نگران شوریٰ کا میرپور خاص میں اساتذہ و ماہرین
تعلیم کے درمیان بیان
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ تعلیم کے زیرِ اہتمام 30 اگست 2026ء کو J.N.J بینکوئٹ بحریہ کالج میر پور خاص روڈ میں
اساتذہ، اسکول اونرز، پروفیسرز اور تعلیم سے وابستہ شخصیات کے لئے ایک گرینڈ
اجتماع (Teachers'
Grand Congregation) کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب
میں نگرانِ شوریٰ دعوتِ اسلامی، مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ
العالی نے خصوصی بیان فرمایا۔ نگران شوریٰ نے ”فرامینِ
مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
روشنی میں ہماری ذمہ داریاں (Our
Responsibilities in Light of the Teachings of the Holy Prophet)
“کے
موضوع پر حکمت و بصیرت سے لبریز بیان فرمایا۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت
حاجی محمد شاہد عطاری اور رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔
نگرانِ
شوریٰ نے اپنے خطاب میں جدید تعلیمی نظام کے المیے، اساتذہ اور والدین کی ذمہ داریوں،
اصلاح و تربیت کے نبوی اسالیب اور تعلیمی اداروں میں پھیلتی ہوئی منشیات کی نحوست
اور اس کی روک تھام پر تفصیلی گفتگو کی۔
دورانِ
بیان مولانا محمد عمران عطاری نے فرمایا کہ اصلاح عموماً طبعی طور پر انسان کو
ناگوار گزرتی ہے کیونکہ یہ انجکشن کی چبھن کی طرح ہوتی ہے، لیکن جس طرح انجکشن میں
شفا چھپی ہوتی ہے، اسی طرح اصلاح میں انسان کی بہتری اور شفا پوشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں
نے نصیحت کی کہ کسی کی اصلاح یا تربیت کرنے کے بعد اس سے یہ نہ پوچھا جائے کہ ”بُرا
تو نہیں لگا؟“ کیونکہ اصلاح بنیادی طور پر چبھتی ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد سیرتِ
مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق
افراد کی کردار سازی اور تزکیہ کرنا ہے۔
نگران
شوریٰ نے بیان کرتے ہوئے بتایاکہ رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ
مبارکہ کا ایک بہت بڑا حصہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی
تربیت پر محیط تھا۔ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب صحابہ کرام کی
موجودگی کا ایک بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ امت عملی طور پر دین کے احکام و مناسک کو سیکھ
لے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صرف علم
عطا نہیں فرمایا بلکہ ”وَيُزَكِّيهِمْ“ کے
تحت نفوس کا تزکیہ بھی فرمایا۔
نگرانِ
شوریٰ نے عصرِ حاضر کا سب سے بڑا بحران یہ قرار دیا کہ موجودہ تعلیمی اداروں (خصوصاً
عصری و سیکولر اداروں) میں ڈگریوں اور سرٹیفکیٹس کی شکل میں تعلیم تو دی
جا رہی ہے، لیکن اخلاقی تربیت، خوفِ خدا، امانت، دیانت، اور خیر خواہی مفقود ہوتی
جا رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ دینی مدارس میں استاد کا ادب اور احترام آج بھی
زندہ ہے کیونکہ وہاں علم کے ساتھ ادب و تربیت کا عنصر غالب ہوتا ہے۔
حاجی
عمران عطاری نے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں بڑھتی ہوئی منشیات کی نحوست پر گہری
تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سنگین مسئلے پر پنجاب سمیت مختلف
مقامات پر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، جامعہ کی انتظامیہ اور ایوانِ صدر کی سطح تک جا
کر پرسنلی بات کر چکے ہیں تاکہ ملک کے نوجوانوں کو نشے کی باڑ سے بچایا جا سکے۔
نشہ آور اشیاء نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں اور اس کی وجہ سے استاد کے احترام کا
تقدس بھی متاثر ہو رہا ہے۔
بیان
میں انہوں نے کہا کہ کریکٹر بلڈنگ (Character
Building) کی پہلی نرسری والدین کا گھر
ہے۔ بچے دن کا زیادہ تر وقت گھر میں گزارتے ہیں، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ
وہ ان کے لیے نیک اور متقی اساتذہ کا انتخاب کریں۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی چاہیے کہ
وہ صرف سلیبس اور نصاب پورا کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے عمل، کردار اور نماز
کی پابندی کے ذریعے طلبہ کے لیے بہترین نمونہ بنیں۔
اجتماع
کے اختتام پر شرکا نے نگرانِ شوریٰ کے خیالات کو سراہا اور اپنے اداروں میں تعلیمی
ماحول کے ساتھ ساتھ اخلاقی و دینی تربیت کو یکجا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ آخر میں
صلوۃ و سلام پڑھا گیا اور بارگاہِ ربُّ العزت میں دعا کی گئی۔
Dawateislami