دعوتِ  اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے زیرِ اہتمام 7 دسمبر 2021 ء برزو منگل بن قاسم زون ڈویژن میر پور ساکرو کراچی میں ماہانہ مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں کابینہ نگران، ڈویژن نگران اور علاقائی نگران اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

کابینہ نگران اسلامی بہن نے شعبے کےدینی کام کرنے کے متعلق مدنی پھول دیتے ہوئے آنے والے کورس مسکرانے کے دینی اور دنیاوی فوائد کو متعارف کروایا نیز کارکردگی بنانے کا طریقہ بتانے کے ساتھ ساتھ کارکردگی شیڈول کو مضبوط کرنے کی ترغیب دلائی ۔


ہمارے جسم کے اعضاء مثلاً آنکھ،  کان، زبان، دل اور پاؤں وغیرہ جو آج ہر اچھے اور برے کام میں ہمارے معاون ہیں، کسی بھی نیکی کے کام پر حوصلہ افزائی یا گناہ کے اِرتکاب پر ملامت کرنے کی بجائے بالکل خاموش رہتے ہوئے ہمیں اپنے تاثرات سے مکمل طور پر محروم رکھتے ہیں، بروزِ قیامت یہی اعضاء ہمارے اعمال پر گواہ ہوں گے کہ ہم انہیں کن کاموں میں استعمال کرتے رہے ہیں، سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا ہے:اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــئُوْلا ۔ ترجمہ:بے شک کان اور آنکھیں اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔(پ 15، بنی اسرائیل:36)اس آیت کے تحت تفسیرِ قرطبی میں ہے :یعنی ان میں سے ہر ایک سے اس کے استعمال کے بارے میں سوال ہوگا، چنانچہ دل سے پوچھا جائے گا : اس کے ذریعے کیا سوچا گیا اور پھر کیا اعتقاد رکھا گیا، جبکہ آنکھ اور کان سے پوچھا جائے گا:تمہارے ذریعے کیا دیکھا اور سنا گیا۔(جلد 20، صفحہ 139)جبکہ سورۂ نور میں ارشاد فرمایا گیا:یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ ترجمہ کنزالایمان:جس دن ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے۔(پ 18، نور: 24)حضرت علامہ سیّد محمد آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:مذکورہ اعضاء کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک اپنی قدرتِ کاملہ سے انہیں بولنے کی قوت عطا فرمائے گا، پھر ان میں سے ہر ایک اُس شخص کے بارے میں گواہی دے گا کہ وہ ان سے کیا کام لیتا رہا ہے۔(تفسیر روح المعانی، جلد 18، صفحہ 442)زمین:یہ زمین جس پر ہم اپنی زندگی کے شب و روز بسر کرتے ہیں اور اس سے کسی قسم کی جھجک یا شرم محسوس کئے بغیر ہر جائز و ناجائز فعل کر گزرتے ہیں، آج یہ ہماری کسی حرکت پر اپنے ردِّ عمل کا اظہار نہیں کرتی، لیکن کل قیامت کے دن یہ بھی ہمارے بارے میں گواہی دے گی، چنانچہ سورۂ زلزال میں ارشاد ہوتا ہے:یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ۔ترجمہ کنزالایمان:اس دن وہ (یعنی زمین) اپنی خبریں بتائے گی۔ (پ30، زلزال:4)اور حدیث مبارکہ میں حضرت ربیعہ جرشی رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:زمین سے محتاط رہو کہ یہ تمہاری اصل ہے اور جو کوئی اس پر اچھا یا برا عمل کرے گا، یہ اس کی خبر دے گی۔ (جلد 8، صفحہ 541)دن اور رات:آج ہم کوئی بھی کام کرتے وقت دن کے اُجالے یا رات کی تاریکی کی مطلقاً پروا نہیں کرتے، لیکن بروزِ قیامت یہ بھی ہماری نیکی یا بدی پر گواہ ہوں گے، جیسا کہ حضرت مغفل بن یسار رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:کوئی دن ایسا نہیں جو دنیا میں آئے اور یہ نداء نہ کرے ، اے ابنِ آدم!میں تیرے ہاں جدید مخلوق ہوں، آج تو مجھ میں جو عمل کرے گا، میں کل قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا، تُو مجھ میں نیکی کر، تا کہ میں تیرے لئے قیامت میں نیکی کی گواہی دوں، میرے چلے جانے کے بعد تو کبھی مجھے نہ دیکھ سکے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اور رات بھی یوں ہی اعلان کرتی ہے۔(حلیۃ الاولیاء، جلد 2، صفحہ 344، رقم الحدیث 2501)


دعوتِ اسلامی کے تحت 12دسمبر2021ء کو حیدرآباد ریجن ڈویژن نواب شاہ میں مدنی مشورے کا ا نعقاد ہوا جس میں مختلف شہروں سبی،ڈیرہ الہ یار ،گھوٹکی ،میرپور خاص ،نوابشاہ ،حیدرآباد کی ریجن تا زون سطح کی ذمہ داراسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

ریجن نگران اسلامی بہن نے ’’ راہِ خدا میں اسلاف اکرام کی قربانیوں ‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور موجودہ حالات میں نیکی کی دعوت کو عام کرنے کی ضرورت پر کلام کرتے ہوئے بتایا کہ نیکی کی دعوت ہی کے ذریعہ سے لوگوں کے ایمان ،عقیدے اور اعمال کو مضبوط کیا جا سکتا ہے ۔


دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام 9 دسمبر 2021ء  کو فیصل آباد ریجن کی ذمہ داراسلامی بہنوں کابذریعہ کال مدنی مشورہ ہوا جس میں زون نگران اور اراکین ریجن ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

ریجن نگران اسلامی بہن نے ’’عیب چھپاؤ جنت میں جاؤ‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیااور ماہانہ کارکردگی شیڈول پر کلام کرتے ہوئے بروقت سافٹ ویئر میں کارکردگی انٹرکرنے کا ذہن دیا۔ اس کے علاوہ شعبہ دارالسنہ کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کی طرف سے کئے جانے والے سوالات کے جوابات دیئے۔ 


بروزِقیامت زبان بند کر دی جائے گی اور آنکھیں،  کان وغیرہا سے جتنے گناہ کئے ہوں گے، ان سب کا بتائیں گے، ہاتھ سے کئے جانے والے گناہوں کی گواہی ہاتھ دیں گے، اسی طرح پاؤں سے کئے جانے والے گناہوں کی گواہی پاؤں دیں گے، وعلی ھذاالقیاس(اور اسی پر تمام اعضاء کا قیاس کر لیں)۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے تو قرآن پاک میں خود ربّ کریم سورۂ یٰسین، آیت نمبر 65 میں ارشاد فرماتا ہے:اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ و تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۔ترجمہ کنزالعرفان:آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔معلوم ہوا ! بندہ اپنے جسم کے جن اعضاء سے گناہ کرتا ہے، وہی اعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان کردیں گے اور اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ بندے کی ذات خود اس کے خلاف حجّت ہو، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے: بندہ کہے گا:اے میرے ربّ!میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نماز پڑھی، روزہ رکھا اور صدقہ دیا، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا، اللہ پاک ارشاد فرمائے گا :ابھی پتہ چل جائے گا، پھراس سے کہا جائے گا : ہم ابھی تیرے خلاف گواہ بھیجتے ہیں، وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گامیرے خلاف کون گواہی دے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران، اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں سے کہا جائے گا:تم بولو، پھر اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حُجّت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہوگا،جس پر اللہ پاک ناراض ہوگا۔(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص1587، حدیث16(2968)لہٰذا آیت و حدیث مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ قیامت کے دن اعضاء گواہی دیں گے، اس سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہےکہ آج جو اعضاء ہمارے گناہ میں مددگار ہیں، کل وہی ہمارے خلاف حجّت بنیں گے، اللہ پاک ہمیں ہر صغیرہ و کبیرہ گناہ سے محفوظ فرمائے۔آمین ثم آمین۔یاد رہے! مونہوں پر لگائی جانے والی مہر ہمیشہ کے لئے نہ ہوگی، بلکہ اعضاء کی گواہی لے کر توڑ دی جائے گی، اس لئے وہ دوزخ میں پہنچ کر شور مچائیں گے۔


دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام10 دسمبر 2021ء  جمعۃالمبارک اوکاڑہ زون میں ماہانہ مدنی مشورے کاانعقاد ہوا جس میں مختلف شعبہ جات کی اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغہ دعوت اسلامی نے دینی کام بڑھانے پے تفصیل سے کلام کیا پھرتقریباً ہرشعبہ ذمہ داراسلامی بہن نے اپنے اپنے شعبے پر کلام کیا اور آئندہ کے لئے اہداف پیش کئے۔ 


قیامت کے دن اعضاء گواہی دیں گے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ۔(ال عمران:185)ہرجان کو موت کا مزاچکھنا ہے،پھر تم سب ہماری طرف لوٹوگے۔قیامت کا دن ہولناکیوں کا دن ہوگا یہ ایسا دن ہوگا جب انسان کی اپنی ذات اس کے خلاف گواہ ہوگی۔کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔(ال عمران:185)ہرجان کو موت کا مزاچکھنا ہےاور تمہارے اعمال کے بدلے قیامت کے دن پورے پورے دئے جائیں گے۔قیامت اوراس کی ہولناکیوں کاذکرقرآن شریف میں سیکڑوں جگہ کیاگیا ہے۔یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ o اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌoیَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَى النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللہ شَدِیْدٌ۔(پ17 ، الحج ، 1۔2)اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو،قیامت کا بھونچال بڑی(خوفناک)چیزہے جس دن تم اسے دیکھوگے اس دن ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے پیارے بچے کو بھول جائے گی اورحمل والیوں کے حمل ساقط ہوجائیں گی اورتم دیکھوگے سب لوگوں کو نشہ کی سی حالت میں اورحقیقت میں وہ نشہ میں نہ ہوں گے،بلکہ اللہ کا عذاب بڑاسخت ہے(بس اس کی دہشت سے لوگ بے ہوش ہوجائیں گے)۔انسان اس دنیا میں اللہ پاک کا نائب بنا کر بھیجا گیا ہے بیشک مرنے کے بعد اس سے ایک ایک چیز کا حساب لیا جائے گا جو عمل وہ کرتا ہے چاہے اچھے یا برے ان سب کا برابر انصاف سے حساب دیا جائے گا اسی لیے قیامت کا دن بہت ہی بڑا دن ہوگا۔جب ہر ایک انسان کے نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں گے اور پھر گواہی کے لئے انسان کو ہی کہا جائے گا لیکن جب انسان مکر جائے گا،وہ عرض کرے گا، یاالٰہی! میں نے تو یہ گناہ کئے ہی نہیں ؟اللہ پاک ارشاد فرمائے گا: میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں ۔ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھے گا لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا اور کہے گا :یارب ! وہ گواہ کہاں ہیں ؟ تو اللہ کریم اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا۔کان کہیں گے، ہاں ! ہم نے (حرام)سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں ۔ آنکھیں کہیں گی، ہاں !ہم نے(حرام)دیکھا۔ زبان کہے گی، ہاں ! میں نے (حرام) بولاتھا۔اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے، ہاں ! ہم (حرام کی طرف)بڑھے تھے۔سورۂ نور میں اللہ پاک فرماتا ہے:یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ترجمۂ کنزالایمان : جس دن ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں ، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے ۔18۔النور : 24)حضرت علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ، مذکورہ اعضاء کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم اپنی قدرت ِکاملہ سے انہیں بولنے کی قوت عطا فرمائے گا، پھر ان میں سے ہر ایک اُس شخص کے بارے میں گواہی دے گا کہ وہ ان سے کیا کام لیتا رہا ہے ۔ (تفسیر روح المعانی ، ج18، ص442) اسی طرح سورہ ٔعبس میں ارشاد ہے:قیامت میں انسان کے ہاتھ پاؤں اور اس کے تمام اعضاء بھی اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔سورہ یسین میں ارشاد ہے:اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔(یٰس:65)آج کے دن ہم ان کے منھ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ پاؤں بولیں گے اور گواہی دیں گے اس کی جووہ کیاکرتے تھے۔الغرض قیامت میں جو کچھ ہوگا قرآن شریف نے بڑی تفصیل سے اس سب کو بیان فرمایاہے،یعنی پہلے زلزلوں اوردھماکوں کا ہونا،پھر سب دنیا کا فنا ہوجانا،حتی کہ پہاڑوں کا بھی ریزہ ریزہ ہوجانا، پھر سب انسانوں کا زندہ کیاجانا پھر حساب کے لیے میدان حشر میں حاضر ہونا اوروہاں ہر ایک کے سامنے اس کے اعمال نامہ کا آنااورخود انسان کے اعضاء کا اس کے خلاف گواہی دینا اور پھر ثواب یا عذاب یا معانی کا فیصلہ ہونا اور اس کے بعد لوگوں کا جنت یا دوزخ میں جانا۔آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روز محشر ہمیں رسوا نہ ہونا پڑے ۔آمین بجاہ النبی الآمین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم


شعبہ تعلیم دعوتِ اسلامی کے تحت ذمہ داراسلامی بھائیوں نے گزشتہ دنوں آل اسکولز پرائیویٹ ایسوسی ایشن کے صدر خالد حیات کموکا اور فیصل آباد کے مختلف اسکولز کے مالکان سے ملاقات کی۔

اس دوران ذمہ داران نے انہیں دعوتِ اسلامی کی عالمی سطح پر ہونے والی دینی وفلاحی خدمات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے شعبے مکتبۃ المدینہ سےشائع ہونے والےکُتُب ورسائل تحفے میں پیش کئے۔

بعدازاں وہاں موجود اسلامی بھائیوں نے دعوتِ اسلامی کی دینی وفلاحی خدمات کو سراہا ۔ (رپورٹ: شعبہ تعلیم ،کانٹینٹ:غیاث الدین)

پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے شعبہ تعلیم کے تحت نگرانِ شعبہ نے فیصل آباد میں ڈی ای او سیکنڈری افتخار سے ملاقات کی اور انہیں  دعوتِ اسلامی کی عالمی سطح پر ہونے والی دینی وفلاحی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔

ذمہ داران نے انہیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع اور مدنی مذاکرے میں شرکت کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔

بعدازاں ڈی ای او سیکنڈری کو نگرانِ شعبہ نے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ تحفے میں دی۔(رپورٹ:شعبہ تعلیم،کانٹینٹ:غیاث الدین)


اللہ پاک نے ہمیں اَن گنت نعمتوں سے نوازا ہے، جس کا شمار کرنا ہم جیسے انسانوں کے بس کی بات نہیں، صبح سے لے کر شام تک اور سَر سے لے کر پاؤں تک ہر ہر چیز اللہ کریم کی نعمت ہے کہ آنکھ ہی کو لے لیجئے کہ اگر پَل بھر کے لئے بند ہو جائے تو انسان کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جاتی ہے، انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہمارے اعضاء ہیں کہ ان نعمتوں کا جتنا شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔اللہ کریم نے جیسے ان اعضاء کو پیدا فرما کر اپنی شانِ قدرت کو ظاہر کیا، وہیں یہ حکم بھی ارشاد فرمایا : ان اعضاء کو نیک کاموں میں استعمال کرو، کیونکہ انسان دنیا میں جس طرح کسی جگہ پر کوئی نیکی کرتا ہے تو وہ جگہ اس کے نیک کام پر گواہ ہو جاتی ہے، اسی طرح ان ا عضاء سے کئے گئے نیک و بد اعمال اس پر گواہ ہوں گے۔اس بات کا ثبوت خود قرآن کریم میں موجود ہے، جیسے اللہ پاک نے پارہ 23، سورہ یٰسین کی آیت نمبر 65 میں ارشاد فرمایا:ترجمہ:آج ہم ان کے ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے، جو وہ کرتے تھے۔اس آیت میں صرف ہاتھوں اور پیروں کے کلام کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور مراد یہ ہے کہ مجرموں کے تمام اعضاء کلام کریں گے اور ان اعضاء سے جس قدر بُرے کام کئے جاتے تھے، ان کا ذکر کریں گے، بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ جس طرح مجرموں کے اعضاء ان کی برائیوں کو بیان کریں گے، اسی طرح نیک مسلمانوں کے اعضاء ان کی نیکیوں کو بیان کریں گے، اس کی تائید اس حدیث مبارکہ سے ہوتی ہے:حضرت بسیرہ رضی اللہُ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم تسبیح اور تہلیل اور تقدیس پڑھنے کو لازم کر لو اور پَوروں(انگلیوں کے سروں)سے ان کا شمار کیا کرو، کیونکہ ان سے سوال کیا جائے گا اور ان سے کلام طلب کیا جائے گا اور تم (ان کو پڑھنے سے) غافل نہ ہو اور اللہ پاک کی رحمت کو بھول نہ جانا۔تسبیح(سبحان اللہ)تہلیل(لا الہ الا اللہ)اور تقدیس سبحان الملک القدوس یا سبوح یا قدوس رب الملائکہ وروح کو کہتے ہیں۔اس سے یہ معلوم ہوا!پَورے قیامت کے دن گواہی دیں گے، جب ان سے سوال کیا جائے گا: تم نے ان انگلیوں سے کیا کام لیا تھا اور ان سے کلام طلب کیا جائے گا، یعنی یہ انگلیاں قیامت کے دن اپنے صاحب کے موافق ہو یا مخالف گواہی دیں گی، جیسا کہ سورہ ٔنور، آیت نمبر 24 میں ربّ کریم کا ارشاد ہے:جب ان کے متعلق ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پیر گواہی دیں گے، وہ دنیا میں کیا عمل کرتے تھے۔مجرمین کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے:قیامت کے دن مجرمین کے اعضاء سے ان کے خلاف گواہی طلب کی جائے گی۔اس لئے اللہ پاک نے ان کے خلاف گواہی کے لئے ان کے اپنے اعضاء میں کلام پیدا فرمادیا، مجرموں کے اعضاء جو مجرموں کے خلاف گواہی دیں گے، اس کے متعلق حسبِ ذیل حدیث مبارکہ ہے:حضرت انس بن مالک رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ہنس پڑے، آپ نے پوچھا: کیا تم کو معلوم ہے کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ ہم نے عرض کیا:اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو زیادہ علم ہے ، آپ نے فرمایا:مجھے بندہ کی اپنے ربّ سے اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ بندہ کہے گا:اے میرے ربّ! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہ دی تھی، اللہ پاک فرمائے گا:کیوں نہیں، بندہ کہے گا:آج میں اپنے خلاف اپنے سوا کسی اور کو گواہی دینے کی اجازت نہ دوں گا، اللہ پاک فرمائے گا:آج تمہارے خلاف تمہاری اپنی گواہی کافی ہوگی یا کراماً کاتبین کی گواہی کافی ہوگی، آپ نے فرمایا:پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا:تم بتاؤ، پھر اس کے اعضاء اس کے اعمال کو بیان کریں گے، پھر اس کے کلام کے درمیان تخلیہ کیا جائے گا، پھر وہ اپنے اعضاء سے کہے گا:دور ہو، دفع ہو، میں تمہاری طرف سے ہی تو جھگڑ رہا تھا۔( تبیان القرآن)مونہوں پر مہر لگانے کی وجہ:قیامت کے دن مجرموں کے مونہوں پر جو مہر لگا دی جائے گی، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چونکہ مشرکین قیامت کے دن یہ کہیں گے: ترجمہ:اور ہمیں اپنے ربّ کی قسم، ہم مشرک نہ تھے۔تو چونکہ مشرکین اپنے شِرک کرنے کا انکار کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، اس لئے اللہ پاک ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا، حتی کہ ان کے اعضاء کلام کریں گے اور وہ بتائیں گے کہ وہ شرک کرتے تھے، دنیا میں کفار کی سرکشی اور گستاخی کی وجہ سے اللہ پاک نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی تھی اور آخرت میں جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا۔اللہ کریم ہمیں اپنے اعضاء کو نیک کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


دعوتِ اسلامی کے شعبہ تعلیم کے تحت گزشتہ دنوں نگرانِ شعبہ عبدالوہاب عطاری نے دینی کاموں کے سلسلے میں لاہور کےسیکرٹری اسکول ایجوکیشن پنجاب غلام فرید سے ملاقات کی۔

اس موقع پر نگرانِ شعبہ نے انہیں دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات کا تعارف پیش کرتے ہوئے دیگر چند امور پر تبادلہ ٔخیال کیاجس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔

بعدازاں انہیں دعوتِ اسلامی کے شعبے مکتبۃ المدینہ سے شائع ہونے والے کُتُب ورسائل تحفے میں دیئے گئے جس پر انہوں نے اظہارِ مسرت کیا۔ (رپورٹ:شعبہ تعلیم،کانٹینٹ:غیاث الدین)


پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے رابطہ برائے ایگری کلچر اینڈ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ  کے تحت ذمہ داران نے گوجرانوالہ میں جنجوعہ فارمیسی میں وقار جنجوعہ سے ملاقات کی اور انہیں نیکی کی دعوت دیتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں حصہ لینے کا ذہن دیا۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر صادق فارماسسٹ، ڈاکٹر شاہد شکیل اسسٹنٹ ڈائریکٹر لائیو اسٹاک اور ڈاکٹر احسان الہی اسسٹنٹ ڈائریکٹر لائیو اسٹاک گوجرانوالہ سے بھی ان کے دفتر میں ملاقات کا سلسلہ رہا۔

اس دوران ذمہ داران نے انہیں دعوتِ اسلامی کی دینی وفلاحی خدمات کے بارے میں بتاتے ہوئےان کی 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کے حوالے سے ذہن سازی کی۔

اسی طرح ذمہ داراسلامی بھائیوں کی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ گوجرانوالہ میں شعبہ حج و عمرہ  کے زیرِ اہتمام ہونے والے کورس میں  حاضری بھی ہوئی۔بعدازاں ڈی سی کالونی میں گوجرانوالہ بورڈ آفس حامد کے گھر پر بذریعہ مدنی چینل مدنی مذاکرہ دیکھنے کا سلسلہ رہا۔ (رپورٹ: رابطہ برائے ایگری کلچر اینڈ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ،کانٹینٹ:غیاث الدین)