پچھلے دنوں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی
کے ذمہ داران رکنِ زون واہ کینٹ محمد بدر عطاری اور رکنِ کابینہ منڈی بہاؤالدین سلمان عطاری نے دینی کاموں کے سلسلے میں اٹک
شہر میں واقع اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کا وزٹ کیا۔
اس دوران ذمہ داران نے اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کے اسٹاف، اساتذہ اوراسٹوڈنٹس سے ملاقات کی نیز اسٹوڈنٹس کے درمیان سیکھنے سکھانے کا حلقہ بھی لگایا گیا۔
رکنِ زون نے اسٹوڈنٹس کے درمیان والدین اوراساتذہ کا ادب واحترام کرنے کے حوالے
سے اشاروں کی زبان میں سنتوں بھرا بیان کرتے
ہوئے اُن کی تربیت کی۔(رپورٹ:محمد سمیر ہاشمی عطاری
اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ،کانٹینٹ:غیاث الدین)
گزشتہ دنوں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی کے ذمہ دار محمد آصف عطاری نے دینی کاموں کے
سلسلے میں کہکشاں اسپیشل چلڈرن اسکول اینڈ
کالج بہادر پور ملتان کا وزٹ کیا۔
محمد شمیم رضا عطاری(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ کنزالایمان بمبئی)
اللہ
پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے:
اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ
كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) ترجمۂ
کنزالایمان: بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے ۔
(پ
١٥،بنی اسرائیل، آیت 36)
اس
آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان میں سے ہر ایک سے اس کے استعمال کے بارے میں
سوال ہوگا، چنانچہ دل سے پوچھا جائے گا کہ اس کے ذریعے کیا سوچا گیااور کیا اعتقاد
رکھا گیا جبکہ آنکھ اور کان سے پوچھا جائےگا تمہارے ذریعے کیادیکھا اور کیا سناگیا۔
(فکرِ مدینہ مع 41 حکایاتِ عطاریہ، ص17۔
بحوالہ تفسیرِ قرطبی، 20/139)
ہمارے
جسم کے اعضاء، مثلا آنکھ، کان، زبان، دل، ہاتھ، پاؤں وغیرہ جو آج ہر اچھے برے اور
کام میں ہمارے معاون ہیں۔کیا ہم نے ان اعضاء کے بارے میں کبھی غور کیا کہ قیامت کے
دن ہمارے اعضاءِ جسمانی ہمارے اچھے اور برے کاموں پر گواہ ہونگے؟ جس آنکھ سے ہم
فِلمیں دیکھتے ہیں جس آنکھ سے ہم بے پردہ
عورتوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں، جس کان سے ہم گانے باجے سنتے ہیں، جس زبان
سے ہم لوگوں کا دل دُکھاتے، جھوٹ، غیبت ،چغلی کرتے ہیں۔ الغرض ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں کل بروزِ قیامت یہی
اعضاء گواہ ہونگے۔
جیسا کہ اللہ
پاک کا فرمان ہے:
﴿ یَّوْمَ
تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا
كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴)﴾ترجمۂ کنزالایمان: اور جس دن
ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے۔ (پ18،
النور ، آ24)
اس
آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے کہ قیامت کے دن ان کے خلاف ان کی زبانیں، ان
کے ہاتھ ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ زبانوں کا گواہی دینا تو ان کے
مونہوں پر مہریں لگائے جانے سے پہلے ہوگا اور اس کے بعد مونہوں پر مہریں لگادی جائیں
گی جس سے زبانیں بند ہوجائیں گے۔ اور اعضاء بولنے لگیں گے اور دنیا میں جو عمل کئے
تھے وہ ان کی خبر دیں گے۔ (تفسیرِ صراط الجنان :6/609)
یہ
ایک فطری بات ہے کہ کسی مقام پر جب انسان
کو یہ محسوس ہو کہ کوئی دیکھ رہا، ہے یا اس کی حرکتوں کو کوئی نوٹ کر رہا ہے، یا
اس کی باتوں کوئی ریکارڈ کر رہاہے ، تو وہ بےحد محتاط ہوجاتا ہےاور جب بظاہر سامنے
کوئی نظر نہیں آتا تو وہ گناہوں میں مُلوِّث ہوجاتا ہے۔ مگر یہ انسان بھول جاتا ہے
کہ اللہ پاک جو ساری کائنات کا مالک ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اس کی نظر سے
کوئی چیز اوجھل نہیں وہ ہر ایک چیز کو دیکھتا اور سنتا ہے تو معمولی سی عقل رکھنے
والا انسان بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ میدانِ محشر میں شرمندگی اور جہنم کے عذاب
سے بچنے کےلئے ہمیں اپنے اعضاء کا صحیح استعمال کرنے میں کس حد تک احتیاط کی ضرورت
ہے اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ اپنی زبان، ہاتھ، پاؤں اور دیگر اعضاء کا صحیح استعمال
کرتے ہیں یا غلط اگر ہم اپنے اعضاء کا صحیح استعمال کرتے ہیں تو اِن شاءاللہ اَمان
ہی امان ہے ورنہ سوائے رسوائی کے کچھ نہیں۔
اللہ
پاک ہم مسلمانوں کو ہمیشہ نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
قیامت
کے دن جب لوگوں کا حساب کتاب ہوگا تو مجرمین اپنے گناہوں کو قبول کرنے کے بجائے
انکار کر بیٹھیں گے اللہ پاک ان کے اعضا کو حکم دے گا کہ وہ ان کے خلاف گواہی دیں۔
اللہ
پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ
وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا
یَكْسِبُوْنَ(۶۵) ﴾
ترجمۂ
کنزالایمان: آج ہم ان کے مونہوں پر مُہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے
پاؤں ان کے کیے کی گواہی دیں گے ۔ (پ: 23، یٰس: 65)
اس
کی تفسیر میں شیخ الحدیث والتفسیر مفتی
قاسم صاحب فرماتے ہیں ابتدا میں کفار اپنے کفر اوررسولوں علیہم السّلامکو جھٹلانے کا انکار کریں گے اور کہیں گے ہمیں اپنے رب
اللہ کی قسم کہ ہم ہرگز مشرک نہ تھے اللہ تعالی ان کے منہ پر مہر لگا دے گا تاکہ
وہ بول نہ سکے پھر ان کے دیگر اعضاء بول اٹھیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا سب بیان
کر دیں گے۔
(صراط
الجنان جلد8 صفحہ 273)
آ
گے چل کر مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں معلوم ہوا بندہ اپنے جسم کے جن اعضاء سے گناہ
کرتا ہے وہی اعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان
کردیں گے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ بندے کی ذات خود اس کے خلاف حجت ہوگی۔
(صراط
الجنان جلد8 صفحہ 274)
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے کہ بندہ کہے گا
اے میرے رب میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا میں نے نماز
پڑھی، روزہ رکھا اور صدقہ دیا وہ بندہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے
گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا "ابھی پتا چل جائے گا" پھر اس سے کہاجائے گا ہم ابھی تیرے خلاف اپنی گواہ بھیجتے
ہیں وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا میرے خلاف کون گواہی دے گا پھر اس کے منہ پر مہر
لگا دی جائے گی اور اس کی ران اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں سے کہا جائے گا کہ تم
بولو پھر اس کی ران ،اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بیان کریں گے اور یہ اس لیے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات
اس کے خلاف حجت ہوں اور یہ بندہ وہ منافق ہوگا جس پر اللہ تعالی ناراض ہو گا
(مسلم
شریف كتاب الزهد والرقائق صفحہ 587 الحدیث16 (2968)
اللہ
پاک ہمیں اپنے اعضاء سے نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
رضائے مصطفٰی مسجد کے ہفتہ وار سنتوں بھرے
اجتماع میں اسپیشل پرسنز کی شرکت
دعوتِ اسلامی کے تحت پچھلے دنوں کراچی ایسٹ ملیر زون کی لانڈھی کابینہ
میں قائم رضائے مصطفی مسجد میں ہفتہ وار
سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد ہوا جس میں
اسپیشل پرسنز سمیت کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
اس سنتوں بھرے اجتماع میں ہونے والے بیان کی رکنِ
زون ایسٹ وسیم احمد عطاری نے اشاروں کی زبان میں ترجمانی کی اور اسپیشل پرسنز کی
تربیت ورہنمائی کی۔(رپورٹ:محمد سمیر ہاشمی عطاری
اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ،کانٹینٹ:غیاث الدین)
عبدالوحید رضا عطاری( درجہ ثالثہ مرکزی جامعۃ المدینہ
فیضان عثمان غنی بارشی مہاراشٹرا )
انسان کے خلاف گواہی دینگے:
اللہ
کے آخری نبی مکی مدنی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " قیامت کے دن
بندہ کہے گا کہ اے پروردگار کیا تو نے مجھ کو ظلم سے پناہ نہیں دی ہے ؟ ( یعنی کیا
تو نے نہیں فرمایا کہ میں اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ) اللہ کے کے
آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( یہ سن کر ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہاں
تجھ کو ( میں نے پناہ دی ہے اور میں یقینا بندوں پر ظلم نہیں کرتا ) تب بندہ کہے
گا کہ اگر تو نے مجھ کو ظلم سے پناہ دی ہے تو ) میں اپنے متعلق اس کے علاوہ اور
کچھ نہیں چاہتا کہ میرے بارے میں گواہی دینے والا مجھ ہی میں سے ہو " اللہ کے
آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بندے کی یہ بات سن کر ) اللہ تعالیٰ
فرمائے گا کہ " ( مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ) آج کے دن تیرے بارے میں
خود تیری ذات ہی گواہی دیں گے " اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " پھر بندے
کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی ( یعنی اس کی قوت گویائی کو معطل کر دیا جائے گا )
اور اس کے بعد اس کے تمام اعضاء وجسم کو حکم دیا جائے گا کہ بولو، چنانچہ اس کے
جسم کے اعضاء اس کے (ان) اعمال کو بیان کریں گے جو اس نے ان اعضاء کے ذریعہ کئے
تھے پھر اس بندے اور اس کی گویائی کے درمیان سے ( پردہ ) اٹھا دیا جائے گا ( یعنی
اس کے منہ کو جو مہر لگائی گئی تھی اس کو توڑ دیا جائے گا اور اس کی قوت گویائی
بحال ہو جائے گی جس سے وہ پہلے کی طرح باتیں کرنے لگے گا ) خاتم النبیین صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا " بندہ ( یہ صورت حال دیکھ کر اپنے اعضاء جسم سے ) کہے
گا کہ دور ہو بدبختو اور ہلاک ہو ، میں تو تمہاری ہی طرف سے اور تمہاری ہی نجات کے
لئے لڑ جھگڑ رہا تھا ۔ " ( مسلم )
قیامت کے دن انسان کی اپنی ذات اس کے خلاف گواہ ہو گی:
آج
ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے
پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔(یٰس آیت 65 )
معلوم
ہوا کہ بندہ اپنے جسم کے جن اَعضاء سے گناہ کرتا ہے وہی اَعضاء قیامت کے دن اس کے
خلاف گواہی دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان کر دیں گے اور اس کی ایک حکمت یہ ہے
کہ بندے کی ذات خود اس کے خلاف حجت ہو، جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عَنْہُ
سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے کہ بندہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر،تیری
کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نماز پڑھی، روزہ رکھا اور صدقہ دیا،
وہ بندہ اپنی اِستطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد
فرمائے گا’’ ابھی پتا چل جائے گا ،پھر اس سے کہا جائے گا :ہم ابھی تیرے خلاف اپنے
گواہ بھیجتے ہیں ۔وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا :میرے خلاف کون گواہی دے گا؟ پھر اس
کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران،اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں سے کہا
جائے گا : تم بولو۔ پھر اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بیان
کریں گی اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حجت ہو اور یہ
بندہ وہ منافق ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا۔
(
مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص1587،
الحدیث: 16(2968))
یاد
رہے کہ مونہوں پر لگائی جانے والی مہر ہمیشہ کے لئے نہ ہو گی بلکہ اعضا کی گواہی
لے کر توڑ دی جائے گی، اس لئے وہ دوزخ میں پہنچ کر شور مچائیں گے۔
اعضاء کی گواہی :
جہنم
بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہو گی اور کفار
سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے
تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود
پڑو، چنانچہ اور آیت میں ہے :
یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ(۱۳)هٰذِهِ
النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ(۱۴)
ترجَمۂ
کنزُالایمان:جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں گے یہ ہے وہ
آگ جسے تم جھٹلاتے تھے ۔( طور: 13 - 15 )
قیامت والے دن
جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے
تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا
شروع کر دیں گے۔
سیدنا
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے
لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم
ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے
گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ
کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا
بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا
گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چنانچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی
اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا
کام لیے؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتا دیں گے پھر اس کی زبان کھول دی
جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہو جائے تم ہی میرے
دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لیے
حجت بازی کر رہا تھا۔)صحیح مسلم:2969(
قیامت
کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے؟ یہ
کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر، تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیری کتاب پر ایمان
لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر
جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہو
گا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا؟ یکایک اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس
کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور
اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لیے
ہو گا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض
تھا اس لیے اس سے سختی سے بازپرس ہوئی۔ (صحیح مسلم:2968)
ایک
حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ سیدنا
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ پاک مومن کو بلا کر
اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ کہے گا :ہاں اللہ
سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سرزد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب
بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہو گی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہو گا
اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہو گا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں
گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامنے جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔
اور
کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس
سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں
کھانے لگے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ
گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو
نے فلاں کام نہیں کیا؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں
کیا؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران
اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔
پھر
فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کر دیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کر
سکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کر دیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر
ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم
چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کر دیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک
کر دیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی
آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے
نہ ہو سکتے۔
دعا:اے ستار العیوب
اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے در گزر فرما۔
اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ
نواز اللہ عزو جل! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی
برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک
الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی
کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔
اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے جلال سے نجات دے اپنی رحمتوں سے
نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف
فرما۔ آمین
جب
بندہ گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے تو دنیا ہی میں اس کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیتے
ہیں وہ اس طرح کہ اس کے چہرے سے نور سلب کرلیا جاتا ہےاور اس کو گمراہی میں مبتلا
کر دیا جاتا ہے تو اسی طرح کل قیامت کے دن بندے کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔
الله
پاک قرآن مجیدمیں ارشاد فرماتا ہے :
﴿اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ
وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا
یَكْسِبُوْنَ(۶۵) ﴾
ترجمۂ
کنزالایمان: آج ہم ان کے مونہوں پر مُہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے
پاؤں ان کے کیے کی گواہی دیں گے ۔ (پ: 23، یٰس: 65)
معلوم
ہوا کہ بندہ اپنے جن اعضاء سے گناہ کرتا ہے وہی اعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی
دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان کریں گے۔
جیسا
کہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے کہ بندہ
کہےگا : اے میرے رب ! میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا ، میں
نے نماز پڑھی ، روزہ رکھا اور صدقہ دیا ، وہ بندہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں
بیان کرےگا اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ابھی پتہ چل جائےگا پھر اس سے کہا جائےگا
: ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتیں ہیں ۔ وہ بندہ اپنے دل میں سوچےگا : میرے
خلاف کون گواہی دےگا ؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران ، اور
اس کے گوشت اور اس کے ہڈیوں سے کہا جائے گا : تم بولو ۔ پھر اس کی ران ، اس کا
گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لیے کیا جائے گا کہ خود
اس کی ذات اس کے خلاف حجت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض
ہوگا ۔ ( صراط الجنان ج 8 ص۔273- 274 )
پیارے
اسلامی بھائیو! فی زمانہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جن میں نفاق کی کچھ علامات پائی
جاتی ہیں جیسے جھوٹ ،اور امانت میں خیانت کرنا وغیرہ جیسا کہ عبداللہ بن عمرو سے
روایت ہے کہتے ہیں : الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس میں
چار چیزیں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی خصلت ہو تو اس میں نفاق
کی خصلت ہے حتی کہ وہ اس کو چھوڑ دے :جب اس کو امانت دی جائے تو خیانت کرے ، اور
جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو توڑدے اور جب جھگڑا کرے تو گالی دے۔
( مشکاۃ المصابیح باب الکبائر و العلامات النفاق
)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو! غور کرنے کا مقام ہے کہ کل میدان حشر میں بندے کے منہ پر مہر
کر دی جائے گی اور ہمارے وہ اعضاء جن سے آج دنیا کو کمانے کےچکر میں طرح طرح کے
گناہوں کو ایجاد کیا زبان چلائی تو جھوٹ یا گالی نکلی آنکھ اٹھائی تو بد نگاہی کرلی
، ہاتھ اٹھایا تو کسی کا مال ناحق غصب کر لیا اور قدم اٹھایا تو گناہوں کو عام کردیا۔
ایک
جگہ اور اللہ پاک فرماتا ہے :﴿ یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ
وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴)﴾ ترجمۂ کنز الایمان : جس دن ان کے خلاف ان کے
زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے ۔ ( النور : 24
)
اللہ
پاک ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
پچھلے دنوں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی
کے تحت جامع مسجد لشکر دین حویلی لکھا ضلع
اوکاڑہ فیصل آباد میں اسپیشل پرسنز کے لئے
سنتوں بھرااجتماع منعقد کیا گیا جس میں اسپیشل پرسنز(گونگے
اور بہرے افراد) نے شرکت کی۔
فیصل
آباد دارالسنہ میں ماہانہ کارکردگی کےحوالے سے مدنی مشورے کا انعقاد
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ روحانی علاج کے تحت 11
دسمبر 2021ءکو فیصل آباد دارالسنہ میں ماہانہ
کارکردگی کےحوالے سے مدنی مشورے کا انعقاد
کیا گیا جس میں زون ذمہ دار بستہ ذمہ دار اور بستہ مشاورت اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔
ریجن ذمہ دار اسلامی بہن نے شعبے میں بہتری لانے کے حوالے سے ذہن سازی کی اور ماہانہ
کارکردگی میں اضافہ کرنے کے حوالے سے نکات بتائے۔ مزید ہفتہ وار رسالہ کارکردگی اور ہفتہ وار اجتما ع میں شرکت کرنے نیز مدنی مذاکرہ کارکردگی وقت پر سافٹ ویر میں انٹری کرنے کی ترغیب دلائی۔
محمد نعمت اللہ مصباحی(مدرس جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم مالیگاؤں،
ضلع ناسک مہاراشٹر)
قیامت
کا دن انتہائی سخت ہوگا، اس دن ہر ایک سے پوچھ گچھ ہوگی، سختی کا عالم یہ ہوگا کہ
مجرمین کے مونہوں پر مہر لگا دیا جائےگا، اور اعضا سے ان کے گناہوں پر گواہی لی
جائے گی۔
چنانچہ اللہ
رب العزت قرآن مجید، فرقان حمید میں فرماتا ہے : اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ
تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۶۵)
ترجمہ
کنزالعرفان :"آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام
کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے"۔(پ: 23، یٰس: 65)
اس
آیتِ کریمہ کے تحت "تفسیر روح البیان" میں حضرت علامہ شیخ اسماعیل حقی
رحمۃ اللہ تعالی علیہ ایک نکتہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "منہ پر مہر لگا
کر اعضا سے گواہی لینے میں اشارہ ہے کہ جو انسان کے گناہ میں معین و مددگار تھے اب
وہ بھی دشمن ہوکر اس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں تاکہ اسے معلوم ہوکہ سوائے ذاتِ خدا
کے کوئی بھی حامی و یار نہیں۔
انسان
پر لازم ہے کہ ماسوی اللہ کی طرف متوجہ نہ ہو اور سوائے ذات خدا کے کسی کو اپنا
دوست نہ بنائے تاکہ قیامت میں رسوائی نہ ہو"۔
(تفسیر روح البیان مترجم،ج12،پ23 ،ص103، رضوی
کتاب گھر دہلی)
سب سے پہلے کون سا عضو گواہی دےگا:
اس
کے تعلق سے متعدد روایات ہیں، بعض روایتوں کے مطابق سب سے پہلے زبان کو جبکہ بعض
روایتوں کے مطابق سب سے پہلے بائیں ران کو قوت گویائی حاصل ہوگی ۔
چنانچہ
"تفسیرِ نعیمی" میں ایک حدیث شریف کے حوالے سے منقول ہے کہ سب سے پہلے
زبان کو زبان ملے گی پھر داہنی ران پھر ہتھیلی بولیں گی۔(تفسیر نعیمی، ج18،پ18)
جبکہ
"تفسیرِ طبری" میں مذکورہ بالا آیت کریمہ (الیوم نختم
الخ) کے تحت اس حدیث شریف کو بیان کیا گیا ہے : عن عقبة بن عامر، أنه سمع النبي صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم يقول: " أوَّلُ شَيْءٍ يَتَكَلَّمُ مِنَ الإنْسانِ، يَوْمَ يَخْتِمُ اللهُ على
الأفْوَاهِ، فَخِذُهُ مِنْ رِجْلِهِ اليُسْرَى "
حضور
سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ انسانی اعضا میں سے سب سے پہلے
بائیں ران بولےگی جب انسان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔(تفسیر طبری، ج19 ،ص 474)
اعضا کا نیکیوں
کے متعلق گواہی دینا:
قیامت
کے دن جس طرح نافرمانوں کے اعضا ان کے گناہوں پر گواہی دیں گے اسی طرح فرماں
برداروں اور عبادت گذاروں کے اعضا بھی ان کی نیکیوں پر گواہی پیش کریں گے۔
چنانچہ
حدیث شریف میں ہے : حضرت یسیرہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم سے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :کہ تم تسبیح و تہلیل اور تقدیس کو لازم کرلو اور (انگلیوں کے) پوروں سے ان کا شمار کیا کرو کیونکہ ان سے سوال
کیا جائے گا اور ان سے کلام طلب کیا جائے گا اور تم (ان کو پڑھنے سے) غافل نہ ہونا
اور اللہ کی رحمت کو بھول نہ جانا ۔
(سنن
الترمذی رقم الحدیث 3853)
مشہور
مفسر قرآن ، حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں :" نمازی کے چہرے کی بشاشت، حسن، وجاہت، ظاہر کی رونق، باطن کی خوشیاں، یہ
بھی زبان حال کی گواہیاں ہیں۔ ہر اچھے برے کام کی گواہی آنکھوں سے مل جاتی ہے۔ اسی
طرح بروزِ قیامتِ کُبریٰ زبانوں سے تلاوت کی، جسموں سے عبادت کی، ہاتھوں سے اعمال
نامے کی اور دنیا میں کتبِ آیات و روایات پکڑنے، کھولنے کی، پاؤں سے سجدہ وکعبہ
محراب انوار، روضہ سرکار کی طرف چلنے کی گواہی ملتی ہے، یادِ نبی اور عشقِ الٰہی
کہ گواہی عاشقِ صادق کے آنسوں سے ملتی ہے۔ لغزش گناہ سے توبہ کی گواہی، ندامت کے
قطروں سے ملتی ہے۔ اچھے برے کانوں کی گواہی ان کی اچھی بری سماعت سے ملتی ہے۔ ذکر
و وظائف، آیات کی تلاوت یہ اچھے کانوں کی گواہی ہے ۔ ( تفسیرِ نعیمی، ج18،پ 18 ۔ص
506)
ماحصل
یہ کہ قیامت کے دن ہمارے اعضا، نیکیوں اور گناہوں پر گواہی دیں گے، لہٰذا ہمیں ان
کو طاعات وعبادات پر لگائے رکھنا چاہئے تاکہ بروز قیامت ہمارے نیک اعمال پر گواہی
پیش کریں ۔
شعبہ
تعلیم(اسلامی بہنیں) کے تحت پاکستان بھر میں ہونے والے دینی کاموں کی کارگررگی
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ تعلیم(اسلامی
بہنیں)
کے تحت نومبر 2021ء کو پاکستان بھر میں ہونے والے دینی کاموں کی کارگررگی درج ذیل
ہیں :
کل
منسلک اداروں کی تعداد: 1 ہزار49
اداروں
میں ہونے والے درس اجتماعات کی تعداد: 625
اس
ماہ دینی ماحول سے منسلک ہونے و الی طالبات کی تعداد :348
منسلک
شخصیات خواتین کی تعداد: 4 ہزار 270
ہفتہ
وا ر سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے والی شخصیات خواتین کی تعداد: 1
ہزار 265
تقسیم
کی گئی کتب کی تعداد: 505
تقسیم
کئے گئے رسائل کی تعداد: 4 ہزار 429
مدرسۃ
المدینہ آن لائن میں داخلہ لینے والی اسلامی بہنوں کی تعداد: 42
وصول
ہونے والے نیک اعمال کے رسائل کی تعداد: 789
محمد شاہد مہتاب عطاری بن محمد فضل الرحمان عطاری(درجہ
دورۃ الحدیث شریف جامعۃ المدینہ فیضان
عطار ناگپور)
جسم
اللہ پاک کی امانت ہے، ہر بندے کو چاہیے کہ اسکا درست اور صحیح استعمال کرے اور جو
اس کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے، یہ کل قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ ہوگا اور یوں
ہی جو اس کے حقوق کی پامالی کرتا ہے، اس کے خلاف بھی گواہ ہوگا؛ اسی لیے ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنے اعضا کا صحیح استعمال کریں، ورنہ یہ بہت بڑے نقصان کا باعث ہوگا۔
چنانچہ
اعضا کے گواہی کے متعلق ارشاد رب العباد ہے :
اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ
تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۶۵)
ترجمہ
کنزالایمان:آج ہم ان کے مونہوں پر مُہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے
اور ان کے پاؤں ان کے کیے کی گواہی دیں گے (پ 22، یٰسٓ 65)
اس
آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ قیامت کے دن کفار سے اُس وقت جب جہنم
بھڑکتی ہوئی، شعلے مارتی ہوئی، چیختی ہوئی سامنے ہو گی کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم
ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے اور ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے
تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو۔
قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین
اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو
بند کر دے گا اور ان کے اعضا ان کے اعمال کی گواہی دینا شروع کر دیں گے۔ (ابن کثیر
جلد 5 صفحہ 320،321)
اور
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر
ارشاد فرمایا : تم جانتے ہو میں کیوں مسکرایا؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول
بہتر جانتے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا جب بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے مخاطب ہو گا تو کہے گا اے میرے رب
کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ رب تعالی فرمائے گا کیوں نہیں، بندہ عرض کرے
گا میں تو اس وقت مانوں گا جب مجھ ہی میں سے کوئی گواہ ہو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے
گا تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے اور اعمال نامہ لکھنے والے معزز فرشتے حاضر
ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس اس کے منہ پر مہر
کر دی جائے گی اور اس کے اعضا سے کہا جائے گا بولو چنانچہ ہر عضو اس کے اعمال کی
خبر دے گا، اس کے منہ سے مہر ہٹائی جائے گی تو وہ اپنے اعضا سے کہے گا تمارے لیے
دوری اور بربادی ہو میں تمہاری طرف سے ہی تو دفاع کرتا تھا ۔
(صحیح
مسلم، كتاب: الزهد والرقائق ،باب: الدنیا سجن المومن وجنت الکافر ،صفحہ 1588 ،حدیث
2969)
اس
کے علاوہ سنن نسائی کی ایک حدیث میں ہے کہ تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ
زبان بند ہو گی، سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہو گا۔
(نسائی
فی السنن الکبرٰی حدیث:11469)
ان
باتوں سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے اعضا کو گناہوں سے بچانا چاہیے، اور نیکیوں میں
لگائے رکھنا چاہیے؛ تاکہ یہ کل قیامت میں
ہمارے خلاف نہ ہوں؛ بلکہ ہمارے حق میں گواہ ثابت ہو۔
Dawateislami