اخلاص کا معنی:عمل صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، کسی ریاکاری دکھاوے یا دنیاوی فائدے کے لیے نہیں۔

(1)إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوىالخ ترجمہ :اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی۔(صحیح بخاری ،کتاب بدء الوحی ،حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، کتاب الامارة ،حدیث نمبر 1907)

اللہ نیت کو دیکھتا ہے شکل و مال کو نہیں: إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُم بیشک اللہ تمہارے جسموں اور شکلوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔( صحیح مسلم حدیث نمبر 2564 ،کتاب البر و الصلۃ و الآداب باب تحريم ظلم المسلم)

دکھاوے والے اعمال قاری، سخی ،مجاہد کا واقعہ:قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا حساب ہوگا ان میں قاری شہید اور سخی ہوں گے جنہوں نے اللہ کی رضا کے بجائے شہرت کے لیے عمل کیا ان کے اعمال قبول نہیں کیے جائیں گے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر 1905 ،کتاب الامارة باب من قاتل للرياء والسمعة استحق النار،جامع ترمذی حدیث نمبر 2382)

اخلاص کی نشانیاں:(1) تعریف یا تنقید سے بے پروا ہونا۔ (2) عمل کو چھپانا (3) شہرت سے بچنا

اخلاص کیسے پیدا کریں:(1) نیت کو درست کریں۔ (2) شہرت سے بچیں۔ (3) عمل سے پہلے اور بعد میں دل کا جائزہ لیں کہ کس کے لیے کر رہے ہیں۔

یا اللہ ہمیں ہر عمل خالص اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرما آمین


انسان کی اصل قدر اس کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کے باطن سے پہچانی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اخلاص کے بغیر عبادت ایک بے جان جسم کی مانند ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک احادیث میں بار بار اخلاص کی طرف توجہ دلائی تاکہ مسلمان اپنے اعمال کو دنیاوی دکھاوے سے پاک رکھیں۔ جو شخص اللہ کے لیے عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عمل میں برکت عطا فرماتا ہے۔

(1) نیت کی بنیاد پر جزا:حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ۔

ترجمہ:امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ بن وقاص سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا مدار نیت پر ہی ہے، اور آدمی کے لیے وہی (اجر) ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی۔“(صحيح مسلم،كتاب الامارة،حدیث: 4927)

(2) سب سے پہلے نیت کا حساب:حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ: أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا، قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا، قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا، قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ ۔ترجمہ :خالد بن حارث نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یونس بن یوسف نے سلیمان بن یسار سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: (جمگھٹے کے بعد) لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو اہل شام میں سے ناتل (بن قیس جزامی رئیس اہل شام) نے ان سے کہا: شیخ! مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا، وہ ہو گا جسے شہید کر دیا گیا۔ اسے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی (عطا کردہ) نعمت کی پہچان کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے: یہ (شخص) جری ہے۔ اور یہی کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا، پڑھایا اور قرآن کی قراءت کی، اسے پیش کیا جائے گا۔ (اللہ تعالیٰ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان کر لے گا، وہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی، (اللہ) فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے (یہ) عالم ہے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے: یہ قاری ہے، وہ کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا: میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ بولا ہے، تم نے (یہ سب) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے، وہ سخی ہے، ایسا ہی کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“ (صحيح مسلم،كتاب الامارة،حدیث: 4923)

(3) اخلاص اللہ کے لیے:حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

ترجمہ:ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ (صحيح البخاری،كتاب الصوم،حدیث: 1901)

(4)اللہ دلوں کو دیکھتا ہے:حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَعْمَالِكُمْ .

ترجمہ:یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔“(صحيح مسلم،كتاب البر والصلۃ والآداب،حدیث: 6543)

اخلاص وہ قیمتی دولت ہے جو ہر مومن کو اپنے دل میں سنبھال کر رکھنی چاہیے۔ یہی اخلاص انسان کو اللہ کے قرب تک پہنچاتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادات قبول ہوں تو ہمیں دِکھاوے، شہرت اور ریاکاری سے بچنا ہوگا۔ سچا مومن وہی ہے جو تنہائی اور مجمع دونوں میں اللہ سے حیا کرے۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خالص نیت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے ۔

(1)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے ذہن کو خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا۔(الترغیب والترہیب ٫جلد ٫1 صفحہ نمبر 31 ٫حدیث نمبر 4 ٫کتاب الایمان)

(2)حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل سے فرمایا اخلاص کے ساتھ عمل کرو اخلاص کے ساتھ تھوڑا سا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔( کتاب فرض علوم سیکھئے باب منجیات (نجات دینے والی چیزوں) کا بیان)

(3)تاجدارِ مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :بروز قیامت کچھ مہر بند صحیفے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کیے جائیں گے تو اللہ عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو فرشتے عرض کریں گے یارب عزوجل تیری عزت کی قسم ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں اللہ عزوجل جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا یہ اعمال میرے غیر کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کے لیے کیۓ گئے تھے۔( کتاب فیضان ریاض الصالحین٫ جلد نمبر 1 ٫صفحہ نمبر٫28 باب اخلاص اور نیت کا بیان ٫مکتبۃ المدینہ)

(4)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ نماز قائم کرتا ہو وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے۔( الترغیب والترہیب ٫جلد ٫1 صفحہ نمبر ٫31 حدیث نمبر ٫2 کتاب الایمان ٫حدیث نمبر 5)

ابو فراس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص ۔دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جو چاہو مجھ سے دریافت کر سکتے ہو ایک شخص نے بلند آواز سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلا م سے کیا مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان سے کیا مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص اس نے عرض کیا یقین سے کیا مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تصدیق۔( الترغیب والترہیب ٫جلد ٫1 صفحہ نمبر ٫31 حدیث نمبر ٫3 کتاب الایمان)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔


ہر نیک عمل میں اخلاص بنیادی حیثیت رکھتا ہے، چاہے وہ دینی عبادات ہوں (جیسے: نماز، روزہ، حج، صدقہ و خیرات وغیرہ) یا دنیاوی معاملات (جیسے: کسی کی مدد کرنا، حسنِ سلوک، تعلقات کا نبھانا وغیرہ)۔

اسی لیے نبی کریم ﷺ نے بارہا اخلاص کی تعلیم دی اور اس کی ترغیب دلائی۔ اس بارے میں کئی احادیثِ مبارکہ وارد ہوئی ہیں، جو اس کی اہمیت پر روشن دلیل ہیں۔

نیت کا درست ہونا:‏ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، جب تک نیت خالص نہ ہوگی، عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا، کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے۔

حدیثِ پاک میں ہے: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوٰى" ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر شخص کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، کتاب بدءالوحی ، صفحہ نمبر:191، حدیث نمبر: 1،مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں:نیت، ارادۂ عمل کو بھی کہتے ہیں اور اخلاص کو بھی، یعنی اللہ و رسول کو راضی کرنے کا ارادہ۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں یعنی اعمال کا ثواب اخلاص سے ہے، جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ اس صورت میں یہ حدیث اپنے عموم پر ہے کوئی عمل اخلاص کے بغیر ثواب کا باعث نہیں، خواہ عباداتِ محضہ ہوں جیسے: نماز، روزہ وغیرہ، یا عباداتِ غیر مقصودہ جیسے: وضو، غسل، کپڑا، جگہ، بدن کا پاک کرنا وغیرہ کہ ان پر ثواب اخلاص سے ہی ملے گا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اخلاص اور نیتِ خیر ایسی نعمتیں ہیں کہ ان کے بغیر عبادات محض عادتیں بن جاتی ہیں، اور ان کی برکت سے کفر شکر بن جاتا ہے، اور گناہ و معصیت اطاعت۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد: 1،صفحہ نمبر 40، حدیث نمبر: 1 ، مطبوعہ: قادری پبلشرز لاہور)

خالص عمل کی فضیلت :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ: اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اُس کے لیے ہو اور صرف اُس کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔(سنن النسائی، کتاب الجہاد، باب الاستنصار بالضعیف، صفحہ : 747،حدیث:3140، مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)

محترم قارئین! اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ صرف وہی عمل قابلِ قبول ہے جو اخلاص کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے۔اللہ اخلاص کو دیکھتا ہےحدیثِ پاک میں ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلٰكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"ترجمہ: بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 1987، حدیث: 2564، دار احیاء التراث العربی)

محترم قارئین! اس حدیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے دل اور نیت کو دیکھتا ہے، اور اخلاص ہی بندے کے عمل کی اصل روح ہے۔

عمل میں اخلاص پیدا کرو:حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رَحمۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: "جسے یہ معلوم ہے کہ اس کے اعمال قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، اور انہی اعمال کے مطابق اسے جزا دی جائے گی، تو اُسے چاہیے کہ اپنے کام درست کرنے کی کوشش کرے، اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرے، اور جو گناہ اس سے ہو چکے ہیں، اُن سے لازمی توبہ کر لے۔"(روح البیان، سورۃ القمر، تحت الآیۃ: 53، مخلصاً)

اخلاص کے ساتھ عبادت:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےرسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "جس نے لیلۃُ القدر کی رات ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کر کے عبادت کی، تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب قیام لیلۃ القدر من الإیمان، صفحہ نمبر:201، حدیث: 35،مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)

دعا میں اخلاص :حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےسرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے فرماتا ہے۔" (سنن النسائی، کتاب الجہاد، باب الاستنصار بالضعیف، صفحہ : 756،حدیث:3178، مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)

دین میں اخلاص :حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی: ’’یا رسولَ اللہ! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔‘‘رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے دین میں اخلاص رکھو، تمہارا تھوڑا عمل بھی کافی ہو جائے گا۔‘‘ (المستدرک، کتاب الرقاق، جلد 5 صفحہ 435، الحدیث: 7916 ،مطبوعہ: دار احیاء التراث العربی)

محترم قارئین! مذکورہ روایت سے اخلاص کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی، بلکہ دین میں اخلاص کا حکم دیا گیا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر عبادت اخلاص کے ساتھ بجا لائیں، کیونکہ یہی اعمال کی اصل روح ہے۔

فوائد ونقصان:محترم قارئین! اخلاص ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر بندے کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ جب بندے سے اخلاص رخصت ہو جاتا ہے تو ایمان کی روحانیت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسا شخص اگر کسی کی مدد بھی کرے تو لوگ اس سے محبت نہیں کرتے، بلکہ اُسے مطلبی کہا جاتا ہے۔ یوں وہ ظاہری طور پر نیکی کے کام تو کرتا ہے، مگر باطنی طور پر نقصان اٹھاتا ہے۔لیکن اگر اخلاص دل میں آ جائے تو وہی اعمال بے شمار فوائد اور ثمرات کا ذریعہ بن جاتے ہیں:

(1)اخلاص اعمال کی قبولیت کا سب سے عظیم سبب ہے، بشرطیکہ اس میں نبی کریم ﷺ کی اتباع بھی شامل ہو۔ (2) اخلاص کی وجہ سے بندے کو اللہ پاک اور فرشتوں کی محبت حاصل ہوتی ہے، اور زمین والوں کے دلوں میں اس کی مقبولیت لکھ دی جاتی ہے۔ (3)اخلاص، تھوڑے عمل یا معمولی دعا پر بھی زیادہ اجر اور عظیم ثواب عطا کرواتا ہے۔ (4)مخلص کا ہر وہ عمل جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو، وہ عمل مباح ہی کیوں نہ ہو، لکھا جاتا ہے۔ (5)مخلص اگر سو جائے یا بھول جائے تو بھی وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ معمول کے مطابق کرتا تھا۔ (6) اگر مخلص بندہ بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو تو اخلاص کی وجہ سے اس کے وہی اعمال لکھے جاتے ہیں جو وہ صحت و اقامت میں کرتا تھا۔ (7) اخلاص آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔(8) دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات بھی اخلاص کے ثمرات میں شامل ہے۔ (9)اخلاص کے سبب آخرت میں درجات بلند ہوتے ہیں۔(10) خاتمہ اچھا نصیب ہوتا ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


انسانی اعمال کی اصل روح اخلاص ہے۔ اخلاص کے بغیر نہ عبادت میں جان باقی رہتی ہے اور نہ ہی عمل میں قبولیت کی ‏ضمانت۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ہر قول و فعل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ دکھاوے، شہرت یا دنیاوی ‏فائدے کے لیے۔ یہی وہ صفت ہے جو معمولی عمل کو عظیم بنا دیتی ہے اور بڑے سے بڑا عمل بھی اگر اخلاص سے خالی ہو تو بے ‏وزن ہو جاتا ہے دینِ اسلام میں اخلاص کو بنیاد قرار دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے ظاہری شکل و صورت ‏کو نہیں ، اسی لیے ایک مومن کی کامیابی کا راز اس کے اخلاص میں پوشیدہ ہے اور یہی اخلاص انسان کو اللہ کے قریب اور اس ‏کے اعمال کو بارگاہِ الٰہی میں مقبول بناتا ہے، اخلاص کی اہمیت و فوائد کے متعلق 5 احادیث پڑھیے:

(1) دین میں مخلص ہو جاؤ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہُ عنہ نے یمن کی طرف ‏ جاتے وقت عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے کچھ نصیحت فرمائیے تو نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ‏ارشاد فرمایا کہ اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا۔‏(دیکھیے:مستدرک، 5/435، حدیث: 7914)

(2) اخلاص کے سبب امت کی مدد: حضرت مصعب بن سعد رضی اللہُ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ‏ہے۔ ‏(نسائی، ص518، حدیث: 3175)

(3) مخلصین کی وجہ سے آزمائش دور ہوتی ہے: حضرت ثوبان رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مخلصین کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں‏انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے۔‏(جنت میں لے جانے والے اعمال،ص 708)‏

(4) اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اعمال مقبول: نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ میں شریک سے پاک ہوں لہٰذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لیے ‏ہے۔ اے لوگو! اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اعمال ہی کو قبول ‏فرماتا ہے۔ ‏(مجمع الزوائد، 10/379، حدیث: 17653)

(5) دنیا ملعون ہے: حضرت ابو درداء رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ‏کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے سوائے اس چیز کے جس کے ذریعے اللہ پاک کی رضا چاہی جائے۔‏( جنت میں لے جانے والے اعمال،ص 708)‏

پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے۔ دکھاوے ،ریا اور شہرت کی ‏خواہش سے اپنے دل کو پاک کرے کیونکہ اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر اعمال کی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ‏ہمیں سچی نیت، خالص عمل اور دائمی اخلاص نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


تحریر: مولانا ابو مبین محمد امین  عطاری مدنی

(اسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ) فیصل آباد)

عربی لغت قرآنِ کریم،علومِ قرآن،علمِ حدیث ،علمِ عقائد، علمِ فقہ ،علمِ منطق ،علمِ میراث اوردیگر علومِ اسلامیہ کو سمجھنے کا بنیادی ذریعہ ہے، جس سے علمائے کرام ،اساتذۂ کرام ،طلبائے کرام یکساں طور پر فیض یاب ہو سکتے ہیں اور علومِ اسلامیہ کی درست معلومات کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب عربی لغت دیکھنے اور سمجھنے میں پختگی حاصل ہو۔اس لیے علما و طلبا پر لازم ہے کہ وہ علمِ لغت سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے عربی لغت کے مختلف پہلوؤں کی معرفت اور اس کے اصول و ضوابط سے واقفیت حاصل کرنے میں وقت صَرف کریں۔اسی مقصد کے لیے تقریباً ہر دور میں بزرگانِ دین کی ایک جماعت فَعّال رہی ہے اس لیے عربی لغت کے الفاظ و معانی کی وضاحت کے لیے اہلِ لغات نے مختلف ادوار میں بڑی بڑی لغات مرتب کی ہیں۔ اُن میں سے القاموس المحیط کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ القاموس المحیط کتاب اپنی جامعیت، اختصار، مواد کی وسعت اور نادر لغوی فوائد کی بنا پر صدیوں سے علما ، محدثین، مفسرین، فقہا ،اُدَبا، اساتذہ اور طلبائے کرام کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ متعدد اہلِ علم نے اس سے فائدہ حاصل کیا اور اس پر شرحیں اور تعلیقات تحریر کی ہیں۔ ذیل میں القاموس المحیط لغت کے مصنف کا نام، القاموس المحیط کا امتیاز ، القاموس المحیط کی خصوصیات ، القاموس المحیط کی مشہور شروحات اور القاموس المحیط سے معانی دیکھنے کا طریقہ پیشِ خدمت ہے۔

مصنف کا نام

مشہور ماہرِ لغت” ابو طاہر مجد الدین محمد بن یعقوب فیروزآبادی (المتوفى: ۸۱۶ھ) “ہے۔

(مجد الدين ابو طاہر محمد بن يعقوب فیروزآبادى (المتوفى: 816ھ)،القاموس المحیط(بیروت:دار الکتاب العربی 2018،صفحہ:5)

القاموس المحیط کا امتیاز

القاموس المحیط اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت اہم اور معتبر کتاب ہے،اس کی علمی افادیت اور مواد کی وسعت اسے دیگر عربی لغات سے ممتاز کرتی ہے۔

القاموس المحیط کی خصوصیات

(1): القاموس المحیط کی نمایاں خصوصیت اس کے مواد کی وسعت ہے کیونکہ اس میں ” اَلْعُبَاب “اور” اَلْمُحْكَم “جیسی لغت کی کتابوں کا نچوڑ جمع کر دیا گیا ہے۔

(2): القاموس المحیط میں ایسی معلومات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جن کی ہر لغت دان اور ادیب کو ضرورت پیش آتی ہے۔ جیسا کہ صاحبِ القاموس المحیط نے مقدمے میں خود فرمایا: سَمَّيْتُهُ الْقَامُوْسَ الْمُحِيْطَ لِاَنَّهُ الْبَحْرُ الْاَعْظَمُ یعنی میں نے اس کتاب کا نام” القاموس المحیط “ رکھا کیونکہ یہ اپنے موضوع میں ایک عظیم اور بے کنار سمندر کی حیثیت رکھتی ہے۔

(مجد الدين ابو طاہر محمد بن يعقوب فیروزآبادى (المتوفى: 816ھ)،القاموس المحیط(بیروت:دار الکتاب العربی 2018،صفحہ:6)

(3): حرفِ علت واو اور یا کے ابواب کو الگ الگ واضح کیا گیا ہے۔

(4): اُن الفاظ کو حذف کر دیا جن کے معانی کا تکرار بہت زیادہ تھا۔

(5): جن مقامات میں تفصیل کی ضرورت نہ تھی وہاں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔

(6):اصطلاحات کے لیے رموز استعمال کیےگئے ہیں، مثلاً: موضع(جگہ،مقام) کے لیے ”ع“۔بلد (شہر) کے لیے ”د“۔قریۃ(گاؤں،دیہات) کے لیے ”ۃ“۔جمع کا صیغہ بتانے کے لیے ”ج“ اور معروف کا صیغہ بتانے کے لیے ”م“۔

القاموس المحیط پر لکھی گئی شروحات

القاموس المحیط میں جمع کیا گیا لغوی سرمایہ نہایت قیمتی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے اہلِ ادب اور ماہرینِ لغت نے اس پر شرحیں اور تعلیقات لکھیں۔ ان میں سے 3 کے نام یہ ہیں:

(1): سید محمد مرتضیٰ الحسینی الزبیدی، جنہوں نے اس کی مشہور شرح ”تاج العروس من جواهر القاموس “تصنیف کی۔

(2): احمد فارس الشدیاق، جنہوں نے ”الجاسوس على القاموس“ کے نام سے کتاب لکھی۔

(3): احمد تیمور، جنہوں نے ” تصحيح القاموس “کے نام سے کتاب لکھی۔

القاموس المحیط لغت سے معانی دیکھنے کا طریقہ

مشہور ماہرِ لغت ابو طاہر مجد الدین محمد بن یعقوب فیروزآبادی نے القاموس المحیط کی ترتیب کسی بھی صیغےکے آخری حرف یعنی نَصَرَ کے را کو مَدِّنظر رکھتے ہوئے فصل اور باب کے اعتبار سے تصنیف کی ہے۔

یاد رکھیں!

(1): مطلوبہ صیغے کے اصلی حروف ( ف ،ع ،لام کلمہ) یعنی مادۂ اشتقاق معلوم کریں۔

(2):صیغے کو آخری حرف کے اعتبار سے باب میں تلاش کریں۔

(3): پھر پہلے حرف کے مطابق فصل میں جائیں۔

مثال:صیغہ ” مَكْتَبَةٌ “کا مادۂ اشتقاق ك ت ب ہے۔ چونکہ آخری حرف ب ہے، اس لیے باب الباء میں جائیں، پھر فصل الكاف میں كَتَبَ کے تحت اس کا معنیٰ تلاش کریں۔

(4):متعلقہ مادۂ اشتقاق کے تحت صیغے کے معانی، جمع، مصدر اور دیگر استعمالات دیکھیں۔

تاریخ:2026/06/21


27 جون 2026ء بمطابق 12 محرم الحرام 1448ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار مدنی مذاکرہ منعقد ہوا جس میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد نے براہِ راست اور مدنی چینل کے ذریعے شرکت کی اور امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے مدنی پھولوں سے مستفیض ہونے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس دوران شرکا نے مختلف سوالات کیے جن کے جواب میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اپنی علمی و روحانی بصیرت سے رہنمائی کی جس پر عاشقانِ رسول نے دین کی عملی تعلیمات کو سمجھنے اور اُن پر عمل پیرا ہونے کی نیتیں کیں۔

دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا مقصد عشقِ مصطفیٰ کی ترویج اور سنتِ رسول کو زندہ کرنا ہے جس میں ہر عمر کے عاشقانِ رسول بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عوام تک پہنچایا جا سکے۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال وجواب

سوال:زلزلہ آنے کی صورت میں کیا احتیاط کی جائے ؟

جواب:زلزلہ آئےتو فوراً کسی میدان میں چلے جائیں،عمارت کے اندریا قریب میں نہ رہیں ،اس میں بچنے کی زیادہ صورتیں ہیں، زلزلے کا اصل سبب لوگوں کے گناہ ہیں، زلزلہ آئے تو اِستغفارکریں (اَسْتَغْفِرُاللہ پڑھیں)۔گھرکی دیوارپریَاظَاہِرُلکھ کر لگا دیں تو وہ گرنے سے بچی رہے گی (زلزلے سے حفاظت کے علاوہ اور بھی اس کے فوائد ہیں)۔

سوال:سفرِمدینہ کے لیےکوئی وظیفہ بتادیں ؟

جواب:دُرودشریف پڑھتے رہیں،ان شاء اللہ الکریم سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا کرم ہوگا۔ جب بُلایا آقا نے خود ہی اِنتظام ہو گئے ۔

سوال:حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو جنّتیوں کا سردارکیوں کہتے ہیں ؟

جواب:تمام اَنبیا کے سردار حضرت محمد مصطفےٰصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے :”اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَاشَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ“یعنی حَسن اور حُسین جنّتی جوانوں کے سردار ہیں۔ (ترمذی ، 5 / 426 ، حدیث : 3793) جنّت میں کوئی بھی بوڑھا نہیں ہوگا بلکہ سب بوڑھے اور بچّے جنّت میں 30 سال کے جوان ہوں گے۔( ترمذی ، 4 / 254 ، حدیث : 2571)

حسنین ِکریمین (حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما) جوانی میں فوت ہونے والے اہلِ جنت کے سردار ہیں ورنہ جنت میں تو سبھی جوان ہوں گے۔ (مراٰۃ المناجیح ، 8 / 475ملخصاً)

سوال:جوانی کی عمرکتنی ہے ؟

جواب:جوانی کی عمر ہجری سن(اسلامی سال) کے حساب سے 18 سے 30 سال تک ہے ۔اس کے بعد اُدھیڑ عمر شروع ہوجاتی ہے۔

سوال:گھرسے نکلتے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے ؟

جواب:گھرسے باہرنکلتے ہوئے بِسْمِ اللہ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ ایک مرتبہ اوریَا حَفِیْظُ یَا سَلامُ 11 مرتبہ پڑھ لیں، یہ اللہ پاک کے نام ہیں ،ان کے پڑھنے سے حفاظت وسلامتی حاصل ہوگی ۔مَیں یہ دعا بھی پڑھتا ہوں:اَللّٰهُمَّ سَلِّمْنِي وَسَلِّمْ مِنِّي یعنی اے اللہ مجھے سلامتی عطا فرمااورمیری طرف سے دوسروں کو خیرپہنچے ۔

سوال:کون سے جاندارغذاذخیرہ(یعنی جمع) کرتے ہیں ؟

جواب:انسان، چیونٹی اور چُوہا۔

سوال:چیونٹیوں کوبغیر کسی وجہ کے مارنا کیسا ؟

جواب:چیونٹیاں بھی اللہ پاک کی مخلوق ہیں جواللہ پاک کا ذِکر کرتی ہیں اِنہیں بِلاوجہ نہیں مارنا چاہیے۔ ہا ں! اگر کاٹتی ہوں تو اپنے سے ضرر دُور کرنے کے لیے انہیں مار سکتے ہیں ۔ اَلبتہ جہاں  مارنے کے بجائے ہٹانے سے کام چل سکتا ہو تو پھر انہیں نہ مارا جائے مثلاً اگر کپڑوں یا بدن وغیرہ  پر چڑھ گئیں تو کپڑے کو جھاڑنے یا پھونک مارنےکے ذریعے  بھی اِنہیں دُور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بہت ہی نازک ہوتی ہیں ،بعض لوگ انہیں  بڑی بے دردی کے ساتھ پکڑتے یابِلاوجہ جھاڑو وغیرہ سے ہٹاتے ہیں جس سے یہ فوراً مر جاتی ہیں یاپھرسخت زخمی ہو کر تڑپتی رہتی ہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

سوال:دعوتِ اسلامی کا بڑااجتماع پہلے کتنے دن کا ہواکرتاتھا ؟

جواب:دعوتِ اسلامی کے شروع میں 2 دن کااجتماع ککری گراؤنڈ،لی مارکیٹ کراچی میں بڑا اجتماع ہواتھا،اس کے بعد بھی ہوا،کورنگی(کراچی) میں بھی ہوا،پھر ملتان منتقل ہوگیا ۔اجتماعات میں کھانے کے اسٹال لگائے جاتے تھے، اسلامی بھائی خریدکر کھاناکھاتے تھے، مَیں مختلف علاقوں کے اسلامی بھائیوں کے کیمپوں میں جاتااوراسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کرتا تھا،اجتماع کے بعد مختلف علاقوں اور شہروں سے آنے والے قافلے واپس چلے جاتے تو ان کے نگران وذمہ داران کو مکتوب(Letter)بھیجتاتھا کہ ساتھ آنے والے اسلامی بھائیوں کوبھول نہ جائیں بلکہ رابطے میں رہیں، اجتماع میں شرکت پر ان کا شکریہ اداکریں،مسلسل رابطہ رکھیں حتی کہ وہ دعوتِ اسلامی کے دینی کام کرنے والے بن جائیں ۔مَیں نے بہت خط(Letter) لکھے ہیں ،جومکتوبات کی کتاب(مکتوباتِ عطار) شائع ہوئی ہے وہ تو اس کا عُشْرِ‌ عَشِیر یعنی سَواں حصہ ہے ۔

سوال:بڑے اجتماع کی تیاری کے لیے آپ کا دعوت دینے کا کیا اندازہوتا تھا ؟

جواب:دعوتِ اسلامی کے شروع میں 2دن کے اجتماع کی دعوت کے لیے ایک دوماہ پہلےکراچی سے قافلے کاآغازکرتے تھے پہلا اسٹاپ حیدرآباد ہوتا تھا پھر سفرکرتے کرتے پشاورتک جاتے تھے ۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ”شانِ صحابہ و اہلِ بیت“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یااللہ پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہشانِ صحابہ و اہلِ بیتپڑھ یا سُن لے اس کو صحابہ و اہلِ بیت کے فیضان سے مالا مال کر اور اس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آیا ہے اور تنہا ہی دنیا سے رخصت ہو گا، لیکن اس دنیا میں اسے بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے بعض اوقات ہمیں تکلیف اٹھانی پڑ جاتی ہے اور کبھی ہم کسی کی تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں، ہماری اس طرف توجہ رہنی چاہیے کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور اگر کبھی کسی کو تکلیف پہنچ جائے تو معافی میں دیر نہیں کرنی چاہیے، ہر مسلمان کو جان بوجھ کر تکلیف دینا بہت برا اور گناہ کا کام ہے مگر جب تکلیف ایسے کو دی جائے جو پہلے سے ہی غم میں مبتلا ہو تو اس گناہ کی ہولناکی مزید بڑھ جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں دیکھا جاتا ہے کہ غریب کو غریبی کا طعنہ دے کر اسکی عزت کو مجروح کیا جاتا ہے۔ جوان عورت کے شوہرکے فوت ہونے کے بعد اس عورت کے کردار کے متعلق مختلف طرح کی چہ مگوئیاں کی جاتی ہیں۔ اگر جوان لڑکی کی موت ہو جائے تو اسکی موت کے سبب کے متعلق بے بنیاد اور خود ساختہ کہانیاں بنا بنا کر اڑائی جاتی ہیں، یوں پہلے سے پریشان و غمگین والدین کی زندگی طرح طرح کی باتیں اڑاکر مزید اجیرن کر دی جاتی ہے۔

اسی طرح جب کسی کی غربت وناداری کو دیکھ کر اسکی مدد کی جاتی ہے تو سوشل میڈیا پر ڈال کر یا ہر دو چار لوگوں کی موجودگی میں اس پر احسان جتایا جاتا ہے عمر بھر اسے نظریں جھکا کر رکھنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ بلا وجہ ٹیڑھی نظروں سے یا گھور کر دیکھنے سے مسلمان کو پریشان کر دیا جاتا ہے۔

یوں مختلف جہتوں سے لوگ تکلیف زدہ کی تکلیف میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک چھڑک رہے ہیں۔

مسلمانوں کو پریشان کرنا انہیں تکلیف دینا ویسے ہی برا ہے مگر جب پہلے سے ہی مصیبت میں مبتلا فرد کو پریشان کیا جائے تو یہ اور بھی قبیح ہو گا۔ بعض اوقات مریض بیچارہ جو پہلے ہی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے بعض آداب سے نا آشنا لوگ اس قدر مریض کو زچ کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

مشہور چٹکلہ ہے کہ ایک بار مریض کی عیادت کیلیے کوئی شخص آیا کافی دیر بیٹھا رہا جو مریض پر ناگوار تھا، کسی کے جانے پر اس نے کہا کہ دروازہ بند کر دوں؟ مریض نے کہا کہ ہاں مگر کنڈی باہر سے لگانا۔

یونہی اگر گھر میں فنکشن وغیرہ ہو تو ڈھول اور گانے بجا بجا کر ہمسایوں کو بلکہ پورے محلے کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے گھروں میں بچے بوڑھے اور مریض ہوتے ہیں جنہیں سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک تو یہ کام بنفسہ شرعاً ناجائز اور دوسرا عوام کو تنگ کر کے مزید غضب الٰہی کو دعوت دی جاتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کیلیے آسانیاں پیدا کریں نہ کہ دوسروں کیلیے پریشانی کا باعث بنیں۔

اسلام میں کسی کی تکلیف کم کرنے یا تکلیف دور کرنے یا کم ازکم پریشان حال مسلمان کی صرف دل جوئی کرنے کا بھی اجر عظیم ہے۔

اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا کہ جس نے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (معجم اوسط، 2/387، حدیث: 3607)

اور یاد رکھیے کہ اللہ اور اسکے رسول کو ایذا دینے والوں کا انجام دردناک ہے، وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب:58) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔

پیارے آقا ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: میں تمہیں اچھے بروں کی خبر نہ دوں؟ سب خاموش رہے تین بار یہ ہی استفسار فرمایا تو ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں، یارسول اللہ! ہمیں بروں بھلوں کی خبر دیجیے! فرمایا: تمہارا بھلا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید کی جائے اور اسکے شر سے امن ہو اور تمہارا برا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید نہ کی جائے اور اسکے شر سے امن نہ ہو۔ (ترمذی، 4/116، حدیث: 2270)

حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (مدارک، ص 950)

مندرجہ بالا تمام روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کیلیے کسی بھی قسم کی تکلیف کا سبب نہ بنیں۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

پہلے یہ جان لیں کہ مصیبت اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس کو وہی دور کرسکتا ہے لہذا مصیبت کے وقت ہمیں چاہیے اللہ کی طرف رجوع کریں اور اسی سے مدد مانگیں کسی پر پریشانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ واقعی برا آدمی ہے بلکہ اللہ کسی کو پریشانی میں مبتلا کرکے اس کے ساتھ بہتری کا معاملہ کرتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و برکت کا ارادہ کرتا ہے اسے مصائب وآلام میں مبتلا کردیتا ہے۔(1)

مصیبت زدہ کو پریشان مت کیجئے: کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر بدگمان ہونا، اس کا مذاق اڑانا اور لوگوں میں اس کی مصیبت کا ذکرکرکے اس کی عزت اچھالنا مصیبت زدہ کو مزید پریشان کرنا ایک اچھے مسلمان کی علامت نہیں ہے! ہمیں چاہیے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے مسلمان بھائی کا ساتھ دیں، اس کی پریشانی مصیبت اور تکلیف میں اس کی مدد کریں دکھیارے کا دکھ بانٹیں کہ یہ نہایت اجرو ثواب کاباعث ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ (2)

یہ حدیث اس قدر جامع ہے کہ اگر صرف اسی پر صحیح طریقے سے عمل پیرا ہوا جائے تو دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے اسلام ہمدردی و ایثار کا درس دیتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔

محمد بن عمر و بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا۔(3)

مسلمان کی پریشانی دورکیجئے: اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرے گا اللہ پاک قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دورفرمائے گا۔ (4)

قرض کے ذریعے مسلمانوں کی مدد: ضرورت مند مسلمان بھائی کی قرض کے ذریعےبھی مدد کی جا سکتی ہےچنانچہ اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: تین طرح کے مؤمنوں کو اجازت ہو گی کہ وہ جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہوجائیں اوران کاجنتی حور کے ساتھ نکاح کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک حاجت مند کو پوشیدہ قرض دینے والا بھی ہے۔(5)

دعا کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد: ہمیں چاہیے اپنے مسلمان بھائیوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ان کی مصیبت دور ہونے کی اپنے رب سے دعائیں کریں یہ بہت خوبصورت عمل ہے کہ اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا قبول ہوتی ہے، اس کے سر کے قریب ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرتا ہے تو مقرر کیا ہوا فرشتہ اس پر کہتا ہے: آمین، اور تمہیں بھی اسی کی طرح عطا ہو۔ (6)

امتِ محبوب کا یا رب بنا دے خیر خواہ

نفس کی خاطر کسی سے دل میں میرے ہو نہ بیر

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

حوالہ جات:

بخاری، 4/4، حدیث: 5645

ابو داود، 4/373، حدیث: 4946

ابن ماجہ، 2/269، حديث: 1601

4۔ مسلم، ص 1069، حدیث:678

5۔ مسند ابی یعلیٰ،2/196، حدیث: 1788 ملخصاً

مسلم، ص 1121، حدیث: 6929


بعض اوقات کوئی انسان کسی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جب ہم اسکی مزاج پرسی کرنے جاتے ہیں تو بلا ضرورت زیادہ تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں ہم زیادہ دیر بیٹھتے ہیں تو اسے کوئی نہ کوئی چیز ہمارے لئے مہمان ہونے کی صورت میں پیش کرنے کی ضرورت پیش آتی ہیں اور اسطرح ہم اسکی عیادت پوچھنے کے بجائے اسے پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔

مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا ترجمہ: شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے اس چیز (دکھ تکلیف) سے عافیت میں رکھا جس میں تجھے مبتلا کیا ہے اور بہت سی مخلوق پر مجھے نمایاں طور پر فضیلت دی۔

حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: بلا خواہ جسمانی ہو جیسے کوڑھ، اندھا پن یا اور کوئی بیماری، مالی جیسے قرض، فقر، تنگ رزق وغیرہ یا دینی کفر، فسق، ظلم، بدعت وغیرہ کہ ہر مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا آہستہ کہے کہ وہ مصیبت زدہ نہ سنے تا کہ اسے رنج نہ ہو۔ (مراۃ المناجیح، 2/247)

یہ دین اسلام ہمارا اتنا پیارا مذہب ہے جو ہمیں پیار، محبت، ہمدردی کا درس دیتا ہے ہمارا مذہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان جو کسی دکھ اور پریشانی میں مبتلا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اسکے دکھ، پریشانی کو دور کر سکے اگر اسے ہم دور نہیں کر سکتے تو اس کے لئے اللہ کے حضور میں پیش ہو کر دعا کرے کہ اے اللہ میری فلاں مسلمان بہن کی جو بھی پریشانی ہے اسے دور فرما دے اور میرے حق میں ان دعاؤں کو قبول فرما۔

زندگی ایک مومن کے لئے قید خانہ ہے ہمیں زندگی میں پریشانی اور مشکل میں قدم سے قدم ملا کر اس انسان کی مدد کرنی چاہیے جو پریشان ہیں جسے مدد کی ضرورت ہے جو یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی زندگی میں فرشتے کی صورت میں آکر اسکا مسئلہ حل کر دے۔

لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم یہ سب دعائیں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مانگیں وہی تو ہے جسکے سامنے جب بندہ سچے دل سے گڑ گڑا کر معافی مانگتا ہے وہ معاف کر دیتا ہے اور اپنے بندے کو اپنی رحمت میں ڈھانپ لیتا ہے۔ وہی ذات تو ہے جو اپنے بندے کو کئی آزمائش میں ڈال کر اسے قریب کرتی ہے۔ بعض وقت ایسی پریشانی ہوتی ہے کہ سارے راستے بند ہو جاتے ہیں سب اکیلا چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہ ذات جسکے قبضے میں میری جان ہے اسکی بارگاہ میں ایک سچی توبہ گناہوں کو دھو دیتی ہے۔ مشکلات آسان کر دیتی ہے اور ہر تکلیف ہر پریشانی سے باہر نکال دیتی ہے۔

جب دنیا والے طعنے دیتے ہیں دل دکھاتے ہیں اسوقت وہ رب کی ذات انسان کے دل میں حوصلہ دیتا ہے اسے گرتے ہوئے سنبھال لیتا ہے۔ اسکی کرم نوازی اپنے بندوں کو اپنے سائے میں پناہ دیتی ہے اور اسکی مدد کرتی ہے۔

ہمارا پیارا دین اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی کی بھی بیمار کی عیادت کو جائے یا کسی کے غم میں شریک ہو اسکی عیادت کرے تو وہاں مزاج پرسی کرنے کے بعد زیادہ دیر وہاں نہ رکے ہاں اگر میزبان کو برا لگ رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں بلکہ اگلے کے دل میں ہمت حوصلہ دیکر اور اسے دعائے خیر کرکے واپسی آنا بہتر ہے۔

میں اپنے موضوع کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک بات کہنا چاہوں گی کہ کوئی بھی شخص جو کسی بھی مصیبت میں مبتلا ہو یا پریشانی اسکے لئے دعا کرنا مومن کا فرض ہے اور اسکی مدد کرنا ہم مسلمانوں کا اولین عمل ہونا چاہیے

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں مصیبت زدہ شخص کی مدد کرنے، پریشانی دور کرنے والوں کی مدد کرنے اور ایسا بنا دے جسکے نیک کام کرنے پر وہ راضی ہوتا ہے ان کے صدقے ہمیں بھی نیک بنا دے۔ آمین


اسلام دین رحمت ہے۔ یہ صرف نماز، روزہ اور عبادت کا نام نہیں، بلکہ بندوں کے ساتھ حسن سلوک، نرمی، ہمدردی اور دلجوئی کا درس بھی دیتا ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا اور ایسے شخص کے لیے سہارا بنتا ہے جو مصیبت اور مشکل میں گرفتار ہو۔ کسی غم زدہ شخص کی غمگساری کرنا بے حد اجر و ثواب کا باعث ہے کہ

حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاکﷺنے ارشادفرمایا: جو کسی غمزدہ شخص سے غمخواری کرے گا اللہ اسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے غمخواری کرےگا اللہ اسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے عطا کرےگا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہو سکتی۔ (1)

اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی مصیبت میں انکی مدد کرنے کی بجائے انہیں مزید ستاتے ہیں جیسے اس کے موجودہ حالات پر طنز کرنا، اسے اپنے حالات کا قصور وار ٹھہرا کر نیچا دکھاتے رہنا، طرح طرح کے سوالات کر کے شرمندہ کرنا اور طرح طرح کے سخت جملے استعمال کر کے اسے تکلیف دیتے ہیں یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینے کی سخت وعيدات وارد ہوئی ہیں چنانچہ

سیّدعالمﷺ فرماتے ہیں: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ (2) یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔

یاد رکھئے ایسا شخص جو پہلے ہی دکھ، بیماری، قرض، غربت، صدمے یا بے بسی سے ٹوٹا ہوا ہو اسکو مزید تکلیف دینے کی بجائے اللہ کی رضا اور احترام مسلم کی خاطر اسکو تسلی دیں اور جہاں تک ممکن ہو اسکی مدد کریں کیونکہ

دوجہاں کے تاجور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یارومدد گار چھوڑتاہے۔(3)

حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مال، کھانے اور پانی کے ذریعےلوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو اسے چاہئے کہ وہ لوگوں کی خندہ پیشانی اور اچھے اخلاق کے ذریعے غمخواری کرے۔(4)

اگر بالفرض آپ اسکی مدد نہ کر سکیں،اسے دلاسہ نہ دے سکیں تو کم از کم اسکی دل آزاری بھی نہ کریں کہ حدیث مبارکہ میں ہے: کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (5)

یاد رکھئے یہ دنیا امتحان گاہ ہے، ہر انسان اپنی اپنی آزمائش سے گزر رہا ہے، کوئی بھی خوشی یا کوئی بھی غم سدا نہیں رہتا۔ آج جو مصیبت دوسرے پر آئی ہے ہوسکتا ہے کل یہی مصیبت ہم پر بھی آجائے۔ لہٰذا انسانیت کے تقاضے کے مطابق دوسروں کی تکلیف کو محسوس کریں اور کسی غم میں ڈوبے ہوئے دل کو مزید دکھ دینے کی بجائے اس مصیبت زدہ کے لیے آسانی پیدا کریں، اس کے دکھ بانٹیں اور اسے امید دلائیں کہ جلد یہ آزمائش دور ہوجائے گی یہی بہترین عمل ہے اور یہی دین اسلام کی تعلیمات ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا:

لوگوں میں سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔ (6)

اللہ کریم ہمیں دوسروں کے دکھ درد کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے

حوالہ جات:

(1)معجم اوسط، 6/ 429، حدیث:9292

(2) معجم اوسط، 2/ 386، حدیث: 3607

(3) مسلم، ص 1394، حدیث: 2580

(4)حلیۃ الاولیاء، 7/446، رقم: 11158

(5) (بخاری، 1/16، حدیث: 11)

(6)کنز العمال، 8/53، حدیث: 44147


اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دنیا دارالعمل اور امتحان گاہ ہے، انسان یہاں آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اسے آزادی سے نیکی اور بدی کرنے کی قوت دی گئی ہے جسے بروئے کار لا کر وہ نیکی کی صورت میں اجر و ثواب اور نافرمانی کی صورت میں عذاب و سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

اس متعلق قرآنی آیت اوراسکی تفسیر: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱) (پ 26، الحجرات: 11) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوںاور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔

حضر ت ضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت عمار،حضرت خباب،حضرت بلا ل،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مردوں سے نہ ہنسیں، یعنی مال دار غریبوں کا، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا مذاق نہ اڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے صدق اور اخلاص میں بہتر ہوں۔ (خازن، 4/ 169)

احادیث مبارکہ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔ (بخاری، 2/126، حدیث: 2442)

سنن ترمذی کی حدیث ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعدا نہ کرو، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔ (ترمذی، 4/227، حدیث: 2514)

کسی کو مصیبت میں دیکھ کر اسے مزید پریشان کرنا بد اخلاقی، بے رحمی اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، جس کی مذمت کی جاتی ہے، اور اس کے بجائے شریعت میں مصیبت زدہ کو دیکھ کر دعا پڑھنے اور ہمدردی کا اظہار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

جب کوئی شخص مشکل میں ہو تو اس کے دکھ درد کو سمجھیں، اسے مزید تکلیف دینے سے بچیں، بلکہ ہمدردی، حوصلے اور دعاؤں سے اس کا سہارا بنیں، کیونکہ مصیبت میں صبر اہم ہے اور اس وقت ہمیں اپنے اعمال پر غور کر کے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ مصیبت میں پھنسے شخص پر طعن و تشنیع کریں یا اسے مزید اذیت دیں۔

انسان کی زندگی آزمائشوں کا مجموعہ ہے، جس میں خوشیاں اور غم، آسانی اور تنگی ساتھ ساتھ چلتی ہیں. جب کوئی شخص مصیبت میں گھر جاتا ہے، تو وہ پہلے ہی ذہنی، جذباتی اور بعض اوقات جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے، ایسے وقت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کی مدد کریں، اسے سہارا دیں، اور اسے مزید پریشان کرنے سے گریز کریں۔

کیوں نہیں پریشان کرنا چاہیے؟

انسانیت کا تقاضا: ہر انسان کو مشکل وقت میں ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے.

دینی فریضہ: اسلام ہمیں صبر کرنے اور مصیبت زدوں سے ہمدردی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ پاک خود فرماتا ہے کہ مصیبتیں تمہارے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں، اور ہم سے بہت کچھ معاف بھی کرتا ہے۔

صبر کی اہمیت: مصیبت زدہ شخص کو صبر کی تلقین کرنی چاہیے، نہ کہ اس پر مزید بوجھ ڈالنا چاہیے. صبر کرنے والوں کے لیے اللہ نے خوشخبری دی ہے۔

کیا کرنا چاہیے؟

ہمدردی اور دعا: اس کا ہاتھ تھامیں، اسے تسلی دیں، اور اس کے لیے دعا کریں کہ اللہ اسے اس مشکل سے نکالے۔

مدد پیش کریں: اگر ممکن ہو تو اس کی عملی مدد کریں، چاہے وہ مالی ہو یا کوئی اور تعاون۔

صبر کی تلقین: اسے یاد دلائیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔

ذمہ داری یاد دلائیں: اسے یہ احساس دلائیں کہ جب مصیبت آئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے۔

کیا نہیں کرنا چاہیے؟

طنز اور طعن: اس کے حالات کا مذاق نہ اڑائیں اور طعنہ نہ دیں۔

ذمہ دار ٹھہرانا: اسے اس کی مصیبت کا براہ راست ذمہ دار نہ ٹھہرائیں، بلکہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔

دکھ میں اضافہ نہ کریں: کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اس کا دکھ اور بڑھ جائے۔

یاد رکھیں ہر شخص کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، اور آج جو مصیبت میں ہے، کل شاید ہمیں خود ضرورت پڑ جائے، اس لیے ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔