اللہ پاک
کی بے شُمار نعمتوں میں سے ایک نعمت” نیند“ بھی ہے ، اِس نعمت کی بدولت ذہن کو
راحت ملتی اور جسم تھکن سے نَجات پاتا ہے۔اللہ پاک نے رات آرام کے لئے بنائی ہے جیسا
کہ قرآنِ کریم میں بھی ارشاد ہوتا ہے:اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ
لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ (پ24، المؤمن : 61)ترجمہ:اللہ ہے جس نے
تمہارے لئے رات بنائی کہ اُس میں آرام پاؤ ۔
فی
زمانہ دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ رات دیر تک جاگنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں جس کے بے
شمار نقصانات بھی ہیں جیسا کہ ایک ریسرچ کے مطابق رات کو دیر تک جاگنے سے جہاں
جسمانی صحت کو نقصان پہنچتا ہے وہیں ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔موڈ خراب ہوتا ہے
اور ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔اگر رات کو وقت پر نہیں سوئیں گی تو نیند کا دورانیہ
کم ہوگا نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے ، قوتِ مدافعت میں کمی
آتی ہے، موٹاپے اور ذیابیطس جیسی پیچیدہ بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے ،اس لئے ہمیں
چاہئے کہ رات کو وقت پر سوئیں تاکہ ہماری صحت بھی اچھی رہے اور عبادت پر قوت بھی
حاصل ہو۔ پیارے آقا ﷺ بھی سونے کا اہتمام فرماتے تھے وضو فرماتے اور اس کی ترغیب
ارشاد فرماتے جیسا کہ روایت ہے ،رسولِ اکرم ﷺ سونے سے پہلے وُضو فرماتے۔(مواہب لدنیہ،2/185)
رات
دیر تک جاگنے کے نقصانات از بنت محمد ایاز،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
بلا
وجہ رات کو دیر تک جاگنے سے شریعت نے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کے دینی و دنیاوی
بہت سے نقصانات ہیں۔ بغیر کسی شرعی وجہ کے رات کو دیر تک جاگنا ایک انتہائی ناپسندیدہ
اور مذموم فعل ہے کیونکہ یہ مشیتِ الٰہی کے خلاف ہے۔اللہ کریم نے رات آرام کے لیے
بنائی ہے تو کوئی اگر بغیر کسی غذر یا شرعی
وجہ کے اس کے خلاف کرے گا تو مکروہ ہو گا جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ
جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ
فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص:
73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں
آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔
تفسیر
صراط الجنان میں ہے کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ
تم رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ۔(تفسیر صراط الجنان،7/ 313)
دینی نقصانات:نمازِ فجر میں سستی اور قضا ہونے کا
اندیشہ ، نوافل میں کمی ، دل کا سخت ہو جانا ، توجہ کی کمی کی وجہ سے نماز میں دل
نہ لگنا، صحت کے خراب ہونے کے سبب عبادات میں کمی ، جماعت سے محروم ہو نے کا خطرہ
اور نیکیاں بھاری لگنا۔
دنیاوی نقصان:صحت خراب ہونا،معمولات میں کمی،سستی کے
سبب اہم کاموں سے محرومی یااچھے انداز میں مکمل نہ کرپانا، اعتماد میں کمی ، دل کی
بیماریاں ، شوگر اور ہارمونز وغیرہ کا مسئلہ ،بے چینی اور دماغی بیماریوں کا خطر ہ
رہتا ہے ۔
ہمارا معاشرہ: آج کل ہمارا معاشرہ جہاں اور بہت سے
فضول و بے فائدہ کاموں میں وقت صرف کرتا ہے وہیں رات کو دیر تک جاگنے اور فضول
گفتگو و مجلسوں میں وقت گزارتے ہیں ۔اللہ کریم ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھنے اور نیک
اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
رات
دیر تک جاگنے کے نقصانات از بنت رزاق احمد،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
رات دیر تک جاگنے کے نقصانات
ذہنی صحت پر اثر:
نیند
کی کمی کی وجہ سے اپنی صحت پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔یادداشت کمزور ہو
جاتی ہے۔ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن میں اضافہ ہوتا ہے۔
جسمانی صحت پر اثر:
موٹاپا:
نیند
کی کمی موٹاپے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
ذیا بیطس:
گلو کوز میٹا بولزم اور انسولین پر منفی اثرات کی
وجہ سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔
دل کی بیماریاں:
نیند
کی کمی دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
قوتِ مدافعت میں کمی:
جسم میں
بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
ارشادِ باری ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ
الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ
لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳)(پ20،القصص:73)ترجمہ:کنز العرفان:اور
اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور(دن میں )
اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرو۔
تفسیر صراط
الجنان:ارشاد
فرمایا کہ اے لوگو!اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم
رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ اور دن بھر کی محنت و مشقت سے
ہونے والی تھکن دور کرو اور دن میں روزی
تلاش کرو جو کہ اللہ پاک کا فضل ہے اورتم اپنی معاشی و کاروباری سرگرمیاں انجام دو اور تم پر یہ رحمت فرمانے کی حکمت یہ
کہ تم اس کی وجہ سے اپنے اوپر اللہ پاک کا حق مانو،اس کی وحدانیّت کا اقرار کرو
اورصرف اسی کی عبادت کر کے اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤ۔( تفسیر طبری،10/98)
اللہ پاک
نے رات آرام کے لیے بنائی ہے، لیکن لوگوں میں رات دیر تک جاگنے کا چلن عام ہوتا جا
رہا ہے۔سمجھاؤ تو کہتے ہیں کہ نیند ہی نہیں آتی۔ مسلمان کے لیے صبح چار بجے تو
بستر چھوڑنے کا وقت ہو جاتا ہے،لیکن اب لوگ اس کے قریب سونے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔
حدیثِ شریف میں تہجد میں اٹھ کر نماز پڑھنے کو نیک لوگوں کا طریقہ بتایا گیا ہے،
اس وقت اللہ پاک آسمانِ دنیا سے صدا لگاتا ہے، ایک دو اور تین بجے سونے والا کیسے
اس صدا پر لبیک کہہ سکتا ہے!روزانہ ان صداؤں کو اَن سُنا کرنا سخت محرومی کا باعث
ہے۔اسی لیے رحمت ِعالَم ﷺ نے عشا کے بعد بلا وجہ جاگنے کو ناپسند اور منع فرمایا
ہے۔ اگر عشا کے بعد جلدی سونے کی عادت بنا لی جائے تو تہجد اور فجر میں جاگنا آسان
ہو جاتا ہے۔حضرت عمر عشا کے بعد بلا وجہ جاگنے والوں کی خبر لیا کرتے تھے۔بعض
صحابہ سے ضرورت کے تحت عشا کے بعد جاگنا اور بات کرنا ثابت ہے، لیکن یہ ثبوتِ جواز
کے لیے ہے،ان کا اصل معمول جلدی سونا اور جلدی اٹھنا ہی تھا۔
غور کیجیے
کہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ قدرت نے تمام طبقاتِ انسان، بلکہ جانوروں تک کے لیے فطری
طور پر نیند کا ایک وقت معین کر دیا اور اس وقت کو اندھیرا کر کے نیند کے لیے
مناسب بنا دیا اور سب کی طبیعت و فطرت میں رکھ دیا کہ اسی وقت یعنی رات کو نیند آتی
ہے، ورنہ جس طرح انسان اپنے کاروبار کے لیے اپنی اپنی طبیعت و سہولت کے لحاظ سے
اوقات مقرر کرتا ہے اگر نیند بھی اسی طرح اس کے اختیار میں ہوتی اور ہر انسان اپنی
نیند کا پروگرام مختلف اوقات میں بنایا کرتا، تو نہ سونے والوں کو نیند کی لذت و راحت
ملتی، نہ جاگنے والوں کے کام کا نظم درست ہوتا، کیوں کہ انسان کی حاجتیں باہم ایک
دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں، اگر اوقات نیند کے مختلف ہوتے تو جاگنے والوں کے وہ کام خراب
ہو جاتے جو سونے والوں سے متعلق ہیں اور سونے والوں کے وہ کام خراب ہو جاتے جن کا
تعلق جاگنے والوں سے ہے۔اگر ہم رات سوئیں گی ہی نہیں تو سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے
کہ جلد اٹھ کر عبادت بھی نہ کرسکیں گی۔ہم ربِّ کریم کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے
لئے دنیا میں آئی ہیں اور یہ بھول بیٹھی ہیں کہ ربِّ کریم کے فرامین کو نہ مان کر
کیا اسے راضی کر بھی سکتی ہیں ؟
رات دیر
تک جاگتے رہنا بہت سی نیکیوں سے محرومی کا سبب بن جاتا ہے ۔قربِ خدا نہ مل سکا تو
اس کا الٹ ہوگا کہ ہم خسارے میں رہیں گی۔ہم نے تو اللہ کو راضی کرنا تھا لیکن یہ کیا
نہ
جسمانی قوت رہی نہ ذہنی ،نہ فکری۔ ہم نے دماغ کو مفلوج کر دیا حتی کہ اللہ کریم کے احکام ماننے میں سستی کرنی
لگیں۔ ایک مسلمان اگر شریعت کی پیروی اور اللہ کریم کو راضی نہ کرے گا تو کیا کرے گا ؟
لمحۂ
فکریہ تو یہ ہے کہ راتوں کو جاگ رہی ہیں۔آخر سبب کیا ہے؟ اگر معاذ اللہ گناہ کر رہی
ہیں ،آنکھوں اور کانوں کی حفاظت نہیں کر رہیں تو رب کے غضب کو دعوت دے رہی ہیں۔اس
سے بڑا نقصان اور کیا ہوسکتا ہے !اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنے الفاظ میں اپنے
جذبات کو اس طرح بیان کرتے ہیں :
دن لَہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا
تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی
نہیں
مسلمان
رات کو وقت پر نہ سوئے تو صبح تک سوتے ہی رہ گئے ۔کیا نقصان ہوا؟فجر قضا ۔کیا
نقصان ہوا ؟رب کی ناراضی۔کیا نقصان ہوا ؟حضور ﷺ کے قلبِ مبارک کو غمگین کر بیٹھیں۔اللہ
ہمیں معاف فرمائے،ہم پر نظرِ رحمت عطا فرمائے،ہمیں سچی عاشقہ رسول بنائے ،احکامِ
شریعت کی پابندی کرنے والی بنائے اور اپنے
شب و روز عین احکامِ خداوندی کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین
حضور
ﷺ کی فرشتوں سے محبت از بنت ارشد عطاریہ، فیضان فاطمۃ الزہراء نارووال
میرے
آقاﷺ جن و انس،شجر و حجر،چرند و پرند،الغرض
کائنات کی ہر مخلوق کے لئے نہایت شفیق اور مہربان ہیں۔لیکن آپ نے فرشتوں کو بھی
اپنی محبت،قرب، خدمت، جود و کرم اور رحمت سے محروم نہیں فرمایا۔چنانچہ قرآنِ کریم
میں ارشاد ہوا: وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ17،الانبیاء:107)ترجمہ: اورہم نے تمہیں تمام جہانوں
کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔
تفسیر صراط الجنان:تاجدارِ رسالت
ﷺ نبیوں،رسولوں اور فرشتوں کے لئے رحمت ہیں،دین و دنیا میں رحمت ہیں،جنات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں،مومن و کافر کے لئے رحمت
ہیں،حیوانات،نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں۔ الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں،سیّدُ المرسلین ﷺان سب کے
لئے رحمت ہیں۔(تفسیر صراط الجنان، 6/378)
حضور جانِ
رحمتﷺ نے کئی مواقع پر فرشتوں کو بھی قربِ خاص سے نوازا،جیسا کہ اب بھی صبح و شام
ستر ہزار فرشتے بارگاہِ نبوی میں حاضری
دیتے ہیں جو ایک بار آجائے وہ دوبارہ کبھی حاضر نہیں ہوگا اور جب آپ کی قبرِ مبارک
کھلے گی تو آپ ستر ہزار ملائکہ کے ساتھ باہر تشریف لائیں گے۔(دارمی،1/57،حدیث:94)
اِسی طرح حضورﷺ کا حضرت جبرائیل علیہ
السلام کے ساتھ قرآنِ کریم کا دور فرمانا(بخاری،2/384
،حدیث : 3220)بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کمال
اندازِ محبت تھا۔
حضرت ابو سعید
خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضورﷺ نے
ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے چار وزراء سے میری تائید اور مدد فرمائی،دو آسمان والوں
سے ہیں جبرائیل و میکائیل اور دو زمین
والوں میں سے ہیں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما۔ایک دوسری روایت میں ارشاد فرمایا:
جبرائیل علیہ السلام میرے آسمانی وزیر ہیں ۔(تفسیر در منثور،1/94)
سرکارِ مدینہ ﷺصحابۂ
کرام علیہمُ الرِّضوان سے فرمایا کرتے تھے:خَلُّوْا ظَهْرِيْ لِلْمَلَائِكَةِ یعنی
میری پیٹھ پیچھے کی جگہ فرشتوں کے لئے چھوڑ دو۔(مسند احمد،5/216 ، حدیث:15281)
حضرت ابی بن کعب
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے مجھے تین
سوال عطا فرمائے،میں نے دو بار تو دنیا میں عرض کر لی:( اے اللہ!میری امت کی مغفرت
فرما،اے اللہ!میری امت کی مغفرت فرما) اور تیسری عرض اُس دن کے لئے باقی رکھی جس میں
مخلوقِ الٰہی میری طرف نیاز مند ہو گی یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی
میرے نیاز مند ہوں گے۔(مسلم،ص318،حدیث: 1904)
امام جلال
الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اِسی حدیثِ پاک کے تحت اپنی کتاب فرشتوں کے حالات و
واقعات میں فرماتے ہیں کہ تمام مخلوق میں فرشتے بھی داخل ہیں،لہٰذا حضور فرشتوں
کی بھی شفاعت فرمائیں گے۔سرکارِ دو عالَم ﷺ کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ
جہاں کہیں تشریف لے جاتے نگہبانی اور خدمت کے لئے فرشتے بھی ساتھ جاتے جو آپ کے
پیچھے پیچھے چلتے تھے۔ (سرور القلوب
،ص222)
سبحان اللہ
الکریم!حضور کی حیاتِ ظاہری میں بعض فرشتوں کو قربِ خاص اور خدمت کا موقع ملا ،آج
بھی کئی فرشتے بطورِ خادم دربارِ رسالت میں کئی امور پر مامور ہیں جیسے بعض فرشتے
درود شریف پڑھنے والوں کا درود نام مع ولدیت سرکارﷺ کی بارگاہ میں پیش کرتے
ہیں۔اللہ کریم ہمیں بھی حضورِ جانِ رحمتﷺ کی سچی محبت اور آپ کی توجہِ خاص نصیب
فرمائے ۔آمین
ملائکہ پر فضیلت:فرشتے نوری مخلوق ہیں۔(دس عقیدے،ص60)ان
کی تعداد وہی جانے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور اُس کے بتائے سے اُس کا رسول۔چار فرشتے بہت
مشہور ہیں:جبرائیل،میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام اور یہ سب ملائکہ پر
فضیلت رکھتے ہیں۔(بہارِ شریعت،1/ 94 ،حصہ:1)
ملائکہ کا بیان:فرشتے اجسام نوری ہیں،اللہ پاک نے ان
کو طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاھر ہوتے ہیں
اور کبھی دوسری شکل میں۔وہ وہی کرتے ہیں جو حکمِ الٰہی ہے،خدا کے حکم کے خلاف کچھ
نہیں کرتے، نہ قصداً نہ سہواً نہ خطاً وہ اللہ پاک کے معصوم بندے ہیں،ہر قسم کے
صفائر و کبائر سے پاک ہیں۔(بہار شریعت، 1/90، حصہ:1 )
حضور ﷺ کی فرشتوں سے محبت:جس طرح حضور ﷺکو صحابہ کرام و اہلِ
بیت سے محبت تھی،اسی طرح آپ کو فرشتوں سے بھی محبت تھی۔اللہ پاک نے اپنے حبیبﷺ کے
بارے میں ارشاد فرمایا :وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ17،الانبیاء: 107)ترجمہ: اورہم نے تمہیں تمام جہانوں
کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔
چونکہ
عالمین میں فرشتے بھی داخل ہیں،اس لیے رسول کریم ﷺ فرشتوں کے لیے بھی رحمت مطلق
ہیں تو یقیناً ان سے افضل بھی ہیں ۔
حضرت
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا :میرے دو وزیر
آسمان میں ہیں اور دو وزیر زمین میں ہیں۔آسمان میں میرے دو وزیر جبرائیل اور
میکائیل ہیں اور زمین میں میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہیں۔(مستدرک،2/ 654،653، حدیث:3101-3100)
حضور ﷺ
کی فرشتوں سے محبت آپ کی عظیم صفت ہے جو آپ کی شفقت،عظمت اور اللہ پاک سے قربت کی
علامت ہے۔دعوتِ اسلامی اس محبت کو صحابہ کے ساتھ محبت کی طرح بیان کرتی ہے جس میں
فرشتوں کی اطاعت،ان کے ساتھ تعلق اور ان کو اونچا مقام دینا وغیرہ کا درس ہے۔یہ محبت در اصل اللہ پاک اور اس کے رسول
صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی محبت کا حصہ ہے جس سے فرشتے اللہ
پاک کے حکم سے حضور ﷺ کے کاموں میں مدد کرتے ہیں اور آپ کی اتباع کرتے ہیں ۔
نور سے تخلیق: فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں اور حضور
بھی نور ہیں۔اس نورانی رشتے کی وجہ سے بھی حضور کا فرشتوں سے خاص تعلق ہے۔
زین
العابدین شبیر احمد( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور،پاکستان)
اجازت شریعہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت
کہلاتا ہے ہر مسلمان پر ایمانداری واجب اور خیانت کرنا حرام ہے اور جہنم میں لے
جانے والا کام ہے اللہ تبارک و تعالی نے قران پاک میں کئی جگہ پر خیانت کے مذمت
فرمائی ہے آئیے ہم بھی خیانت کی مذمت پر پانچ قرآنی آیات پڑھتے اور خیانت سے
بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
(1) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے
محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر
اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (پارہ 10 آیت
نمبر 71 سورۃ الانفال)
(2) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی
طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی
بڑے دغا باز گنہگار کو۔(پارہ 5 سورۃ النساء آیت نمبر 107)
(3) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 12 سورۃ الیوسف آیت نمبر 52)
(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
(پارہ 9 سورۃ انفال ایت نمبر 27 )
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (پارہ 4 سورۃ آل عمران ایت نمبر 161)
خیانت کا ایک سبب بد نیتی ہے جس طرح اچھی نیت شفا کا
درجہ رکھتی ہے اسی طرح بد نیتی کا زہر بندے کے اعمال کو بے ثمر بلکہ تباہ و برباد
کر دیتا ہے اس کا علاج ہے کہ بندہ اپنی نیت کو درست رکھے۔ اللہ تعالی خیانت سے
بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ
تعالی علیہ وسلم۔
احمد
مرتضیٰ عطاری(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے
اور امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے۔بلا اجازتِ شرعی کسی کی امانت میں ناجائز
تصرف کرنامطلقا خیانت کی تعریف تو ہے لیکن خیانت کی مختلف صورتیں ہیں خیانت صرف
مال یا چیزوں میں نہیں، بلکہ وعدے، باتوں، تعلقات اور رازوں میں بھی ہو سکتی ہے۔
حدیث میں خیانت کو منافق کی علامت کہا گیا ہے، اور مومن کی شان اس سے پاک ہوتی ہے۔
اور قرآن میں بھی خیانت کی مختلف صورتوں کی مذمت متعدد مقامات پر کی گئی ہے ان میں
سے کچھ آیتیں بیان کی جارہی ہیں لہذا اللہ تعالی کے ان فرامین پر غور کریں اور
عبرت حاصل کرتے ہوئے اس باطنی بیماری سے خود کو بچائیں۔
(1)اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت نہ کرو:اللہ
تعالی ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (پارہ 9 سورة الانفال آیت 27)
تفسیر خازن میں ہے: کہ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت
کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال،
تحت الآیۃ: 27، ج 2 / ص190)
(2)خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:اسلام
میں تو خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے میں بھی مذمت آئی ہے تو پھر خود خیانت کرنا
کتنا برا ہے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ 5 سورة النساء آیت 107)
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ
بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن
وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی
طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا
حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔(صراط الجنان سورة
النساء تحت آیت 107)
(3)خیانت کرنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا:خیانت
کے بُرا ہونے اور اس سے بچنے کےلیے یہی بات کافی ہونی چاہئے کہ اللہ پاک خیانت
کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ فرمان باری تعالی ہے:
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷ ترجمہ
کنزالعرفان: بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔(پارہ 5 سورة النساء آیت 107)
(4)اخلاقی خیانت کی مذمت:وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں
چلنے دیتا۔(پارہ 12 سورۃ یوسف آیت 52)
اس سے معلوم ہوا اخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس
سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک
کو اختیار کرنا چاہئے ، جیسے آنکھ کی خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا
ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ
جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (پارہ 24 سورہ مومن: آیت
19)
اللہ تعالیٰ
ہمیں ہر قسم کی خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے اور امانت دار بننے کی توفیق عطا
فرمائے،اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
محمد
محسن اقبال رضوی عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
پنڈی گھیب ضلع اٹک،پاکستان)
خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو انسان کے کردار، ایمان
اور معاشرے کے اعتماد کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے جگہ جگہ اس عمل کی شدید
مذمت بیان فرمائی اور ہر مسلمان کو اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام میں امانت داری
کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔اس کے بغیر ایک صالح اور مضبوط معاشرہ قائم نہیں
ہو سکتا۔اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی لاریب کتاب میں ایک جامع حکم دیتے ہوئے فرماتا
ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ
تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجمہ کنز الایمان: بے شک
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔ (
سورۃ النساء، آیت 58، پارہ 5)
امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو
مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دینا ہے۔ البتہ
اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں
داخل ہیں۔
جیسے
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ
نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم
مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت
کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام
مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( سورۃ الأنفال، آیت 27، پارہ 9)
حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’
منافق کی تین نشانیاں ہیں (1) جب بات کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔
(3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے ۔ (بخاری،کتاب الایمان، باب علامۃ
المنافق، ۱ / ۲۴،الحدیث
۳۳)
اللہ کریم نے فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے
دو وصف بیان کئے :وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ
رٰعُوْنَۙ(۸)ترجمۂ
کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور
اپنے عہد کی رعایت کرتے ہی۔( سورۃ المؤمنون آیت 8،پارہ 18)
اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو
وصف بیان کیے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت
نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا
مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۶۹،
خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸،
۳ / ۳۲۱، ملتقطاً)
حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ، میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ان میں سے ایک
چیز یہ ہے کہ تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو۔ ( مستدرک، کتاب الحدود، ستّ یدخل
بہا الرجل الجنّۃ، ۵ / ۵۱۳، الحدیث:
۸۱۳۰)
محمد یوسف
قریشی(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ بغداد، کورنگی ،کراچی،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد امانت، دیانت اور وفاداری پر
قائم ہوتی ہے۔ اگر ان صفات کی جگہ خیانت، دھوکہ اور بددیانتی آ جائے تو نہ صرف
افراد کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے بلکہ پورا معاشرہ بگاڑ اور فساد کا شکار ہو
جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے ساتھ خیانت کو پسند نہیں کرتا، اسی لیے اسلام نے خیانت
کو ایک بڑا گناہ قرار دیا ہے اور قرآنِ مجید میں اس کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔قرآنِ
پاک ہمیں بتاتا ہے کہ خیانت صرف لوگوں کے مال یا امانت میں نہیں ہوتی بلکہ اللہ
اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی بھی خیانت کے زمرے میں آتی ہے۔ اس لیے ہر
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر طرح کی خیانت سے بچے۔
(1) اللہ اور رسول ﷺ کی خیانت سے ممانعت:اللہ
تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ
وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( الانفال: 27)اس آیت سے معلوم ہوا کہ
اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر مومنوں کو ہر قسم کی خیانت سے منع فرمایا ہے، چاہے وہ
دینی امانت ہو یا دنیاوی۔ جان بوجھ کر خیانت کرنا سخت گناہ ہے۔
(2) خیانت کرنے والوں سے اللہ کی ناراضی:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(الانفال:
58)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ تعالیٰ
کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور اللہ کی ناراضی سب سے بڑا نقصان ہے۔
(3) خیانت دراصل اپنی ذات کے ساتھ خیانت ہے:قرآنِ
مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی
جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔
(النساء: 107)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص خیانت کرتا ہے وہ حقیقت
میں دوسروں کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
(4) امانت داری مومن کی صفت ہے:اللہ
تعالیٰ مؤمنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ
عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ترجمہ کنز الایمان اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی
رعایت کرتے ہیں ۔(المؤمنون: 8)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ امانت داری اور وعدے کی پاسداری
ایمان کی علامت ہے، اور خیانت ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔
ان تمام آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآنِ پاک میں خیانت
کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ خیانت اللہ تعالیٰ کی ناراضی، معاشرتی بگاڑ اور آخرت کی
ناکامی کا سبب ہے، جبکہ امانت داری، دیانت اور وفاداری ایمان کی علامت اور معاشرے
کی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں خیانت سے
بچیں اور امانت دار بن کر ایک پُرامن اور صالح معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا
کریں۔
زین
العابدین(درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
خیانت عربی لفظ "خانَ یخونُ"سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں:امانت میں کمی
کرنا، بددیانتی کرنا، اعتماد کے خلاف عمل کرنا، دھوکا دینا۔ شرعی اصطلاح میں خیانت
سے مراد یہ ہے کہ:کسی شخص کے سپرد کی گئی امانت، ذمہ داری یا حق کو جان بوجھ کر اس
کے مقررہ تقاضوں کے خلاف استعمال کرنا یا ادا نہ کرنا، خواہ وہ مال ہو، راز ہو،
عہدہ ہو یا کوئی اور ذمہ داری قرآنِ مجید نے خیانت کو نہایت سنگین گناہ قرار دیا
ہے اور اہلِ ایمان کو ہر قسم کی خیانت سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ خیانت دراصل
امانت کی ضد ہے، اور امانت داری ایمان کی علامت ہے۔ اسی لیے قرآن میں خیانت کو
اللہ اور نبی پاک علیہ السلام کے ساتھ بے وفائی کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
(1)اللہ پاک اور اس کے رسول سے خیانت کرنا:اللہ
پاک قرآن میں ارشاد فرماتا:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال(27)
لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ )
(2)خیانت کرنے والے اللہ پاک نہ پسندہیں:اللہ
پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان:بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)
اس آیت میں بتایا جارہا ہے جو لوگ خیانت کرتے وہ اللہ
پاک نہ پسند ہے ۔
(3)خیانت کر نے والوں کی چال نہ کام :اللہ
پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے:
وَ
اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
تر
جمہ کنزالایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:38)
اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ پاک خیانت کرنے
والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ہے ان کے مکر کو نہ کام کر دیتا ہے۔
اس آیت میں اللہ پاک فرما رہا ہے کہ جن کے پاس کسی کی امانت ہو اسے
اس کے حق دار تک پہنچا دے ۔
ان آیاتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک اخلاقی
برائی نہیں بلکہ ایک بڑا دینی جرم ہے، جو انسان کو اللہ کی ناراضی اور معاشرتی
فساد کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے امانت کی ادائیگی اور وعدوں کی پاسداری کو
ایمان کا تقاضا قرار دے کر مسلمانوں کو ایک پاکیزہ اور بااعتماد معاشرہ قائم کرنے
کی تعلیم دی ہے۔
محمد
علی منیر (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
انسانی معاشرہ اعتماد، دیانت اور امانت داری کے ستونوں
پر قائم ہے۔ جب یہ ستون مضبوط رہیں تو دلوں میں سکون، رشتوں میں مضبوطی اور معاشرے
میں انصاف قائم ہوتا ہے۔ لیکن جب امانت میں خیانت پھیل جائے تو باہمی بھروسہ ٹوٹ
جاتا ہے اور اخلاقی اقدار کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے خیانت کو سخت
ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور اسے ایمان کی روح کے خلاف بتایا ہے۔
خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف
کرنا خیانت کہلاتاہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)
خیانت کی ممانعت:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 سورۃ انفال آیت نمبر 27)
اے ایمان والوں جب اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی علیہ
وسلم تمہیں کسی کام کا حکم دیں تو تم اس کام کو چھوڑ کر ان سے خیانت نہ کرنا ۔معلوم
ہوا کہ فرائض چھوڑنا اللہ عزوجل سے اور سنت ترک کرنا رسول اللہ صلی علیہ وسلم سےخیانت
کرنا ہے۔
خیانت کرنے
والوں کا ساتھ دینے کی ممانعت: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں
بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ ( پارہ 5 سورۃ نساء آیت نمبر 107)
فرمایا کہ ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو گناہ کرکے
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں کیونکہ ان کی خیانت کا وبال انہی پر ہوگا۔ اور
اللہ عزوجل خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
خائن کی بروز قیامت
سزا: وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ ترجمہ کنزالایمان: اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(پارہ 4 سورۃ آل عمران آیت
نمبر 161 )
اس آیت میں خیانت کی مذمت ہے کہ کوئی خیانت کرے گا وہ کل
قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
آخر میں خلاصہ یہی ہے کہ خیانت وہ برائی ہے جو انسان کے
ایمان، کردار اور اعتماد تینوں کو مجروح کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اسے انتہائی
ناپسندیدہ قرار دیا ہے تاکہ مومن اپنی زندگی کو امانت داری اور دیانت کی روشنی سے
سنوارے ہمیں چاہئے کہ ہر معاملے میں سچائی اور امانت کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیں۔ کیونکہ
یہی راستہ دنیا کی عزت اور آخرت کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ ہمیں خیانت سے
بچنے کی توفیق دے آمین۔
فی زمانہ اسلامی تعلیمات کم ہونے کی وجہ سے بہت سی
معاشرتی اور اخلاقی برائیاں عام ہو چکی ہیں اور فی زمانہ لوگ برائی کہ برائی
سمجھنے کے لیئے بھی تیار نہی۔ ان میں سے ایک برائی خیانت بھی ہے۔
خیانت کسے کہتے ہیں: خیانت
امانت کی ضد ہےخفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ
اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا!رب تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
(پ9،الانفال:27)
آج اسی خیانت کے بارے میں سنتے ہیں اور پھر دوسروں تک پہنچانے
کی کوشش کرتے ہیں تاکہ فی زمانہ جتنے بھی لوگ اس گناہ میں سرزد ہیں وہ توبہ کر کے
نیکیوں والی زندگی بسر کرنے لگ جائیں۔
ذَلِكَ
لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخْنُهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَايَهْدِي كَيْدَ
الْخَابِنِينَ (52)ترجمہ کنزالایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہو جائے کہمیں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی او اللہ دغابازوں کا
کر نہیں چلنے دیتا۔
يَعْلَمُ
خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ (19)ترجمہ
کنزالایمان: لہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔
وَإِنْ
يُرِيدُوا خِيَا نَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّهَ مِنْ قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ
وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (71)
ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے
تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کر چکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدیے
اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
وَإِمَّا
تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذُ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ
اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِينَ (58)
ترجمہ کنزالایمان: ور اگر تم کسی قوم سے دعا کا اندیشہ
کرو توان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔
یہ تمام تر قرآنی آیات میں خیانت کرنے والوں کی مزمت بیان
کی گئی اللہ پاک ہم سب کو اس فتنے والے دور میں دین اسلام پر قادر رہنے کی توفیق
عطا فرمائے اور دوسروں کہ بھی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami