کیڈٹ کالج اوکاڑہ میں سالانہ محفلِ میلاد النبی کا
انعقاد ، نگران شوریٰ نے خصوصی بیان فرمایا
دعوت
اسلامی کے زیر اہتمام 03ستمبر2026ء کو کیڈٹ کالج اوکاڑہ میں
سالانہ محفلِ میلاد النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران، عالمی مذہبی
اسکالر مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ
العالی تھے۔ اس محفل میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ کرام
اور کیڈٹ کالج کے اسٹوڈنٹس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ نگران
شوریٰ مولانا
حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کو Guard of Honour بھی پیش کیا گیا۔
نگرانِ
شوریٰ نے اپنے بیان کا آغاز درودِ پاک کی فضیلت سے کیا۔ انہوں نے حدیثِ مبارک کا
حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کی دُشوار گزار گھاٹیوں سے جلد نجات پانے والا
شخص وہ ہوگا جس نے دنیا میں نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
پر کثرت سے درود و سلام بھیجا ہو گا۔ کثرتِ درود سے انسان کو ذہنی اور روحانی سکون
میسر آتا ہے، کردار میں نکھار آتا ہے اور قوتِ ایمان مضبوط ہوتی ہے جو بالخصوص عسکری و تربیتی اداروں کے کیڈٹس کے لیے
انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مختلف درودِ پاک کا ذکر کرتے ہوئے "درودِ ابراہیمی"
کو سب سے افضل قرار دیا اور کیڈٹس کو روزانہ ایک مقررہ وقت نکال کر 1000 سے 1500
بار درود پاک پڑھنے کا معمول بنانے کی ترغیب دی۔
بیان کے دوسرے حصے میں نگرانِ شوریٰ نے 17 رمضان
المبارک 2 ہجری کو پیش آنے والے تاریخی غزوۂ بدر کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے
ہوئے بتایا کہ صرف 313 مسلمانوں نے ظاہری
سامانِ حرب (گھوڑے،
تلواریں، نیزے)
کم ہونے کے باوجود، جدید ترین جنگی ساز و سامان سے لیس کفار کے لشکرِ جرار کا
مقابلہ صرف اور صرف اللہ پاک پر کامل توکل اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بابرکت موجودگی کے اعتماد پر کیا۔انہوں
نے Hijri
Calendar کے آغاز کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ
اس کی ابتدا امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر
فاروق اعظم رضی
اللہ عنہ
نے ہجرتِ مدینہ کے سال سے فرمائی تھی۔
نگرانِ
شوریٰ نے صف بندی اور نظم و ضبط (Discipline) کی
اہمیت پر زور دیتے ہوئے میدانِ بدر کا ایک انتہائی رقت انگیز واقعہ بیان کیا کہ میدانِ جنگ میں حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مبارک چھڑی (Stick)
سے
صحابہ کرام کی صفیں سیدھی فرما رہے تھے۔ حضرت سواد انصاری رضی اللہ عنہ کا پیٹ
صف سے تھوڑا سا باہر تھا، تو آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
نے چھڑی سے اشارہ کر کے سیدھا ہونے کا فرمایا۔ اس پر صحابی نے قصاص (بدلے)
کا
تقاضا کیا۔ رحمت اللعالمین صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
نے فوراً اپنا مبارک پیٹ ظاہر فرما کر بدلہ لینے کی اجازت دی۔ حضرت سواد انصاری رضی
اللہ عنہ
نے آگے بڑھ کر بدلہ لینے کے بجائے آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسمِ اقدس کو چومنا شروع کر دیا۔ جب
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت
فرمایا، تو صحابی نے عرض کیا کہ ”آقا! جنگ میں جا رہا ہوں، معلوم نہیں زندہ لوٹوں یا
نہیں، میری تمنا تھی کہ آخری بار آپ کے جسمِ اقدس کو چھو کر آخرت کا ذخیرہ بنا لوں“۔
نگرانِ شوریٰ نے ڈاکٹر اقبال کے اس شعر کا مفہوم بھی پیش کیا
شہادت
ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ
مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
تقریب
کے اختتام پر کیڈٹس اور اساتذہ نے نگرانِ شوریٰ کے اس جامع اور روح پرور بیان کو
سراہا اور اسے سیرتِ طیبہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
اور عسکری نظم و ضبط کو یکجا کرنے والا ایک یادگار اور فکر انگیز پیغام قرار دیا۔
تقریب کے آخر میں ملک و ملت کی سلامتی اور کیڈٹس کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی
گئی۔
Dawateislami