حضور کی
عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت طارق، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
حضور نے دس
عشرہ مبشرہ صحابی کو جنت کی بشارت دی ان میں سے ہر ایک کے لیے دعاگو تھے ان پر
اعتماد کیا ان سے محبت کا اظہار فرمایا جیسے حضرت ابوبکر، حضرت عمر فاروق، حضرت
عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف،
حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم۔ جو نبی
کریم ﷺ کے ایمان اور یقین کے مظہر تھے اور ان کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا اور
ان سے محبت دراصل صحابہ کرام سے محبت ہے جو کہ ایمان کا حصہ ہے۔
اعتماد
اور ذمہ داریاں: نبی
کریم ﷺ نے اہم ذمہ داریاں ان کے سپرد کیں، جیسے حضرت عمر فاروق کا خلافت سنبھالنا
جو ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا ثبوت تھا۔
مجلس
میں خاص مقام: نبی
کریم ﷺ مجلس میں انہیں خاص مقام دیتے تھے اور ان پر اعتماد کرتے اور ان کی رائے کو
اہمیت دیتے تھے۔
حضور ﷺ نے ان
کی تربیت کی اور ان سے شفقت کا سلوک کیا جو ایک استاد اپنے شاگردوں سے محبت بھرا
سلوک کرتا ہے، صحابہ سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور عشرہ مبشرہ سے محبت اس بات
کی دلیل ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے لیے کتنے عزیز تھے یہ محبت صرف زبانی نہیں تھی
بلکہ یہ عمل سے ثابت ہوتی تھی جیسے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر حضرت
ابوبکر صدیق کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔
نبی کریم ﷺ نے
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں
اس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت میری تمام امت پر واجب ہے۔ (تاریخ
الخلفاء، ص 44)
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتے تو وہ عمر ہوتے۔
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرےرفیق عثمان غنی ہیں۔ (الریاض
النضرۃ، 1/35)
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث:
3733)
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نبی
کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی طرح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے بڑوں
اور بچوں کو بھی اس کا فیضان نصیب عطا فرمائے اور بے انتہا محبت کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت لیاقت علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضور علیہ
الصلوۃ والسلام کے دس اصحاب وہ ہیں جن کے بہشتی ہونے کی دنیا میں خبر دے دی گئی ان
کو عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔ ان میں چار تو خلفائے راشدین ہیں ان میں سے پہلے حضرت
ابوبکر،دوسرے حضرت عمر فاروق،تیسرے حضرت عثمان اور چوتھے حضرت علی رضی اللہ عنہم
ہیں باقی حضرات کے اسماء گرامی یہ ہیں: حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن
عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم
اجمعین۔
احادیث میں
بعض اور صحابہ کرام کو بھی جنت کی بشارت دی گئی ہے چنانچہ خاتون جنت حضرت فاطمہ
زہرا رضی اللہ عنہا کے حق میں وارد ہے کہ وہ جنت کی بیبیوں کی سردار ہیں اور حضرت
امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے حق میں وارد ہے کہ وہ جوانان بہشت
کے سردار ہیں اسی طرح اصحاب بدر اور اصحاب بیعۃ الرضوان کے حق میں بھی جنت کی
بشارتیں ہیں۔
صحابۂ
کرام کے لیے برکت کی دعا:
حضرت زبیر بن
عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے
خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یااللہ! تونے ابوبکر کو برکت عطا فرمائی یہ برکت اس
سے جدا نہ فرمانااور لوگ ابوبکر کی محبت پر جمع ہوگئے ہیں ان کو کبھی بھی ابوبکر
کی نفرت پر منتشر نہ فرماناکہ ابوبکر تیری رضا کو اپنی رضا پر ترجیح دیتاہے۔یا اللہ!
عمر بن خطاب کو عزت عطا فرما، عثمان بن عفان کو صبر عطا فرما، علی بن ابی طالب کی
موافقت فرما، زبیر بن عوام کو ثابت قدمی عطافرما، طلحہ بن عبید اللہ کی مغفرت
فرما، سعد بن ابی وقاص کو سلامتی عطا فرما، عبد الرحمن بن عوف کو ذخیرۂ خیر عطا
فرما۔ (اللآلی المصنوعۃ، 1/392)
اسی طرح حضرت
ابو یخامر سکسکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میٹھے میٹھے آقا ﷺ نے فرمایا: الٰہی
ابو بکر پر رحمت بھیج کیونکہ وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عمر
پر رحمت بھیج کیونکہ وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عثمان پر
رحمت بھیج بیشک وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی ابو عبیدہ بن جراح
پر رحمت بھیج پس وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عمرو بن عاص پر
درود بھیج کیونکہ وہ تیرا اور تیرے رسول کا محب ہے۔ (کنز العمال، جز: 11، 6/345،
حدیث: 33680 - الریا ض النضرۃ، 1/41- تاریخ مدینہ
دمشق، 46/136)
عشرہ
مبشرہ کے لیے رضائے مصطفےٰ کا پروانہ: حضرت سہل بن مالک روایت کرتے
ہیں کہ نبی کریم ﷺ حدیبیہ سے لوٹے تو ممبر پر تشریف لا کر اللہ کی حمد وثنا کے بعد
ارشاد فرمایا: اے لوگو! ابوبکر نے مجھے کبھی بھی دکھ نہیں دیا۔ اس بات کو اچھی طرح
سمجھ لو۔ اے لوگو! عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، عبد الرحمن بن عوف
اور اوّل مہاجرین تمام سے میں راضی ہوں اور اس بات کوبھی اچھی طرح سمجھ لو۔ (معرفۃ
الصحابۃ لابی نعیم، 2/448)
عشرہ
مبشرہ قرآنی آیت کی تفسیر: حضرت علی المرتضی شیر خدا کرّم اللہ وجہہ
الکریم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ
مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17، الانبیاء: 101) ترجمہ کنز
الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دور رکھے گئے
ہیں۔
پھر حضرت علی
المرتضی نے فرمایا: میں انہیں میں سے ہوں، ابوبکر، عمر، عثمان اورطلحہ، زبیر، سعد،
سعید، عبد الرحمن، ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم اجمعین انہیں میں سے ہیں۔
(تفسیر البیضاوی، 4/110)
صحابہ
کرام اور اہل بیتِ اطہار (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
اسلام کے وہ دو عظیم اور چمکتے ہوئے ستارے ہیں جن کی محبت، تعظیم اور پیروی دینِ
اسلام کا بنیادی حصہ ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ دونوں میں ان کے بلند
درجات، فضائل اور عظمت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ایک مسلمان کے لئے ان
دونوں سے یکساں محبت اور عقیدت رکھنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔
مسلمانوں
کے دلوں میں صحابہ و اہل بیت (رضوان اللہ علیہم اجمعین)کی
محبت و عقیدت کو اُجاگرکرنے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد
الیاس عطار قادری دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ ”شانِ صحابہ و اہل بیت“
پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا
ہے۔
دعائے
عطار
یا
اللہ پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ ” شانِ صحابہ و اہل بیت “
پڑھ یا سن لے اس کو صحابہ و اہل بیت کے فیضان سے مالا مال کر اور اس کو ماں باپ
سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیهِ واٰلہٖ وسلّم
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت فضل الحق، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
عشرہ مبشرہ وہ
خوش نصیب صحابۂ کرام تھے جنہیں آقا ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی خوش خبری عطا فرمائی
تھی، حضور ﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت گہری اور مثالی تھی، پیارے آقا ﷺ کی یہ محبت
صرف ظاہری نہیں تھی بلکہ ہر صحابی کی انفرادی خوبیوں اور الله کی رضا کے لئے ان کی
قربانیوں پر مبنی تھی، جس کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام کے مستحق ٹھہرے،
یہ محبت صحابۂ کرام کے مقام و مرتبے اور حضور ﷺ کے ان پر شفقت کے تعلق کو اجاگر
کرتی ہے، اور ان کی محبت جزوِ ایمان ہے۔
آئیے حضور ﷺ
کی عشرہ مبشرہ سے محبت کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں، چنانچہ
حضرت سعد بن
ابی وقاص رضی الله عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کی: یارسول الله ﷺ میں کون ہوں؟ آقا
ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم سعد بن مالک بن
اہیب بن عبد مناف ہو اور جو اس کے علاوہ کوئی اور نسب تمہاری طرف منسوب کرے اس پر الله
کی لعنت ہو۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3769)
حضور ﷺ نے
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو امین الامت کا لقب عطا فرمایا۔ (بخاری، 2/545، حدیث: 3744)
اسی طرح پیارے
آقا ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے لئے یوں دعا فرمائی اے الله! سعد جب بھی تجھ سے دعا کرے تو اسکی
دعا قبول فرما۔ (ترمذی، 5/418، حدیث: 3772)
اس دعائے نبوی
کی برکت سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ مستجاب الدعوات بن گئے اور ان کی ہر
دعا قبول ہوتی تھی، اس سے متعلق واقعات جامع کرامات اولیاء میں مذکور ہیں۔
اس کے علاوہ
بھی بہت سی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں جن سے آقا ﷺ کی عشرہ مبشرہ و دیگر صحابۂ
کرام سے محبت واضح نظر آتی ہے، صحابۂ کرام دنیا کے مسلمانوں سے افضل ہیں، روئے
زمین کے تمام اولیا، قطب، ابدال، کسی ایک صحابی کے گرد قدم کو بھی نہیں پہنچ سکتے
حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی عزت کرو کہ وہ تمہارے نیک ترین لوگ ہیں۔ (مشکاۃ
المصابیح، 2/413، حدیث: 6012)
الله کریم
ہمیں ان بزرگ ترین ہستیوں کے فیضان سے مالا مال فرمائے ان کے صدقے ہماری بے حساب
مغفرت فرمائے۔ آمین
حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت طاہر محمود، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
پیارے آقاﷺ کی
عشرہ مبشرہ سے محبت ان کی اسلام کے لئے بے شمار قربانیوں اور تقوی کی بنیاد پر تھی،
رسول ﷺ کا ان صحابہ کرام سے رشتہ نہایت مضبوط تھا۔ عشرہ مبشرہ سے محبت دراصل رسولﷺ
سے محبت کی علامت ہے ان کا مقام رسولﷺ کی محبت کی وجہ سے بلند ہے عشرہ مبشرہ وہ دس
صحابہ ہیں جنہیں پیارے رسولﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی تھی۔
عشرہ
مبشرہ کی تعداد اور نام: عشرہ مبشرہ کی تعداد دس ہے جن کے نام
یہ ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اعظم، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضی،
حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن
ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اللہ پاک نے
قرآن پاک میں بھی صحابہ کرام کی فضیلت کو واضح فرمایا ہے: وَ السّٰبِقُوْنَ
الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ
اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ
11، التوبۃ، 100) ترجمہ: اور سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے پیروکار جو
نیکی کے ساتھ ان کے ساتھ ہوئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ
مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17،
الانبیاء: 101) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا
وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں۔
ان صحابہ کرام
کی فضیلت پر احادیث مبارکہ بھی متواتر ہیں جن سے حضور کی ان اصحاب سے محبت کا
بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
آپ ﷺ نے
فرمایا: اگر میں اللہ کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔ (بخاری، 1/162،
حدیث: 466)
اسی طرح حضرت
عمر کے بارے میں فرمایا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ (ترمذی،5/385،
حدیث: 3706)
حضرت عثمان کے
بارے میں حضور ﷺ کی محبت اس قدر تھی کہ آپ ﷺ نے ان کی حیا کو پسند فرمایا اور ارشاد
فرمایا:کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟ (مسلم، ص 1004،
حدیث: 6209)
حضرت علی سے
محبت کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا: علی سے محبت ایمان ہے اور علی سے بغض نفاق۔ (مسلم،
ص 55، حدیث:78 ماخوذاً)
ایک مرتبہ نبی
کریم علیہ السلام حضرت ابو بکر اور عمر فاروق اعظم کے ساتھ نکلے تو آپ نے راستے
میں فرمایا: ہم تینوں جنت میں اسی طرح داخل ہونگے جس طرح دنیا میں ساتھ ہیں۔
فرمانِ حضور
ﷺ: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جن کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت
پاجاؤ گے۔
یہ احادیث اور
آیات تمام صحابہ کرام کی عظمت و شان پر واضح دلیل ہیں اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے
کہ ہم بھی ان عظیم ہستیوں کے نقش قدم پر چلیں،ان سے محبت رکھیں اور ان کے اخلاق و
کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ پاک ہمیں
صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا سینہ پیارے آقا ﷺ کی
یاد میں مدینہ بنائے۔ آمین
حضور کی
عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت شمشاد علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
جن خوش نصیبوں
نے ایمان کی حالت میں حضور پاک ﷺ کی صحبت کا شرف پایا اور ایمان کی حالت میں ہی
وفات پائی ان کو صحابہ کہتے ہیں اور عشرہ مبشرہ وہ دس خوش نصیب صحابہ ہیں جن کو
نبی کریم ﷺ نے ایک ہی جگہ پر ایک ہی جملہ میں جنت کی بشارت دی۔
عشرہ مبشرہ
صحابہ کے نام یہ ہیں: ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف، سعد
بن ابی وقاص، سعید بن زید، ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم اجمعین۔
آقا
کریم ﷺ کی ان دس اصحاب سے محبت:
حضرات
ابوبکر و عمر: فرمانِ
مصطفیٰ ﷺ: ہر نبی کے دو وزیر ہیں دو آسمان میں اور دو زمین میں: آسمان میں میرے دو
وزیر جبرائیل اور میکائیل ہیں اور دنیا میں میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہے۔ (ترمذی،
5/382، حدیث 3700)
حضرت
عثمان غنی: نبی
پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: عثمان میرے خلق میں میرے سب صحابہ سے زیادہ میرے مشابہ ہیں۔
(تاریخ الحلفا، ص 228)
حضرت
مولا علی: آقا
کریم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا اس کا علی بھی مولا ہے۔ (ترمذی، 5/398، حدیث:
3733)
حضرت
طلحہ: نبی
پاک ﷺ نے فرمایا: طلحہ کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ (ترمذی، 5/412، حدیث: 3759)
حضرت
زبیر بن العوام: نبی
پاک ﷺ نے نو صحابہ کے ساتھ ساتھ ان صحابہ کا نام لے کر ارشاد فرمایا: زبیر جنتی
ہیں۔ (ترمذی،5/416، حدیث: 3768)
حضرت
عبدالرحمن بن عوف: نبی پاک ﷺ نے
فرمایا: عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)
حضرت
سعد بن ابی وقاص:
نبی پاک ﷺ نے فرمایا: اے سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ (بخاری،3/37، حدیث:4055)
حضرت
سعید بن زید: نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: سعید بن زید جنتی ہیں۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)
حضرت
ابو عبیدہ بن الجراح: نبی پاک ﷺنے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور
اس امت کا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے۔(بخاری، 2/545، حدیث:3744)
نبی پاک ﷺ نے
فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں عمر جنّتی ہیں عثمان جنتی ہیں علی جنتی ہیں طلحہ جنتی
ہیں زبیر جنتی ہیں عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں سعید بن
زید جنتی ہیں ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہیں صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)
صحابہ سے محبت
ایمان کا لازمی جزو ہے اور ان عشرہ مبشرہ صحابہ کرام کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین
نمونہ ہیں ان کا صبر ان کی آقا ﷺسے محبت اور عبادت میں استقامت ہماری زندگیوں کو
نیکی میں گزارنے کے لیے عملی نمونہ ہیں۔
صحابہ کرام کی
افضلیت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے کرتے ہیں: نبی پاک ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ
ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے فلاح و ہدایت پاجاؤ گے۔ (مشکاۃ
المصابیح، 2/414، حدیث: 6018-الشفا، 2/53)
اللہ پاک ہمیں
بھی ان عشرہ مبشرہ صحابہ کا ادب کرنے ان سے محبت کرنے ان کا فیض لینے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین یارب العالمین
حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت نصیر احمد،جامعۃ المدینہ خالد ٹاؤن اوکاڑہ
عشرہ کے معنیٰ
ہیں ”دس“ اور مبشرہ کے معنی ہیں ”خوشخبری دیے ہوئے“۔ یعنی وہ دس جلیل القدر،عظیم
اور خوش نصیب صحابہ جنہیں پیارے آقا ﷺ نے دنیا ہی میں نام بنام جنتی ہونے کی نوید
دی۔ یوں تو ہر صحابی کی ہی بہت شان ہے لیکن عشرہ مبشرہ کی شجاعت، ایثار، وفاداری،جذبہ
عشق و محبت اور جس انداز سے راہ خدا میں انہوں نے اپنا تن من دھن قربان کیا اس کی
مثال نہیں ملتی۔
چنانچہ حضرت
عبدالرحمٰن بن حمید رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید
رضی اللہ عنہ نےایک مجلس میں انہیں یہ حدیث بیان کی کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
دس آدمی جنّتی ہیں: ابوبکر جنّتی ہیں، عمر جنّتی ہیں،عثمان،علی، زبیر، طلحہ،عبد الرّحمٰن
بن عوف، ابوعبیدہ بن جراح اور سعد بن ابی وقاص جنّتی ہیں۔
حضرت سعید بن
زید رضی اللہ عنہ نو افراد کے نام بتا کر دسویں پر خاموش ہوگئے، لوگوں نے کہا:اے
ابو الاعور! ہم آپ کو اللہ کی قسم دےکر پوچھتے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ فرمایا: تم
نے مجھے قسم دی ہے تو سنو! دسواں فرد ابوالاعور ہے (ابوالاعور حضرت سعید بن زید کی
کنیت ہے) ۔
عشرہ مبشرہ کا
شرف پانے والےحضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نہایت،متقی، پرہیزگار، باوقار شخصیت
کے حامل یہ وہ صحابی ہیں کہ جنہوں نے اپنی ساری عمر دین حنیف پر قربان کر دی۔دنیا
سے بے نیاز اور عشق مصطفی میں ہر لمحہ سرگرداں رہنے والے یہ وہ صحابی ہیں کہ جن کے
اندازِ عشق و محبت نے رسول اللہ ﷺ کا دل مبارک جیت لیا آپ نے فرمایا: اور سعید بن
زید جنتی ہے۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3768)
خلیفہ
اول حضرت ابوبکر صدیق: ان شان والے صحابی سے کون واقف نہ ہو گا جو سخاوت
کے دریا، پیکر صدق و وفا، یار غار ہیں کہ جن کی اداؤں پہ فرشتے بھی عاشق ہیں۔ ان
کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے سیدی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انسانوں میں
جس نے سب سے زیادہ میرا ساتھ دیا اور مجھ پر مال خرچ کیا وہ ابوبکر ہیں اللہ کے
سوا اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا وہ میرے اسلامی بھائی ہیں۔(بخاری،
1/162، حدیث: 466)
خلیفہ
دوم حضرت عمر فاروق: بارعب اور پروقار شخصیت کہ جن سے شیطان بھی ڈرتا
تھا۔خشیت الہی میں ہر لمحہ ڈوبے ہوئے یہ وہ صحابی ہیں کہ جن کے قبول اسلام کے لیے
خصوصاً حضور ﷺ نے دعا فرمائی۔ آپ ﷺ ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جس نے عمر کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے عمر کے ساتھ محبت کی اس نے
میرے ساتھ محبت کی۔ اللہ عرفہ والوں پر بالعموم اور حضرت عمر پر بالخصوص فرشتوں کے
سامنے فخر کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے جو بھی نبی بھیجا اس کی امت میں محدث ہوا ہے اور
اگر میری امت میں کوئی شخص محدث ہے تو وہ حضرت عمر ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا
رسول اللہ ﷺ! محدث کیسے ہوتا ہے؟ فرمایا: جس کی زبان سے فرشتے کلام کرتے ہیں۔ (معجم
اوسط، 5/102، حدیث:6726)
مشہور جلیل
قدر تابعی کبیر امام مسروق بن الاجدع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ابوبکر اور عمر
سے محبت کرنا اور ان کی فضیلت پہچاننا سنت ہے۔
خلیفہ
سوم حضرت عثمان غنی: حسن و جمال کے پیکر، شرم و حیا کے خوگر باکمال
اخلاق کے حامل وہ صحابی کہ جن سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔سیدی رسول اللہ ﷺ کو اس
قدر عزیز تھے کہ آپ انہیں محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے فرماتے ہیں: اے عثمان!
اگر میری 40 بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے ان سب کا نکاح تم سے کر دیتا
یہاں تک کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔ ابن عدی اور ابن عساکر نقل کرتے ہیں
کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہم حضرت عثمان
کو اپنے باپ حضرت ابراہیم سے مشابہ پاتے ہیں۔
خلیفہ
چہارم حضرت علی: شاہ
مرداں، فاتح خیبر،،علم و حکمت کے میدان کے شہسوار،شیر خدا یہ وہ صحابی ہیں جو رسول
اللہ ﷺ کو اتنے پیارے تھے کہ ان کو محبت سے یاد کرتے ہوئے فرمایا: علی مجھ سے ہیں
میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3740)
امام بخاری
اور امام مسلم نقل کرتے ہیں، حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے
غزوہ تبوک میں آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا۔آپ نے عرض کی: یا
رسول اللہ! کیا آپ مجھے یہاں عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ سیدی رسول
اللہ ﷺ نے ان پر مبارک نگاہیں جمائےفرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ
تمہارا مرتبہ میرے ہاں وہی ہو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاں حضرت ہارون کا تھا،
البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (تاریخ
الخلفاء، ص 132، 133 ماخوذاً
حضرت
زبیر بن العوام: حاملین
عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہستی حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نہایت جری، ہمت و
شجاعت کے پیکر وہ دلیر صحابی ہیں کہ تقوی و پرہیز گاری جن کا خاصہ تھا حضور پر نور
کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ حضور ﷺ کی ان سے محبت محض رشتے داری کی بنیاد پر نہیں
تھی بلکہ ان کی قربانیوں،دین اسلام سے محبت اور وفا نے سیدی رسول اللہ ﷺ کو اتنا
متاثر کیا کہ جوش محبت سے آپ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے، میرا حواری
زبیر ہے۔
حضرت
طلحہ بن عبیداللہ: سیدی رسول اللہ ﷺ سے طلحۃ الخیر، طلحۃالفیّاض اور
طلحۃالجود کے القابات پانے والے وہ عظیم صحابی ہیں کہ عشق مصطفیٰ میں جن کا قلب
اطہر ہر لمحہ جھومتا رہتا تھا۔
غزوہ احد کے
موقع پر جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا سر اقدس زخمی ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ
نے ہاتھ پکڑا سیدنا طلحہ نے کمر مبارک کو سہارا دیا سیدہ فاطمۃ الزہرا نے خون
دھویا کمزوری کے باعث پہاڑی پر نہ چڑھ سکے تو حضرت طلحہ نے اپنے کندھے پیش کیے
حضور نے ان کندھوں پر قدم رکھے اور اوپر چڑھ گئے۔ ان کی عقیدت کو دیکھ کر آپ ﷺ نے
محبت بھرے انداز میں فرمایا: طلحہ نے اپنے اوپر جنت لازم کر لی۔ (ترمذی، 5/412، حدیث:3759)
حضرت
عبد الرحمٰن بن عوف: عشرہ مبشرہ کے ایک روشن چراغ حضرت عبدالرحمن بن عوف
رضی اللہ عنہ امامتِ رسول کا شرف پانے والے، حضور کے ظاہری وصال کے بعد امہات
المومنین کی کفالت کرنے والے اور بارگاہ رسالت سے الصّادق البار کا لقب پانے والے
یہ وہ عظیم صحابی ہیں کہ جن کی سخاوت و فیاضی اور باکمال تجارت کے مد نظر سیدی
رسول اللہ ﷺ نے انہیں اللہ پاک کے تاجروں میں سے قرار دیا۔
سیدی رسول
اللہ ﷺ اور اہلِ بیت سے محبت حضرت عبدالرحمن بن عوف کا عقیدہ تھا۔ ایک مرتبہ سرکار
دوجہاں ﷺ نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دلائی تو حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی
اللہ عنہ نے آدھا مال گھر والوں کے لئے چھوڑا اور بقیہ آدھا مال راہ خدا میں پیش
کردیا۔اس پر نبی کریم ﷺ نے آپ کو دعا سے نوازا کہ اللہ کریم اس میں برکت عطا
فرمائے جو تم نے دیا اور اس میں بھی جو اہل و عیال کے لئے رکھ چھوڑا۔ (خازن،2/265)
آپ ﷺ کی اس
محبت بھری دعا کا یہ اثر ہوا کہ آپ اپنے دور کے امیر اور کامیاب ترین تاجر ٹھرے۔
حضرت
سعد بن ابی وقاص: انہیں
عشرہ مبشرہ میں سے ایک نامور شخصیت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ میدان جنگ
میں ہمت و شجاعت اور دلیری کے بے تاج بادشاہ، تیر اندازی کے زبردست ماہر اور محبوب
خدا ﷺ پر جان نچھاور کر دینے والے یہ وہ باکمال،قدیم الاسلام صحابی ہیں کہ جن
کیلئے حضور اقدس ﷺ نے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر یہ دعا فرمائی: اے
اللہ! ان کے تیر کے نشانہ کو درست فرمادے اور ان کی دعا کو مقبول فرما۔
غزوہ احد کے
موقع پر آپ ﷺ نے اپنے تمام تر تیر حضرت سعد بن ابی وقاص کے سپرد کر دیئے اور
فرمایا: اے سعد! میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں تیر اندازی کرو۔ (بخاری،3/37، حدیث:4055)
حضرت علی
فرماتے ہیں: سعد بن ابی وقاص کے علاوہ حضور نے کسی کو یہ الفاظ نہیں فرمائے۔
حضرت
ابوعبیدہ بن الجراح: عشرہ مبشرہ کے آخری ستارے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح
رضی اللہ عنہ نہایت ذہین و فطین، عابد و زاہد، جنگی امور کے ماہر یہ وہ خوش نصیب
صحابی ہیں جنہیں بارگاہ رسالت سے امین الامت کا خطاب ملا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک
روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت
کے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔ (بخاری، 2/545، حدیث:3744)
دامن
مصطفی سے جو لپٹا یگانہ ہو گیا جس
کے حضور ہو گئے، اس کا زمانہ ہو گیا
بے شک یہ وہ
صحابی ہیں جنہوں نے دامنِ مصطفی کو یوں تھاما کہ رہتی دنیا تک کائنات کی ہر شے ان
کا ذکر خیر کرتی رہے گی۔
مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت قیصر محمود،فیضان فاطمۃ الزہراء نارووال
اللہ پاک
نے مسلمانوں کو بہترین امت بنایا ہے جس کی اساس بلند اخلاق اور حیا پر ہے ۔ ارشادِ
باری ہے:كُنْتُمْ خَیْرَ
اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(پ 4، الِ عمرٰن:110)ترجمہ: (اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت ) کے
لئے ظاہر کی گئی۔
لیکن
موجودہ دور کا ایک بڑا المیہ مغربی زندگی ہے، جہاں اپنی روشن روایات کو چھوڑ کر اغیار کی
نقالی کو ترقی کا زینہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ اندھی تقلید محض لباس یا وضع قطع تک
محدود نہیں بلکہ ہمارے عقائد اور معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
حیا کا جنازہ اور اخلاقی پستی:مغربی
تہذیب کی تقلید کا سب سے پہلا وار ہماری حیا پر ہوا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے:اَلْحَيَاءُ مِنَ الْاِيمَانِ یعنی
حیا ایمان کا حصہ ہے۔
(
بخاری، 1/ 19، حدیث: 24)
مغرب
نے آزادیِ اظہار اور فیشن کے نام پر بے پردگی اور اختلاطِ مرد و زن کو فروغ دیا۔
جب معاشرے سے حیا اٹھ جائے تو اخلاقی اقدار خود بخود دم توڑ دیتی ہیں۔مکتبۃ المدینہ
کی کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب میں
اس بات کی وضاحت ملتی ہے کہ کس طرح غیر شرعی فیشن کی پیروی انسان کو گناہوں کی
دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔
خاندانی نظام کی تباہی :مغربی
معاشرہ انفرادیت پسندی کا شکار ہے جہاں خونی رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔وہاں
والدین کو اولڈ ہومز بھیجنا ایک معمول ہے۔ ہم نے جب ان کی طرزِ زندگی
کو اپنایا تو ہمارے ہاں بھی مشترکہ خاندانی نظام بکھرنے لگا۔امیرِ اہلِ سنت دامت
برکاتہم العالیہ اپنی کتب میں والدین کی اطاعت اور رشتوں کے احترام پر بہت زور دیتے
ہیں۔ مغربی تہذیب کی تقلید نے ہمیں اپنوں سے دور کر کے نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، کیونکہ
سکون اپنوں کی خدمت اور قربت میں ہے، نہ کہ غیروں کے کلچر میں۔
ذہنی غلامی اور احساسِ کمتری:
کسی
دوسری قوم کی اندھی تقلید در اصل اپنی شناخت سے محرومی اور ذہنی مغلوبیت کی علامت
ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ میں کئی مقامات پر کفار کی
مشابہت سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔مغرب کی سائنسی ایجادات سے فائدہ اٹھانا الگ
بات ہے، لیکن ان کے طرزِ حیات کو اپنا لینا ایک ایسی ذہنی غلامی ہے جو انسان کو
اپنے دین پر فخر کرنے سے روک دیتی ہے۔
مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت محمد اسلم،منڈی بہاء الدین پنجاب پاکستان
پچھلی
کچھ دہائیوں سے مغربیت تمام دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔افسوس ناک یہ ہے کہ تقریباً تمام عالمِ اسلام مغربی کلچر کا لبادہ اوڑھنے کی طرف گامزن ہے۔
کفار کی مادی ترقی کو دیکھ کر عالمِ اسلام کی آنکھیں چندھیائی ہوئی ہیں ۔مسلم
ممالک ان کی ترقی کی اصل وجوہات اور ان کفار کے اخروی انجام کو سمجھے بغیر ،مغرب کے ظاہری کلچر کو ترقی
کا سبب جانتے ہیں حالانکہ یہ تو وہ ہیں جو سر درد کو آسیبی بیماری خیال کرتے اور جوتے مار کر علاج کرتے ۔ان کے
پاس تمام علوم مسلمانوں کے چوری شدہ ہیں اور یہ لوگ مسلمانوں کی تحقیقات و علوم کو ترجمہ کر کے اپنے ناموں سے شائع کرواتے ہیں۔مسلمان
اپنی ترقی کے لیے اسلامی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر مغربی رسوم و رواج کو اپنانے کی
تگ و دو میں ہیں۔مگر بجائے ترقی کے تنزلی کے گڑھوں میں گرتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ
یہ بات تو ظاہر ہے آفتاب مغرب کی طرف مائل ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر زبردست آب
و تاب کے باوجود ڈوب جاتا ہے ۔لہٰذا تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان اسلام پر عمل کرتے
رہے تمام دنیا پر چھائے رہے۔طب، سائنس ،ریاضیات،جغرافیہ،فلکیات غرض ہر میدان میں
کارنامے دکھائے مگر جب سے دین کو چھوڑا تو
کوئی خاطر خواہ ترقی ہونے کے بجائے در بدر رسوا ہیں ۔
نہ دین کے رہے نہ دنیا کے
نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن
اسلام دشمن مفکروں نے مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے
فکر پیش کی کہ مغرب کو ترقی اس طرح ملی کہ انہوں نے مذہب اور سائنس کو دو الگ الگ
چیزیں سمجھا ۔مسلم عوام میں سے دین میں ڈانواں ڈول لوگوں نے اس سوچ کو قبول کیا،دین
سے ہٹ کر ترقی کی راہیں دیکھنے لگے اور دینِ اسلام کے متصادم اصول بنائے لیکن سر توڑ
کوشش کے باوجود خاطر خواہ ترقی حاصل نہیں
کر پا رہے ۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
ایک اہم
المیہ مخلوط مغربی کلچر ہے جس کی نقالی مسلم ممالک میں کی جارہی ہے ۔مخلوط کلچر میں
اسلام کی بہت سی حدود کو پامال کیا جاتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بےپردگی عام ہو
رہی ہے اور شرم و حیا کا تصور ہی ختم ہو
رہا ہے۔اللہ ورسول ﷺکی ناراضی کے علاوہ دنیاوی نقصان بھی کثیر ہیں مثلاً: نا جائز
بچوں کی پیدائش ، طلاق کی شرح میں اضافہ ،مختلف قسم کے خطرناک ایڈز مثلاً:HIV ایڈز وغیرہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔لڑکے لڑکیوں کے میل ملاپ سے نا جائز
تعلقات پیدا ہوتے ہیں،پھر بلیک میلنگ کا سلسلہ چلتا ہے جس کا انجام یا تو مزید
بدکاری ہوتا ہے یا پھر خودکشی کے کیسز بڑھتے ہیں ۔
مسلمان
عورت مغربی عورت کی عیاشی،فحاشی و عریانی اور نام نہاد آزادی کو دیکھ کر اپنی آزادی کی رٹ لگانے میں مصروف ہے۔مسلمان
عورت سمجھتی ہے کہ آدھے کپڑے پہن لینا آزادی ہے ۔وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی
کہ مغربی عورت کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔عورت مرد کے شانہ بشانہ
ہونے کے شوق میں حیا کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر بے پردہ ہو کر باہر نکلتی
ہے۔انسانی صورت میں شیطان اسے ہڑپ کرنے کے
لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں نتیجتا ًریپ اور
زیادتی کے کیسز بنتے ہیں، کچھ کیسز کو دبا دیا جاتا ہے،کچھ نیوز چینلز پر چلتے ہیں
اور غیرت و عزت کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں پھر یہ عورت انصاف کی بھیک مانگتی نظر آتی
ہے ۔ آئے روز اولڈ ہاؤسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔اسلامی تعلیمات سے واقف نہ
ہونے کی وجہ سے مغرب کی دیکھا دیکھی والدین کو اولڈ ہاؤسز میں چھوڑا جا رہا ہے ۔وہ
اولاد جس کو والدین کا سہارا بننا تھا اور والدین نے اسے بڑھاپے کے سہارے کے لیے
پال پوس کر جوان کیا وہ انہیں سسکتا ہوا اولڈ ہاؤس میں چھوڑ آتی ہے۔پھر تنہائی کے
احساس کو ختم کرنے کے لیے ڈھیروں رقم کے عوض کتے کو ساتھی بنا لیا جاتا ہے۔اسلامی
جمہوری نظام کو چھوڑ کر معیشت کی بہتری کے لئے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام اپنایا گیا جس سے معاشرے میں مسلسل عوام کا
استحصال کیا جاتا ہے نتیجتاً امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔اس
نظام کے تحت خوشحال معاشرہ وجود میں نہیں آ سکتا کیونکہ درحقیقت فرد کی ترقی ہی کسی
ملک یا معاشرے کی ترقی ہے ۔
پچھلے
دنوں ایک رپورٹ کے تحت پتا چلا کہ کسی کافر ملک میں بہت ساری دمیں(tail
)بیچی گئیں جو انسانوں کے لئے بنائی گئی تھیں۔
انگریز ڈارون کے نظریے کی پیروی کرتے ہیں جس کے
مطابق انسان بندر سے وجود میں آیا لہٰذا یہ دُمیں لگانے والے اپنی اصل (جو ان کے
نزدیک ایک جانور ہے)کی طرف لوٹ رہے ہیں اس
سے اور دیگر بہت ساری ابحاث سے ظاہر ہوتا
ہے کہ یہ کفار کس حد تک گرے ہوئے لوگ ہیں۔ابھی صرف یہ پستی ان کا مقدر نہیں بلکہ
دوزخ کے گہرے کنویں میں ابدی سزا ان کے کفر کا بدلہ ہے ۔رہا ان کا مادی قوت میں
برتری کاہونا تو اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: مَنْ كَانَ یُرِیْدُ
الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ
جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَۚ-یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۱۸) وَ مَنْ اَرَادَ
الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ
سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹)(پ15،بنی اسرائیل:19،18)ترجمۂ
کنزُالعِرفان:جو جلدی والی (دنیا)چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں اس کیلئے دنیا میں
جو چاہتے ہیں جلد دیدیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنارکھی ہے جس میں وہ
مذموم،مردود ہوکر داخل ہوگا۔ اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے
جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی
جائے گی۔
ایک
اور آیت میں ارشاد فرمایا:قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ
اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ
اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ(۱۵)(پ3،ال عمرٰن:15)کنزُ العِرفان:
(اے حبیب!)تم فرماؤ،(اے لوگو!)کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں؟ (سنو،وہ
یہ ہے کہ)پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں
ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے اور(وہاں)پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی خوشنودی ہے اور
اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت محمد پرویز اقبال،فیضان ام عطار گلبہار
سیالکوٹ
آ ج
دنیا میں دیکھا جائے تو ہر طرف زیادہ تر غیر مسلم کے رسم و رواج اپنائے جارہے ہیں
ہمارے کھا نے،پینے،کسی سے ملاقات کرنے،رہن سہن یہاں تک کہ ہمارے گفتگو کرنے کے انداز میں
بھی غیر مذہبوں کے طریقے کار آ چکے ہیں۔مسلمان بھی غیر مذہب والوں کی مشابہت کرتے
ہیں۔ نوجوان نسل کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم بھی ان کی طرح نظر آئیں ،ان کی طرح کے
فیشن اپنائیں اور ہم لوگوں میں نمایاں نظر آئیں جس کی وجہ سے آج دنیا میں بہت برے
نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پہلا نتیجہ:اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتاہے:وَ لَا تَقْرَبُوا
الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ15،بنی
اسرائیل:32 ) ترجمہ کنز الایمان:اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور
بہت ہی بری راہ۔
دیکھا
جائے تو سنت کے مطابق لباس پہنا بہت کم ہو چکا ہے اور زیادہ لوگ غیر مذہب والوں کے
لباس اپناتے ہیں جس کی وجہ سے بے حیائی والے فیشن عام ہوتے جارہے ہیں جبکہ فرمانِ
مصطفےٰ ﷺہے:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نےمجھ سے محبت
کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔(مشکاۃ المصابیح،1/55، حدیث: 175)
لوگ
بغیر دیکھے،بغیر سمجھے مغربی تہذیب کے رسم و رواج اپناتے ہیں کہ ان کو ذرا بھی یہ
گمان نہیں ہوتا کہ ہم یہ رسم و رواج نہیں اپنا رہے بلکہ دینِ اسلام سے دور ہو رہے
ہیں۔
دوسرا نتیجہ:ہمارے
پیارے دینِ اسلام نے اس بات کی ممانعت کی ہے کہ بد مذہبوں سے دو ستی یا محبت نہ
رکھی جائے کہ جب ان سے دوستی ہو گی تو ان کی محبت بھی دل میں جگہ لے گی اور آہستہ
آہستہ ہم ان کی طرف مائل ہونا شروع ہو جائیں گی اور ان کے طریقے کار کی پیروی کرنے
لگ جائیں گی۔
کفار
کے ساتھ دوستی کرنے کا حکم: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ
حضرت سید سلیمان اشرف بہاری کے قلم سے ملاحظہ ہو: کافر کے ساتھ دلی دوستی اور قلبی
محبت کفر ہے اس حکم میں کفار و ہند اور کفار و یورپ سب مساوی ہیں۔( النور ،ص104) دیکھا
جائے تو شادیوں میں مغربی تہذیب کی نقل کی جاتی ہے جیسے:گانے بجانے وغیرہ ،دلہن کی
انٹری کروائی جاتی ہے،لڑکیاں پردہ کرنے کے بجائے غیر مسلم لڑکیوں کی طرح بے حیائی
والے کپڑے پہنتی ہیں، لڑکے سنت کے مطابق داڑھی رکھنے کے بجائے داڑھی منڈوا کر
پھرتے ہیں،یورپی ممالک ہمیں روشن خیالی کا ذہن دیتے ہیں،اس میں کتنا بڑا نقصان ہے یہ
تو کوئی با شعور اور اپنے دین سے محبت کرنے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔ اپنے دین کا
نقصان ہو گا تو اس سے بڑھ کر تو کوئی برا نقصان یا نتیجہ نہیں ہوسکتا یعنی اس کا
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مغربی تہذیب کی نقل کرنے سے ہمارے دین کو بلندی حاصل نہیں
ہوگی بلکہ دین میں کمی واقع ہو گی اورمسلم
تحریک کے بجائے غیر مسلم تحریک دنیا پر حکومت کرے گی ۔
مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت محمد انور،تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
تہذیب
سے مراد کسی قوم یا معاشرے کا وہ مکمل طرزِ زندگی ہے جس میں اس کے رہن سہن، لباس،
زبان، رسم و رواج، اخلاق،سوچ، تعلیم اور معاشرتی اقدار شامل ہوتی ہیں۔ یہ تمام چیزیں
کسی قوم کی پہچان ہوتیں ہیں اور اسی سے اس کے افکار اور کردار کی تشکیل ہوتی ہے
اور معاشرہ کس راہ پر ہے یہ واضع ہوتا ہے۔
مغربی
معاشرے نے جہاں سائنس کی دنیا میں قدم رکھ کر انسانی زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا
کی ہیں،وہیں اخلاقی اقدار اور روحانی قدروں سے دوری کے باعث کئی سماجی مسائل کو بھی
جنم دیا ہے۔
آج کا مسلمان معاشرہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے
جہاں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید عام ہوتی جا رہی ہے،جس کے منفی اثرات ہماری اخلاقی،
سماجی اور دینی زندگی پر نمایاں ہو رہے ہیں۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ
اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِـعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا
عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْــٴًـا
وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۷۰)(پ2،البقرۃ:170)ترجمہ
کنز الایمان:اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر
چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے
ہوں نہ ہدایت۔
انسان
جب اللہ کریم کے بتائے ہوئے احکام کے بجائے باپ داد یا کسی غالب تہذیب کی اندھی
تقلید میں لگ جاتا ہے تو فکری گمراہی کو پروانا چڑھتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
مَنْ
تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ یعنی جوکسی قوم سے مشابہت اختیار کرے
گا تووہ انہی میں سے ہو گا۔ (ابو داود، 4/62،حدیث:4031)
کہا
جاتا ہے کہ جو اپنی مدد آپ کرتا ہے اللہ پاک اس کی مدد کرتا ہے لیکن جب ایک انسان اپنی
پہچان خود نہ بنائے بلکہ دوسروں کی اندھی تقلید کرے تو یہ اس کو اللہ اور رسول ﷺ کی
تعلیمات سے ہٹ کر مغربی سوچ کو حق و باطل کا معیار بنا دیتی ہے، جس سے صحیح اور
غلط میں تمیز ختم ہو جاتی ہے،پھر جو تنائج سامنے آتے ہیں وہ درج ذیل ہیں :
1: دینی اقدار سے دوری:مغربی تہذیب کی نقالی کے نتیجے میں
نماز،پردہ، حیا اور حلال و حرام کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور انسان آہستہ آہستہ دینی
اعمال سے غافل ہو جاتا ہے،اسے شخصی آزادی کا نام دیا جاتا ہے۔
2: اخلاقی زوال:بے حیائی،خود غرضی،جھوٹ،والدین کی
نافرمانی اور بد تمیزی جیسی اخلاقی برائیاں عام ہو جاتی ہیں، جن سے معاشرہ بگاڑ کا
شکار ہو جاتا ہے ۔
3:خاندانی نظام کی کمزوری:مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے
باعث بڑوں کا احترام ختم ہو جاتا ہے،والدین اور اولاد میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور
خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔
4: تہذیبی و ثقافتی شناخت کا خاتمہ:اپنی
زبان،لباس اور اسلامی روایات کو چھوڑ کر مغربی طرزِ زندگی اپنانے سے قوم کی اپنی
پہچان مٹنے لگتی ہے اور احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔
5: معاشرتی بے سکونی:
مادہ
پرستی اور خواہشات کی پیروی کے باعث قناعت ختم ہو جاتی ہے،جس سے حسد، مقابلہ بازی
اور معاشرتی انتشار بڑھتا ہے۔
6: ایمانی کمزوری:غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے ایمان
کمزور ہوتا ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید دینی، اخلاقی اور معاشرتی تباہی کا سبب
بنتی ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی اسلامی تہذیب اور
اقدار کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔افسوس!آج مسلمان مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ
سمجھتے ہیں حالانکہ ترقی لباس کی خاص وضع اور عورتوں کو بے پردہ کردینے میں نہیں
بلکہ کامیابی کا راستہ صراطِ مستقیم ہے ۔
غیر
مسلموں کی نقالی دلوں کو سیاہ کر دیتی ہے اور آہستہ آہستہ انسان دین سے دور ہو
جاتا ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی پہچان اسلامی رکھیں۔کیونکہ کافروں کے
ساتھ مشابہت اختیار کرنا نا جائز اور ایمان
کے لیے خطرناک ہے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا
مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ
لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا۪-وَّ جَعَلْنَا
الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ
اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ(۶) (پ7، الانعام:6)ترجمہ
کنز الایمان:کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں
ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا اور
ان کے نیچے نہریں بہائیں تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ان کے
بعد اور سنگت اٹھائی۔
اس آیت
سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دنیوی خوشحالی ،مال و دولت اور سہولیات کی کثرت اللہ پاک
کی رضا مندی کی علامت نہیں ورنہ قارون بہت بڑا مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہوتا۔یہاں سے
ان لوگوں کو درس حاصل کرنا چاہیے جو مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی دنیوی ترقی،
سائنسی مہارت،سہولیات کی کثرت،ایجادات کی بہتات، مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر
انہیں بارگاہِ الٰہی میں مقبول اور مسلمانوں کو مردود سمجھتے ہیں اور اخلاق و
کردار میں مسلمانوں کو کفار کی تقلید کامشورہ دیتے ہیں۔ کفار کی یہ دنیوی کامیابی
مقبولیت کی نہیں بلکہ مہلت کی دلیل ہے کیونکہ اللہ پاک کا قانون ہے کہ وہ کافروں کی
جلد پکڑ نہیں فرماتا بلکہ انہیں مہلت دیتا اور آسائشیں عطا فرماتا ہے،پھر انہیں
اپنے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔نیز نام نہاد دانشور،مسلمانوں کو مغربی ممالک کی اندھی
تقلید کا نہ ہی فرمائیں تو بہتر ہے اور وہ اپنی قارونی سوچ اپنے پاس ہی رکھیں۔(تفسیر
صراط الجنان،3/69)
ترقی
کے نام پر مغربی تہذیب کی اندھی تقلید انسان کو وقتی ترقی تو دے سکتی ہے مگر اسلام
کی روشن تعلیمات سے محروم کر دیتی ہے۔ایک مسلمان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ
علم و سائنس سے فائدہ اٹھائے مگر اپنی اسلامی شناخت اور اخلاقی اصولوں کو مضبوطی
سے تھامے رکھے۔قرآن و سنت کی راہ نمائی سے منہ موڑ کر کسی بھی غالب تہذیب کی اندھی
پیروی معاشرتی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔
اسی
حقیقت کو شاعرِ مشرق ڈاکٹر اقبال نے نہایت بلیغ انداز میں تمثیلاً یوں بیان کیا
ہے:
یہی درس دیتا ہے ہر شام کا ڈوبتا سورج
کہ مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے
مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت محمد نواز ،پاکپورہ سیالکوٹ
مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید ایک ایسا رجحان ہے جو رفتہ رفتہ ہماری دینی،اخلاقی اور
معاشرتی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ترقی اور جدت کے نام پر جب بغیر سوچے سمجھے
مغرب کے طور طریقے اپنائیں جائیں تو اس کے کئی منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔
دینی کمزوری:اندھی تقلید سے سب سے پہلا نقصان دین
پر پڑتا ہے،یوں کہ عبادات میں سستی،حیا میں کمی اور حلال و حرام کی تمیز ختم ہونے
لگتی ہے۔
اخلاقی زوال:مغربی
معاشرے میں آزادی کے نام پر بے حیائی،فحاشی اور اخلاقی حدود کی پامالی عام ہے لیکن جب یہ رجحانات ہمارے معاشرے میں آتے ہیں تو
شرم و حیا،ادب و احترام اور خاندانی اقتدار کمزور ہو جاتے ہیں۔
خاندانی نظام کی تباہی:مغربی
تہذیب کے طرزِ زندگی کی نقالی سے والدین کی نافرمانی،شادی میں تاخیر،طلاق کی کثرت
اور خاندان کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے حالانکہ اسلام خاندان کو معاشرے کی بنیاد
قرار دیتا ہے۔
Dawateislami