اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ دین اسلام ہمیں زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں رہنمائی فرماتا ہے اخلاقی اور سماجی طور پر ہر وہ کام جو معاشرے میں تباہی کا باعث بنتا ہو اسلام ہمیں اس کام سے روکتا ہے ۔ امانت میں خیانت کرنا بھی اسی میں شامل ہوتا ہے لہٰذا اسلام ہمیں اس عمل سے بھی بچنے کا درس دیتا ہے ۔

امانت اور خیانت کا مفہوم:لفظ امانت ہر اُس ذمہ داری، حق، راز یا معاملے کو کہتے ہیں جو انسان کے سپرد کیا جائے اور جس کی حفاظت اور درست ادائیگی ضروری ہو۔ اس کے برعکس خیانت اس امانت میں کوتاہی، دھوکا، بے وفائی یا ناجائز تصرف کو کہتے ہیں۔ اسلام میں امانت صرف مالی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ قول و قرار، عہد، حکومتی اختیارات، علم، عدل اور حتیٰ کہ جسم و روح تک کو امانت سمجھا گیا ہے۔

خیانت کی قرآنی مذمت:قرآن کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت سورۃ الانفال میں ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)

یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے اس کی گرفت بھی سخت ہے۔

خیانت کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:- اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ الانفال، آیت 58)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جسے اللہ کی ناپسندیدگی حاصل ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو اللہ کو پسند ہو اور اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔

حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)

یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب، اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔

یہ آیت ہر قسم کی مالی خیانت رشوت، دھوکا، جھوٹ، جعل سازی، کاروباری دھوکہ دہی سب کو حرام قرار دیتی ہے۔

خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

(سورۃ آلِ عمران، آیت 161)

یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔ان تمام تر آیات پر غور کی جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ امانتوں میں خیانت کرنا معاشرے کے اندر ایک ناسور کی طرح پھیلتا ہے اور نہایت ہی برا عمل ہے ہمیں بھی چاہیے کہ اگر ہمیں کوئی ایماندار سمجھتے ہوئے امانت دیتا ہے تو ہم اس کو مکمل طور پر دیہان رکھتے ہوئے اور اس کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس کا خیال رکھیں ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو عمل کو توفیق عطا فرمائے ۔


انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، امانت اور دیانت پر قائم ہے۔ جب یہ اوصاف قائم رہتے ہیں تو دلوں میں اطمینان اور معاملات میں استحکام پیدا ہوتا ہے، اور جب انہی بنیادی اقدار میں دراڑ پڑتی ہے تو معاشرتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ خیانت انہی تباہ کن برائیوں میں سے ایک ہے، جس سے نہ صرف افراد کا کردار مجروح ہوتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے مختلف مقامات پر خیانت کی سخت مذمت فرمائی ہے اور اہلِ ایمان کو بار بار تنبیہ کی ہے کہ وہ امانتوں اور عہدوں کی حفاظت کریں، کیونکہ خیانت اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ایک نہایت سنگین جرم ہے۔قرآن کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت سورۃ الانفال میں ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)

یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے اس کی گرفت بھی سخت ہے۔

خیانت کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ کی ناپسندیدگی حاصل ہوتی ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو اللہ کو پسند ہو اور اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔

حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)

یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب، اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔

خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت 161)

یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے کہ خیانت صرف ایک اخلاقی برائی ہی نہیں بلکہ ایمان کے منافی عمل ہے، جسے قرآنِ مجید نے مسلسل تنبیہات اور سخت وعیدات کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں مومنوں کی صفات میں امانت و دیانت کو بنیادی رکن قرار دیا، وہیں خیانت کو اُن اعمال میں شامل کیا جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتے ہیں۔ اس لئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں سچائی، دیانت اور امانت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھےچاہے معاملہ مالی ہو، گھریلو ہو، سماجی ہو یا مذہبی ذمہ داری کا۔آج کے دورِ فتن میں جب جھوٹ، دھوکہ اور بے وفائی عام ہوتے جا رہے ہیں، قرآن کا یہ پیغام مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) پس کامیابی اسی شخص کا مقدر ہے جو اپنے رب اور مخلوق دونوں کے حق میں وفادار، امانت دار اور سچا ہو۔ یہی کردار ایک صالح فرد کی پہچان اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔


اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)

خیانت کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)

خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت 161)الله سے دعا ہے عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔


خیانت کی تعریف :لغوی معنی: امانت میں بددیانتی کرنا، یعنی کسی کے اعتماد یا امانت کو ضائع کرنا، یا اس میں حق تلفی کرنا۔اصطلاحی تعریف:ایسا کام جس میں کسی کی امانت، حق یا اعتماد کو توڑا جائے، یا جان بوجھ کر دھوکہ دیا جائے، وہ خیانت ہے۔ اب ہم قرآن وحدیث سے خیانت کے بارے کچھ جانتے ہیں :

(1) امانتوں میں دانستہ خیانت :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 ،سورۃانفال ،آیت نمبر 27)

(2) خیانت نہ کی :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف ،آیت نمبر 52)

ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: 51، 3 / 25) اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔

اَخلاقی خیانت مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابلِ تعریف وصف ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے ۔

آنکھ کی خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)

ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (سورۃ المؤمن، آیت نمبر 19)

اخلاقی خیانت کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ، اب (اس مجاہد کے نیکیاں لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب حرمۃ نساء المجاہدین واثم من خانہم فیہنّ، ص1015، الحدیث: 139(1897)

حضرت فُضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں ہوگا، (اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا، ان میں سے ایک) وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس (کے شوہر) نے اس کی دنیوی ضروریات (جیسے نان نفقہ وغیرہ) پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع وغیرہ، ترہیب العبد من الاباق من سیّدہ، 3 / 18، الحدیث: 4)

(3)خیانت میں ڈالتے ہیں :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)

(4) اعمال کا پورا پورا بدلہ :وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:۱۶۱)

اور حضور پر نورص ﷺ کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ کریں ۔

خائن کی پردہ پوشی: چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، 3 / 93، الحدیث: 2716)

یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں مطلقاً خیانت اور اخلاقی خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے اور اخلاقی طور پر بھی امانت دار بننے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔


خیانت کی تعریف:خیانت عربی لفظ خَانَ یَخُونُ سے ماخوذ ہے، جس کا بنیادی معنی ہے:کسی امانت، ذمہ داری یا اعتماد میں کمی کرنا، اسے ضائع کرنا، یا اس کے ساتھ دھوکا کرنا۔ اصطلاح میں خیانت سے مراد یہ ہے:کوئی شخص وہ حق ادا نہ کرے جو اس کے سپرد کیا گیا ہوخواہ وہ مال ہو، راز ہو، وعدہ ہو، عہد ہو، منصب ہو یا کوئی ذمہ داری۔معاشرہ اعتماد اور امانت داری پر قائم رہتا ہے، اور جب خیانت پھیل جاتی ہے تو فرد اور قوم دونوں تباہ ہونے لگتے ہیں۔ اسلام نے کردار کی پاکیزگی اور امانت کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے خیانت کو سختی سے منع کیا ہے۔ قرآنِ کریم نے خیانت کرنے والوں کو اللہ کی ناپسندیدگی، دنیاوی بداعتمادی اور آخرت کی سزا کا مستحق قرار دیا ہے۔ اس لیے ایک مضبوط، دیانت دار اور پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے خیانت کی قرآنی مذمت کو سمجھنا اور اس سے بچنا ضروری ہے۔

(1) اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت58)

(2)خیانت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف بغاوت ہے:اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الأنفال، آیت27)

اس آیت میں امانت میں خیانت کرنے کو اللہ اور رسول سے خیانت کے برابر قرار دیا گیا ہے، جو اس گناہ کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

(3) خیانت قیامت کے دن رسوائی کا سبب بنے گی:قیامت کے دن ہر انسان سے اس کی امانتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران، آیت161)

تصور کیجیے! ایک انسان پوری دنیا کے سامنے اس مال یا چیز کے ساتھ شرمندہ کھڑا ہوگا جس میں اس نے دنیا میں خیانت کی تھی۔ یہ کتنی بڑی رسوائی ہے!

(4)خیانت عدل اور اعتماد کو تباہ کرتی ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔ (سورۃ النساء ، آیت58)

خیانت کی تباہ کاریاں:خیانت محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایسا گہرا زہر ہے جو فرد، خاندان، معاشرے اور پوری ریاست کو برباد کر دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں اس کی سخت مذمت اسی لیے کی گئی ہے کہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔

(1)معاشرتی اعتماد کا خاتمہ:معاشرہ اعتماد پر چلتا ہے۔جب لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کھو دیتے ہیں، تو ہر رشتہ کمزور ہو جاتا ہےچاہے وہ کاروباری رشتہ ہو، خاندانی ہو یا حکومتی۔خیانت اعتماد کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔

(2) دل اور کردار کی تباہی:خیانت انسان کے دل کو سخت کر دیتی ہے۔اس کے اندر نفاق، جھوٹ، دھوکا

اور بددیانتی پیدا ہو جاتی ہے۔ایسا شخص نیکی کے راستے سے دور ہو جاتا ہے۔

(3) معاشی زوال:مالی خیانت، رشوت اور بدعنوانی قوموں کی معیشت برباد کر دیتی ہے۔کاروبار میں جھوٹ اور دھوکا عام ہو جائے تو تجارت، مارکیٹ، اور ادارے سب کمزور پڑ جاتے ہیں۔

(4) انصاف کا خاتمہ:جب ذمہ داری والے لوگ خیانت کریں تو عدل ختم ہو جاتا ہے۔فیصلے ذاتی فائدے یا سفارش کی بنیاد پر ہونے لگتے ہیں، اور غریب و کمزور طبقہ مظالم کا شکار ہوتا ہے۔

(5) قوموں کی بربادی:قرآن نے کئی قوموں کی ہلاکت کی وجہ ان کی خیانت، بددیانتی اور رسولوں سے دھوکا بتائی ہے۔جب خیانت عام ہو جائے تو اللہ کی مدد بھی قوم کو نہیں ملتی۔

(6) گھروں اور رشتوں میں فساد:راز کی خیانت، وعدہ خلافی اور بے وفائی گھروں میں جھگڑے، نفرت اور جدائی کا باعث بنتی ہے۔خاندان کا نظام اعتماد کے بغیر نہیں چل سکتا۔

اسلام ہمیں خیانت سے کیسے بچاتا ہے؟اسلام ایک ایسا مکمل نظامِ حیات ہے جو فرد کو اندر سے بھی پاک کرتا ہے اور معاشرے کو باہر سے بھی مضبوط بناتا ہے۔ خیانت چونکہ ایک تباہ کن اخلاقی برائی ہے، اس لیے اسلام نے اس سے بچانے کے لیے واضح ہدایات، عملی طریقے اور اخلاقی اصول مقرر کیے ہیں۔

سخت وعیدیں اور نتائج کی وضاحت:قرآن و حدیث میں خیانت پر سخت عذاب، رسوائی اور اللہ کی ناراضی کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ وعیدیں انسان کو ڈرا کر خیانت سے روک دیتی ہیں۔

. خوفِ خدا اور تقویٰ:اسلام کے مطابق خیانت سے بچنے کی سب سے مضبوط دیوار تقویٰ ہے۔

جب انسان محسوس کرتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے،اللہ حساب لے گا،اللہ دل کے راز جانتا ہے،تو وہ خیانت سے بچ جاتا ہے۔

قرآن کی روشنی میں خیانت محض ایک اخلاقی خرابی نہیں بلکہ ایسا گناہ ہے جو فرد، خاندان، قوم اور پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔اسلام انسان کو نہ صرف خیانت سے روکتا ہے بلکہ اس کے مقابلے میں اعلیٰ ترین کردار یعنی امانت داری، دیانت، سچائی اور انصاف کی دعوت دیتا ہے۔مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ امانت دار، بااعتماد اور دیانتدار ہو، اور ہر صورت میں خیانت سے دور رہے۔کیونکہ اللہ کا قرب انہی لوگوں کے لیے ہے جو پاک دل اور صاف کردار کے مالک ہوں۔اے اللہ! ہمارے دلوں میں تقویٰ، خوفِ خدا اور امانت داری پیدا فرما۔ہمیں وہ لوگ بنا جو تنہائی میں بھی تیری نافرمانی نہ کریں، نہ کسی کی امانت میں خیانت کریں۔

اے اللہ! ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں صادق اور امین بنادے ۔ ہمارے معاملات میں آسانی فرما، ہمارے دلوں کو درست فرما اور ہمارے کردار کو پاک فرما۔اے اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں رسوائی سے بچا، اور اپنی رحمت، برکت اور حفاظت سے نواز۔آمین یا ربّ العالمین۔


(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

(2) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)

(3) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (انفال:71)

(4) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)

(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر پہلو سے خیر، دیانت اور امانت داری کی تلقین کرتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لیے واضح ہدایات فراہم کرتا ہے، جن میں خیانت کی شدید مذمت بھی شامل ہے۔ خیانت، چاہے مال میں ہو، راز میں ہو یا ذمہ داریوں میں، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور معاشرے میں بداعتمادی، انتشار اور بے سکونی کو جنم دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مقامات پر خائن (خیانت کرنے والے) افراد کے لیے وعید بیان کی ہے اور مومنوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ امانتوں میں خیانت نہ کریں۔ یہ ایک ایسا اخلاقی جرم ہے جو انسان کی نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور اسے معاشرتی و اخروی نقصان میں مبتلا کر دیتا ہے۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکارِدو عالم ص ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم ص ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال، اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ص ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس پر قوم نے کہا کہ بیوی بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم ص ﷺ سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ رسالت ص ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ص ﷺ نے اس کے سوا اور کوئی بات منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فیصلہ کو منظور کریں۔

اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضورِ اقدس ص ﷺ نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا، بنو قریظہ نے اُن سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ص ﷺ کی خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ کر وہ تاجدارِ رسالت ص ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور انور ص ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔ تواُنہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسولِ کریم ص ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد ِ عالم ص ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۲۰۳-۲۰۴، جمل، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔

(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امیدوار رہنا چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر انہوں نے عَہد کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار بندہ بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت میں مبتلا ہو گئے۔ اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئیے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۱، ۳ / ۱۲۳، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۱، ۳ / ۳۷۶، تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۷۱، ۵ / ۵۱۴، ملتقطاً)

قرآن مجید کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ خیانت نہ صرف گناہ ہے بلکہ ایمان کے منافی عمل بھی ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر امانت کو اس کے حق دار تک پہنچائے اور کبھی بھی دھوکہ یا خیانت کا سوچے بھی نہیں۔ اگر معاشرہ خیانت سے پاک ہو جائے تو عدل، امن اور اعتماد کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی ذات کو خیانت سے پاک رکھیں اور دوسروں کے لیے مثال بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی، دیانت داری اور امانت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


خیانت کی تعریف :خیانت کا لغوی معنی دھوکہ دہی، بے ایمانی، غبن، بددیانتی ہے ۔اصطلاح شرع میں اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۵،١٧٦)

خیانت کی مذمت میں قران پاک میں کئی آیات کریمہ وارد ہوئی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)

اس آیت مبارکہ سے ان لوگوں کو درس عبرت حاصل کرنا چاہیے جو باطل کا ساتھ دے کر کسی بے قصور کا حق مارتے ہیں۔دوسروں کے مالوں پر قبضہ کرنے کے لیے وکیل بناتے ہیں تاکہ کہ دوسرے کے خلاف جھوٹے ثبوت بنوا کر اس کے مال پر قبضہ کر لے ۔الامان و الحفیظ ۔ مزید ارشاد فرمایا:

-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (ال عمران:۱٦١)

احادیث کریمہ میں بھی خیانت کی مذمت آئی ہے۔ اس ضمن میں چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں۔

چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔

(ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، ۳ / ۹۳، الحدیث: ۲۷۱۶)

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے(اور) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

(بخارى ، 1 /24، حدیث: 33 )

حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہےکہ سرکارِ عالی وقار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔

(مسند امام احمد، 8 / 276، حدیث: 22232)

آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو خیانت سے اور ہر قسم کے ظاہری و باطنی امراض سے محفوظ فرمائے امین بجاہ النبی الکریم وما علینا الا البلاغ المبین۔


جس طرح ایک معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کو دوسرے انسان کے حقوق و فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں اسی طرح قرض ہو دین ہو یا ودیعت ہو امانت ہو اس کا بھی انسان کو خیال رکھنا چاہیے خواہ وہ کسی طرح کی امانت ہی کیوں نہ ہو۔ آیے ہم قران پاک سے 5 آیات مبارکہ کہ جن میں خیانت کی مذمت وارد ہوئی ہے وہ ملاحظہ کرتے ہیں:

(1) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)

(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔(آل عمران:161)

تفسیر صراط الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ص ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔

(3) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔(المؤمن:19)

تفسیر صراط الجنان:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)

(4) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امیدوار رہنا چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر انہوں نے عَہد کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار بندہ بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت میں مبتلا ہو گئے۔ اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئے۔

(5) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ ان قرآنی آیات مبارکہ میں خیانت کی مذمت کے بارے میں پڑھا اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔


رات کو جاگنا آسان لگتا ہے لیکن نقصان دہ ہے۔رات دیر تک جاگنے سے نیند کا قدرتی چکر خراب ہو جاتا ہے،جسم کے ہارمونز متوازن نہیں رہتے،دماغ صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا،یاد داشت متاثر ہوتی ہے،جلد پر داغ دھبے اور جھریاں جلدی آتی ہیں، وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ،دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ،صبح دیر سے جاگنے کی عادت بیزاری اور تھکن پیدا کرتی ہے، سستی اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔لہٰذا  بہتر یہی ہے کہ رات کو وقت پر سوئیں اور دن میں توانائی بڑھائیں ۔

قرآنی آیت:وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰)اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(۶۱) (پ24،المؤمن:60، 61)ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بے شک وہ جو عبادت سے اونچے کھنچتے(تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اُس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا بےشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے ۔

حدیثِ مبارک:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ پاک ہر رات آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے جبکہ رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے۔فرماتا ہے:حقیقی بادشاہ تو میں ہی ہوں،حقیقی بادشاہ تو میں ہی ہوں۔ کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں؟کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معافی دوں؟وہ برابر اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہو جاتی ہے۔

(ترمذی،1/444،حدیث:446)

امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ بات ضروری طور پر معلوم ہے کہ قیامت کے دن انسان کو اللہ پاک کی عبادت ہی سے نفع پہنچے گا،اس لیے اللہ پاک کی عبادت میں مشغول ہونا انتہائی اہم کام ہے اور چونکہ عبادات کی اقسام میں دعا ایک بہترین قسم ہے اس لیے یہاں بندوں کو دعا مانگنے کا ارشاد فرمایا گیا۔ اس آیت میں لفظ یدعونی کے بارے میں مفسرین کا ایک قول ہے کہ اس سے مراد دعا کرنا ہے۔اس صورت میں آیت کے معنی ہوں گے کہ اے لوگو!تم مجھ سے دعا کرو میں اسے قبول کروں گا۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد عبادت کرنا ہے۔اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ تم میری عبادت کرو میں تمہیں ثواب دوں گا۔(تفسیر کبیر،9/527،تفسیر جلالین،ص395،تفسیر نسفی، ص1063 ملتقطاً)

اس سے پہلی آیت میں دعا مانگنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا اور دعا میں مشغول ہونے کے لئے اللہ پاک کی معرفت ہونا ضروری ہے ، اس لئے یہاں ایک قادر معبود کے موجود ہونے پر دلیل بیان فرمائی گئی ہے،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہارے فائدے کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام اور سکون پاؤ ،کیونکہ رات میں ٹھنڈک اور نمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کی حرکت کرنے والی قوتیں رات میں قدرے ساکن ہو جاتی ہیں،نیز رات میں اندھیرا ہوتا ہے جس کی بنا پر انسان کے حواس بھی پوری طرح کام کرنے سے رک جاتے ہیں اور یوں انسان کے اَعصاب اور حواس کو آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور اللہ پاک نے تمہارے نفع کے لئے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں اپنے ضروری کام اطمینان کے ساتھ انجام دے سکو ،بیشک رات اور دن کو پیدا کر کے اللہ پاک لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن بہت سے آدمی اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔( تفسیر کبیر،9/528،تفسیر روح البیان، 8 /203ملتقطاً)


اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی معاشرے کے لیے امانت داری، دیانت اور انصاف کو بنیادی و اخلاقی اصول مانتا ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ خیانت نہ صرف حقوق العباد کی پامالی ہے بلکہ یہ معاشرتی نظام، باہمی اعتماد اور انسانی تعلقات کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ اسلام میں امانت کی حفاظت کو ایمان کا حصہ سمجھا گیا ہے اور خیانت کو ایک قبیح فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف انسان کے کردار کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے ایمان اور ذمہ داری کی روح کے بھی خلاف ہے۔قرآنِ کریم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور قیامت کے دن ان کا سخت حساب لیا جائے گا۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں دیانت داری اختیار کرے اور ہر قسم کی خیانت چاہے وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ سے بچتا رہے               اسی بارے میں چند آیاتِ کریمہ ملاحظہ فرمائیں:

(1) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)

(3) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت 161)

قرآن کی ان آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ یہ ایک بڑا گناہ اور معاشرتی فساد کا بنیادی سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی پہچان امانت داری پر رکھی ہے اور خائنوں کو اپنی رحمت سے دور فرمایا ہے۔ جب کوئی معاشرہ دیانت داری کو اپناتا ہے تو اس کے اندر اعتماد، امن اور انصاف کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ دوسری طرف، خیانت عام ہونے سے انتشار، بے اعتمادی اور ظلم بڑھتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے قول و فعل، لین دین، معاملات اور ذمہ داریوں میں سچائی اور امانت کو ملحوظ رکھے اور خیانت سے دور رہے۔ اس طرح وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ جو کچھ ہم نے پڑھا اور سیکھا، اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں کو امانت و دیانت سے مزین فرمائے۔ آمین، بجاہِ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم


رات جیسی عظیم نعمت اللہ کریم نے آرام اور سکون کے لیے بنائی ہے۔ قدرت نے دن کو آرام کرنے اور رات کو سکون حاصل کرنے کے لیے بنایا لیکن آج کے دور میں راتوں کو دیر تک جاگنا ایک فیشن سمجھا جاتا ہے۔رات دیر تک جاگنا بظاہر معمولی سی بات لگتی ہے آج کے دور میں لوگ موبائل فون،سوشل میڈیا اور دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے دیر تک جاگنے کی عادی ہو چکے ہیں  اور اس کے نقصانات پر غور نہیں کرتے۔قرآنِ پاک اور حدیثِ مبارک سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رات آرام کے لیے ہے نہ کہ جاگنے کے لیے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص: 73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ۔(تفسیر صراط الجنان،7/ 313)

حدیثِ پاک میں ہے:رسول اللہ ﷺ عشا سے پہلے سونے اور عشا کے بعد بلا ضرورت باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔(بخاری،1/201، حدیث:547)

قرآن حدیث دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رات کو آرام کے لیے بنایا گیا اور بلا ضرورت رات دیر تک جاگنا ناپسندیدہ ہے۔رات دیر تک جاگنا کئی بیماریوں میں مبتلا کرتا ہے اور بہت صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔

جسمانی نقصانات:رات دیر تک جاگنے سے جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے،انسان ہر وقت خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے،آنکھوں کی کمزوری،تھکن،بدہضمی جیسی کئی بیماریاں انسان کی صحت کو متاثر کرتی ہیں،مسلسل جاگنے سے دل اور اعصابی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔

ذہنی اور تعلیمی نقصانات:نیند کی کمی سے ذہنی صلاحیت متاثر ہوتی ہے،یاداشت کمزور ہو جاتی ہے،توجہ منتشر رہتی ہے اور پڑھائی میں دل نہیں لگتا جس کے نتیجے میں تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔ ذہنی دباؤ، چڑچڑا پن اور بے چینی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

اخلاقی اور معاشرتی نقصانات:رات دیر تک جاگنے سے فرد کی شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے، وہ سست اور کاہل نظر آتا ہے ،وقت کی قدر ختم ہو جاتی ہے، زندگی کے روز مرہ کے کام بھی متاثر ہوتے ہیں نیز رات دیر تک جاگنے سے انسان فرائض و واجبات میں غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔

طبعی ماہرین کے مطابق صحت متوازن رکھنے کے لیے چھ سے اٹھ گھنٹے کی نیند انتہائی ضروری ہے،لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سونے اور جاگنے کے اوقات پر غور کریں،مکمل نیند لیں،جب سونے لگیں تو فون کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کریں،جلدی سونے کی عادت ڈالیں تاکہ جسم اور ذہن تندرست رہے نیز زندگی اور اس کے کاموں اور عبادات کو اچھے انداز سے سرانجام دے سکیں۔