درست بات کو قبول نہ کرنا اور غلط بات پر ڈٹ جانا اصرار باطل ہے۔

اصرار باطل کے اسباب: اصرار باطل کا پہلا سبب تکبر ہے۔ اصرار باطل کا دوسرا سبب بغض وکینہ ہے۔ اصرار باطل کا تیسرا سبب ذاتی مفادات کی حفاظت ہے۔ اصراد باطل کا چوتھا سبب طلب شہرت و نامور۔ اصرار باطل کا پانچواں سبب ہاں میں ہاں ملانا اور چاپلوسی کرنے کی عادت ہے۔ اصرار باطل کا چھٹا سبب اطاعت الٰہی کو ترک کر دینا ہے۔ اصرار باطل کا ساتواں سبب اتباع نفس ہے۔

تکبر: خود کو افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے۔ جس کے دل میں تکبر ہو اسے متکبر اور مغرور کہتے ہیں۔

بغض و کینہ: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانےاس سے غیر شرعی دشمنی و بغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔

چاپلوسی: اپنے سے بلند رتبہ شخصیت کے سامنے محض مفاد حاصل کرنے کے لیے عاجزی و انکساری کرنا یا اپنے آپ کو نیچا دکھانا چاپلوسی کہلاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نےارشاد فرمایا: جس نے کسی غنی کے لیے عاجزی اختیار کی اور اپنے آپ کو اس کی تعظیم اور مال و دولت کی لالچ کے لیے بچھا دیا تو ایسے شخص کی دو تہائی غیرت اور دین کا آدھا حصہ جاتا ہے۔

مفسر شہیر حکیم الامت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تکبر و ہٹ دھرمی ایمان سے روکنے والی آڑ ہے۔ (تفسیر نور العرفان، ص 796) اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس پر اڑ نہیں جانا چاہیے بلکہ اس غلطی کو درست کرنا چاہیے اور فورا معافی مانگ لینی چاہیے اور ہمیں اپنے دل میں کسی کے لیے برا گمان نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں غیبت چغلی حسد تکبر اور بدگمانی وغیرہ سے محفوظ فرمائے۔ آمین