دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام 30 اگست 2026ء کو بھٹائی
ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج، میرپور خاص میں محفلِ میلادُ النبی صلی اللہ علیہ
والہ وسلم
کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مرکزی مہمان نگرانِ شوریٰ دعوتِ اسلامی، مولانا
حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی تھے جنہوں نے ”سنت کی روشنی میں زندگی گزارنا(Living
Life in the Light of Sunnah) “ کے
عنوان پر شعبہ طب سے وابستہ افراد، ڈاکٹرز، اور میڈیکل اسٹوڈنٹس کے درمیان حکمت و
دانائی سے بھرپور بیان فرمایا۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد
عطاری اور رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔
مولانا
محمد عمران عطاری نے اپنے بیان میں جہاں سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طبی و سائنسی حکمتوں کو اُجاگر کیا،
وہیں میڈیکل کی دنیا میں بڑھتے ہوئے کمرشلائزیشن، اخلاقی ذمہ داریوں اور مریضوں کے
ساتھ ہمدردانہ رویے کی ضرورت پر اہم گفتگوکی۔
نگرانِ
شوریٰ نے حدیثِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آقا علیہ الصلوۃ
والسلام
نے آدھی دھوپ اور آدھے سائے میں بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ عمل جسمانی
صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے موجودہ
دور کے ایئر کنڈیشننگ (AC) کے استعمال کی مثال دیتے ہوئے
بتایا کہ اچانک شدید ٹھنڈے ماحول سے گرمی میں جانا یا تیز دھوپ میں نکلنا بلڈ
سرکولیشن اور جسم کے درجہ حرارت کو متاثر کرتا ہے۔ دنیا بھر میں تدریجی طریقہ (Step-by-step
transition) اپنایا جاتا ہے تاکہ جسمانی
نظام معتدل رہے۔
حاجی
عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے طبی
شعبے کو ایک مقدس و عظیم پیشہ قرار دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب اس
میں محض پیسہ کمانے کا عنصر شامل ہو جاتا ہے تو اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ بیان
میں بعض معالجین کی جانب سے مریضوں کو بلاضرورت بار بار بلانے (Re-visits)
اور
بعض ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈز کو مارکیٹنگ کا ذریعہ بنا کر مریضوں کو بلاوجہ ایڈمٹ
رکھنے کے رجحان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ علاج میں کاروباری ذہنیت کے
بجائے نبوی شفقت اور ہمدردی کو فروغ دینے کا ذہن دیا گیا۔
میڈیکل
اسٹوڈنٹس کو مخاطب کرتے ہوئے نگران شوریٰ نے کہا کہ آنے والے وقت میں وہ مختلف اعلیٰ
عہدوں اور ایسوسی ایشنز کا حصہ بنیں گے۔ اسٹوڈنٹس کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ طبی شعبے
میں موجود برائیوں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق امت
کی خیر خواہی کو اپنا شعار بنائیں۔
نگرانِ
شوریٰ نے جعلی ڈگریوں اور رشوت کے بل بوتے پر کلینک چلانے والوں کو انسانی جانوں
کے لیے شدید خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جعلی افراد اور عطائیوں کی نااہلی
کی وجہ سے اصل، محنتی اور کوالیفائیڈ ڈاکٹرز اور ادارے بدنام ہوتے ہیں۔ اس موقع پر
انہوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بھی پیش کیا جہاں ایک غلط انجکشن کی وجہ سے مریض کا
بازو شدید متاثر ہوا اور اس بات پر زور دیا
کہ ایک شخص کی غفلت پورے ادارے کا نام خراب کر دیتی ہے۔
مولانا
عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے بھٹائی ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج کےاسٹوڈنٹس کو
نصیحت کی کہ وہ کل عملی زندگی میں جہاں بھی جائیں، ان کا کردار اور پیشہ ورانہ رویہ
(Professionalism) ان
کے ادارے کی شناخت بنے گا۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ بہترین اخلاق اور قابلیت کے
ساتھ اپنے ادارے کا نام روشن کریں۔
محفل
میلاد میں بھٹائی ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج، میرپور خاص کے اسٹوڈنٹس، ڈاکٹرز اورکالج
کے دیگراسٹاف شریک تھے جنہوں نے نگرانِ
شوریٰ کے خیالات کی تحسین کی اور ان اخلاقی و دینی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کا عزم
ظاہر کیا۔آخر میں میڈیکل کالج کی جانب سے نگران شوریٰ حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کو شیلڈز پیش کی گئی جبکہ صلوۃ و سلام اور دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔
Dawateislami