ڈائریکٹوریٹ جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ، ٹنڈو جام کے مین آڈیٹوریم میں 31 اگست 2026ء بروز پیر”سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سیمینار“ کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی میزبانی ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ ڈاکٹر مظہر الدین کاریو نے کی۔ اس تقریب میں زرعی سائنٹسٹ، P.H.D اسکالرز، محققین، ڈائریکٹوریٹ کے افسران، اسٹوڈنٹس اور پردے رہ کر طالبات اور خواتین اسٹاف نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری اور اراکین شوریٰ حاجی فاروق جیلانی عطاری اور حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔

سیمینار کے مہمانِ خصوصی دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی تھے۔ انہوں نے ”تعلیماتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آج کا مسلمان (The Teachings of the Holy Prophet and Today’s Muslim ) کے عنوان پر حکمت و نصیحت سے بھرپور سنتوں بھرا بیان فرمایا۔

مولانا عمران عطاری نے انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا کہ انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ (20 سے 40 سال) تعلیم حاصل کرنے، روزگار تلاش کرنے اور گھر سمیٹنے میں گزار دیتا ہے۔ 50 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے انسان بچوں کی تعلیم اور پرورش کی فکر میں گھلتا رہتا ہے اور خود اپنے لیے کچھ نہیں کر پاتا۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیاوی غم، بیماریاں اور پریشانیاں اس فانی دنیا کا حصہ ہیں جبکہ حقیقی اور دائمی سکون صرف اور صرف جنت میں ہے۔

انہوں نے شرکا کو متوجہ کیا کہ دنیا میں مسلسل محنت اور دُکھ اٹھانے کے بعد اگر قبر و آخرت میں بھی سختی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ انسان کی شدید نادانی ہے۔ عقلمند شخص وہ ہے جو دنیاوی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، باقاعدگی سے نماز کی پابندی، سچائی، دیانتداری اور عدل و انصاف کی زندگی اپنا کر اپنی آخرت بہتر بنائے۔

دورانِ بیان نگرانِ شوریٰ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے عشقِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دلنشین مثالیں پیش کیں: ٭مولا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ: جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کتنی محبت ہے، تو آپ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمیں اپنے مال، اولاد، والدین اور سخت پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب ہیں“۔ ٭حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما: پاؤں سن ہونے پر اپنے سب سے محبوب ہستی یعنی نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ مبارک ”یا محمد!“ پکار کر شفایاب ہوئے۔ ٭حضرت انس رضی اللہ عنہ: حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سالن میں سے کدو شریف (لوکی) تلاش کر کے تناول فرماتے دیکھا تو اسی دن سے خود بھی کدو شریف سے محبت کرنے لگے۔

بیان کے اختتام پر انہوں نے تمام اسٹوڈنٹس، سائنسٹسٹ اور پردے میں موجود طالبات کو نصیحت کی کہ وہ اپنی زندگیوں کو مغرب یا فلمی دنیا کے بجائے سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سانچے میں ڈھالیں۔ آنکھیں بند ہوں تو مدینے والے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ادائیں اور سنن یاد آئیں، کیونکہ سچی کامیابی اطاعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہی مضمر ہے۔

یہ روحانی و اصلاحی تقریب ملک و قوم کی سلامتی، زرعی ترقی اور امتِ مسلمہ کے لئے دعا پر اختتام پذیر ہوئی اور بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں درود سلام پڑھا گیا۔