اسلام دین
رحمت ہے۔ یہ صرف نماز، روزہ اور عبادت کا نام نہیں، بلکہ بندوں کے ساتھ حسن سلوک،
نرمی، ہمدردی اور دلجوئی کا درس بھی دیتا ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی خوبی یہ ہے کہ وہ
دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا اور ایسے شخص کے لیے سہارا بنتا ہے جو مصیبت اور
مشکل میں گرفتار ہو۔ کسی غم زدہ شخص کی غمگساری کرنا بے حد اجر و ثواب کا باعث ہے
کہ
حضرت جابربن
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاکﷺنے ارشادفرمایا: جو کسی غمزدہ شخص سے غمخواری کرے گا اللہ اسے
تقویٰ کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو
کسی مصیبت زدہ سے غمخواری کرےگا اللہ اسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے عطا
کرےگا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہو سکتی۔ (1)
اس کے برعکس
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی مصیبت میں انکی مدد کرنے کی بجائے انہیں مزید
ستاتے ہیں جیسے اس کے موجودہ حالات پر طنز کرنا، اسے اپنے حالات کا قصور وار ٹھہرا
کر نیچا دکھاتے رہنا، طرح طرح کے سوالات کر کے شرمندہ کرنا اور طرح طرح کے سخت
جملے استعمال کر کے اسے تکلیف دیتے ہیں یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینے کی
سخت وعيدات وارد ہوئی ہیں چنانچہ
سیّدعالمﷺ
فرماتے ہیں: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف
دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ (2) یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر
اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔
یاد رکھئے
ایسا شخص جو پہلے ہی دکھ، بیماری، قرض، غربت، صدمے یا بے بسی سے ٹوٹا ہوا ہو اسکو
مزید تکلیف دینے کی بجائے اللہ کی رضا اور احترام مسلم کی خاطر اسکو تسلی دیں اور
جہاں تک ممکن ہو اسکی مدد کریں کیونکہ
دوجہاں کے
تاجور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یارومدد گار چھوڑتاہے۔(3)
حضرت ابراہیم
بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مال، کھانے اور پانی کے
ذریعےلوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہوتو اسے چاہئے کہ وہ لوگوں کی
خندہ پیشانی اور اچھے اخلاق کے ذریعے غمخواری کرے۔(4)
اگر بالفرض آپ
اسکی مدد نہ کر سکیں،اسے دلاسہ نہ دے سکیں تو کم از کم اسکی دل آزاری بھی نہ کریں
کہ حدیث مبارکہ میں ہے: کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمان
محفوظ رہیں۔ (5)
یاد رکھئے یہ
دنیا امتحان گاہ ہے، ہر انسان اپنی اپنی آزمائش سے گزر رہا ہے، کوئی بھی خوشی یا
کوئی بھی غم سدا نہیں رہتا۔ آج جو مصیبت دوسرے پر آئی ہے ہوسکتا ہے کل یہی مصیبت
ہم پر بھی آجائے۔ لہٰذا انسانیت کے تقاضے کے مطابق دوسروں کی تکلیف کو محسوس کریں
اور کسی غم میں ڈوبے ہوئے دل کو مزید دکھ دینے کی بجائے اس مصیبت زدہ کے لیے آسانی
پیدا کریں، اس کے دکھ بانٹیں اور اسے امید دلائیں کہ جلد یہ آزمائش دور ہوجائے گی
یہی بہترین عمل ہے اور یہی دین اسلام کی تعلیمات ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام نے
فرمایا:
لوگوں میں سے بہتر
وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔ (6)
اللہ کریم
ہمیں دوسروں کے دکھ درد کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے
حوالہ
جات:
(1)معجم اوسط،
6/ 429، حدیث:9292
(2) معجم
اوسط، 2/ 386، حدیث: 3607
(3) مسلم، ص
1394، حدیث: 2580
(4)حلیۃ
الاولیاء، 7/446، رقم: 11158
(5) (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
(6)کنز
العمال، 8/53، حدیث: 44147
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت رمضان احمد،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
اس حقیقت سے
کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے
تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،اس کا سبب
یہ ہے کہ یہ دنیا دارالعمل اور امتحان گاہ ہے، انسان یہاں آزمائش کے لئے بھیجا گیا
ہے۔ اسے آزادی سے نیکی اور بدی کرنے کی قوت دی گئی ہے جسے بروئے کار لا کر وہ نیکی
کی صورت میں اجر و ثواب اور نافرمانی کی صورت میں عذاب و سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
اس
متعلق قرآنی آیت اوراسکی تفسیر: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ
مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ
نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ
وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ
مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱) (پ 26،
الحجرات: 11) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ
وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسے
والیوں سے بہتر ہوںاور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا
ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
حضر ت ضحاک
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو
حضرت عمار،حضرت خباب،حضرت بلا ل،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ان کے بارے
میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مردوں سے نہ ہنسیں، یعنی مال دار
غریبوں کا، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا
مذاق نہ اڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے صدق اور
اخلاص میں بہتر ہوں۔ (خازن، 4/ 169)
احادیث
مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم
ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے
گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی
مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو
چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔ (بخاری، 2/126، حدیث: 2442)
سنن ترمذی کی
حدیث ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعدا نہ کرو، ہو سکتا
ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔ (ترمذی، 4/227، حدیث: 2514)
کسی کو مصیبت
میں دیکھ کر اسے مزید پریشان کرنا بد اخلاقی، بے رحمی اور اسلامی تعلیمات کے منافی
ہے، جس کی مذمت کی جاتی ہے، اور اس کے بجائے شریعت میں مصیبت زدہ کو دیکھ کر دعا
پڑھنے اور ہمدردی کا اظہار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
جب کوئی شخص
مشکل میں ہو تو اس کے دکھ درد کو سمجھیں، اسے مزید تکلیف دینے سے بچیں، بلکہ
ہمدردی، حوصلے اور دعاؤں سے اس کا سہارا بنیں، کیونکہ مصیبت میں صبر اہم ہے اور اس
وقت ہمیں اپنے اعمال پر غور کر کے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ مصیبت میں
پھنسے شخص پر طعن و تشنیع کریں یا اسے مزید اذیت دیں۔
انسان کی
زندگی آزمائشوں کا مجموعہ ہے، جس میں خوشیاں اور غم، آسانی اور تنگی ساتھ ساتھ
چلتی ہیں. جب کوئی شخص مصیبت میں گھر جاتا ہے، تو وہ پہلے ہی ذہنی، جذباتی اور بعض
اوقات جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے، ایسے وقت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کی
مدد کریں، اسے سہارا دیں، اور اسے مزید پریشان کرنے سے گریز کریں۔
کیوں
نہیں پریشان کرنا چاہیے؟
انسانیت
کا تقاضا: ہر
انسان کو مشکل وقت میں ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے.
دینی
فریضہ: اسلام
ہمیں صبر کرنے اور مصیبت زدوں سے ہمدردی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ پاک خود
فرماتا ہے کہ مصیبتیں تمہارے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں، اور ہم سے بہت کچھ معاف بھی
کرتا ہے۔
صبر
کی اہمیت: مصیبت
زدہ شخص کو صبر کی تلقین کرنی چاہیے، نہ کہ اس پر مزید بوجھ ڈالنا چاہیے. صبر کرنے
والوں کے لیے اللہ نے خوشخبری دی ہے۔
کیا
کرنا چاہیے؟
ہمدردی
اور دعا: اس
کا ہاتھ تھامیں، اسے تسلی دیں، اور اس کے لیے دعا کریں کہ اللہ اسے اس مشکل سے
نکالے۔
مدد
پیش کریں: اگر
ممکن ہو تو اس کی عملی مدد کریں، چاہے وہ مالی ہو یا کوئی اور تعاون۔
صبر
کی تلقین: اسے
یاد دلائیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔
ذمہ
داری یاد دلائیں: اسے
یہ احساس دلائیں کہ جب مصیبت آئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ
کر اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے۔
کیا
نہیں کرنا چاہیے؟
طنز
اور طعن: اس
کے حالات کا مذاق نہ اڑائیں اور طعنہ نہ دیں۔
ذمہ
دار ٹھہرانا: اسے
اس کی مصیبت کا براہ راست ذمہ دار نہ ٹھہرائیں، بلکہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
دکھ
میں اضافہ نہ کریں: کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اس کا دکھ اور بڑھ
جائے۔
یاد رکھیں ہر
شخص کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، اور آج جو مصیبت میں ہے، کل شاید ہمیں خود
ضرورت پڑ جائے، اس لیے ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا ہم
اپنے لیے چاہتے ہیں۔
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت شمس پرویز، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
مصیبت کے معنی
سخت تکلیف، کڑی مشکل، دکھ، رنج،صدمہ اور حادثہ کے ہیں۔مصیبت میں مبتلا ہونے کے بہت
سے اسباب ہیں۔ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ
مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) (پ 25، الشوریٰ:30) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہیں جو
مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو
(اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔
اسلام دین
رحمت و شفقت ہے۔ شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ
نرمی، ہمدردی اور خیرخواہی کا معاملہ کریں، خصوصاً اس وقت جب کوئی شخص مصیبت، غم
یا آزمائش میں مبتلا ہو۔ ایسے موقع پر کسی مصیبت زدہ کو پریشان کرنا، دل دکھانا،
طعنہ دینا یا اس کی مجبوری کا مذاق اڑانا سخت ناجائز اور گناہ ہے۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا
عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6،
المائدۃ: 2) اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نیکی اور تقویٰ میں مدد کرنا لازم ہے
اور گناہ و زیادتی سے بچنا فرض۔ مصیبت زدہ کو پریشان کرنا گناہ اور زیادتی میں
داخل ہے، کیونکہ یہ اس کے دکھ میں اضافہ ہے، نہ کہ کمی۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: من نفّس عن مؤمنٍ كربةً من كرب الدّنيا نفّس اللّه عنه كربةً من كرب
يوم القيامة (مسلم، ص 1049، حدیث: 2580) جب
کسی مومن کی پریشانی دور کرنے پر اتنا بڑا اجر ہے تو اس کی پریشانی بڑھانا یقیناً
سخت وعید کا سبب ہوگا۔
مسلمان کا دل
دکھانا حرام ہے، اور خصوصاً اس حال میں جب وہ مصیبت میں ہو، کیونکہ مومن کا دل
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑی حرمت رکھتا ہے۔
ایذائے مسلم
(مسلمان کو اذیت دینا) حرام ہے، چاہے وہ اذیت زبان سے ہو، عمل سے ہو یا رویّے سے،
اور غم کے وقت یہ گناہ اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔
اسی طرح کسی
مصیبت زدہ کو طعنہ دینا، اس کی آزمائش کو اس کے گناہوں سے جوڑ کر تذلیل کرنا، یا
اسے حقیر سمجھنا قساوت قلب کی علامت ہے اور ایسا شخص اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا
ہے۔
مسلمان کا دل
دکھانا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے، کیونکہ مومن کا دل اللہ کے نزدیک محترم
ہے۔
مصیبت زدہ آدمی
کو صبر کی تلقین کرنا تعزیت کہلاتا ہے اور یہ مسنون(یعنی سنّت)ہے۔ کوئی بھی مصیبت
پہنچے اس پر صبر کی تلقین تعزیت کے زمرے میں آئے گی۔ پہلے کے مسلمان دوسروں کے غم
کو اپنا غم سمجھتے تھے۔ اب یہ تاثر ختم ہوتا جارہا ہے اور تعزیت محض رسم کی حیثیت
اختیار کرتی جارہی ہے۔
حضرت اعمش رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم جنازوں میں شریک ہوتے تھے مگر مجمع میں ہر شخص کے رنج و غم
کی تصویر نظر آنے کے سبب ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ کس سے تعزیت کریں؟ (احیاء
العلوم، 5/235)
فرامینِ
مصطفےٰ ﷺ: جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے، اس کے لئے اس مصیبت زدہ جتنا ثواب ہے۔
(ترمذی، 2/338، حديث:1075)
جو کسی مصیبت
زدہ سے تعزیت کرے گا اللہ پاک اسے جنّت کے جوڑوں میں سے دو ایسے جوڑے پہنائے گا جن
کی قیمت دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔ (معجم اوسط، 6/429، حدیث: 9292)
امام غزالی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی کے غم میں شریک ہو
اور اسے اذیت نہ دے۔
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت محمد طفیل، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
مصیبت
زدہ کون: جو
شخص کسی مشکل،دکھ، غم یا ازمائش سے گزر رہا ہو وہ مصیبت زدہ ہے۔
زندگی
آزمائشوں کا نام ہے اور ہر انسان زندگی میں دکھ، غم اور پریشانی کے مرحلے سے گزرتا
ہے۔ ایسے لمحوں میں کچھ الفاظ مرہم بن جاتے ہیں اور کچھ رویے زخموں کو گہرا کر
دیتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی
یاد رکھنا چاہیے کہ مصیبت اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے، سزا نہیں۔ کسی کی مشکل
پر طنز کرنا یا اسے کمزور سمجھنا دراصل اپنی اخلاقی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ آج
اگر کوئی مصیبت میں ہے تو کل ہم بھی اسی مقام پر ہو سکتے ہیں۔ایسے وقت میں ہمیں
مصیبت زدہ کے ساتھ اچھا برتاؤ اور ممکنہ حد تک اس کی مدد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ہمارا دین
اسلام بھی ہمیں اسی بات کی تلقین کرتا ہے۔
کسی مسلمان کو
تکلیف پہنچانے پر وعیدیں اور اس کی مدد کرنے پر بشارتیں ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ
پاک فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا
اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22،
الاحزاب:58) ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے
ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔
اس کا شان
نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو عام ہے۔ آیت کا
خلاصہ یہ ہے کہ جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس
سے انہیں اذیّت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں
اذیت دی جائے۔ توان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا اور خود کو
بہتان کی سزا اور کھلے گناہ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔
کسی مسلمان کو
ناحق تکلیف پہنچانا اس پر کس قدر وعید سنائی گئی ہے۔ تو جو کوئی پہلے ہی سے پریشان
ہو مصیبت میں مبتلا ہو اس کو مزید پریشان کرنا اس کی دل آزاری کرنا اس پر کتنا
گناہ ہوگا۔
ایسے وقت میں
ہمیں مصیبت زدہ کی مدد کرنی چاہیے۔یقینا اس پر ہم اجر و ثواب کے حقدار ہوں گے۔
حضرت ابو ذر
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے
محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2/150، حدیث: 2518)
مصیبت زدہ شخص
نہ صرف ظاہری مشکل میں مبتلا ہوتا ہے۔ بلکہ اندرونی طور پر بھی شدید اذیت سے گزر
رہا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اس کی مدد کرنا ہمارے لیے بھی صدقہ ہے۔
بدقسمتی سے
ہمارا معاشرہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ہم مصیبت میں مبتلا شخص سے بار
بار یہ پوچھتے ہیں: یہ سب کیسے ہوا؟ تم نے پہلے کیوں خیال نہ رکھا؟ میں نے تو پہلے
ہی کہا تھا۔ یہ جملے بظاہر عام لگتے ہیں مگر مصیبت زدہ دل پر خنجر کی مانند لگتے
ہیں۔
لہٰذا چاہیے کہ
ہم مصیبت زدہ کو پریشان کرنے کے بجائے اس کے لیے سہارا بنیں، اس کے غم کو محسوس
کریں۔ یہی دین اسلام کی اصل تعلیم ہے۔ اللہ پاک ہر مصیبت زدہ کو صبر، سکون اور
آسانی عطا فرمائے اور ہمیں دوسروں کے لیے باعث راحت بنائے۔آمین
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت سید رضوان علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
کسی مسلمان
بھائی کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے اس کی پریشانی میں اضافہ نہ کیا جائے مثال کے
طور پر کوئی مسلمان بھائی مالی اعتبار سے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے تو اس کو
غریبی کا طنز کرنا،یہ کہنا کہ اب ان حالات میں تو گھر کیسے چلائے گا تیرا کیا ہوگا
اگر تو ہمیشہ ایسا ہی رہے گا وغیرہ۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی کو
مزید پریشان کرنے کی بجائے اسے صبر کی تلقین کرے اور اپنی زبان سے اسکو تکلیف نہ
دے جیسا کہ:
نبی اکرم ﷺ نے
فرمایا: بہترین مسلمان وہ ہے جس کی زبان یا ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
مصیبت زدہ کو
زیادہ پریشان نہ کیا جائے کہ ہو سکتا ہے کہ کل کو ہم پر بھی وہی مصیبت یا تکلیف آ
جائے ہمیں انہیں صبر کی تلقین کرنی چاہئے اور اللہ پاک سے شکوہ کرنے سے منع کرنا
چاہئے۔
آج کل کوئی
بیمار ہو تو اس کی بیماری کا مذاق بنایا جاتا ہے کہ ہر وقت بیمار رہتا ہے، اس کو
کچھ نہیں ہوا، سب ڈرامہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بھی ہمیں بچنا لازم ہے کہ آیا اگر اللہ
پاک اس بیماری،مصیبت پر ہمیں مبتلا کر دے تو ہمارا کیا ہوگا! ہم اکثر اوقات مصیبت
زدہ شخص کو اپنے لہجے سے مزید پریشان کر دیتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ
ان کا کوئی ہمدرد ہی نہیں، ہم ان کو اللہ کی رضا کے لئے صبر کی تلقین کرنے کی
بجائے غلط الفاظ کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے پر ہی مصیبت آتی ہے، تمہارے ساتھ ہی ایسے
ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہماری وجہ سے وہ اپنے رب سے شکوہ شکایت شروع کر دیتا ہے جو
رب کی ناراضگی کا سبب بن جاتا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ مصیبت زدہ کو پریشان کرنے کی
بجائے اس کو سمجھائیں کہ بعض اوقات مصیبت کے ذریعے انسان اللہ کا قرب پا لیتا ہے۔
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے
ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (بخاری، 4/4،
حدیث: 5646)
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجیے از بنت اصغر، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
انسانی معاشرت
میں ہمدردی اور باہمی تعاون وہ ستون ہیں جن پر ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی
بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اپنے ماننے والوں کو نہ
صرف انفرادی عبادات کی تلقین کرتا ہے بلکہ سماجی معاملات اور حقوق العباد کی
ادائیگی پر بھی غیر معمولی زور دیتا ہے۔ ان سماجی فرائض میں سب سے حساس اور اہم
پہلو مصیبت زدہ کو تکلیف نہ دینا اور اسے کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچانا ہے۔
جب کوئی انسان
کسی آزمائش، بیماری، نقصان یا صدمے سے گزر رہا ہوتا ہے، تو وہ نفسیاتی اور جذباتی
طور پر انتہائی نازک صورتحال میں ہوتا ہے۔ ایسے میں دین اسلام کی تعلیمات، قرآنی
آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ مصیبت زدہ کو پریشان کرنا
نہ صرف اخلاقی پستی ہے بلکہ یہ ایک سنگین گناہ اور اللہ و رسول ﷺ کی ناراضگی کا
باعث بھی ہے۔
سرکار دوعالم
ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟
انہوں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم
جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول زیادہ
جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ
سمجھیں۔ (مسند امام احمد،2/654، حدیث:6942)
اسلامی نظریہ
حیات میں مصیبت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی آزمائش
اور امتحان کا ایک ذریعہ ہے۔ قرآن کریم نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ انسان کو
مختلف حالات کے ذریعے آزمایا جائے گا تاکہ اس کے صبر اور ایمان کی پختگی ظاہر ہو
سکے۔
دوسروں کو
تکلیف دینا،ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
مشہور تابعی مفسر
مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مسلط کردی جائے گی تو وہ اپنے
جسم کو کھجلائیں گے حتی کہ ان میں سے ایک کی (کھال اور گوشت اترنے سے) ہڈی ظاہر ہو
جائے گی۔ اسے پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں! کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟ وہ
کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا: تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی
سزا ہے۔ (احیاء العلوم،2/242)
وہ اہم نکات
درج ذیل ہیں جن کا خیال رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے تاکہ وہ کسی مصیبت زدہ کے لیے
اذیت کا باعث نہ بنے: شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں رات گئے شور شرابا نہ کریں
تاکہ کسی بیمار یا غمزدہ کی نیند خراب نہ ہو۔
آتش بازی اور
پٹاخوں سے گریز کریں کیونکہ اس سے خوف و ہراس پھیلتا ہے۔
ہسپتالوں
یا مریضوں کے گھروں کے پاس ہارن نہ بجائیں۔
مریض
کی عیادت کے وقت لمبی گفتگو نہ کریں بلکہ مختصر قیام کریں۔
مریض
کے سامنے اس کی بیماری کی ہولناکی کا ذکر نہ کریں۔
کسی
کے معذور بچے یا فرد کا مذاق نہ اڑائیں۔
مالی
نقصان ہونے والے کو تمہاری اپنی غلطی تھی کہہ کر مزید دکھی نہ کریں۔
کسی
کی فوتگی پر پرانی باتوں یا لڑائی جھگڑوں کا تذکرہ نہ کریں۔
ہسپتال
میں داخل مریض کے لواحقین کی اخلاقی اور مالی مدد کریں۔
راستہ
چلتے ہوئے کسی پریشان حال شخص کو راستہ دیں۔
اس کا مطلب ہے
کہ جب کوئی شخص مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہو تو ہمیں اس کے ساتھ نرمی اور ہمدردی
کا معاملہ کرنا چاہیے نہ کہ اسے مزید پریشان کرنا چاہیے اس تعلیم کے کچھ اہم پہلو
یہ ہیں:
ہمدردی
اور نرمی: مصیبت
زدہ شخص کے ساتھ ہمدردی اور نرمی کا معاملہ کرنا چاہیے۔
تعاون
اور مدد: مصیبت
زدہ شخص کی مدد کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
حوصلہ
افزائی: مصیبت
زدہ شخص کو حوصلہ دینا چاہیے اور اسے مایوس نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام میں مصیبت زدہ
لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید کی گئی ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: مومن مومن کے
لیے آئینہ ہے اور مومن مومن کا بھائی ہے وہ اس کے نقصان کو دور کرتا ہے اور اس کے
پیچھے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ (ابو داود، 4/365،
حدیث: 4918)
مصیبت
زدہ کو پریشان مت کیجئے! اسلام ہمیں دوسروں کے دکھ درد کو
سمجھنے اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنے کی ترغیب دیتا ہے، اسلام میں مصیبت زدہ افراد
کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے، حضور ﷺ نے
فرمایا: مومن مومن کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے بے یارو مددگار
چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔
مصیبت زدہ کو
پریشان نہ کرنے کے چھ طریقے ہیں: ہمدردی اور تعزیت: مصیبت زدہ کے دکھ درد کو
سمجھیں ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں۔ مدد و تعاون: مصیبت زدہ کی مدد کریں اور
ان کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کریں۔ خاموشی اور احترام: مصیبت زدہ کے سامنے خاموشی
اختیار کریں ان کے جذبات کا احترام کریں۔ دعا اور تسلی: مصیبت زدہ کے لیے دعا کریں
اور انہیں تسلی دیں۔
محمد
عزیز عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، امانت اور باہمی سچائی
پر قائم ہے۔ جب تک لوگ ایک دوسرے کے حقوق ، ذمہ داریوں اور امانتوں کا پاس رکھیں،
معاشرہ امن و سکون سے چلتا ہے مگر جب خیانت، بددیانتی اور دھوکا دہی عام ہوجائے تو
اعتماد ٹوٹتا ہے۔
(1)جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء،آیت نمبر 107)
(2)اللہ حکمت والا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔ ( سورۃ الانفال آیت نمبر 71)
(3) اللہ دل کے حال کو جاننے والا ہے: یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُترجمۂ کنزُالعِرفان : اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(سورۃالمومن آیت نمبر
19)
(4)خیانت کرنے والوں کو پورا بدلہ دیا جائے گا:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تو وہ قیامت کے
دن اس چیز کو لے کر آئے گاجس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال
کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(ال عمران: آیت
نمبر 141)
محمد
آصف قادری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور ،پاکستان)
آج کل معاشرے میں یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے کہ
لوگ ایک دوسرے کی خیانت کرتے ہیں اللہ تبارک و تعالی نے اور اس کے حبیب نے ہمیں اس
سے منع فرمایا ہے واضح طور پر اللہ تعالی نے اپنی پیاری کتاب میں اور حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان سے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی خیانت کرے گا
تو اس کی سزا کیا ہوگی اور ہم حضور کے امتی ہیں اور ہمیں اپنے حبیب کے احکامات سن
کر اس پر عمل کرنا چاہیے اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم جو سنیں
گے قرآن و احادیث کی روشنی میں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے:
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ
وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:52)
تفسیر صراط
الجنان:ذٰلِكَ:یہ
بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں
نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے اس پر
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف
اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی
میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ
مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر
نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: 51، 3 / 25) اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو
فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔
اَخلاقی خیانت
مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابلِ تعریف وصف ہے:اس سے یہ
بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہیے اور
اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے آنکھ کی
خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمۂ
کنزُالعِرفان : اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(مؤمن:19)
حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،
رسول کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی
حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص
مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں اس کا نائب بنےاور اس کے گھر بار کی دیکھ بھال
کرے اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے
گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا اب اس مجاہد کے نیکیاں لینے
کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟( مسلم، کتاب الامارۃ، باب حرمۃ نساء المجاہدین
واثم من خانہم فیہنّ، ص1051 الحدیث: 139(1898)
حضرت
فُضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد
فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں ہوگا اور انہیں حساب کتاب کے
بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ان میں سے ایک وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس
موجود نہ تھا اور اس کے شوہر نے اس کی دنیوی ضروریات جیسے نان نفقہ وغیرہ پورے کیں
پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع وغیرہ،
ترہیب العبد من الاباق من سیّدہ، 3 / 18، الحدیث: 4)
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاقی خیانت کرنے سے
محفوظ فرمائے اور اخلاقی طور پر بھی امانت دار بننے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ ( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: 27،
2/ 190 )
شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکارِدو عالم ص ﷺ نے
بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا وہ اس محاصرہ سے
تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا
کہ اب تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم ص ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی
بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی
رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال اہل و
اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی
اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر
تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ص ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو
ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس پر قوم نے کہا کہ بیوی
بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم ص ﷺ
سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ
رسالت ص ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ص ﷺ نے اس کے سوا اور کوئی بات
منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے
فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضورِ اقدس ص ﷺ
نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا، بنو قریظہ نے اُن سے
رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فیصلہ
منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو
گلے کٹوانے کی بات ہے۔
حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے
کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ص ﷺ کی
خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ کر وہ تاجدارِ رسالت ص ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے
مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا
اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے
لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور
انور ص ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے
مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک
اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا
نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی،
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔
تواُنہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسولِ کریم ص ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں
نہ کھولوں گا۔
رسولُ اللہ ص ﷺ
نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں
جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد
ِ عالم ص ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل
ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: 27، 2 / 203، 204جمل، تحت الآیۃ: 27، 3
/ 185-186، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا
سخت جرم ہے۔
اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)
تفسیر صراط
الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت
میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل
کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں
مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے اس کی
طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے
کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
اس فرمان کو بغور پڑھیں نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں ،چنانچہ اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ
وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور
جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ۔(بقرہ:46)
اور ارشاد
فرمایا: وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت
کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر
شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے
گا۔ (اٰل عمران:161)
حضور پر نورص ﷺ
کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ کریں چنانچہ حضرت سمرہ بن
جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا
جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب
الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، 3/ 93، الحدیث: 2716)
یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام
ہے۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
وَ
اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ
مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(71)
ترجمۂ کنز الایمان:اور
اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس
پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے
آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا
عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ اگر انہوں نے عَہد
کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے اللہ
تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار بندہ
بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت میں
مبتلا ہو گئے اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے بعد
انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئیے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت
الآیۃ: 71، 3 / 123، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 3 / 376، تفسیر کبیر،
الانفال، تحت الآیۃ: 71، 5 / 514، ملتقطاً)
اللہ رب العزت ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے
اور ان سب کو پڑھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مشتاق
ندیم (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ، لاہور،پاکستان )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر
بحیثیت مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی و معاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی
ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کو بھی تیار نہیں ، انہی میں سے ایک خیانت
بھی ہے۔ یہ ایسا بدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ عام طور
پر خیانت کا مفہوم مالی امانت کے ساتھ خاص سمجھا جاتا ہے کہ کسی کے پاس مال امانت
رکھوایا پھر اس نے واپس کرنے سے انکار کردیا تو کہا جاتا ہے کہ اس نے خیانت کی ، یقینا
یہ بھی خیانت ہی ہے لیکن خیانت کا شرعی مفہوم بڑا وسیع ہے۔ چنانچہ حکیم الامت مفتی
احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی ، راز ،
عزت ، مشورے تمام میں ہوتی ہے۔ ( مرأة المناجيح ، 1 / 212 )
خیانت امانت کی ضد ہے ۔ پوشیدہ طور پرکسی کا حق مارنا خیانت
کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندے کا ! رب
تعالیٰ فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز
العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی
امانتوں میں خیانت کرو۔ ( پ 9 ، الانفال)
خیانت یہ ہے کہ اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں
تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے ۔ ( باطنی بیماریوں کی معلومات ، ص 175 )ہر مسلمان پر
امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ( باطنی بیماریوں
کی معلومات ، ص 176 )
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قرآن مجید میں خیانت
کرنے سے منع کیا گیا ہےمسلمان کو اس کے ارتکاب سے بچنا چاہئے۔ خیانت جیسے بُرے فعل
میں پڑنے کے بہت سارے اسباب ہو سکتے ہیں جن میں سے چند اسباب یہاں ذکر کئے جا رہے
ہیں :
(1) بدنیتی ( 2 ) دھوکا دینے کی عادت ( 3 ) بُری صحبت ( 4 ) توكل على الله کی کمی
( 5 ) مسلمانوں کو نقصان دینے کی عادت ( 6
) نفسانی خواہشات کی تکمیل۔
الله پاک سے دعا ہے کہ الله پاک ہم سب کو خیانت سے بچنے
کی توفیق عطا فرمائے اور دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بِجَاهِ خاتَمِ النَّبين صلى الله علیہ والہ وسلم
عامر
فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور ،پاکستان)
خیانت کا مطلب ہے کسی کے ساتھ دھوکہ، بے ایمانی یا غداری
کرنا۔ اس میں امانت میں چوری، ناجائز تصرف یا اعتماد شکنی شامل ہے، جس سے تعلقات میں
اخلاقی اور نفسیاتی تنازع پیدا ہوتا ہے۔ یہ کسی کے حقوق کی خلاف ورزی اور بددیانتی
ہے۔
(1)اللہ تعالیٰ اور رسول کی خیانت نہ کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9سورت
انفال آیت نمبر 27)
(2)اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو جانتا ہے:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے
کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا
بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 13 سورت یوسف آیت نمبر 52)
تفسیر صراط
الجنان :حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:’’ میں نے قاصد کو
بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر
موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی
ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت
کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔
(3)خیانت کرنے والوں کے ساتھ جھگڑا نہ کرو :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5سورت النساء آیت نمبر 107)
تفسیر صراط
الجنان:اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
(4)رسول اکرم ﷺکو کفار کی خیانت سے تسلی :وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔ (پارہ 10سورت انفال آیت نمبر 71)
تفسیر صراط
الجنان: ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور
کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں۔
محمد
عمر رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
،لاہور،پاکستان)
خیانت کا مطلب ہے بددیانتی، بے ایمانی، دھوکہ دہی، اور
کسی کی امانت میں ناجائز تصرف کرنا۔ یا کسی پر اعتماد کر کے اس کے اعتماد کو
توڑنے، پوشیدہ سازش کرنے یا کسی دوسرے شخص کے حقوق کو غصب کرنے جیسے اعمال پر
مشتمل ہوتا ہے۔ خیانت سے نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے اور اس کا دنیا و آخرت میں
نقصان ہوتا ہے۔
(1) جھگڑا نہ کرو:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
تفسیر صراط
الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت
میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل
کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں
مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی
طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے
کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
اس فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں ،چنانچہ اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ
بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)ترجمۂ
کنزُالعِرفان:اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ
چھپاؤ۔(بقرہ:42)
(2) پورا پورا بدلہ دیا جائے گا :وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ
تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ
کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس
نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان
پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)
اور حضور پر نورص ﷺ کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے
برے افعال سے توبہ کریں ، چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی
کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی
من غلّ، 3 / 93، الحدیث: 2716)
(3)کافر لوگ خیانت دار ہیں:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی
ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر
اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ
میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے
اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے
گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امیدوار رہنا
چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے آزاد کیا تو
آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا عہد لیا تھا اس
پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر انہوں نے عَہد کی خلاف ورزی
کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی
عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار بندہ بننے کا عہد کیا
تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت میں مبتلا ہو گئے۔
اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے بعد انہوں نے اللہ
تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئیے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 3 /
123، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 3 / 376، تفسیر کبیر، الانفال، تحت
الآیۃ: 71، 5 / 516)
(4) حضرت یوسف علیہ
السلام کی پاکی :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:52)
تفسیر صراط
الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔
بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں
نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی
طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس
کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ
تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: 51، 3 / 25)
اس سے معلوم ہوا
کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا
ہے۔
(5) اللہ پاک جاننے والا ہے : یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے
اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(مؤمن:19)
اخلاقی خیانت
کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول
کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی
حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص
مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس کے گھر بار کی دیکھ
بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا
جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ، اب (اس مجاہد کے نیکیاں
لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب حرمۃ نساء
المجاہدین واثم من خانہم فیہنّ، ص1051، الحدیث: 139(1897)
Dawateislami