مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت شفاقت علی، پاکپوره جیل روڈ سیالکوٹ
دینِ
اسلام ایسا پاکیزہ مذہب ہے جو انسانی زندگی سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کی
صلاحیت رکھتا ہے۔اس دین کا سب سے نمایاں امتیاز یہ ہے کہ اللہ پاک کے رسول ﷺ نے
اپنی حیاتِ مبارکہ میں تمام مسائل کو عملی جامہ پہنا کر آنے والی اُمتِ مسلمہ کے لیے
مکمل ہدایت فراہم کی لیکن صد افسوس کہ دنیا میں چند ایسی ماڈرن تہذیبیں جنم لے چکی
ہیں جو اسلامی شاہراہ سے بالکل ہٹ کر ہیں،انہی میں سے آج کی مغربی تہذیب بھی ہے جو
اپنی ظاہری جاذبیت اور دلکشی کے باعث پوری دنیا
کا محور بن چکی ہے جس کے نقصان دہ
اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں اور جیسا کہ مغربی طرز کے لباس جیسے جینز، ٹی شرٹس
وغیرہ کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کا بھی بہت غلط استعمال ہو رہا
ہے جو مغربی تہذیب کو فروغ دے رہا ہے اور لوگوں کا رہن سہن بھی مغربی طرز کے مطابق
ہو رہا ہے، مغربی طرز کے تعلیمی نظام کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے،لوگوں کی نظر میں
اسلامی تعلیمی نظام کی اہمیت کم ہو رہی ہے،مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے ہماری
اخلاقیات پر برا اثر پڑ رہا ہے،ہمارے معاشرے میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے،لوگوں کے درمیان
تعلقات خراب ہو رہے ہیں،لوگ دین سے دور ہو رہے ہیں،ہمارے نواجوان گمراہ ہو کر اپنی
زندگی کے مقاصد کو بھول رہے ہیں۔اسی طرح آج کل غیر مسلموں کی نقالی کر کے یکم اپریل
کو اپریل فول یعنی جھوٹ کا تہوار منایا جاتا ہے جو شرعی طور پر بالکل غلط ہے۔اکثر
اس موقع پر جو مذاق کیے گئے ان کے اثرات منفی ہی ظاہر ہوئے اور لوگوں کو نقصان کا
سامنا بھی کرنا پڑا ۔اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اَنَّ هٰذَا
صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ
فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۵۳)(پ7،الانعام:
153)ترجمہ: اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور
دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ راہیں تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی ۔ تمہیں
یہ حکم فرمایا ہے تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ۔
یہاں دوسرے راستوں سے مرادوہ راستے ہیں جو اسلام کے خلاف
ہوں یہودیت ہو یا نصرانیت یا اور کوئی ملت۔لہٰذا اگر تم اسلام کے خلاف راستے پر
چلے تواللہ پاک کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے۔صوفیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم فرماتے
ہیں کہ معاملات کی خرابی عبادات کی خرابی تک پہنچا دیتی ہے اور عبادات کی خرابی
کبھی عقائد کی خرابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ترک ِمستحب ترک ِسنت کا اور ترک ِسنت ترک
ِفرض کا ذریعہ ہے چور کو پہلے دروازے پر ہی روکو۔ (تفسیر صراط الجنان،3/245)
مغربی
تہذیب نے پوری دنیا پر بالخصوص اسلامی معاشرے پر بہت نمایاں اثر ڈالا ہے۔ جہاں دنیا
نے مغرب،سائنس،ٹیکنالوجی اور ڈیموکریٹ میں جدت پائی وہیں اس کے منفی اثرات بھی مرتب
ہوئے،مثلاً:انفرادیت،مادیت پرستی،معاشرتی تناؤ،قدیم اسلامی تقاضوں کا مفقود اور بے حیائی وغیرہ۔
مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید سے جو اسلامی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ان میں بے حیائی
کا عنصر نمایاں ہے۔
بعض
لوگ کہتے ہیں کہ یورپین کنٹرینر میں رہنے والے انگریز ترقی کی دنیا میں بہت آگے
نکل چکے ہیں۔پردے پر سختی مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے!
در حقیقت
مسلمانوں کی ترقی میں پردہ نہیں بے حیائی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔جی ہاں! جب تک
مسلمانوں میں شرم و حیا اور پردے کا دور دورہ رہا تب تک وہ فتو حات پر فتوحات حاصل
کر تے چلے گئے۔یہاں تک کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پرچمِ اسلام لہرانے لگا۔پردہ نشین
ماؤں نے بڑے بڑے جرنیل و سپہ سالار،عظیم حکمران،علمائے کرام و اولیائے کاملین کو
جنم دیا،تمام امہات المومنین و صحابیات با پردہ تھیں،حسین کریمین کی والدہ ماجدہ سیدہ
فاطمہ زہرا با پردہ تھیں،حضور غوثِ اعظم کی والدہ محترمہ با پردہ تھیں۔الغرض جب تک
پردہ قائم تھا اور خواتین چادر اور چار دیواری کے اندر تھیں تب تک مسلمان کافروں
پر غالب رہے،پھر جب کافروں کے زیرِ اثر مسلمانوں نے بے حیائی کا سلسلہ شروع کیا تو
مسلمان مسلسل تنزلی کے گہرے گڑھے میں گرتے چلے گئے۔ کل تک جو کفار مسلمانوں کے نام
سے لر زتے تھے آج مسلمانوں پر غالب آ چکے ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہوش کے ناخن نہیں
لیتے۔آج کا نا دان مسلمان کفار کی بے حیائی
والا لباس پہن کر بیوی کو میک اپ کر وا کر مخلوط سیرگاہوں میں لے جاتا اور اپنی اولاد
کو ترقی کی خاطر غیر اسلامی ممالک میں کافروں کے سپرد کر کے پتا نہیں کون سی ترقی
کا متلاشی ہے!
وہ قوم جو کل
تک کھیلتی تھی شمشیروں کے ساتھ
سینما دیکھتی
ہے آج وہ ہمشیروں کے ساتھ
افسوس!صد
کروڑ افسوس!عورتوں میں بے پردگی ہونا اور گناہوں کی کثرت ہونا انتہائی تشویشناک
ہے۔اکثر مسلمان عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی دھن میں حیا کی چادر اتار
پھینکی ہے۔خدا کی قسم!موجودہ روش میں نہ ترقی ہے نہ کا میابی۔ترقی اور کا میابی کا
دار و مدار صرف اور صرف اللہ اور رسول ﷺ کی فرما نبرداری کرتے ہوئے زندگی کو سنتوں
کی اتباع کرتے ہوئے ایمان سلامت لیے قبر میں جائے اور جہنم کے خوفناک عذاب سے بچ کر جنت پانے پر ہے۔
ارشادِ
خداوندی ہے:فَمَنْ
زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ
الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ- (پ 4،ال
عمرٰن: 185)ترجمہ کنز الا یمان:جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو
پہنچا۔
زمانہ
جدید میں بعض آزاد خیال لوگ کہتے ہیں کہ علمائے کرام عورتوں کو چار دیواری میں
بٹھائے رکھنا چاہتے ہیں لیکن غور فرمائیے کہ یہ حکم دنیا کے کسی عالم نے نہیں دیا
بلکہ رب کریم کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے۔چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے:وَ قَرْنَ فِیْ
بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى(پ22الااحزاب 33)ترجمہ:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے
اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔
عورت
کی بے پردگی مو جبِ غضبِ الٰہی اور سببِ تباہی ہے۔چنانچہ قرآنِ مجید میں ارشاد
ہوتا ہے:وَ لَا یَضْرِبْنَ
بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-ترجمہ:اور
زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار۔(پ18النور31)
بیان کردہ آیتِ کریمہ کے مطابق مفسر ِقرآن،خلیفۂ
اعلیٰ حضرت،حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم
الدین مراد آبادی فرماتے ہیں: یعنی
عورتیں گھر کے اندر چلنے پھرنے میں بھی
پاؤں اِس قدر آہستہ رکھیں کہ ان کے زیور
کی جھنکار نہ سُنی جائے۔مسئلہ:اِسی لئے چاہئے کہ عورتیں باجے دار جھانجھن نہ
پہنیں۔حدیثِ شریف میں ہے: اللہ پاک اس قوم کی دعا نہیں قبول فرماتا جن کی عورتیں
جھانجھن پہنتی ہوں۔(تفسیرات احمدیہ،ص525)اس سے سمجھناچاہئے کہ جب زيور کی آوازعَدَمِ قَبولِ دُعا (یعنی دعاقَبول نہ
ہونے )کا سبب ہے تو خاص عورَت کی(اپنی) آواز(کا بِلااجازتِ شَرعی غیر مردوں تک
پہنچنا) اور اس کی بے پردَگی کيسی مُوجِبِ غَضَبِ الٰہی ہوگی،پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب
ہے۔
(تفسیر خزائنُ
الْعِرفان، ص 566 )
حیا ہے آنکھوں میں باقی نہ دل میں خوف ِخدا
بہت دنوں سے نظامِ حیات ہے بر ہم
یہ سیر گاہیں کہ مقتل ہیں شرم و غیرت کے
یہ معصیت کے مناظر ہیں زینتِ عالم
نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو
کہ سارے پھول یہ کاغذ کے ہیں خدا کی قسم
وہی ہے راہ تیرے عزم و شوق کی منزل
جہاں ہیں عائشہ و فاطمہ کے نقشِ قدم
تیری حیات ہے کردارِ رابعہ بصری
ترے فسانے کا موضوع عصمت ِمریم
رضوان
علی قادری رضوی(درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ ٹاؤن شپ ،لاہور،پاکستان)
اسلام دینِ امانت ہے۔ یہ جس طرح عبادات کی پابندی کا حکم
دیتا ہے، اسی طرح معاملات میں امانت داری اور دیانت کے چراغ جلانے کی بھی تلقین
کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت (یعنی امانت میں کمی، دھوکا، بددیانتی) کو سخت گناہ
قرار دیتے ہوئے بارہا اس سے منع فرمایا گیا ہے۔
اللہ ربّ العزت ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
اس آیتِ مبارکہ میں دو طرح کی خیانت سے منع کیا گیا ہے:(1)اللہ
و رسول کے احکام میں خیانت: یعنی ان کے بتائے راستے سے ہٹنا، دین کو پیچھے ڈال کر
اپنی خواہشات کی پیروی کرنا۔ (2)لوگوں کی امانتوں میں خیانت :یعنی مال، ذمہ داریوں،
راز اور وعدوں کو توڑ ڈالنا۔
دعوتِ اسلامی کا پیغام ہمیشہ یہی رہا ہے کہ مسلمان ہر
حال میں دیانت شعار بنے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہم العالیہ بارہا اس بات کی
طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں۔خیانت صرف مال کی چوری
نہیں، بلکہ بات کی بے وفائی، ذمہ داری میں کوتاہی، وعدہ خلافی، یہاں تک کہ وقت پر
کام نہ کرنا بھی خیانت میں شامل ہو جاتا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمۂ
کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الأنفال، آیت 58)
اللہ کی ناپسندیدگی سے بڑا خوف اور کیا ہو سکتا ہے؟ ایک
ایسا کام جو انسان کو ربِّ کریم کی محبت سے محروم کر دے، اسے اختیار کرنا کیسے ممکن
ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین اور اہلِ دعوت ہمیشہ امانت داری کو ایمان کا حصہ
قرار دیتے آئے ہیں۔
ہمارا کردار کیسا ہونا چاہیے؟امانت ملے
تو اسے بہترین طریقے سے ادا کریں۔ وعدہ کریں تو پورا کریں۔کسی کا راز جانیں تو اسے
سینے میں محفوظ رکھیں۔ملازمت، تجارت، درس و تدریس ہر جگہ دیانت کو شعار بنائیں ۔
کسی پر ظلم، دھوکا یا چالبازی سے بچیں۔آخر میں، دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں خیانت سے
بچنے، سچی امانت داری اپنانے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین بجاہِ سیدِ المرسلین ﷺ۔
فاحد
علی عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور،پاکستان)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی
ہے جو انسان کے کرداراعتماد اور دیانت کو جڑ سے کمزور کر دیتی ہےقرآنِ کریم نے خیانت
کرنے والوں کو سخت ناپسند فرمایا اور اسے ایمان کے منافی قرار دیاہے ۔
آئیے اس کے
بارے میں کچھ قرانی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1)محبوب سے دغہ چاہنا:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔(انفال:71)
(2)اللہ ورسول سے دغہ نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
(3)اللہ عزوجل کا بڑے دغہ باز کو نہ چاہنا:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
(4)پیٹھ پیچھے خیانت کرنا:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ
وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)
خیانت معاشرے کی بنیادیں ہلا دیتی ہے، اس لیے اسلام نے
ہر معاملے میں امانت و دیانت کی تاکید فرمائی۔ آج ہمیں چاہیئے کہ وعدوں، مالی
معاملات اور ذمہ داریوں میں سچائی اختیار کریں، دوسروں کا حق نہ ماریں اور ہر جگہ
انصاف کے ساتھ پاکیزہ کردار پیش کریں اللہ عزوجل سے دعا ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں انسانوں پر کئی حقوق و
فرائض کو بیان فرمایا ۔ان حقوق میں سے ایک حق یہ ہے امانت رکھوانا مسلمان کے پاس
کسی شخص کی خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم امانت رکھوائے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ
اس کی حفاظت کرے اس میں کچھ بھی کمی نہ کرے یعنی خیانت نہ کرے خیانت کرنا گناہ ہے ۔اور
یہ حقوق العباد میں سے ہے ۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میں اپنے حقوق تو معاف کر
سکتا ہوں لیکن بندوں کے حقوق کومعاف نہیں کر سکتا جب تک بندہ نہ معاف کر دے آج ہم
امانت میں خیانت کرنے کے بارے میں قرانی آیات اور ان سے حاصل ہونے والی نصیحت و
عبرت پڑھتے ہیں۔
اللہ تعالی خیانت کو باخوب جانتا ہے :یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)
ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور
جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ ( المومن ٫: 19)
اللہ تعالی سے کوئی بھی خیانت چھپی نہیں ہے وہ دلوں میں
چھپی ہر بات جانتا ہے۔
خیانت کرنے والوں کے ساتھ نہ جھگڑنا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النسا٫: 107)
خیانت کرنے والوں کا نہ ساتھ دیا جائے اور نہ ان سے
جھگڑا کیا جائے۔
خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلتا:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ
وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:52)
مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ خیانت کوئی بھی ہو اللہ
تعالی سے نہیں چھپ سکتی اللہ تعالی خیانت کرنے والے کی خیانت سے خوب واقف ہے اور
پھر اگلی آیت سے معلوم ہوا کہ خیانت کرنے والوں کا نہ ساتھ دیا جائے نہ ان سے جھگڑا
جائے کیونکہ خائن جھوٹ بولتا ہے ،جھوٹے گواہ پیش کرتا ہے، ہر چیز میں جھوٹا ہوتا
ہے اور جھوٹ بدترین گناہ ہے اور خیانت کرنے والے کا مرض زیادہ دیر نہیں چلتا ہمیں
چاہیے کہ جب ہمارے پاس کوئی امانت ہو تو ہمیں اس میں خیانت نہیں کرنی چاہیے بلکہ
اس کی حفاظت کرنی چاہیے پھر امانت دار کو اس کی امانت صحیح سلامت واپس کر دی جائے
اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین بجاہ نبی الامین صلی
اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم
آج کے اس پر فتن دور میں جہاں دیگر گناہوں سے بچنا مشکل
سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے وہیں ایک گناہ جس کی وعیدیں قرآن و احادیث میں کثرت
سے وارد ہوئی ہیں اس سے بچنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔اور وہ گناہ خیانت ہے۔شرعی اجازت
کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘ (عمدۃ القاری، کتاب الایمان،
باب علامات المنافق، تحت الباب: ۲۴،
ج۱، ص۳۲۸)
اورہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور
جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ،الخلق الثانی و العشرون الخ،ج۱،ص۶۵۲)
اب وہ آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں رب قہار نے خیانت کی
مذمت فرمائی ہے:
(1)اللہ و رسول سے خیانت نہ کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر
اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (پ9،الانفال،آیت نمبر 27)
فرائض چھوڑ دینا
اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا
ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ / ۱۹۰)
(2)خائن روز قیامت مال ِخیانت کے ساتھ ہو گا: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4،آل
عمران،آیت نمبر 161)
(3)خائن کی طرف سے مت جھگڑو: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے
ہیں بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔
(پ5،النساء،آیت نمبر :107)
(4)خائن الله کو ناپسند ہے:وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً
فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی
طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو
پسند نہیں کرتا۔ (پ10،الانفال،یت نمبر58)
ان آیات مبارکہ کے علاوہ اور بہت سی آیات مبارکہ ہیں جن
میں خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے
کبیرہ گناہ سے بچنے اور بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
اللہ پاک نے یہ کائنات تخلیق فرمائی اور اس میں بے شمار
انسانوں کو پیدا فرمایا اور انسانوں کے لیے بے شمار نعمتوں کو بھی پیدا فرمایا
تاکہ انسان ان نعمتوں کو استعمال میں لا کر اپنی زندگی بسر کر سکے مگر وہ انسان جو
ان نعمتوں کو استعمال تو کر رہا ہے مگر وہ اللہ پاک کا شکر ادا نہیں کر رہا یعنی
وہ انسان نہ تو پانچ وقت اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کے حبیب
صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کر رہا ہے تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ
انسان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی تو کر رہا ہے اور اس کے
ساتھ ساتھ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت بھی کر رہا ہے
وہ ایسے کہ وہ انسان اللہ کی نعمتوں کو استعمال بھی کر رہا ہے مگر اس کے باوجود نہ
ہی وہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم کی سنتوں پر عمل کر رہا ہے ۔ایک طرح سے وہ خیانت اس طرح بھی کر رہا ہے کہ یہ
دنیا اور یہ زندگی اللہ تعالی نے انسان کو امانت کے طور پر دی ہے یعنی انسان اس
امانت کی حفاظت اس طرح کرے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرے اور اس کے حبیب صلی
اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرے پھر وہ بندہ صحیح معنوں میں اللہ کی امانت کی
حفاظت کرے گا۔اور اسی وجہ سے اللہ پاک نے قران پاک میں جگہ جگہ بنی نو انسان کی
ہدایت کے لیے قران پاک میں فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور جگہ
جگہ خیانت کرنے والوں کی مذمت کو قران پاک میں بیان فرمایا اسی لیے میں آپ کے
سامنے وہ آیات پیش کروں گا جن میں خیانت کی مذمت موجود ہے۔
(1)اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃانفال:
27)
(2)اللہ جانتا ہے جو کچھ سینوں میں چھپا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)
ترجمہ
کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (سورۃ
المومن :19)
(3)خیانت کرنے والے کی طرف سے نہ جھگڑنا: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا
یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور
ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں
چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النسا ء: 107)
ان تمام آیات سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ اللہ پاک نے ہمیں
ہر معاملے میں خیانت سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور خیانت کرنے والوں کی مذمت
کو بیان فرمایا ہے تو لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کے فرمانبرداری کرے اور اور جو زندگی اور دنیا جو ہمیں امانت کے طور پر ملی
ہے اس میں ہم خیانت نہ کریں آمین بجاہ خاتم النبیین۔
رات
دیر تک جاگنے کے نقصانات از بنت کاشف شیراز،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
نیند
ایک عظیم نعمت ہے۔صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ مناسب
مقدار میں نیند بھی ضروری ہے۔نیند اللہ پاک
کی بہت بڑی اور عظیم نعمت ہے کہ اس کی بدولت انسان تازہ دم رہتا ہے۔ اگر انسانی
نیند پوری نہ ہو تو تعلیم تو کیا ہر کام متاثر ہو جاتا ہے۔ بدن کو آرام و سکون
پہنچانے کا ایک بہترین طریقہ ”نیند“ ہے ۔
اللہ
پاک فرماتا ہے: وَ جَعَلْنَا
نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹)وَّ جَعَلْنَا
الَّیْلَ لِبَاسًاۙ(۱۰) وَّ جَعَلْنَا
النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) (پ30،النباء:9تا11)ترجمہ
کنزالعرفان:اور تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایااور رات کو ڈھانپ دینے والی بنایااور
دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔
تفسیر
صراط الجنان میں ہے:کیا ہم نے تمہاری نیند کو
تمہارے جسموں کے لئے آرام کا ذریعہ نہ
بنایا تاکہ اس سے تمہاری کوفت اور تھکن دور ہو اور تمہیں راحت و آرام حاصل ہو ،اور کیا ہم نے رات کو
ڈھانپ دینے والی نہ بنایا جو کہ اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چھپادیتی ہے تاکہ تمہارے
معاملات پوشیدہ رہیں،اور کیا ہم نے دن کو روزگار کمانے کا وقت نہ بنایاتاکہ تم اس
میں اللہ پاک کا فضل اور اپنی روزی تلاش
کرو ۔
کس کو کتنا سونا چاہیے؟عمر
کے مختلف ادوار کے اعتبار سے انسان کو نیند کی مختلف مقدار درکار ہوتی ہے۔ایک
تحقیق کے مطابق کم سن بچوں کے لیے 12 سے 15 گھنٹے ،15سے 40 سال والوں کے لیے 7 سے 8 گھنٹے جبکہ 40 سال
سے زائد عمر والوں کے لیے 6گھنٹے کی نیند
ضروری ہے۔
نیند پوری نہ ہونے کے نقصانات :
”نیند“
پوری نہ ہونے کے متعدد جسمانی،روحانی اور معاشرتی نقصانات ہیں۔مسلسل نیند پوری نہ
ہونے پر ملازم اگر ڈیوٹی کے اوقات میں سوتا یا اونگھتا رہے تو اس سے نہ صرف اس کا
کام متاثر ہو گا بلکہ انجام کار اسے نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ڈرائیور
یا پائلٹ کی نیند پوری نہ ہو تو نہ صرف اس کی بلکہ مسافروں کی جان بھی خطرے میں پڑ
سکتی ہے۔ کئی حادثات کے بعد جب تحقیقات ہوئیں تو حادثے کا بنیادی سبب ڈرائیور کا
دوران ڈرائیونگ اونگھنا پایا گیا۔
طالبِ
علم کی نیند پوری نہ ہو تو کلاس میں استاد کی بیان کردہ باتوں کو سمجھنا اور محفوظ
کرنا اس کے لیے دشوار ہے۔الغرض جو انسان جس بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو،نیند کا
فطری تقاضا پورا نہ ہونا اس کے لئے جسمانی اور روحانی اعتبار سے نقصان دہ ہے۔مسلسل
نیند کی کمی انسان کے مزاج میں جھجھلاہٹ اور چڑچڑاپن پیدا کر دیتی ہے، وہ معمولی
باتوں پر طیش میں آ جاتا اور سامنے والے کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے اور اس کا نتیجہ
یہ نکلتا ہے کہ ہر کوئی اس سے دور بھاگتا ہے۔
بد
قسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں رات دیر تک جاگنے اور پھر دوپہر چڑھے تک سونے کا معمول
عام ہوتا جا رہا ہے جو نہ صرف شرعی لحاظ سے ناپسندیدہ بلکہ طبی لحاظ سے بھی نقصان
دہ ہے۔اگر آپ صحت مند زندگی گزارنے کی خواہش مند ہیں تو رات کو دینی مشاغل سے فارغ
ہو کر جلد سو جائیے کہ رات کا آرام دن کے آرام کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہے اور
عین فطرت کا تقاضا بھی۔ اللہ پاک فرماتا ہے :وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ
الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ
لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص:
73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں
آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔
اس سے
معلوم ہوا کہ کمائی کے لیے دن اور آرام کی لیے رات مقرر کرنی بہتر ہے ۔
اعلیٰ
حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوف ِخدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
(
حدائق بخشش، ص 111)
رات دیر
تک جاگنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان فجر کی نماز سے محروم ہوجاتا ہے۔فجر
کی نماز چھوڑ دینا نہ صرف گناہ ہے بلکہ دن بھر برکت سے محرومی کا سبب بھی بنتا ہے۔
حدیثِ مبارک میں ہے:اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا یعنی
اے اللہ!میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما۔(ابو
داود ، 3 / 51 ،حدیث : 2606)
ماہرینِ
صحت کے مطابق نیند کے دورانِ جسم سے melatonin نامی ہارمون خارج ہوتا ہے جو انسان کے دماغ
،دل اور اعصاب کو مضبوط بناتا ہے ۔ اگر انسان دیر تک جاگتا رہے تو یہ ہارمون صحیح
مقدار میں نہیں بنتا،جس سے ذہنی دباؤ اور چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے۔( نیچر ریسرچ جرنل ،2023)
کن اوقات میں نہیں سونا چاہیے؟عصر کے بعد نہ سوئیں کہ عقل زائل ہونے کا خوف ہے۔
فرمانِ
مصطفےٰ ﷺ ہے : جو عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت
کرے۔( مسند ابی یعلی ،4/278،حدیث:4897)
دن کے
ابتدائی حصہ میں سونا یا مغرب و عشاء کے درمیان میں سونا مکروہ ہے۔
(بہارِ
شریعت،3/436)
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ صلیِ علیٰ کہتے کہتے
ہمیں یہ
سمجھنا ضروری ہے کہ نیند محض آرام کانام نہیں بلکہ یہ ایک ضرورت ہے جس کی تکمیل کے
بغیر انسانی جسم اور دماغ صحیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ رات
کو جلد سونے اور صبح جلد جاگنے کی عادت اپنائیں تاکہ ہماری صحت ، ذہانت اور روزمرہ
کارکردگی بہترین رہے۔ رات کا سکون ضائع کر کے وقتی کام تو پورا ہو جاتا ہے مگر اس
کے اثرات زندگی بھر ساتھ رہتے ہیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں وقت پر سونے اور صبح
جلدی اٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ
رات
دیر تک جاگنے کے نقصانات از بنت محمد اصف اقبال، بہار شریعت نواب شاہ
انسانی
زندگی کا دار و مدار صحت اور وقت کے صحیح استعمال پر ہے۔یہ وہ دو نعمتیں ہیں جن سے اکثر لوگ غافل ہیں۔اپنی
صحت کا خیال رکھنا،صحت مند رہنے کے لیے اپنی مصروفیات میں توازن قائم رکھنا،وقت کی قدر کرنا اور ہر کام اپنے وقت پر
کرنا انتہائی ضروری ہے۔ قرآن و سنت میں
وقت کی قدر اور درست استعمال کی بہت تاکید
آئی ہے۔ اسی میں سے ایک رات میں وقت پر آرام کرنا بھی ہے اور کیوں نہ ہو کہ اللہ پاک نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور دن کو کام کے لیے ۔اللہ پاک قرآنِ
مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹)وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ
لِبَاسًاۙ(۱۰) وَّ جَعَلْنَا
النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) (پ30،النباء:9تا11)ترجمہ
کنزالعرفان:اور تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایااور رات کو ڈھانپ دینے والی بنایااور
دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔
یہاں
ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے جسموں کے لئے آرام کا ذریعہ نہ بنایا تاکہ اس سے
تمہاری کوفت اور تھکن دور ہو اور تمہیں راحت و آرام حاصل ہو ،اور کیا ہم نے رات کو ڈھانپ دینے والی نہ بنایا جو
کہ اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چھپادیتی ہے تاکہ تمہارے معاملات پوشیدہ رہیں ، اور کیا
ہم نے دن کو روزگار کمانے کا وقت نہ بنایاتاکہ تم اس میں اللہ پاک کا فضل اور اپنی روزی تلاش کرو۔(تفسیر
صراط الجنان،10/496)
نیز
اللہ پاک فرماتا ہے:وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا
وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا(۴۷)(پ19،الفرقان:47)ترجمہ کنز العرفان:اور
وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ اور نیند کو آرام بنایااور دن کو اٹھنے کے لیے
بنایا۔
معلوم
ہوا کہ رات کو ہمارے پیارے پروردگار نے آرام و سکون حاصل کرنے کے لیے بنایا ہے،لہٰذاجب
انسان فطری اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے ، یعنی بلا وجہ رات دیر تک جاگتا ہے تو یہ عمل مجموعی صحت،روز مرہ کی کارکردگی اور
روحانی سکون پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔رات دیر تک جاگنے کے نقصانات وقت کے ساتھ
بڑھتے جاتے ہیں،لہٰذا اس عادت کے خطرات کو سمجھنا ہم سب کے لیے بڑا ضروری ہے۔ یہاں
بعض دینی اور دنیاوی نقصانات بیان کیے
جاتے ہیں۔
(1)دماغی صحت پر شدید اثرات:انسانی دماغ کو نیند کی ضرورت
کسی مشین سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ رات دیر
تک جاگنے سے دماغی تھکن زیادہ رہتی ہے۔ یاد
داشت میں بہت زیادہ کمی ہو جاتی ہے۔باتیں یاد
نہیں رہتیں،حافظہ کمزور ہو جاتا ہے۔یوں انسان کی روز مرہ زندگی بہت متاثر ہوتی ہے
۔طلبہ و طالبات کو امتحانی تیاری میں
مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔نیز فیصلہ کرنے کی قوت متاثر ہو جاتی ہے۔مسلسل نیند
کی کمی سے ذہنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جیسے ڈپریشن اور اضطراب کا امکان بڑھ جاتا
ہے۔
(2)جسمانی صحت کی خرابی:رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے جسم کے حیاتیاتی
نظام (Biological
system)میں خرابی پیدا ہو تی ہے جس کے سبب درج ذیل بیماریاں پیدا ہو جاتی ہے:
موٹاپا: نیند کے دوران بھوک کا ہارمون کنٹرول ہوتا ہے
جبکہ دیر تک جاگنے والوں میں بے جا کھانا
کھانے کی عادت بنتی ہے۔
امراضِ قلب:بعض تحقیقات
کے مطابق دل کی شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہےجس کی وجہ سے دل صحیح طریقے سے کام نہیں
کر پاتا۔
جِلدی مسائل:
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، رنگت کا خراب
ہونا اور وقت سے پہلے بوڑھا ہو جانا بھی
اسی کا نتیجہ ہے۔
(3)ذہنی رویّوں میں خرابی:دیر تک جاگنے سے انسان کے مزاج
پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر غصہ آتاہے، ایسا انسان لوگوں
سے بلا وجہ الجھتا ہے ،بے وجہ افسردگی طاری
ہوتی ہے،کسی بھی کام میں دل نہیں لگتا،نیند پوری نہ ہونے کے باعث گھر والوں نیز اسکول
، کالج ،یونیورسٹی اور آفس کے دوستوں کے
ساتھ تعلقات بھی خراب ہوتے ہیں ۔
(4)دینی نقصان:راتوں کو دیر تک جاگنے سے ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ فجر کی نماز میں آنکھ نہیں کھلتی۔ایسا
انسان اس عظیم فضیلت سے محروم رہ جاتا ہے۔رات جلدی سونے والا فرض نماز کے ساتھ
تہجد کے لیے بھی جاگ سکتا ہے جبکہ دیر سے
سونے والا نماز ِ تہجد کی برکات حاصل نہیں کرپا تا۔دیر تک جاگنے کا عمل سستی،
کاہلی اور غفلت کو پیدا کرتا ہے۔ ایسا انسان
نہ صرف نفل میں بلکہ فرض نماز میں بھی سستی محسوس کرتا ہے۔
(5)تعلیمی کارکردگی میں کمی:طلبہ و طالبات کے لیے دیر تک
جاگنے کے نقصانات بہت زیادہ ہیں،مثلاً:پڑھائی میں توجہ کم ہوتی ہے،دماغ تازہ نہ
ہونے کی وجہ سے سبق یاد نہیں رہتا،امتحان میں منفی اثر پڑتا ہے،سستی اور غنودگی سے
کلاس میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ دن میں پڑھایا گیا سبق وہی ذہن اچھی طرح سمجھ اور یاد رکھ سکتا ہے جس نے رات کو مکمل آرام کیا
ہو۔
(6)روزگار اور عملی زندگی پر اثرات:رات دیر تک
جاگنے کے سبب دورانِ ملازمت غفلت و کوتاہی،کام
کے دوران غلطیاں،فیصلے کرنے میں دقت کا
سامنا، وقت پر نہ پہنچنے کی عادت، توانائی کی کمی جیسے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔یہ
مسائل کامیابی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
(7)وقت کا ضیاع:زیادہ تر لوگ رات دیر تک جاگتے ہوئے ایسے
کاموں میں لگ جاتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا جیسے موبائل پر بے مقصد
اسکرولنگ،سوشل میڈیا،گانے باجے اور فلمیں
ڈرامے اور ویڈیو گیمز وغیرہ میں لگے رہنا۔یہ سب کام ڈھیر سارا وقت کھا جاتے ہیں اور انسان کو اس کا
احساس بھی نہیں ہوتا۔
بیان
کردہ نقصانات تو ایک جھلک ہے ورنہ رات دیر تک جاگنے کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔یاد رہے کہ رات دیر تک
جاگنا محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک سنگین نقصان دہ عمل ہے۔یہ انسان کی ذہنی،جسمانی،روحانی،تعلیمی
اور معاشرتی زندگی کو تباہ کردیتا ہے۔ کامیاب، صحت مند اور پرسکون زندگی کے لیے
ضروری ہے کہ انسان فطرت کے اصولوں کے مطابق چلے، رات جلد سوئے، صبح جلدی اٹھے اور
نیند و آرام کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ
بنائے۔
محمد
مدثر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی میں جن اقدار کا ہم کردار
ہوتا ہے ان میں سے ایک امانت و دیانت بھی ہے اس لیے ہر دور اور ہر معاشرے میں خواہ
اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور تہزیب سے ہو امانت داری کو پسند کیا گیا ہے جس کی ایک
مثال یہ ہے کہ کوئی گزشتہ قوموں کے پاس جب اللہ تعالی کے رسول۔ اللہ کے احکام
پہنچانے جاتے تو ان کے سامنے اپنی شان امانت داری کو بطور خاص بیان کرتے دین اسلام
میں امانت داری کو خاص مقام عطا کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
امانت داری کو ایمان کا ایک حصہ قرار دیا اور اپ اپنے خطبوں میں اکثر ارشاد فرماتے
ہیں۔ لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا
دین لمن لا عھد لہ۔ ترجمہ اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس
کا کوئی دین نہیں جو عہد پورا نہیں
آئیے خیانت کے بارے میں چند قرانی ایات مبارکہ پڑھتے ہیں۔
(1)خیانت کرنے
والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا:
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى
سَوَآءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠
ترجمۂ کنز العرفان:اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔( سورۃ الانفال آیت نمبر 58)
(2) اپنی امانتوں
میں خیانت نہ کرو:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(سورۃ الانفال آیت نمبر 27)
(3)خیانت کرنے
والا بڑا گناہ گار ہے:
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا
یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا
ترجمۂ کنز العرفان:اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔( سورۃ النساء آیت نمبر 107)
(4)خیانت سے بچنا
انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کی سنت مبارکہ ہیں:
ذٰلِكَ
لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ
ترجمۂ کنز العرفان:یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا
تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی
اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 52)
(5)اللہ پاک
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے:
یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی
الصُّدُوْرُ
ترجمۂ کنز العرفان:اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(سورۃ المؤمن آیت نمبر
19)
محمد
تیمور عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی میں جن اقدار کاا ہم کردار
ہوتا ہے ان میں سے ایک امانت و دیانت بھی ہے اس لیے ہر دور اور ہر معاشرے میں خواہ
اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور تہذیب سے ہو امانت داری کو پسند کیا گیا ہے جس کی ایک
مثال یہ ہے کہ گزشتہ قوموں کے پاس جب اللہ تعالی کے رسول احکام پہنچانے جاتے تو ان کے سامنے اپنی شان
امانت داری کو بطور خاص بیان کرتے۔ دین اسلام میں امانت داری کو خاص مقام عطا کیا
گیا۔
( 1 ) خیانت کرنے والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ ( سورۃ النساء آیت نمبر 107)
( 2 ) آنکھوں کی خیانت کیا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی
الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (سورۃ
المؤمن آیت نمبر 19 )
تفسیر صراط
الجنان:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ:
اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم
عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت
کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ
ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
( 3 ) اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 27 )
تفسیر صراط
الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
( 4 ) خیانت سے بچنا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی
سنت مبارکہ ہیں:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)ترجمہ
کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں
نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر
نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف آیت نمبر 52)
پیارے پیارے اسلام بھائیو !خیانت کبیرہ گناہوں میں سے
گناہ ہے اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے محفوظ
فرمائے اللہ پاک ہم سب کو بھی نیکی کی
دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
محمد
حمزہ رضا عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ
ٹاؤن شپ ،لاہور ،پاکستان)
قرآنِ مجید نے خیانت ،امانت میں بے وفائی، وعدے کی خلاف
ورزی، سچائی کو چھپانا، یا حق تلفی کو سخت گناہ اور اخلاقی بگاڑ قرار دیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر خیانت کی مذمت، اس کے نتائج اور ایمان
سے اس کے تعلق کو واضح کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر
اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 57)
اللہ تعالی فرماتا ہے: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً
فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد
ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے
والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 58)
یعنی یہ عمل اللہ کی محبت سے محرومی کا سبب بنتا ہے،
چاہے خیانت چھوٹی ہو یا بڑی ہو۔
خیانت کے متعلق
حدیث :ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے
کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا
: ’’منافق کی تین علامات(نشانیاں) ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2)جب وعدہ
کرے تو وعدہ خلافی کرےاور(3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(کتاب:فیضان ریاض
الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:199)
اللہ پاک ہمیں ہر طرح کی خیانت سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے اور ہمیں دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔
Dawateislami