہے گا تمارے لیے دوری اور بربادی ہو میں تمہاری طرف سے ہی تو دفاع کرتا تھا ۔

(صحیح مسلم، كتاب: الزهد والرقائق ،باب: الدنیا سجن المومن وجنت الکافر ،صفحہ 1588 ،حدیث 2969)

اس کے علاوہ سنن نسائی کی ایک حدیث میں ہے کہ تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہو گی، سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہو گا۔

(نسائی فی السنن الکبرٰی حدیث:11469)

ان باتوں سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے اعضا کو گناہوں سے بچانا چاہیے، اور نیکیوں میں لگائے رکھنا چاہیے؛ تاکہ یہ کل قیامت میں ہمارے خلاف نہ ہوں؛ بلکہ ہمارے حق میں گواہ ثابت ہو۔


   قیامت کے دن جب مجرمین کے برے اعمال ظاہر کیے جائیں گے تو وہ اپنے جرم کا اقرار کرنے کے بجائے انکار کردیں گے کہ ہم نے تو کوئی جرم ہی نہیں کیا ہے ۔ بلکہ وہ پیش کردہ گواہوں اور اپنے نامۂ اعمال کو بھی جھٹلائیں گے اور اپنی بے گناہی کی قسمیں کھائیں گے تو اس وقت ان کے مونھوں پر مہر لگادی جائے گی اور ان کے جسمانی اعضا کو خود ان کے خلاف بطور گواہ پیش کیا جائے گا تو ان کے کان، آنکھ، جِلد (کھال)، ہاتھ، پاؤں، زبان، ران، گوشت اور ہڈی ان کے خلاف گواہی دیں گے، پھر انھیں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ۔

ہاتھ اور پاؤں کی گواہی: اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان: آج ہم ان کے مونہوں پر مُہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کیے کی گواہی دیں گے ۔ (پ: 23، یٰس: 65)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ابتداء میں کفار اپنے کفر اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کا انکار کریں گے اورکہیں گے: ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم ہرگز مشرک نہ تھے،تو اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا تاکہ وہ بول نہ سکیں، پھران کے دیگر اَعضاء بول اٹھیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا ہے سب بیان کردیں گے، تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ اَعضا جو گناہوں پر ان کے مددگار تھے وہ ان کے خلاف ہی گواہ بن گئے۔ (تفسیر صراط الجنان، 8/273، المدینۃ العلمیہ)

کان، آنکھ اور کھال کی گواہی: دوسرے مقام پر ارشاد ربانی ہے: وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ(۱۹) حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے۔ یہاں تک کہ پچھلے آملیں ۔ یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور اُن کے چمڑے سب اُن پر ان کے کیے کی گواہی دیں گے۔

(پ: 24، حٰمٓ السجدۃ: 20،19)

ران، گوشت اور ہڈیوں کی گواہی: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے ایک طویل حدیث مروی ہے، اس کا آخری حصہ پیش ہے: اے میرے رب!میں تجھ پر،تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا،میں نے نماز پڑھی،روزہ رکھا اور صدقہ دیا، وہ بندہ اپنی اِستطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا کہ میں نے یہ یہ کیا ۔ اللہ پاک فرمائے گا: ابھی ظاہر ہوجائے گا ،پھر اس سے کہا جائے گا: ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتے ہیں۔ وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا :میرے خلاف کون گواہی دے گا؟ پھراس کے منہ پر مہر لگادی جائے گی، اس کی ران، گوشت اور ا س کی ہڈیوں سے کہا جائے گا: تم بتاؤ ۔ پھر اس کی ران،اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بیان کردیں گی اور یہ اس لیے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حجت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہوگا جس سے اللہ پاک ناراض ہو گا۔

(مسلم، کتاب الزہد، ج:2/409، ناشر: مجلس برکات ،جامعہ اشرفيہ مبارک پور)

انسانی اعضاء کا نیک عمل کی گواہی دینا: یونہی اگر کوئی بندہ نیک عمل کرے تو قیامت میں اس کے اعضا اس کے حق میں شہادت دیں گے ۔ حضرت حُمیضہ بنت یاسر اپنی دادی حضرت یسیرہ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: تمہارے لیے لازم ہے کہ تسبیح وتہلیل اور تقدیس کیا کرو اور انگلیوں پر (تسبیحات وغیرہ کو) گنا کرو، کیونکہ ان سے (قیامت میں) پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کر دی جائے گی اور تم لوگ غفلت نہ برتنا کہ (اللہ کی) رحمت کو بھول بیٹھو۔ (جامع ترمذی، 2/199،کتاب الدعوات، باب فی فضل التسبیح والتہلیل، مجلس برکات )

معلوم ہوا کہ بندہ اپنے جسم کے جن اَعضاء سے گناہ اور اللہ پاک کی نافرمانی کرتا ہے وہی اَعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ بن جائیں گے اور اس کے تمام اعمال ظاہر کر دیں گے، تاکہ اس کی ذات خود اس کے خلاف دلیل ہوجائے اور کوئی نیک عمل کرے تو اس کے حق میں گواہی دیں گے ۔

اللہ پاک ہمیں برے اعمال سے بچنے اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم)


دعوتِ اسلامی کے شعبہ مکتبۃالمدینہ (اسلامی بہنیں)کے تحت9دسمبر 2021ء بروز جمعرات پاکستان مکتبۃالمدینہ ذمہ دار اسلامی بہن نے اسلام آباد ریجن کا بذریعہ کال مدنی مشورہ لیا جس میں ریجن تا کابینہ سطح تک کی ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مدنی مشورے میں ماہانہ کارکردگی شیڈول اور دیگر دینی کام بروقت کرنے کی ترغیب دلائی گئی ۔ ماتحت اسلامی بہنوں کو مضبوط بنانے کا ذہن دیا گیا ۔اس کے علاوہ مسائل کے حل پیش کئے گئے۔


دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام فیصل آباد ریجن کی ماہ نومبر 2021ء میں ہونے والے اسلامی بہنوں کے دینی کاموں کی ماہانہ کارکردگی ملاحظہ کیجئے:

دینی ماحول سے منسلک ہونے والی اسلامی بہنوں کی تعداد : 627

روزانہ گھر درس دینے والی اسلامی بہنوں کی تعداد : 11 ہزار 904

امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان/مدنی مذاکرہ سننے والی اسلامی بہنوں کی تعداد : 12 ہزار 637

اسلامی بہنوں کے مدرسۃالمدینہ کی تعداد: 844

ان میں پڑھنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 8 ہزار 229

ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کی تعداد : 1 ہزار 527

ان میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 33 ہزار 773

ہفتہ وار علاقائی دورہ میں شرکت کرنے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 2 ہزار 389

ہفتہ وار رسالہ پڑھنے / سننے والی اسلامی بہنوں کی اوسطاً تعداد:1 لاکھ،27 ہزار،371

وصول ہونے والے نیک اعمال کے رسائل کی تعداد : 8 ہزار 290


پیارے اسلامی بھائیو! قیامت کے دن جب رب کی بارگاہ میں حاضری ہوگی رب تعالیٰ جب سوال کرے گا تو انسان جھوٹ بولے گا تو اس وقت اللہ پاک اس کے منہ کو قفل کے ذریعے بند کرے گا اور اس کے اعضاء کو حکم دے گا کہ اس کے خلاف گواہی دیں۔ جیسا کہ اللہ پاک قراٰن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۶۵)ترجَمۂ کنزُ الایمان: آج ہم ان کے مونہوں پر مُہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کیے کی گواہی دیں گے۔(پ23،یٰسٓ:65)

﴿ اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ :آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے﴾ اس کے تحت تفسیر صراطُ الجنان میں ہے:

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ابتداء میں کفار اپنے کفر اور رسولوں علیہمُ الصلوٰۃ والسّلامکو جھٹلانے کا انکار کریں گے اورکہیں گے،ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم ہرگز مشرک نہ تھے،تو اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا تاکہ وہ بول نہ سکیں،پھران کے دیگر اَعضاء بول اٹھیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا ہے سب بیان کردیں گے تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ اَعضاء جو گناہوں پر ان کے مددگار تھے وہ ان کے خلاف ہی گواہ بن گئے۔

قیامت کے دن انسان کی اپنی ذات ا س کے خلاف گواہ ہو گی:

معلوم ہوا کہ بندہ اپنے جسم کے جن اَعضاء سے گناہ کرتا ہے وہی اَعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان کر دیں گے اور ا س کی ایک حکمت یہ ہے کہ بندے کی ذات خود اس کے خلاف حجت ہو، جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے کہ بندہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا،میں نے نماز پڑھی،روزہ رکھا اور صدقہ دیا، وہ بندہ اپنی اِستطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا۔ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا: ابھی پتا چل جائے گا، پھر ا س سے کہا جائے گا: ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتے ہیں۔ وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا: میرے خلاف کون گواہی دے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران، اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں سےکہا جائےگا: تم بولو۔ پھر اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حجت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہو گا جس پر اللہ پاک ناراض ہوگا۔

(مسلم،ص1214،حدیث:7438)

یاد رہے کہ مونہوں پر لگائی جانے والی مہر ہمیشہ کے لئے نہ ہو گی بلکہ اعضاء کی گواہی لے کر توڑ دی جائے گی، اس لئے وہ دوزخ میں پہنچ کر شور مچائیں گے۔

(صراط الجنان،8/274،273)

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴) ترجَمۂ کنزُالعرفان: جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔(پ18، النور:24)


دعوتِ اسلامی کےتحت   گزشتہ دنوں وزیر آباد اور اسلام آباد ریجن میں 8دینی کام کورس کا انعقاد ہوا جن میں کم و بیش 46اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغات دعوت اسلامی نے اسلامی بہنوں کو درس و بیان کرنے اور علاقائی دورہ کرنے کے حوالے سے نکات بتائے اور انہیں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے نیز عاملات نیک اعمال بنےکی ترغیب دلائی ۔

علاوہ ازیں ریجن نگران اسلامی بہن نے’’حاجت روائی و دلجوئی کے فضائل‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور اسلامی بہنوں کو سافٹ وئیر نظام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بروقت سافٹ وئیر پر مختلف کارکردگیوں کو انٹر کرنے کا ذہن دیاجس پر اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ روحانی علاج (اسلامی بہنیں)کے تحت اسلام آباد ریجن گجرات زون کی کھاریاں کابینہ ڈویژن دین گاہ جامعۃ المدینہ میں دعائے صحت اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں تقریباً 350 کے قریب اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغہ دعوت اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور اسلامی بہنوں کوہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں آنے اور مدنی مذاکرہ دیکھنے کا ذہن دیا نیز اپنے گھروں میں ڈونیشن بکس رکھنے کی ترغیب دلائی ۔ بعدازاں صلوة الحاجات بھی پڑھے گئی اور دعا و صلوۃ و سلام پر اختتام ہوا۔ علاوہ ازیں روحانی علاج کا بستہ بھی لگا یا گیا جس سے 250 تعویذات عطاریہ ا ور75 اوراد و وظائف دیئے گئے۔


دعوتِ اسلامی کے تحت گزشتہ دنوں اسلام آباد ریجن دارلسنہ گجرات میں دینی کام کورس کا انعقاد ہوا جس میں گجرات ،سیالکوٹ اور میر پورخاص  کے جامعۃ المدینہ کی 70 طالبات نے شرکت کی۔

مبلغات دعوت اسلامی نے درس نظامی کی طالبات کو دینی کام کرنے کے حوالے سے تربیت کی۔ اس کے علاوہ عالمی مجلس مشاورت کی رکن اسلامی بہن نے اسلامی بہنوں کو شعبہ رابطہ برائے شحصیات کے نکات کے بتائے اور اس شعبے کے تحت دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا جس پرہاتھوں ہاتھ اسلامی بہنوں نے اس شعبے کے لئےنام پیش کئے۔


دعوتِ  اسلامی کے تحت یکم دسمبر 2021ء کو ڈیرہ اسماعیل خان زون لکی مروت کابینہ میں قائم جامعۃ المدينہ گرلز میں نيو 26 دن پر مشتمل مدنی قاعدہ کورس کا آغاز ہوا جس میں کثیر تعداد میں طالبات نے داخلے لئے۔ اس کورس ميں مدنی قاعدہ ،رہنمائے مدرسين کتاب ، 30 پارے کی آخری سورتيں اور فرض علوم سيکھايا جائے گا۔


دعوتِ اسلامی کے تحت گزشتہ دنوں  ڈیرہ اسماعیل خان زون لکی مروت کابینہ پنیالہ محلہ ملا خيل میں علاقائی دورہ ہوا جس میں کابینہ نگران اسلامی بہن نے دیگر ذمہ دار اسلامی بہنوں کے ہمراہ گھر گھر جاکر مقامی اسلامی بہنوں کو ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع پاک میں شرکت کی دعوت دی جس پر اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتیں بھی پیش کیں ۔


 منافق شخص بہت برا شخص ہے، جب کفار منافقین پر عذاب شروع ہوگا تو اس دن خود ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ قیامت کے دن یہ تمام اعضاء بولیں گے۔ یہ اعضاء کہے گے کہ یہ کافر ومنافقین بدبخت مجھے شرک کفر بلوایا کرتے تھے۔ یہ تمام اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے ۔چنانچہ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴)

(پ:18،نور:24)

ترجمۂ کنزالایمان : جس دن ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں،ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے ۔(پ:18،النور : 24)

حضرت علامہ سید محمود آلو سی بغدادی رحمۃُ اللہِ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: مذکورہ اعضاء کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم اپنی قدرت کاملہ سےانہیں بولنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ پھر ان میں سے ہر ایک شخص کے بارے میں گواہی دے گا۔ کہ یہ ان سے کیا کیا کام کرتا رہا ہے۔(تفسیر روح المعانی ص 442 )

سورہ بنی اسرائیل میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶)ترجَمۂ کنزُالایمان:: بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔(پ:15،سورہ بنی اسرائیل: 36)

اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے کہ" یعنی ان میں سے ہر ایک سے اس کے استعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔ چنانچہ دل سے پوچھا جائے گا کہ اس کے ذریعے کیا سوچا اور آنکھ سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے ذریعے کیا دیکھا گیا ۔

جبکہ علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمۃُ اللہِ علیہ تفسیر روح المعانی میں اس آیت کریمہ کے تحت لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ آدمی کے دل کے افعال پر بھی اس کی پکڑ ہو گی، مثلا کسی گناہ کا پختہ ارادہ کر لیا یا دل کا مختلف بیماریوں مثلا کینہ ،حسد اور خود پسندی وغیرہ میں مبتلا ہو جانا۔۔۔۔ ہاں علماء نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ دل میں کسی گناہ کے بارے میں محض سوچنے پر پکڑنہ ہوگی، جب کہ اس کے کرنے کا پختہ ارادہ نہ رکھتا ہو۔

( تفسیر روح المعانی ص 97)

مزید درۃ الناصحین میں ہے کہ" قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہ خداوندی میں لایا جائے گا اور اسے اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا۔ وہ عرض کرے گا :"یا الہی عز و جل میں نے تو یہ گناہ کیا ہی نہیں ۔اللہ پاک فرمائے گا :میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں۔ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھے گا اور کہے گا: یا رب گواہ کہاں ہے؟ تو اللہ کریم اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا۔ وہ کان کہیں گے ہاں تم نے حرام سنا،اورہم اس پر گواہ ہیں۔ آنکھیں کہیں گی: ہاں ہم نے حرام دیکھا۔ زبان کہے گی: ہاں ہم نے حرام بولا تھا۔ اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے: ہاں ہم نے حرام کی طرف بڑھے تھے۔ شرمگاہ پکارے گی: ہاں میں نے زنا کیا تھا۔ اور وہ بندہ یہ سب سن کر حیران رہ جائے گا۔(ملخّصا،المجلس الخامس ،ص 294)

ہمارے جسم کے تمام گواہ تمام اعضاء ہیں ہمیں چاہیے کہ ان کو درست استعمال کریں ۔ان کو تمام حرام کاموں سے بچاتے ہوئے نیکیوں میں گزارے۔ اللہ کریم غفور الرحیم ہے لیکن جبّارو ستّار بھی ہے۔ ہمیں اللہ پاک کی رحمت کی طرف نظر بھی کرنی ہے اور اس کے خوف سے ڈرنا بھی چاہیے ۔