انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد اور امانت پر قائم ہے۔ جب تک لوگ ایک دوسرے کے حق میں سچے، دیانت دار اور امانت کے پابند رہیں، معاشرے میں سکون، بھائی چارہ اور انصاف قائم رہتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے خیانت چاہے وہ اللہ کے احکام میں ہو، رسول کے فرامین میں ہو یا لوگوں کے مال و حقوق میں، کو ایک سخت اور ناپسندیدہ گناہ قرار دیا ہے۔قرآنِ مجید نے خیانت کو ایمان کے منافی رویہ بتایا ہے اور واضح احکامات کے ساتھ اس سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امانتوں کو ادا کرنے کا حکم دیا اور خیانت کو اخلاقی بگاڑ، معاشرتی فساد اور دینی کمزوری کی علامت قرار دیا۔ مسلمان کے کردار کا حسن اسی میں ہے کہ وہ ہر معاملے میں سچائی اور امانت داری کو اپنا شعار بنائے۔

(1) اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)

(1) امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔ جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔

(3) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)

تفسیر صراط الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ص ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)

(4) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً:اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہو۔ اس آیت میں عام مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں سے خطاب ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ معاہدے کے بعد جب کسی قوم کی طرف سے عہد شکنی کی علامات ظاہر ہوں تو عہد توڑنے کیلئے مسلمانوں کے امیر پر لازم ہے کہ انہیں بتا دے کہ آج کے بعد ہمارا تم سے معاہدہ ختم ہے اور ان پر حملہ کرنے سے پہلے انہیں جنگ کی اطلاع دے دے تاکہ یہ اس قوم سے بدعہدی کرنے والا شمار نہ ہو اور اگر ان کی عہد شکنی روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جائے تو عہد ختم ہونے اور جنگ کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں بلکہ ڈائریکٹ ان پر حملہ کر دیاجائے۔( صاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۸، ۳ / ۷۷۴)

اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت دھوکےبازی اور لغویات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین۔


         اللہ پاک نے قرآن پاک میں مسلمانوں کی تربیت فرمائی ہے بعض چیزوں سے منع فرما کر بعض چیزوں کا حکم فرما کر ۔جن چیزوں میں منع فرمایا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ خیانت سے بچنا ہے قرآن پاک کی چند آیات مبارکہ پیش کرتا ہوں:

(1)وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5سورۃالنساء آیت نمبر 107)

(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (پارہ 10سورۃالانفال آیت نمبر 71)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امیدوار رہنا چاہئے۔

(3) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 12سورۃ یوسف آیت نمبر 52)

تفسیر صراط الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔

(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9سورۃالانفال آیت نمبر 27)

تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اعلیٰ کردار، امانت داری اور راست روی کی تعلیم دیتا ہے۔ انہی بنیادی اخلاقی اصولوں میں امانت اور اس کے مقابل خیانت کا تصور نہایت اہم ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت کی سخت مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف انفرادی کردار کو مجروح کرتی ہے بلکہ معاشرتی اعتماد، تعلقات اور عدل کے نظام کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن خیانت کو ایک اخلاقی اور ایمانی جرم قرار دیتا ہے۔

امانت اور خیانت کا مفہوم:لفظ امانت ہر اُس ذمہ داری، حق، راز یا معاملے کو کہتے ہیں جو انسان کے سپرد کیا جائے اور جس کی حفاظت اور درست ادائیگی ضروری ہو۔ اس کے برعکس خیانت اس امانت میں کوتاہی، دھوکا، بے وفائی یا ناجائز تصرف کو کہتے ہیں۔ اسلام میں امانت صرف مالی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ قول و قرار، عہد، حکومتی اختیارات، علم، عدل اور حتیٰ کہ جسم و روح تک کو امانت سمجھا گیا ہے۔

خیانت کی قرآنی مذمت:قرآن کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت سورۃ الانفال میں ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)

یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے اس کی گرفت بھی سخت ہے۔

خیانت کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جس کواللہ ناپسندیدکرتاہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو اللہ کو پسند ہو اور اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔

حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)

یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب، اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔

خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل عمران:161)

یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔

اسلامی معاشرہ اور امانت کا معیار:ایک مثالی اسلامی معاشرے کی بنیاد امانت داری پر قائم ہوتی ہے کہ خیانت صرف اخلاقی جرم نہیں بلکہ ایمان کے منافی عمل ہے۔ جو قومیں امانت داری کو اپناتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں، جبکہ خیانت کرنے والی قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خیانت تمام معاشرتی برائیوں کی جڑ ہے۔ یہ انسان کے ایمان، کردار، معاشرتی اعتماد اور عدل کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے اسلام ہر فرد کو نہ صرف مالی بلکہ قول و قرار، عہد، ذمہ داریوں اور رازوں کی حفاظت کا پابند بناتا ہے۔ آج کے دور میں جبکہ معاشرتی بے راہ روی عام ہے، قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر امانت داری کا احیا وقت کی ضرورت ہے۔ یہی رویہ ایک پاکیزہ، مضبوط اور منصفانہ معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔

اللہ عزوجل ہمیں خیانت سمیت تمام برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور صحیح اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم۔


اللہ ربّ العزت نے انسان کو امانت دار بنایا ہے۔ یہ دنیا، یہ نعمتیں، یہ رشتے، یہ منصب، یہ مال سب کچھ ہمارے پاس بطور امانت رکھا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآنِ مجید میں خیانت کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ خیانت وہ بدترین صفت ہے جو انسان کو اخلاقی، روحانی اور معاشرتی طور پر برباد کر دیتی ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں یہ حکم دے دیا کہ خیانت مومن کی شان نہیں ہو سکتی۔ مومن وہ ہے جو امانت کو حفاظت کے ساتھ پورا کرے، جو وعدہ پورا کرے، جو لوگوں کے مال، عزت، راز اور ذمہ داریوں کی حفاظت کرے۔

اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے:

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)

وہ بندہ کتنا بدقسمت ہوگا جس کے بارے میں اللہ خود فرما دے کہ میں اسے پسند نہیں کرتا! اللہ کی ناراضگی سے بڑی مصیبت کوئی نہیں۔ خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہےمال میں خیانت،تجارت میں دھوکہ،دفتر میں کام چوری،لیڈرشپ میں ناجائز فائدہ،دوستوں کے راز فاش کرنا،وعدہ خلافی کرنا،یہ سب خیانت میں شامل ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)

یہ آیت بتاتی ہے کہ امانت ادا کرنا اللہ کا حکم ہے، اور خیانت کرنا اللہ کی نافرمانی ہے۔ جس پر ذمہ داری ہو اسے چاہیے کہ پورے اخلاص، دیانت اور خوفِ خدا کے ساتھ اسے ادا کرے، چاہے وہ منصب کی امانت ہو، مال کی ہو، زبان کی ہو یا رویے کی۔ اے اللہ! ہمیں خیانت، دھوکے اور بے ایمانی سے بچا۔اے اللہ! ہمیں امانت داروں میں شامل فرما۔اے اللہ! ہمارے نفس کو پاکیزہ بنا، اس میں دیانت اور سچائی پیدا فرما۔آمین بجاہ الخاتم النبیین صلی الله علیہ وسلم۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق، سچائی، دیانت داری اور امانت کا درس دیتا ہے۔ ان اعلیٰ صفات کے برخلاف خیانت ایک مذموم صفت ہے ۔ خیانت صرف دنیاوی نقصان نہیں بلکہ اللہ کی ناراضی اور اخروی خسارے کا سبب بھی بنتی ہے۔

خیانت کا مفہوم:"خیانت" عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے: امانت میں بددیانتی کرنا، دھوکہ دینا،

یا کسی کے اعتماد کو توڑ دینا۔اسلام میں خیانت کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف مالی امانت میں نہیں بلکہ ہر قسم کے اعتماد، وعدہ، راز، تعلقات اور ذمہ داری میں شامل ہوتی ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔(آل عمران:161)

ان آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے سچائی، امانت داری اور دیانت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور خیانت جیسے گناہ سے ہمیشہ بچیں، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو معاشرے میں امانت، عدل اور دیانت داری کو بنیادی اخلاقی اصولوں میں شمار کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے بارہا خیانت کی سختی سے مذمت کی ہے، کیونکہ خیانت نہ صرف حقوق العباد کی پامالی ہے بلکہ اجتماعی نظم، باہمی اعتماد اور انسانی تعلقات کی بنیادوں کو بھی کمزور کرتی ہے۔ امانت کی حفاظت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ خیانت کو ایک ایسا قبیح فعل بتایا گیا ہے جو انسان کے کردار، اس کے ایمان اور اس کی ذمہ دارانہ زندگی کے خلاف ہے۔ قرآن مجید ہمیں واضح طور پر تنبیہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خائنوں کو پسند نہیں فرماتا اور قیامت کے دن خیانت کے بارے میں سخت جواب دہی ہوگی۔ اسی لیے ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں دیانت داری اختیار کرے اور خیانت کے ہر ظاہری و پوشیدہ پہلو سے بچتا رہے۔آئیے اس کے متعلق چند آیت کریمہ ملاحظہ ہوں:

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 58)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃالانفال آیت نمبر:27)

ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ آل عمران آیت نمبر: 161)

قرآنِ کریم کی روشنی میں یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ خیانت محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک سنگین گناہ اور معاشرتی فساد کی جڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی پہچان امانت داری قرار دی ہے اور خائنوں کو اپنی رحمت سے دور ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے قول و فعل، معاملات، فرائض اور ذمہ داریوں میں امانت کی پاسداری کرے۔ جب افراد دیانت کو اختیار کر لیتے ہیں، تو معاشرہ امن، اعتماد اور انصاف کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔اور جب خیانت عام ہو جائے تو بگاڑ، ظلم اور بے اعتمادی پھیل جاتی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم قرآن کی ہدایات کو اپنا رہنما بنائیں، خیانت سے مکمل اجتناب کریں اور امانت کو اپنے کردار کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی نصیب ہو سکے۔اللہ پاک سے دعا ہے جو کچھ سیکھا اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ الخاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہمیں ہر معاملے میں نصیحت کرتا ہے چاہے دینی معاملات ہوں یا دنیاوی معاملات اور ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرناہے اور اس طرح ہمیں درس دیتا ہے کہ اپنے ظاہر کےساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی اچھا بناؤ کہ ہمیشہ تم سچ بولتے رہو وعدہ کی پابندی کرتے رہو اس طرح ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ تم خیانت کرنے سے بچتے رہنا۔چاہے خیانت امانت میں بددیانتی ہو یا وعدے کو توڑ دینا ہو یا کسی کے حق کو چھپانا یا بلا اجازت مال میں تصرف کرنا کیوں نہ ہو یہ سب اس قبیح عمل میں شامل ہیں۔ ان تمام سے بچتے رہنا ہے ۔کیوں کہ خیانت کرنے والے کئی لوگوں کے لئے قیامت کے دن جہنم ہوگی ، خیانت کرنا یہ منافقین کی علامت ہے کیونکہ مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا اور خیانت کرنے والا نہیں ہوسکتا ۔ اس طرح قرآن مجید میں خیانت کرنے والے کی مذمت کی گئی ہے ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز الایمان :`بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(سورۃ الانفال:58)

اس کے علاوہ اللہ تعالٰی نےایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال 27)

اس آیت میں اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنارسولُ اللہ ﷺسے خیانت کرنا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ

ترجمہ کنز الایمان :بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(سورۃ النساء: آیت 58 )

اس آیت سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔لہذاہر مومن پر فرض ہے کہ نہ کسی مومن سے خیانت کرے نہ ا س کافر کی جس کا مسلمانوں سے معاہدہ ہے اور یہ خیانت نہ قلیل امانت میں ہو نہ کثیر میں ہو ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں یتیم کے مال میں خیانت کرنے سے بچتے رہنے کا حکم دیا ہے اور جب وقت آئے تو اس کا مال اس کے حوالے کردیا جائے ، ایک مومن مسلمان کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرے ۔اور اگر انکا مشترکہ کاروبار ہے تو اس میں بھی ایک شریک کا دوسرے سے خیانت کرنے سے بچتے رہنا چاہیے، کیونکہ اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے،اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پاک تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین یارب العالمین۔


تاریخ اسلام جن نفوس سے قدسیہ سے روشن ہیں ان میں صحابہ کرام کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے ان میں خاص طور پر عشرہ مبشرہ وہ منتخب نفوس ہیں جن کے بارے میں نبی پاک ﷺ نے واضح طور پر جنت کی خوشخبری عطا فرمائی نبی کریم ﷺ کی ان صحابہ سے محبت کسی وقتی یا جذباتی تعلق کا نام نہیں بلکہ ایمان اعتماد تربیت اور رضائے الہی پر مبنی ایک کامل محبت تھی جو ہر ہر صحابی کے ساتھ جداگانہ انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔

عشرہ مبشرہ کون؟ حضور ﷺ کے وہ 10 اصحاب جن کے جنتی ہونے کی دنیا میں خبر دی گئی انہیں عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت فتاوی رضویہ شریف میں صحابہ کرام میں افضلیت کی ترتیب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے کہ مرسلین، ملائکہ، رسول و انبیاء بشر کے بعد حضرات خلفائے اربعہ تمام مخلوق الہی سے افضل ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 28/478)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: خلفائے اربع راشدین کے بعد بقیہ عشرہ مبشرہ و حضرات حسنین اصحاب بدر اصحاب بیعت الرضوان کے لیے افضلیت ہے اور یہ سب قطعی جنتی ہیں۔ (فیضان صحابہ، ص 11)

دس صحابہ کرام: عشرہ مبشرہ میں چار تو خلفائے راشدین یعنی حضرت صدیق اکبر حضرت فاروق اعظم حضرت عثمان غنی حضرت علی المرتضی ہیں ان کے علاوہ باقی حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت طلحہ حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت سعید بن زید ،حضرت ابو عبیدہ بن جراح۔

1۔ صدیق اکبر سے محبت: نبی کریم ﷺ اور حضرت صدیق کے اکبر رضی اللہ عنہ کی محبت بہت گہری تھی، ترمذی میں ہے کہ آقائے دو عالم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق سے فرمایا: غار ثور میں تم میرے ساتھ رہے حوض کوثر پر بھی تم میرے ساتھ رہو گے۔ (ترمذی، 5/378، حدیث: 3690)

2۔حضرت عمر فاروق سے محبت: حضرت عمر سے بھی رسول اکرم ﷺ کی محبت بہت باکمال تھی طبرانی اوسط میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: جس نے عمر سے دشمنی رکھی اس شخص نے مجھ سے دشمنی رکھی اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 81)

3۔حضرت عثمان سے محبت: ترمذی شریف میں حضرت انس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم دیا اس وقت حضرت عثمان غنی حضور اکرم ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ میں تھے تو ہم نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ عثمان خدا اور رسول خدا کے کام سے گئے ہوئے ہیں پھر اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا یعنی حضرت عثمان کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ سرکار اقدس ﷺ نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان غنی کا ہاتھ قرار دیا یہ وہ فضیلتیں جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے۔ (اشعۃ اللمعات،4/668)

کیسا انداز الفت ہے کہ خود اپنے دست مبارک سے آقا دو جہاں ﷺ نے حضرت عثمان غنی کی طرف سے بیعت فرمائی اور اس فضیلت سے ان کے سوا اور کوئی دوسرا صحابی کبھی مشرف نہیں ہوا۔

4۔حضرت علی سے محبت: حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت کا پہلو کئی احادیث مبارکہ میں نمایاں ہے یوم غدیر میں حضور ﷺ نے فرمایا: میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں، یا اللہ جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ (خلفائے راشدین، ص 278)

5۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ: حضرت موسی بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ارشاد نبی ﷺ ہے: طلحہ نے اپنے عمل سے جنت کو واجب کرلیا۔ (ترمذی، 5/412، حدیث:3759)اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص زمین پر چلتے ہوئے شہید کو دیکھنا چاہے وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔ (ترمذی، 5/413، حدیث: 3760

یہ عظیم ارشادات نبویہ اس محبت کا اظہار ہے جو حضور ﷺ کے قلب انور میں حضرت طلحہ کے لیے موجزن تھی اور ان کے بلند مقام کی واضح دلیل ہے۔

6۔ حضرت زبیر سے محبت: حواری انتہائی قریبی جانثار اور مخلص مددگار کو کہتے ہیں نبی کریم ﷺ کا حضرت زبیر کو اپنا حواری قرار دینا ان سے بےمثال محبت اعتماد اور قربت کی دلیل ہے، چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک خاص مددگار حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ (بخاری، 2/539، حدیث:3719)

7۔حضرت عبدالرحمن سے محبت: حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے مجھے دومۃ الجندل کی طرف لشکر کا امیر بنا کر بھیجا اور اپنے دست مبارک سے میرے سر پر عمامہ باندھا۔

8۔حضرت سعد سے محبت: حضور ﷺ کی حضرت سعد بن ابی وقاص سے محبت واضح ہے کہ ان کے جنتی ہونے کی صراحت فرما دی ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ سعد کے تیر کو ٹھیک نشانے پر لگا دے اور اس کی دعا قبول فرما۔

9۔ حضرت سعید بن زید: حضرت سعید بن زید اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور انہیں نام لے کر جنتی قرار دینا نبی اکرم ﷺ کی انتہائی محبت کی قطعی دلیل ہے۔ 10۔حضرت ابو عبیدہ سے محبت: حضرت ابو عبیدہ سے محبت کے متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ایک موقع پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔ (بخاری، 2/545، حدیث:3744)

یہ بات واضح ہے کہ صحابہ کرام خصوصا حضرت عشرہ مبشرہ اللہ اور رسول ﷺ کے محبوب ہیں لہذا ان سے محبت رکھنا ادب بجالانا ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے اللہ پاک ہمیں صحابہ کرام کی سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین

حضورﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپﷺ نے انہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دی، جو کہ آپﷺ کی طرف سے ان پر اعتماد، شفقت اور خصوصی مقام کی عکاسی ہے۔

عشرہ مبشرہ قرآنی آیت کی تفسیر: حضرت علی المرتضی شیر خدا کرّم اللہ وجہہ الکریم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17، الانبیاء: 101) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں۔ پھر حضرت علی المرتضی نے فرمایا: میں انہیں میں سے ہوں، سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، اورطلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبد الرحمن، ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم اجمعین انہیں میں سےہیں۔ (بیضاوی، 4/110)

عشرہ مبشرہ محبوب حبیب خدا: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟فرمایا: عائشہ۔ میں نے عرض کی: مردوں میں؟فرمایا: ابوبکر۔میں نے عرض کی: ان کے بعد کون؟ فرمایا: عمر۔میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: عثمان۔ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: علی بن ابی طالب۔حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ پھرمیں خاموش ہوگیا توآپ نے ارشاد فرمایا: اے عبد اللہ! جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! علی بن ابی طالب کے بعد کون آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: طلحہ، پھر زبیر، پھرسعد بن ابی وقاص، پھر سعید بن زید، پھر عبد الرحمن بن عوف اور پھر ابوعبیدہ بن جراح۔ (الریاض النضرۃ، 1/33)

عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:(۱)ابو بکر(صدیق) جنت میں ہیں(۲) عمر جنت میں ہیں(۳) عثمان جنت میں ہیں(۴)علی جنت میں ہیں(۵)طلحہ جنت میں ہیں (۶) زبیر جنت میں ہیں(۷)عبدالرحمٰن بن عوف جنت میں ہیں(۸) سعد بن ابی وقاص جنت میں ہیں (۹)سعید بن زید جنت میں ہیں(۱۰) اور ابو عبیدہ بن الجراح جنت میں ہیں۔ رضی اللہ عنہم اجمعین (ترمذی، 5/416، حدیث:3768)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوبﷺ نے ارشاد فرمایا: میری ساری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابوبکر ہیں۔دین میں سب سے زیادہ مضبوط عمر ہیں۔ حیا میں سب سے بڑھ کر عثمان اور سب سے زیادہ قوت فیصلہ کے مالک علی ابن ابی طالب ہیں۔ہر نبی کے حواری(مددگار) تھے اور میرے حواری طلحہ و زبیر ہیں۔ سعد بن ابی وقاص جہاں ہوں گے حق ان کے ساتھ ہوگا، سعید بن زید محبوبان خدا میں سے ہیں۔ عبد الرحمن بن عوف اللہ کے تاجروں میں سے ہیں، ابوعبیدہ بن جراح اللہ اور اس کے رسول کے امین ہیں۔ ہر نبی کا محرم راز ہوتا ہے اور میرا محرم راز امیر معاویہ بن ابی سفیان ہے۔ ان سب سے محبت کرنے والا نجات پا گیا اور بغض رکھنے والا تباہ ہوگیا۔ (الریاض النضرۃ، 1/36)

عشرہ مبشرہ کے لیے رضائے مصطفےٰ کا پروانہ: حضرت سہل بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ حدیبیہ سے لوٹے تو ممبر پر تشریف لا کر اللہ کی حمد وثنا کے بعد ارشاد فرمایا: اے لوگو! ابوبکر نے مجھے کبھی بھی دکھ نہیں دیا۔اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ اے لوگو! عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، عبد الرحمن بن عوف اور اوّل مہاجرین تمام سے میں راضی ہوں اور اس بات کوبھی اچھی طرح سمجھ لو۔ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، 2/448)

عشرہ مبشرہ کے جنت میں رفقاء انبیائے کرام: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ! تمہیں ایک بشارت نہ دوں؟ عرض کیا: یارسول اللہﷺ! کیوں نہیں۔فرمایا: تمہارے والد ابوبکر جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت ابراہیم علیہ السّلام ہوں گے۔ عمر جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت نوح علیہ السّلام ہوں گے۔ عثمان جنتی ہیں اور جنت میں ان کا رفیق میں خود ہوں گا۔علی جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت یحیی علیہ السّلام ہوں گے۔ طلحہ جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت داودعلیہ السّلام ہوں گے۔ زبیر جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضر ت اسماعیل علیہ السّلام ہوں گے۔ سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق سلیمان بن داود علیہ السّلام ہوں گے۔ سعید بن زید جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت موسی علیہ السّلام ہوں گے۔ اور ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہیں اور جنت میں ان کے رفیق حضرت ادریس علیہ السّلام ہوں گے۔ پھر ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میں سید المرسلین ہوں، تمہارے والد افضل الصدیقین ہیں اور تم امّ المؤمنین ہو۔ (الریاض النضرۃ، 1/35)

عشرہ مبشرہ سے بغض کا انجام: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہادی برحق ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ! اگر تم اللہ کی عبادت کرو یہاں تک کہ تم کمان کی طرح ہو جاؤ اور خاموشی اختیار کرو یہاں تک کہ تم کیلوں کی طرح ہوجاؤاور تم نماز پڑھو یہاں تک کہ تم سے سوار ٹھہر جائے اور تم اصحاب عشرہ (مبشرہ)سے بغض بھی رکھو تو اللہ تمہیں اوندھے منہ ضرور جہنم میں گرائے گا۔ (الریاض النضرۃ، 1/34)


اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسی جماعت عطا فرمائی جو ایمان، اخلاص، قربانی اور وفاداری میں بے مثال تھی۔ ان ہی خوش نصیب صحابہ کرام میں سے دس عظیم ہستیاں وہ ہیں جنہیں حضور ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔ یہ حضرات عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں۔ حضور ﷺ کی ان مقدس ہستیوں سے محبت محض زبانی نہیں بلکہ عملی، قلبی اور مسلسل تھی، جو قرآن، حدیث اور سیرت کے واقعات سے واضح ہوتی ہے۔

عشرہ مبشرہ کے نام: حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں، سعید بن زید جنتی ہیں اور ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/610، حدیث: 3747)

یہ حدیث خود اس بات کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ کو ان حضرات سے کتنی محبت اور اعتماد تھا کہ سب کے نام ایک ساتھ لے کر جنت کی بشارت دی۔

قرآن کی روشنی میں صحابہ کا مقام:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ 11، التوبۃ، 100) ترجمہ: اور سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے پیروکار جو نیکی کے ساتھ ان کے ساتھ ہوئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

مفسرین کے مطابق اس آیت میں سب سے اعلیٰ درجہ انہی جلیل القدر صحابہ کا ہے جن میں عشرہ مبشرہ سرفہرست ہیں۔ حضور ﷺ کی محبت دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق تھی۔

حضرت ابو بکر صدیق سے خصوصی محبت: حضور ﷺ نے فرمایا: اگر میں اللہ کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔ (بخاری، 1/162، حدیث: 466)

یہ حدیث اس بے مثال محبت اور قرب کو ظاہر کرتی ہے جو عشرہ مبشرہ کے سردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا۔

حضرت عمر فاروق کے بارے میں محبت بھرے الفاظ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عمر جس راستے سے چلتے ہیں، شیطان اس راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ (بخاری، 4/205، حدیث: 3683)

یہ حدیث حضور ﷺ کے دل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقام اور محبت کو واضح کرتی ہے۔

حضرت عثمان غنی سے حیا اور محبت: ایک موقع پر حضور ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اپنی نشست درست فرمائی اور فرمایا: کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟ (مسلم، ص 1004، حدیث: 6209)

یہ محبت احترام، ادب اور عظمت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ سے قلبی تعلق: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3740)

یہ حدیث عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور ﷺ کی گہری محبت کی روشن دلیل ہے۔

دیگر عشرہ مبشرہ سے محبت کے واقعات: غزوۂ تبوک میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھنا، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لیے میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں کہنا، اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اس امت کا امین قرار دینا، یہ سب واقعات اس عظیم محبت کے آئینہ دار ہیں۔

عشرہ مبشرہ سے حضور ﷺ کی محبت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صحابہ کرام کا احترام اور محبت ایمان کا حصہ ہے۔ جو ان سے محبت کرے وہ نبی کریم ﷺ سے محبت کرتا ہے اور جو ان کے راستے پر چلے وہ کامیاب ہے۔

اے اللہ! ہمیں عشرہ مبشرہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرما، ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔

سرکار ﷺ نے جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی انہیں عشرہ مبشرہ کہتے ہیں، حضور نے خود ان کے فضائل بیان فرمائے، انہیں اپنا قریبی ساتھی بنایا اور ان کی عظمت کو تمام صحابہ کرام میں بلند کیا جیسے فتح خیبر کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں ان کا مقام خاص تھا اور آپ نے ان کی تعریف کی انہیں اپنی صحبت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعے اسلام کو پھیلایا۔

عشرہ مبشرہ کون ہیں؟ یہ وہ خوش نصیب دس صحابہ کرام ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی تھی جن کے نام درج ذیل ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم

محبت کی نشانیاں:

جنت کی بشارت: آپ نے انہیں خاص طور پر جنت کی خوشخبری دی جو کہ آپ کی ان سے خاص محبت کی علامت ہے۔

فضائل بیان کرنا: حضور نے ان کے بلند مقامات اور فضائل بیان کیے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور فتح خیبر کا واقعہ۔

خاص رفاقت: یہ صحابہ حضور ﷺ کے خاص تربیت یافتہ تھے اور دین کی خدمت کے لیے منتخب ہوئے جیسے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے والد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ نے فرمایا: ابھی ایک جنتی آدمی تم پر آئے گا۔

تربیت اور تعلیم: آپ نے ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ اعلیٰ درجات پر فائز ہوئے جیسا کہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ میں کسی مسلمان کے لیے بغض نہیں رکھتا اور جو اللہ نے اسے دیا ہے اس پر حسد نہیں کرتا۔

دین کا علمبردار بنانا: ان صحابہ کے ذریعے دین اسلام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلایا گیا اور انہوں نے عظیم قربانیاں دیں۔

حضور ﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت ان کی فضیلت، خاص رفاقت اور دنیا و آخرت میں ان کے لیے کی گئی دعاؤں اور بشارتوں سے ظاہر ہوتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حضور ﷺ کے خاص مقربین میں شامل تھے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے یوں فرمایا کہ ابو بکر(صدیق) جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں، سعید بن زید جنتی ہیں اور ابو عبیدہ بن الجراح جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)

راضی ہونے کی خوش خبری: یہ عشرہ مبشرہ ہیں جن سے نبی کریم ﷺ راضی تھے۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ وفات تک اس جماعت: علی، عثمان، زبیر، طلحہ اور عبدالرحمن(بن عوف رضی ﷲ عنہم) سے راضی تھے۔

حراء پہاڑ کو حکم: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ حراء (پہاڑ) پر تھے، آپ کے ساتھ ابو بکر(الصدیق)، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہم) تھے اتنے میں زلزلے کی وجہ سے پتھر ہلنے لگا تو آپ نے فرمایا: ٹھہر جا، اس وقت تجھ پر صرف نبی، صدیق اور شہید کھڑے ہیں۔ (بخاری، 2/524، حدیث: 3675)

خصوصیات کی وضاحت: خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت پر سب سے زیادہ مہربان، میری امت میں ابو بکر ہیں۔ اللہ (کے دین) کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں، شرم و حیا میں سب سے سچے عثمان ہیں، علم فرائض (میراث) کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں، سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، حلال و حرام کو سب سے زیادہ جاننے والے معاذ (بن جبل) ہیں اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔ (مسند امام احمد، 3/281، حدیث: 14035)

محبت جزوِ ایمان: عشرہ مبشرہ ہوں یا دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سب سے محبت کرنا جز و ایمان ہے۔ امام عوام بن حوشب الشیبانی فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خوبیاں بیان کیا کرو تاکہ (لوگوں کے) دلوں میں ان کی محبت ہی محبت ہو۔ اور ان کی خامیاں بیان نہ کرو تاکہ لوگوں (کے دلوں) میں ان کے خلاف نفرت پیدا نہ ہو جائے۔

خوبیاں بیان کرنے کی تاکید: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنا اور ان کی خامیاں بیان کرنا اہل بدعت کا خاصہ ہے۔ اہل سنت تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قرآن و حدیث کی گواہی کی وجہ سے محبت ہی محبت کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے پیارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و حدیث کو امت مسلمہ تک پہنچانے والے ہیں، اللہ نے ان سے راضی ہوکر رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کی بشارت سے نوزا ہے۔